ایک دھڑ دو سر والا سانپ

April 13, 201613Apr16_BBC snake01BBC

امریکہ کی ریاست کینسس میں جیسن ٹیلبٹ نے ایک عجیب و غریب سانپ کی تصاویر لیں۔ اس سانپ کا دھڑ تو ایک تھا لیکن سر دو۔
13Apr16_BBC snake02یہ سانپ جیسن کے دوست کو جنگلوں میں دکھائی دیا اور جب جیسن کو اس کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ اس کی تصاویر کھینچنے کے لیے بےچین ہو گئے۔
13Apr16_BBC snake03جیسن کا کہنا ہے ’میں سانپوں کا بہت شوقین ہوں اور میں نے سینکڑوں سانپوں کی تصاویر کھینچی ہیں۔ اور ایسا کرنے میں کئی بار مجھے انھوں نے ڈسا بھی۔ لیکن میری خوش قسمتی کہ کوئی بھی سانپ زہریلا نہ تھا۔‘
13Apr16_BBC snake04جیسن کے بقول اس سانپ کا ایک سر زیادہ جارحانہ تھا اور وہ دوسرے سر پر بھی حملے کر رہا تھا۔ تاہم دونوں سروں کے ایک ساتھ حرکت میں نہ آنے کے باعث جارحانہ سر کسی شے کو بھی ڈس نہیں پا رہا تھا۔
13Apr16_BBC snake05دو سر والے سانپ چند ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ پاتے۔ جیسن کا کہنا ہے ’اندازہ ہے کہ دس ہزار میں سے ایک سانپ کے دو سر ہوتے ہیں۔ لیکن اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ جھاڑیوں میں رہنتے ہیں اور زیادہ دکھائی نہیں دیتے۔‘
13Apr16_BBC snake06سانپوں کے بارے میں انسان کے دماغ میں مختلف خیالات ہیں۔ (تمام تصاویر جیسن ٹالبوٹ کی ہیں)
Advertisements

روسی حملوں کے بعد شامی فوج کی پیش قدمی جاری ہے: اسد

November 22, 2015
22Nov15_AA شامی01
al-Arabia

شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا

شامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ روس کی فضائی مدد آنے کے بعد ان کے وفادار فوجی قریباً ہر محاذ پر پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کے روز ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے فونیکس ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ماسکو میں نئے امن مذاکرات کی حمایت کریں گے لیکن انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ” شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا”۔بشارالاسد نے کہا کہ ”شام میں 30 ستمبر کو روس کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد صورت حال ”بڑے اچھے” طریقے سے بہتر ہوئی ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فوج قریبا ہر محاذ پر مختلف سمتوں سے پیش قدمی کررہی ہے”۔روس دمشق حکومت کے ساتھ روابط کے ذریعے شام کے مختلف علاقوں میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک از خود ہی شام کے پیشگی علم میں لائے بغیر داعش یا القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔روس عالمی سفارتی محاذ پر بھی بشارالاسد کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور وہ ان کی اقتدار سے رخصتی کی بھی مخالفت کررہا ہے جبکہ دوسرے ممالک کا بنیادی مطالبہ ہی یہی ہے کہ شامی صدر بحران کے پُرامن حل کے لیے فوری طور پر اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔مگر بشارالاسد اقتدار چھوڑنا تو درکنار آیندہ صدارتی امیدوار بننے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”نئے انتخابات میں حصہ لینا میرا حق ہے۔البتہ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ میں ان انتخابات میں حصہ لیتا بھی ہوں یا نہیں۔یہ فیصلہ اس امر منحصر ہوگا کہ شامی عوام کے بارے میں میرے کیا احساسات ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ وہ مجھے چاہتے ہیں یا نہیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”آپ ایسی کسی چیز کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں جو آیندہ چند سال میں ہونے جارہی ہے”۔انھوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ماسکو میں نئے امن مذاکرات کے انعقاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے مگر ان کا بالاصرار کہنا ہے کہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ہی بحران کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے”۔شامی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کا نیا آئین بنانے اور اس پر ریفرینڈم کے انعقاد میں زیادہ سے زیادہ دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔واضح رہے کہ بشارالاسد اور ان کی حکومت ان تمام باغی جنگجو گروہوں کو ”دہشت گرد” قرار دیتے ہیں جنھوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔

انھوں نے شامی حزب اختلاف کی حمایت کرنے والے مغربی اور دوسرے ممالک پر انتہاپسندی کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مغرب نے ایک شامی مہاجر بچے ایان کردی کی تصویر سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا ہے اور انھوں نے حزب اختلاف کے پشتی بانوں پر دہشت گردی کی مدد وحمایت کے ذریعے شامیوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔صدر بشارالاسد نے کہا کہ ”یہ بچہ اور دوسرے بچے اس خطے اور دنیا بھر میں مغرب کی پالیسیوں کی وجہ سے مارے جارہے ہیں اور مصائب جھیل رہے ہیں”۔

گیتا کی گھر واپسی کہیں سیاسی فیصلہ تو نہیں؟

Noember 22, 2015
22Nov15_BBC گیتا01
BBC

گذشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج ایک پریس کانفرنس میں بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔ اس کی وجہ حکومت کی کوششوں کے بعد گیتا کی بھارت واپسی تھی۔
سماعت اور گویائی سے محروم گیتا نامی ایک لڑکی پڑوسی ملک پاکستان سے 15 سال بعد واپس لوٹی تھی۔گیتا کو پریس کے سامنے مرکزی حکومت کی ایک بڑی کامیابی کی طرح سے پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں گیتا کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک تصویر جاری کی گئی۔ وہ بہت ہی خوبصورت تصویر تھی جس میں دونوں خوش نظر آ رہے تھے۔
لیکن کیا یہ جشن اور یہ خوشیاں قبل از وقت تھیں؟
22Nov15_BBC گیتا02
حکومت کا اپنی پیٹھ تھپتھپانا شاید قبل از وقت خوشی اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ بعد میں وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ کا بیان آیا کہ گیتا کا ڈی این اے بہار کے جناردن مہتو سے میل نہیں کھاتا۔آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے گیتا کے ڈی این اے نمونے کی جانچ کی تھی۔وکاس سورپ کے مطابق گیتا کو بیٹی کہنے والے مزید دعویدار ہیں جن کے ڈی این اے نمونے کو گیتا کے ڈی این اے سے ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گیتا اس وقت مدھیہ پردیش کے ایک غیر سرکاری ادارے کے آشرم میں رہ رہی ہیں جہاں وزیر خارجہ ان سے پیر کو ملنے جائیں گی۔
22Nov15_BBC گیتا03
ڈی این اے ٹیسٹ کے میل نہ کھانے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آخر گیتا کا خاندان کون اور کہاں ہے؟لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ گیتا کو بھارت واپس لانے کی اتنی جلدی کیا تھی؟وہ کراچی میں رفاحی فاؤنڈیشن ایدھي میں مزے سے رہ رہی تھی جہاں اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ اس کا دل لگا ہوا تھا۔ وہاں گیتا اپنے مذہبی کام بھی کر رہی تھی۔ اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔گیتا کو اپنے خاندان کی تلاش ہے۔ اسے اس خاندان سے ملانا ایک قابل ستائش کوشش ہے جس کے لیے حکومت کی تعریف بھی کی گئی۔ کیا گیتا کی واپسی میں حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے؟
22Nov15_BBC گیتا04
کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ پہلے اس کے والدین ہونے کا دعوی کرنے والوں کے ڈی این اے نمونے کو کراچی بھیج کر گیتا کے ڈی این اے نمونے سے ملایا جاتا؟ ایدھي فاؤنڈیشن نے گیتا کو بھارت واپس بھیجنے میں کوئی کسر نہیں دکھائی۔ اگر گیتا کو کچھ اور وقت تک وہاں رہنے دیا جاتا تو کیا فرق پڑتا؟یہ سچ ہے کہ ایک تصویر دیکھ کر گیتا نے مہتو خاندان کو اپنے خاندان کے طور پر تسلیم کیا تھا، لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر اسے بہار کے اس خاندان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تھا۔اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں اس کی واپسی کی کوشش ایک سیاسی فیصلہ تو نہیں تھا؟

جنوبی افغانستان میں ھزارہ افراد بشمول خواتین کا اغواہ اور قتل

November 21, 201521Nov15_VOA ہزارہ01VOA

تقریباً چھ ماہ قبل غزنی سے اغوا کیے گئے سات شیعہ ہزارہ افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کی لاشیں رواں ماہ زابل سے برآمد ہوئی تھیں اور اس کے خلاف بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔افغانستان کے جنوبی صوبہ زابل میں نامعلوم مسلح افراد نے شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو اغوا کر لیا ہے اور یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب رواں ماہ ہی زابل سے سات مغوی ہزارہ افراد کی لاشیں برآمد ہونے پر اس کے خلاف ملکی تاریخ کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آچکے ہیں۔حکام کے مطابق ہفتہ کو علی الصبح مسلح افراد نے کابل اور قندھار کے درمیان مرکزی شاہراہ مسافر بسوں کو روکا اور شناخت کے بعد ان میں سے ہزارہ برادری کے لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔مغویوں کی اصل تعداد کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں لیکن حکام کے بقول ان کی تعداد 14 سے 20 تک ہے۔
21Nov15_VOA ہزارہ02
تاحال اغوا کاروں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی کسی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن جنوبی افغانستان میں طالبان اور داعش سے وابستہ شدت پسند شیعہ لوگوں کے اغوا میں ملوث رہے ہیں۔فارسی زبان بولنے والے اس شیعہ ہزارہ برادری کو طویل عرصے سے افغانستان میں ناروا سلوک اور ایذا رسانیوں کا سامنا رہا ہے جب کہ طالبان کے دور اقتدار میں اس برادری کے ہزاروں افراد کا قتل عام بھی ہو چکا ہے۔تقریباً چھ ماہ قبل غزنی سے اغوا کیے گئے سات شیعہ ہزارہ افراد جن میں خواتین بھی شامل تھیں، کی لاشیں رواں ماہ زابل سے برآمد ہوئی تھیں۔ہزاروں افراد نے اغوا اور قتل کے اس واقعے کے خلاف کابل سمیت ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے کیے اور حکومت سے ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا

مخدوم امین فہیم انتقال کرگئے

November 21, 201521Nov15_AF02 ڈانDU

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما مخدوم امین فہیم طویل علالت کے بعد 76 برس کی عمر میں کراچی کے مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
وہ طویل عرصے سے بلڈ کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔مخدوم امین فہیم حال ہی میں لندن سے کراچی منتقل ہوئے تھے جہاں وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اہم رہنماؤں نے ان سے ہسپتال میں ملاقات بھی کی تھی۔مخدوم امین فہم کے انتقال کی خبر نشر ہونے کے بعد پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے ہسپتال کا رخ کیا۔خاندانی ذرائع کے مطابق امین فہیم کی میت کو ان کے آبائی علاقے ہالا منتقل کیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلانمشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
21Nov15_AF03 ڈان
چار اگست 1939 کو سندھ کے علاقے ہالا میں پیدا ہونے والے مخدوم امین فہیم سندھ کے بااثر جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی مخدوم امین فہیم کو سیاسی میراث میں ملی تھی، مخدوم طالب المولیٰ کے نام سے جانے جانے والے اُن کے والد مخدوم محمد زمان پارٹی کے بانیوں میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے سینئر نائب صدر بھی تھے۔ مخدوم امین فہیم پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب چیئرمین کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر بھی تھے.مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینطیر بھٹو کے قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیے جاتے تھے، بالخصوص اُن دنوں جب محترمہ پرویز مشرف کے دور میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہی تھیں۔ سندھ یونیورسٹی سے 1961 میں گریجویشن کرنے والے مخدوم امین فہیم پہلی بار 1970 کے عام انتخابات میں رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ اب تک 6 مرتبہ رکنِ منتخب کیے جاچکے تھے۔ جنرل مشرف کے دور میں انہیں وزارتِ عظمیٰ کی بھی پیشکش کی گئی جسے انہوں نے مسترد کردیا۔2008 کے انتخابات میں مخدوم فہیم مٹیاری، حیدرآباد (پرانا حیدرآباد ون) کے حلقہ این اے 218 سے منتخب ہوئے تھے۔ 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد، پارٹی کی عملاً سربراہی آصف علی زرداری نے سنبھالی، جس کے بعد محسوس کیا جارہا تھا کہ امین فہیم سیاسی لحاظ سے دیوار سے لگ چکے ہیں۔پارٹی قیادت سے اختلافات کے علاوہ 2008 میں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر بھی ان کا نام مسترد کردیا گیا، جس کا سبب ماضی میں پرویز مشرف سے ان کے رابطے بتائے جاتے ہیں۔تاہم مختصر دوری کے بعد، ایک بار پھر پارٹی قیادت اور ان کے درمیان قربتیں بڑھیں اور انہیں وفاقی کابینہ میں بطور وفاقی وزیرِ تجارت شامل کرلیا گیا۔اس سے قبل بھی امین فہیم نے پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت میں مختلف قلمدانوں کے لیے بطور وفاقی وزیر خدمات سرانجام دیں۔ وہ بینظیر بھٹو کے 1988 سے 1990 تک پہلے دور حکومت میں مواصلات اور 1994 سے 1996 تک دوسرے دور حکومت میں ہاؤسنگ اینڈ پبلک ورکس کے وفاقی وزیر رہے۔وہ سروری جماعت کے روحانی پیشوا اور مخدوم طالب المولیٰ کے گدی نشین بھی تھے۔
تعزیتی پیغامات

پیپلز پارٹی رہنما مخدوم امین فہیم کے انتقال پر وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف،سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور دیگر شخصیات نے گہرے دکھ و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نواز شریف نے مخدوم امین فہیم کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور کہا کہ وہ سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم پارٹی کے اہم ستون تھے اور ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پرنہیں ہوگا۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے لیے امین فہیم کی قربانیوں کوہمیشہ یادرکھا جائے گا۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مطابق مخدوم امین فہیم کے انتقال سے پیپلز پارٹی سوگ میں ہے۔مخدوم امین فہیم کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا ایک اہم سپاہی ’آج ہم میں نہیں رہا‘ اور مخدوم امین فہیم کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں کیا جاسکے گا۔ دیگر شخصیات نے ٹوئٹر پرتعزیتی پیغامات پوسٹ کیے۔
21Nov15_AF04 ڈان
21Nov15_AF01 اےآر وائیDU