Category: Human Rights

ALTAF ASKS WORKERS TO DEMAND UN, WHITE HOUSE, NATO FOR TROOPS IN KARACHI

01 August, 2015
zDALLAS: Muttahida Qaumi Movement (MQM) Chief Altaf Hussain has asked his party workers to stage protest in front of United Nations, White House and NATO and make demand to send troops in Karachi.
Altaf Hussain was addressing MQM’s Annual Convention in the US city of Dallas via telephone. Altaf said, India itself is a coward country, if it had some honor it would not let bloodshed of Mohajirs at Pakistani soil. MQM Chief directed party workers to write letters to US newspapers and make them aware of the actual situation in Pakistan.Altaf Hussain asked MQM workers to continue movement for respectable life of mothers, sisters and daughters even if he was murdered.He dismissed money laundering charges and said all the bank accounts in London had been frozen and they were surviving in difficult situation. Terrorism is biggest threat for Pakistan, he asserted and added that the organizations banned by Interior Ministry are still operating in the country.

Advertisements

شیخ باقر النمر کی سزائے موت کے خلاف دستخطی مہم

(Saudi Arabia, Shafaqna 03 June, 2015)
delit

شفقنااردو (بین الاقوامی شیعہ خبررساں ادارہ) ۔۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے سعودی عرب کے ممتاز شیعہ عالم دین شیخ باقر النمر کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لئے دستخطی مہم شروع کی ہے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے سعودی عرب کے حکومت مخالف رہنما اور سرکردہ شیعہ عالم دین شیح باقر النمر کی سزائے موت پر عملدرآمد کی روک تھام کے لئے دستخطی مہم کا آغاز کیا ہے- انسانی حقوق کے یہ کارکن ایک لاکھ دستخط اکٹھے کرکے ان کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس زید بن رعد الحسین اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کو بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ آیت اللہ شیخ باقر النمر کی سزائے موت ختم اور ان کی آزادی کا راستہ ہموار کیا جا سکے- انسانی حقوق کے ان کارکنوں نے شیخ باقر النمر کی سزائے موت کے فیصلے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی تمام لیگل تنظیموں اور حریت پسند انسانوں سے کہا ہے کہ وہ اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف ڈٹ جائیں- واضح رہے کہ سعودی عرب کی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے جولائی سنہ دو ہزار بارہ میں آیت اللہ شیخ باقر النمر کو قطیف شہر سے گرفتار کر لیا تھا- بعدازاں سعودی عرب ایک نمائشی عدالت نے ان پر ملک سلامتی کو خطرے میں ڈالنے، حکومت مخالف تقاریر اور سیاسی قیدیوں کی حمایت کرنے کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ سعودی عرب کی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف عالمی سطح پر رد عمل ظاہر کیا جارہا ہے

یمن تصادم سے پاکستان کو دور رکھنے کا مطالبہ

04Apr15_DU یمن نواز01DU_BU

کراچی: جمعہ کو کراچی پریس کلب کے احاطے کے اندر اور باہر جاری گرماگرم بحث کا موضوع یمن بحران میں پاکستان کی شمولیت تھا۔
ایک جانب انسانی حقوق کے گروپس کے رہنما ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ مطالبہ کررہے تھے کہ پاکستان کو اس جنگ میں نہیں الجھنا چاہیے، اس لیے کہ اس میں شامل ہونے کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔دوسری جانب پریس کلب کے باہر بینرز اُٹھائے اور نعرے لگانے والوں کا خیال تھا کہ سعودی بادشاہت کا تحفظ اور ان کی مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔اس پریس کانفرنس کا اہتمام جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور خواتین کے ایکشن فورم کی جانب سے کیا گیا تھا۔پریس کلب کے باہر اہلِ سنت و الجماعت کی جانب سے سعودی مقاصد کی حمایت کے لیے منعقد کیے گئے مظاہرے میں لگائے جانے والے نعرے ایک محتاط اور اہم پیغام پر حاوی ہوگئے تھے۔

خواتین ایکشن فورم کی انیس ہارون اس صورتحال سے پریشان تو ہوئیں، تاہم انہوں نے پرسکون انداز میں اپنی بات جاری رکھی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا یہ پاکستانی فوج کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کی حفاظت کرے، اور ان بحرانوں سے نمٹے جن کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے اسے یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ دیگر قوموں کا بھی تحفظ کرے۔انہوں نے کہا کہ بجائے اس تصادم کو مزید پھیلانے کے ہمیں دونوں فریقین کو پرسکون اور مصالحت پر آمادہ کرنے کے لیے مفاہمتی پالیسی اپنانی چاہیے۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور خواتین ایکشن فورم دونوں نے اس طرح کے خدشات کے امکان کو مسترد کردیا کہ سعودی عرب کی بادشاہت میں مقدس مقامات کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

انیس ہارون نے واضح کیا کہ یہ مقامات دونوں ملکوں کے لیے مقدس ہیں، لہٰذا یہ دلیل پاکستان کے ملوث ہونے کے لیے تحریک نہیں بننی چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ ہمارا دفاعی بجٹ سعودی عرب کے دفاعی بجٹ کے ایک معمولی حصے کے برابر ہے، چنانچہ ہم اپنے اوپر مزید بوجھ کیوں ڈالیں؟ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کوتصادم زدہ علاقے میں بھیجنے کے امکانات کے ساتھ ہمیں دونوں پہلوؤں کو دیکھنا ہوگا، کہ یہ ہمارے لیے مالی طور پر فائدہ مند ہے یا ہمارے سپاہیوں کی خیروعافیت زیادہ اہم ہے۔انیس ہارون نے کہا کہ اس تصادم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا ایک اجلاس تاخیر سے طلب کیا گیا ہے، لیکن کیا اس کا کوئی عملی نتیجہ بھی برآمد ہوگا، اس لیے کہ ہمارے وزیراعظم خود کو سعودی خاندان کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔03Apr15_ABNAیمن01پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن کے نمائندے اسد اقبال بٹ نے کہا کہ اس جنگ پر جذباتی بیانات سے متاثر ہونے والے لوگ اس کی تفصیلات کے بارے میں نہیں جانتے، یہاں تک کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیاست کے طالبعلموں کی بھی بہت کم تعداد اس کی حقیقت سے واقف ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تصادم میں شامل حقیقی لوگ اور ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی فرحت پروین نے اس بحث کو مزید آگے بڑھایا اور مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رکن ممالک کو قیام امن میں ایک دوسرے کی مدد کرے، اسے فوری طور پر جنگ بندی کے مسئلے پر ایکشن لینا چاہیے اور زندگیوں کے زیاں کو روکنا چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ آخر کیوں اس مسئلے سے اب تک نمٹا نہیں گیا، اور کیوں دوسری ریاستوں کو اس تصادم میں گھسیٹا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ملک کا اپنی خانہ جنگی پر سعودی عرب کو فضائی حملے کی دعوت دینا ایک ایسا اقدام تھا، جس کی آج تک مثال نہیں ملتی، اور اس کارروائی کو لازماً روکنا ہوگا۔ڈاکٹر ریاض احمد شیخ نے روشنی ڈالی کہ سعودی عرب کی خواہش تھی کہ وہ ایک اور عرب اسپرنگ کو کس طرح روکے، جس میں عوامی طاقت کے ذریعے روایتی مطلق العنان حکومتوں کا تختہ الٹا گیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ حملے دوسرے عرب اسپرنگ پر قابو پانے اور اس کو سرحدوں سے باہر نکلنے سے فوری طور پر روکنے کے لیے محض پیش بندی کے اقدامات ہیں۔