Category: Political Parties

لیگی رکن اسمبلی کے ڈیرے پر دھماکا، 7 ہلاک

October 14, 2015
14Oct15_DU کھوسہ01DU

ڈی جی خان : پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان (ڈی جی خان) سے قومی اسمبلی کے رکن سردار محمد امجد فاروق کھوسہ کے ڈیرے پر دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
ڈان نیوز کے مطابق مسلم لیگ کے مقامی رہنما اختر تنگوانی اور ضمیر الحسن بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں، دونوں بلدیاتی الیکشن میں چیئرمین کے امیدوار تھے.سردار محمد امجد فاروق کھوسہ این اے 171 سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ہیں.میڈیا رپورٹس کے مطابق رکن قومی اسمبلی اس وقت ڈیرے پر موجود نہیں تھے، ان کے اسلام آباد میں ہونے کی اطلاع ہے۔
14Oct15_DU کھوسہ02
سرکاری ٹی وی کے مطابق سردار محمد امجد فاروق کھوسہ نے دھماکے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو کسی قسم کی دھمکی نہیں ملی تھی.ڈان نیوز کے مطابق رکن قومی اسمبلی کا ڈیرہ تونسہ شریف کے علاقے میں تھا، جہاں دھماکے کے وقت 40 کے قریب افراد موجود تھے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو اداروں کے امدادی کارکنوں کی بڑی تعداد ڈیرے پر پہنچی۔پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا جبکہ دھماکے کے نتیجے میں ہلاک شدگان اور زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
14Oct15_DU کھوسہ04
بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بھی متاثرہ مقام پر پہنچ کر جانچ پڑتال شروع کی تا کہ کسی اور دھماکے سے محفوظ رہا جاسکے۔ڈسٹرکٹ پولیس افیسر (ڈی پی او) ڈیرہ غازی خان مبشر میکن کا کہنا تھا کہ دھماکے کی آواز 2 کلومیٹر دور تک سنی گئی.
14Oct15_DU کھوسہ06
وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے دھماکے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس کی رپورٹ طلب کرلی۔پنجاب کے گورنر رفیق رجوانہ نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کی۔سردار محمد امجد فاروق کھوسہ 2013 کے عام انتخابات میں ڈیرہ غازی خان سے قومی اسمبلی کےرکن منتخب ہوئے، 2008 کے عام انتخابات میں سردار کھوسہ نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ 242 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی۔
14Oct15_DU کھوسہ05
سردار امجد فاروق، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما سردار ذوالفقار کھوسہ کے کزن ہیں.جنوبی پنجاب کے سینئر سیاست دان سردار ذوالفقار کھوسہ حکمران جماعت سے نالاں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ‘ون مین شو’ پر یقین رکھنے والے شریف برادران پارٹی کارکنوں کو عزت نہیں دیتے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے شریف برادران کی مخالف مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔
Advertisements

پی ٹی آئی پر غیر قانونی عالمی فنڈز لینے کا الزام

October 05, 2015
05Oct15_DU عمران01DU

اسلام آباد: عمران خان کے ایک سابق قریبی معتمد اور پی ٹی آئی کے سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات اکبر ایس بابر کے پارٹی پر مبینہ مالی کرپشن اور قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمے نے اس وقت نیا رخ اختیا ر کر لیا جب پارٹی کو غیر ملکیوں کی جانب سے مبینہ فنڈز ملنے کے دستاویز ی ثبوت سامنے آ گئے۔
اکبر بابر کا کہنا ہے کہ ان دستاویزی شواہد سے ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نے پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 اور پولیٹکل پارٹیز رولز 2002 کی مختلف شقوں کی سریحاً خلاف ورزی کی۔بابر نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تین سالوں سے منتظر تھے کہ پی ٹی آئی قیادت مالی بے ضابطگیوں کےاس دستاویزی ثبوت کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لےگی لیکن ایسا نہ ہوا۔بابر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس قانونی راستہ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ
نہیں رہا لہذا نومبر، 2014 کو ایک کیس دائر کیا گیا جس کی پہلی سماعت 19، جنوری 2015 کو ہوئی۔
بابر نے کہا کہ مارچ، 2013 میں عمران خان کے مقرر کردہ پی ٹی آئی کے خصوصی آڈیٹر کو پوری معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں 2013 میں عام انتخابات کیلئے پارٹی کو ملنے والے عطیات اور اخراجات کے آڈٹ کی اجازت دی گئی۔انہوں نے دعوی کیا کہ 2011 میں پارٹی کے اندر ہوئی مبینہ کرپشن پر تیزی سے کارروائی کرنے کے بجائے عمران خان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے بد عنوانوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی سرپرستی جاری رکھی۔الیکشن کمیشن نے بابر کی دائر پٹیشن پر تفصیلی غور کے بعد اپریل، 2015 میں پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا حکم جاری کیا۔یہ حکم پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی آڈٹ رپورٹس کے جائزہ کے بعد دیا گیا۔ تاہم، ان رپورٹس میں غیر ملکی فنڈنگ کی معلومات موجود نہیں تھیں۔چھ مئی کو ہونے والی اگلی سماعت پر غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے پی ٹی آئی نے اپنا وکیل تبدیل کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی خدمات حاصل کر لیں۔منصور خان نے غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کی جانب سے اکبر بابر کی درخواست کی سماعت کرنے کے اختیار کو چیلنج کر دیا۔پچھلی سماعتوں میں پی ٹی آئی نے دعوی کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹس میں پارٹی کو ملنے والے تمام فنڈز کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔تاہم ، الیکشن کمیشن کی جانب سے ان سالانہ رپورٹس کی جانچ پڑتال کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل غیر ملکی فنڈز کی تفصیلات دکھانے میں ناکام رہے۔پی ٹی آئی وکیل کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے جمع کرائی گئی رپورٹس کو قبول کر لیا تھا ، لہذا کمیشن اب ان رپورٹس کے مستند ہونے پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔اس پر چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع نے ملنے والے غیر ملک فنڈز کے ڈھیروں شواہد سامنے آئے ہیں لہذا کمیشن ان رپورٹس کی جانچ پڑتال کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے مختلف سماعتوں کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل کو خبردار کیا کہ معاملہ انتہائی حساس ہے لہذا وہ دلائل دیتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔اکبر بابر کے وکیل احمد حسن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے شروع میں غیر ملکی فنڈنگ سے انکار کیا جبکہ اس کاخلاف قانون ایک ڈالر اکاؤنٹ بھی ہے جس میں آنے والی تمام رقم منے لانڈرنگ کے زمرے میں آتی ہے۔اکبر بابر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پی ٹی آئی کیس کی سماعت کے دوران مسلسل اپنا موقف تبدیل کرتی رہی۔سماعت کے دوران ایک موقع پر پی ٹی آئی نے مبینہ طور پر غیر ممنوعہ امریکی ذرائع سے ملنے والےغیر قانونی2.3 ملین ڈالرز فنڈز کے پیش کردہ شواہد کے مستند ہونے پر سوال اٹھائے۔اکبر بابر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دستخطوں سے امریکا میں رجسٹرڈ ’لمیٹڈ لائبیلٹی کمپنی‘ کے پانچ میں سے تین بورڈ آف ڈائریکٹرز امریکی شہری ہیں۔’اسی طرح غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی اشخاص نے بھی پی ٹی آئی کو فنڈز دیے جو خلاف قانون ہے‘۔بابر کے مطابق، 15 ستمبر، 2015 کو ہونے والی آخری سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل انور مصور نے تسلیم کیا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی پارٹی کو غیر قانونی ذرائع سے ملنے والے فنڈز ضبط کرنےکا مکمل اختیا ر رکھتا ہے۔کیس کی سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جس کا اعلان آٹھ اکتوبر کو کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ عمران خان بار ہا پارٹی کو ملنے والے فنڈز میں بے ضابطگیوں کو مسترد کرتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے آئے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے رابطہ کرنے پر کہا ’انتہائی بدقسمتی ہے کہ اکبر بابر جیسے پارٹی کے کچھ سابق ارکان ذاتی عناد کی وجہ سے الزام تراشیوں میں مصروف ہیں‘۔انہوں نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی قیادت ہمیشہ سے پارٹی فنڈز کے حوالے سے ایماندار رہی جبکہ پی ایم ایل-ن اور پی پی پی سمیت دوسری سیاسی پارٹیاں منی لانڈرنگ میں ملوث رہی ہیں۔

پارٹی کارکن اکبر حسین متحدہ ارکان اسمبلی رضا حیدر کا قاتل نکلا

October 03, 2015
03Oct15_DU قاتل01DU

کراچی: رینجرز نے کراچی کے علاقے گلشن معمار میں کارروائی کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین اسمبلی کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے.
03Oct15_DU قاتل02
سندھ رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن معمار میں کارروائی کے دوران اکبر حسین عرف کالا اور کونین حیدر رضوی کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اکبر حسین عرف کالا نامی ٹارگٹ کلر ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی رضا حیدر اور ساجد قریشی کے قتل سمیت ٹارگٹ کلنگ کی 10 وارداتوں میں بھی ملوث ہے.یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رضا حیدر کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں 2 اگست 2010 کو اُس وقت سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا جب وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔
03Oct15_DU قاتل03
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق رضا حیدر کو قتل کرنے والے ملزمان ایک موٹر سائیکل اور سفید کار میں سوار تھے جبکہ حملہ آوروں نے فائرنگ سے قبل اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا جس کے باعث پولیس کو شبہ تھا واقعہ میں کالعدم لشکر جھنگوی نامی تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔رضا حیدر کے قتل کے بعد کراچی میں 3 روز تک ہنگامے ہوتے رہے جس میں 50 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔رضا حیدر کے قتل کے وقت ایم کیو ایم سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کی اتحادی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ کے رکن اسمبلی ساجد قریشی قتل
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی ساجد قریشی کو ان کے 25 سالہ بیٹے کے ہمراہ گزشتہ عام انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہونے کے ایک ماہ بعد 21 جون 2013 کو نارتھ ناظم آباد میں اُس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آئے تھے جبکہ ان کے قتل کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔2013 میں اُس وقت ایم کیو ایم نے سندھ میں اپنے کارکنان میں ریفرنڈم کروایا تھا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو البتہ آج تک اس ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ساجد قریشی کے قتل کے ایک ماہ بعد ہی پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن (سی آئی ڈی) ڈپارٹمنٹ کی حراست میں کالعدم تنظیم کے ایک مبینہ کارکن کی ہلاکت ہوئی تھی، جس کے حوالے سے سی آئی ڈی کا دعویٰ تھا کہ ملزم ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کے قتل میں ملوث تھا.
03Oct15_DU قاتل04
ساجد قریشی کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں بھرپور ہڑتال کی تھی جس میں کاروبار مکمل طور پر بند رہا تھا۔ملزم کی 2013 کے عام انتخابات سے قبل کراچی کے حالات خراب کرنے میں ملوث ہونے کے حوالے سے رینجرز ترجمان کا کہنا تھا کہ اکبر حسین انتخابات کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے ہی انتخابی کیمپوں پر عزیز آباد، ناظم آباد، مکا چوک اور یوسف پلازہ میں دستی بم حملوں میں ملوث تھا۔خیال رہے کہ 2013 کے عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم کے 8 انتخابی کیمپوں پر بم حملے ہوئے تھے جن میں متحدہ کے کئی کارکن ہلاک اور زخمی ہوئے تھے، ان حملوں کی ذمہ داری بھی طالبان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی جبکہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ سیکیولر نظریات کی وجہ سے ان کو دہشت گردی کے ذریعے آزادانہ انتخابی مہم چلانے نہیں دی گئی۔رینجرز نے اپنے اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن اکبر حسین عرف کالا نے متحدہ قومی موومنٹ کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر تمام جرائم کیے، جن کا مقصد عوام کی ہمدردی حاصل کرنا تھا۔دوسرے ملزم کے حوالے سے رینجرز نے بتایا ہے کہ کونین حیدر رضا رضوی ٹارگٹ کلنگ کی 7 وارداتوں کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری اور ہڑتالوں کے دوران جلاؤ گھیراو میں بھی ملوث ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں ایم کیو ایم کے 6 ارکان اسمبلی پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں جن میں سے 4 کی ہلاکت ہوئی.متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی رضا حیدر کو 2010 میں قتل کیا گیا، جنوری 2013 میں منظر امام کورنگی میں قتل ہوئے جن کے قاتل کو 10 روز قبل ہی رینجرز نے گرفتار کیا ہے قاتل کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے، جون 2013 میں ساجد قریشی کو نشانہ بنایا گیا، ایک سال بعد جون 2014 میں ایم کیو ایم کی خاتون رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف کو لاہور میں مبینہ ڈکیتی میں مزاحمت پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، دو ماہ قبل 18 اگست 2015 کو ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اور سینئر رہنما رشید گوڈیل پر کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے جبکہ 15 روز پہلے ہی 18 ستمبر کو ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی سیف الدین خالد کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، تاہم سیف الدین اس حملے میں محفوظ رہے۔

عاصمہ جہانگیر کا لائسنس منسوخ کیا جائے

September 30, 2015
30Sep15_DU عاصمہ01DU

لاہور: وکلاء نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سربراہ الطاف حسین کے میڈیا بلیک آؤٹ سے متعلق کیس لڑنے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر اور سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کے لائسنس کی فوری منسوخی کا مطالبہ کردیا ہے.
ایڈووکیٹ آفتاب ورک کی قیادت میں لاہور ہائی کورٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے وکلاء نے الزام لگایا کہ متحدہ قومی موومنٹ 2007 میں عدلیہ کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی تحریک کے دوران وکلاء کے قتل میں ملوث ہے.مظاہرین نے ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کا مقدمہ لڑنے پر پاکستان بار کونسل اور دیگر باڈیز سے عاصمہ جہانگیرکی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا.

الطاف حسین کی تقاریر، تصاویر کی نشرو اشاعت پر پابندی
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور پریس کونسل آف پاکستان کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم ) الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر کی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں.الطاف حسین کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ عبداللہ ملک، ایڈووکیٹ آفتاب، ایڈووکیٹ مقصود اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم قائد نے اپنی تقاریر میں پاک فوج اورریاستی اداروں کے خلاف انتشار آمیز بیان بازی کی، لہذا ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے.واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت مملکت پاکستان سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہر اس شخص کی جو فی الوقت پاکستان میں ہو، واجب التعمیل ذمہ داری ہے جبکہ آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کرنے پر کسی بھی شخص پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلایا جاسکتا ہے.لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے الطاف حسین کی تقاریر و تصاویر کی نشرو اشاعت پر پابندی کے فیصلے کو ‘جانبدار’ اور ‘امتیازی’ قرار دیتے ہوئے ایم کیو ایم نے اس کے خلاف احتجاج کااعلان کیا تھا.

پاکستان پر اب بھی فوج کا ہی کنٹرول ہے؟

September 30, 2015
30Sep15_BBC فوج01BBC

بعض اسے فوج کی پس منظر سے حکمرانی کہتے ہیں جبکہ دوسرے اسے فوجی جرنیلوں اور سیاست دانوں کے درمیان قوم کے مفاد میں مل جل کر کام کرنے کا نام دیتے ہیں لیکن کسی بھی نظریے آپ اسے دیکھیں، اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی فوج کی سیاسی قوت بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی ابتدا 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی سکول پر پاکستانی طالبان کے حملے سے ہوئي جس میں 140 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔اس کے چند روز بعد ہی سویلین قیادت نے 20 نکات پر مبنی ایک ’نیشنل ایکشن پلان‘ تیار کیا، جس کا مقصد‎ شدت پسندوں سے نمٹنا، ان کے بیانات کو لگام ڈالنا، دینی مدارس کو کنٹرول کرنا اور ان کی مالی حالت کو کمزور کرنا ہے۔اس بات سے واقفیت کی بنا پر کہ شہری عدالتیں جہادیوں کو سزا دینے میں غیر دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہیں، ارلیمان نے فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے آئین میں ترمیم کا بل منظور کیا۔اس کے بعد فوج نے ایک ایسی ’اعلیٰ کمیٹی‘ کے قیام کا اعلان کیا جو سرکردہ سیاسی رہنماؤں، نوکر شاہی، خفیہ ایجنسیوں اور فوج کے حکام پر مشتمل ہے۔حکومت نے اس سمت میں کارروائی کرتے ہوئے اب تک تقریباً 50 ہزار شدت پسندوں کو یا تو حراست میں لیا ہے یا پھر وہ گرفتار کیے گئے ہیں۔کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کو پولیس نےگولی مار کر ہلاک کیا ہے جس کے متعلق عام خیال یہی ہے کہ یہ ماورائے عدالت قتل تھا۔ان سخت کارروائیوں سے انتہا پسندوں کے تشدد کی سطح میں کمی بھی آئی ہے۔اس سب کے لیے پاکستانی میڈیا نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے کردار کو سراہا اور اب فوج عوام کی بڑھتی ہوئی اس حمایت سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔
30Sep15_BBC فوج02
لیکن جن لوگوں کو توقعات تھیں کہ پشاور حملہ ایک اہم موڑ ثابت ہوگا ان میں سے بہت سوں کو اب نہیں لگتا کہ اس نیشنل ایکشن پلان سے دیرپا تبدیلیاں آئیں گی۔اس سے قبل 2007 میں جنرل مشرف کے دور میں بھی دسیوں ہزار شدت پسندوں کو حراست میں لیا گیا تھا جنھیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔چونکہ حکومت کے پاس ان سے تفتیش کرنے کی صلاحیت میں کمی ہے اس لیے دوبارہ پھر وہی ہو سکتا ہے جو ماضی میں ہوتا رہا ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے جب اس قومی منصوبے کا اعلان کیا تو کہا تھا کہ اب پاکستان اچھے طالبان ( جو پاکستانی دشمنوں سے لڑتے ہیں) اور برے طالبان ( جو پاکستان کو ہی نشانہ بناتے ہیں) میں کوئی فرق نہیں کرے گا۔لیکن حقیقت میں حکومت اب بھی اسی پالیسی پر آمادہ ہے اور کارروائی کرنے کے لیے اپنی پسند کا انتخاب کرتی ہے۔ ان جہادی دھڑوں کو نشانہ نہیں بنا تی جو متنازع کشمیر میں بھارتی فوج کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ان طالبان کو بھی آزاد چھوڑا ہوا ہے جو افغانستان میں حملے کرتے ہیں، جیسے حقّانی نیٹ ورک، جو کابل پر حملوں کے لیے مورد الزام ٹھہرائے جاتے رہے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ متنازع لشکر طیبہ کا گروپ (یا پھر اس کا دوسرا نام جماعت الدعوۃ) ہے، جس پر 2008 میں ممبئی پر حملوں کا الزام ہے لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔تنظیم کے سربراہ حافظ سعید کے بیانات پاکستانی میڈیا میں اکثر شا‏ئع ہوتے رہتے ہیں
30Sep15_BBC فوج03
عمر شیخ کے خلاف بھی مزید قانونی کارروائی کی توقع کم ہی ہے جنھیں 2002 میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کی موت کے لیے قصوروار ٹھہرایا گيا تھا۔ ان کی اپیل ایک زمانے سے پڑی ہوئی ہے۔ممتاز قادری، جنہوں نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا قتل کیا تھا، ان پر بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ نہ تو فوج اور نہ ہی سویلین حکومت قادری کے مقدمے کو نیشنل ایکشن پلان میں شامل کرنے کا رسک نہیں لے سکتی کیونکہ اسے عوام کی حمایت حاصل ہے۔نجی گفتگو میں حکام اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ ان کی ترجیح وہ شدت پسند ہیں جو پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں لیکن اس دعوے پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کے اثرات پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان رشتوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندے شکایت کرتے ہیں کہ انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے بالکل الگ کر دیا گیا ہے۔
شخصیت پرستی
بعض افراد فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ابھرتی شخصیت کے حوالے سے بھی خوفزدہ ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تقریبا تمام علاقوں میں ان کے پوسٹرز بل بورڈز پر لگائے گئے۔ کئی پراسرار ویب سائٹ، جنہیں فوج کی تصاویر تک آسان رسائی حاصل ہے، ان کی تعریف کے پُل باندھے رہتے ہیں۔وج نے تعلقات عامہ کا اپنا شعبہ بھی پہلے سے بہتر کیا ہے اور جہادیوں کے خلاف وہ اپنی مہم کے لیے قومی جذبے سے سرشار نغمے بھی تیار کرتی ہے۔پاکستان کا ایک آزاد خیال طبقہ ان تمام سرگرمیوں سے تشویش میں بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جہادیوں سے نمٹنے کی ہر حکمت عملی پر فوج کی چھاپ اس لیے ہے کیونکہ سویلین حکومت اپنی طرف سے کوئی بھی متاثر کن حکمت عملی وضع کرنے میں ناکام رہی ہے۔فوج کے لیے عوام کی بڑھتی حمایت کا اثر ذرائع ابلاغ پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے تو فوج کو ناراض کرنے سے متعلق اتنے نروس ہیں کہ اپنی براہ راست نشریات میں تیس سیکنڈ کی تاخیر سے کام لیتے ہیں تاکہ ضرورت کے مطابق کسی خاص آواز یا بات کو دبایا جا سکے۔یہ احکامات پہلے جہادیوں کے انٹرویوز کو روکنے کے لیے تھے لیکن اب انہیں فوج کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا تا ہے۔
30Sep15_BBC فوج04
فوج کے اس قدر اوپر اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ اتنے مضبوط مینڈیٹ کے باوجود وزیراعظم نواز شریف اپنی خود کی بعض پالیسیوں کو نافذ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ بھارت کے ساتھ پاکستا ن کے رشتے اچھے ہوں لیکن فوج نے بھارت کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح دینے کی شرط لگا دی۔نواز شریف کو پرویز مشرف کے خلاف کارروائی کرنے سے بھی باز رکھا گيا جنھوں نے انھیں اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا کیونکہ فوج نہیں چاہتی تھی کہ ان کے سابق سربراہ پر بغاوت کا مقدمہ چلے۔فی الوقت فوج اور حکومت پر احتیاط سے بس ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ ایک ساتھ کام تو کر رہے ہیں لیکن اس لیے کہ سیاست دانوں کو یہ خوف ستاتا رہتا ہے کہ اگر فوج کے ساتھ اختلافات رونما ہوئے تو پھر سے تختہ پلٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔بعض لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر کب تک یہ صورت حال برقرار رہ سکتی ہے۔انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں ’میں آپ کو بتا دوں کہ ہم نے تاریخ سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ہماری فوج کو صرف طاقت نہیں چاہیے بلکہ وہ مکمل اور بلا شرکتِ غیرے طاقت کی خواہشمند ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کی ہڑتال بےاثر، شہر کھلا رہا

September 13, 2015
13Sep15_BBC متحدہ01BBC

متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سنیچر کے روز کراچی میں ہڑتال کی اپیل کے باوجود کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری رہا ہے۔
ایم کیو ایم نے اپنے چار کارکنوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف سنیچر کو ملک بھر میں پُرامن یوم سوگ منانے اور کراچی میں کاروبارِ زندگی بند رکھنے کی اپیل کی تھی۔ہڑتال کی اپیل کے باوجود شہر میں بیشتر کاروباری مراکز کھلے رہے اور ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہی۔پولیس اور رینجرز کے دستے شہر میں جگہ جگہ گشت کرتے رہے اور رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں اورنگی ٹاؤن، کریم آباد ،گارڈن اور لیاقت آباد سے آٹھ ’شر پسندوں‘ کو گرفتار بھی کیا ہے۔رینجرز کے مطابق ان افراد کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے جو شہریوں اور تاجر برادری کو اپنے معمولات زندگی بند کرنے کے لیے دھمکا رہے تھے۔ان کے مطابق ان ملزمان کو جلد ہی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔
13Sep15_DU متحدہ مسلم لیگ02
دوسری جانب ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے یوم سوگ کو ناکام بنانے کے لیے شہر کی مختلف مارکیٹوں کی انجمنوں کے عہدیداروں اورٹرانسپورٹرز پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ دکانیں اور بازار کھولیں۔
جماعت کی جانب سے ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کراچی میں نادرن بائی پاس کے قریب رینجرز سے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہونے والے چار مشتبہ ملزمان کو اپنا کارکن قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اراکین کئی ماہ سے لاپتہ تھے اور انھیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔دوسری جانب رینجرز کا موقف ہے کہ یہ ملزمان ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے ممبر اور وکیل حسنین بخاری کے قتل میں ملوث تھے اور پارٹی کے ایما پر ’سیف ہاؤسز‘ میں روپوش تھے۔

MQM’S MOHSIN ALI CONFESSES KILLING DR IMRAN FAROOQ IN LONDON

September 03, 2015
03Sep15_NH عمران فاروق
NewsHub
ISLAMABAD (Web Desk) – Mohsin Ali has confessed to Scotland Yard investigators of being involved in the brutal murder of Dr Imran Farooq, the MQM’s founding leader, in London, Daily Pakistan Today reported on Thursday.
A three-member investigation team, comprising Scotland Yard’s senior officers, met Mohsin Ali – the prime suspect in Imran Farooq murder case – and conducted his interview.
Sources in the Federal Investigation Agency (FIA) told the newspaper that the accused answered the queries put forth by the British investigators and fully cooperated with them.
“The suspect answered questions put by the Scotland Yard team that consists of senior police officers. The suspect confessed to his direct involvement in the killing of the MQM leader,” an official involved with the investigation process said.
The Scotland Yard team arrived Pakistan this week after the federal government gave access to UK authorities to key accused in MQM leader’s murder case following a meeting between Interior Minister Chaudhry Nisar Ali Khan and British Home Secretary Theresa May in London.
The Scotland Yard has also interrogated two other accused, Moazzam Ali Khan and Khalid Shamim, in the same case.
The British investigators are expected to complete their investigation by this weekend.
“During the investigation, Mohsin Ali admitted that he had attacked Dr Imran Farooq with a knife,” the source said, adding that the accused also revealed that he was an activist of All Pakistan Muttahida Students Organization (APMSO) – the student arm of the Muttahida Qaumi Movement (MQM).