Category: Red Cross

ریڈ کراس کا ہوائی جہاز طبی سامان لے کر صنعاء پہنچ گیا

10Apr15_ریڈکراس یمن01AA_BU

بین الاقوامی امدادی ادارے’’ریڈ کراس‘‘ کا ایک مال بردار ہوائی جہاز 16 ٹن ادویات اور طبی سامان لے کر یمن کے دارالحکومت صنعاء پہنچ گیا ہے۔ ریڈ کراس کی جانب سے ایک امدادی ہوائی جہاز کی صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کامیاب لینڈنگ کی تصدیق کی ہے۔ریڈ کراس کی خاتون ترجمان ماری کلیر فگالی کا کہنا ہے کی ان کی تنظیم کی جانب سے ادویات اور دیگر طبی سامان لے کرپہلا طیار صنعاء پہنچا ہے۔ ہوائی جہاز کے ذریعے سولہ ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں۔
قبل ازیں ریڈ کراس کے مشرق وسطیٰ کے ڈئریکٹرآپریشنز رابرٹ مارڈینی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہوائی جہازکے ذریعے ادویہ پٹیاں اورآلات جراحی صنعا بھیجے گئے ہیں۔
Advertisements

یمن بحران: عدن میں حوثی افواج کی پیش قدمی

06Apr15_BBCپیشقدمیBBC_Orig

عدن: سعودی عرب کی قیادت میں مسلسل جاری فضائی حملوں کے باوجود حوثی عسکریت پسندوں کو یمن کے شہر عدن میں کچھ پیش قدمی میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق حوثی جنگجوؤں اور اتحادی فوج کے یونٹوں کے درمیان جاری تصادم یمن کے جنوبی شہر عدن میں اتوار کے روز شدید ہوگیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شدید فائرنگ اور گولہ باری کی آوازیں بندرگاہ کے قریب مرکزی شہر میں گونجتی رہیں۔حوثی افواج عدن شہر پر قبضہ کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، جو سعودی عرب کے حمایت یافتہ صدر عبدالربّ المنصور ہادی کی وفادار فوج کا آخری ٹھکانہ ہے، سعودی قیادت میں خلیجی فضائیہ کے گیارہ روز سے جاری فضائی حملوں کے باوجود حوثیوں نے پیش قدمی کی ہے۔

فضا اور سمندر سے جاری اس جنگی مہم میں حوثیوں کے قافلوں اور میزائلوں اور ہتھیاروں کے ذخیروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور کسی بھی ممکنہ بیرونی کمک کے راستوں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ حوثیوں نے سعودی الزامات کو مسترد کیا ہے کہ انہیں تہران کی جانب سے اسلحہ فراہم کیا جارہا ہے۔یاد رہے کہ ہفتہ کو ریڈکراس نے عدن شہر میں 24 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو شہریوں کی بہت بڑی تعداد ہلاک ہوجائے گی۔بی بی سی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ریڈکراس کی ایک افسر میری کلیئر فیگلی نے کہا کہ شہر کے حالات انتہائی خوفناک ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلیوں میں لاشوں کے ڈھیر لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس ہفتے یمن کی ہلالِ احمر کے تین رضاکار ہلاک ہوگئے تھے۔ لوگ کھانے کی چیزیں لینے باہر نہیں نکل سکتے۔ ہم جانتے ہیں کہ شہر میں پانی کی کمی ہے کیونکہ پانی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم سے جتنا ہو سکتا ہے، ہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. لیکن حالات بہت خراب ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حوثی افواج شہر میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے رہائشی علاقوں پر بمباری کی ہے۔ کئی عمارتوں میں آگ بھی لگائی گئی ہے۔یمن کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر الخضر الاسار کے مطابق، عدن میں 26 مارچ سے اب تک 185 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور بارہ سو بیاسی افراد زخمی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ اس تعداد میں باغی اور ہوائی حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد شامل نہیں ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 500 افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ صدر منصور ہادی کی حکومت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جو ان کے مطابق بدعنوان ہے۔ باغیوں کو فوج کے اس دھڑے کی حمایت بھی حاصل ہے جو سابق صدر علی عبداللہ صالح کا وفادار ہے۔دوسری جانب سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس کا حریف ایران حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے، لیکن ایران اس الزام کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ریڈ کراس کو صنعا جانے کی اجازت، عدن میں باغیوں کی مزید پیش قدمی

06Apr15_BBCعدن01BBC_BU

عالمی امدادی ادارے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسے سعودی کمان میں یمن پر حوثی باغیوں پر فضائی حملے کرنے والے اتحاد کی جانب سے دارالحکومت صنعا میں امداد پہنچانے کی اجازت مل گئی ہے۔ادھر ملک کے جنوبی شہر عدن میں بمباری کے باوجود حوثیوں کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور باغیوں اور صدر عبدربہ ہادی منصور کی وفادار فوج کے درمیان شہر پر کنٹرول کی جنگ میں اتوار کو مزید شدت آئی ہے۔
یمن پر سکیورٹی کونسل میں اتفاق نہیں
پاکستان یمن کی صورتحال کو سمجھ نہ سکا
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس( آئی سی آر سی) کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے زیرِ کمان اتحاد نے بذریعہ ہوائی جہاز صنعا میں امداد پہنچانے کو کہا ہے۔ادارے کے مطابق اسے دو امدادی طیارے بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں سے ایک سامان بردار طیارہ ہوگا جس پر طبی سازوسامان اور ادویات لدی ہوں گی جبکہ دوسرے چھوٹے مسافر طیارے پر امدادی کارکن اور طبی عملہ سوار ہوگا۔آئی سی آر سی کی ترجمان ستارہ جبین کا کہنا ہے کہ ادارہ پیر کو یہ دونوں پروازیں صنعا بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔06Apr15_BBCعدن02ریڈ کراس نے ہی سنیچر کور عدن میں امداد پہنچانے کے لیے 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہاں مزید شہری ہلاک ہو جائیں گے۔امدادی ادارے کی ترجمان میری کلیئر فغالی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور گلیوں میں لاشوں کے ڈھیر لگنا شروع ہو چکے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدن میں لوگ خوراک لینے باہر نہیں نکل سکتے اور وہاں پائپ تباہ ہونے کی وجہ سے پانی کی بھی قلت ہے۔ ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن حالات انتہائی دشوار ہیں۔یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف بمباری کا سلسلہ اتوار کو 11ویں روز بھی جاری رہا جس میں 13 باغی جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔سعودی اتحاد میں شامل ممالک کا کہنا ہے کہ ان کا یمن میں زمینی کارروائی کا ارادہ نہیں تاہم سعودی مشیر نے یہ بتائے بغیر کہ زمینی کارروائی ہوئی یا نہیں تصدیق کی ہے کہ سعودی بحریہ اور آرمی کی جانب سے مخصوص آپریشن کیے گئے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ اتوار کو باغی شہر کے رہائشی علاقوں پر گولہ باری کرتے ہوئے آگے بڑھے ہیں اور کئی عمارتیں اس گولہ باری کی وجہ سے تباہ ہوئی ہیں۔06Apr15_BBCعدن03عدن میں محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر الخضر لاسوار کا کہنا ہے کہ 26 مارچ سے اب تک شہر میں کم از کم 185 افراد کی ہلاکت اور قریباً 1300 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تعداد میں فضائی حملوں میں مارے جانے والوں یا باغیوں کی ہلاکتوں کی تعداد شامل نہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لڑائی میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک اور 1700 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔یمن میں مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا سلسلہ بھی جاری ہے اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والی اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ چین، جبوتی، سوڈان اور مصر سے پروازیں یمن پہنچنے کا شیڈول موجود ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کینیڈا جرمنی اور عراق کی جانب سے یمن میں محصور افراد کی امداد اور انخلا کی درخواستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔لجیریا کے فضائی طیارے نے سنیچر کو اپنے 160 شہریوں سمیت موریطانیہ کے 15، تیونس کے 40، لیبیا کے آٹھ، مراکش کے تین اور فلسطین کے ایک شہری کو صنعا سے قاہرہ پہنچایا تھا۔