Tag: Geeta

گیتا کی گھر واپسی کہیں سیاسی فیصلہ تو نہیں؟

Noember 22, 2015
22Nov15_BBC گیتا01
BBC

گذشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج ایک پریس کانفرنس میں بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔ اس کی وجہ حکومت کی کوششوں کے بعد گیتا کی بھارت واپسی تھی۔
سماعت اور گویائی سے محروم گیتا نامی ایک لڑکی پڑوسی ملک پاکستان سے 15 سال بعد واپس لوٹی تھی۔گیتا کو پریس کے سامنے مرکزی حکومت کی ایک بڑی کامیابی کی طرح سے پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں گیتا کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک تصویر جاری کی گئی۔ وہ بہت ہی خوبصورت تصویر تھی جس میں دونوں خوش نظر آ رہے تھے۔
لیکن کیا یہ جشن اور یہ خوشیاں قبل از وقت تھیں؟
22Nov15_BBC گیتا02
حکومت کا اپنی پیٹھ تھپتھپانا شاید قبل از وقت خوشی اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ بعد میں وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سورپ کا بیان آیا کہ گیتا کا ڈی این اے بہار کے جناردن مہتو سے میل نہیں کھاتا۔آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے گیتا کے ڈی این اے نمونے کی جانچ کی تھی۔وکاس سورپ کے مطابق گیتا کو بیٹی کہنے والے مزید دعویدار ہیں جن کے ڈی این اے نمونے کو گیتا کے ڈی این اے سے ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گیتا اس وقت مدھیہ پردیش کے ایک غیر سرکاری ادارے کے آشرم میں رہ رہی ہیں جہاں وزیر خارجہ ان سے پیر کو ملنے جائیں گی۔
22Nov15_BBC گیتا03
ڈی این اے ٹیسٹ کے میل نہ کھانے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آخر گیتا کا خاندان کون اور کہاں ہے؟لیکن اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ گیتا کو بھارت واپس لانے کی اتنی جلدی کیا تھی؟وہ کراچی میں رفاحی فاؤنڈیشن ایدھي میں مزے سے رہ رہی تھی جہاں اپنی ہم عمر لڑکیوں کے ساتھ اس کا دل لگا ہوا تھا۔ وہاں گیتا اپنے مذہبی کام بھی کر رہی تھی۔ اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔گیتا کو اپنے خاندان کی تلاش ہے۔ اسے اس خاندان سے ملانا ایک قابل ستائش کوشش ہے جس کے لیے حکومت کی تعریف بھی کی گئی۔ کیا گیتا کی واپسی میں حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے؟
22Nov15_BBC گیتا04
کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ پہلے اس کے والدین ہونے کا دعوی کرنے والوں کے ڈی این اے نمونے کو کراچی بھیج کر گیتا کے ڈی این اے نمونے سے ملایا جاتا؟ ایدھي فاؤنڈیشن نے گیتا کو بھارت واپس بھیجنے میں کوئی کسر نہیں دکھائی۔ اگر گیتا کو کچھ اور وقت تک وہاں رہنے دیا جاتا تو کیا فرق پڑتا؟یہ سچ ہے کہ ایک تصویر دیکھ کر گیتا نے مہتو خاندان کو اپنے خاندان کے طور پر تسلیم کیا تھا، لیکن ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر اسے بہار کے اس خاندان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا تھا۔اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ کہیں اس کی واپسی کی کوشش ایک سیاسی فیصلہ تو نہیں تھا؟
Advertisements

گیتا ہماری بیٹی ہے، چار بھارتی خاندانوں کا دعویٰ

09Aug15_BBC گیتاBBC

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود بھارتی لڑکی گیتا کو وطن واپس لانے کے لیے ضروری کارروائی کی جا رہی ہے۔

سنیچر کو ٹوئٹر پر اپنے متعدد پیغامات میں بھارتی وزیر نے یہ بھی کہا کہ اب تک چار خاندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ گیتا ان کی گمشدہ اولاد ہے۔

10 سال سے زیادہ عرصے سے پاکستان میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس رہنے والی گیتا قوتِ گویائی اور قوتِ سماعت سے محروم ہیں۔
04Aug15_VOA گیتا
سشما نے اپنی پہلی ٹویٹ میں کہا کہ، ’ہم گیتا کو بھارت واپس لانے کے لیے ضروری کارروائی کر رہے ہیں۔‘

ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ کچھ دنوں میں پنجاب، بہار، جھارکھنڈ اور اترپردیش کے چار خاندانوں نے دعوی کیا ہے کہ گیتا ان کی بیٹی ہے۔ میں متعلقہ ریاستوں کے وزرائے اعلی سے ان دعوؤں کی تصدیق کی رپورٹ دینے کی اپیل کر رہی ہوں۔
06Aug15_BBC گیتا01
سشما نے ٹوئٹر پر لکھا، گیتا نے اشاروں میں پاکستان میں بھارتی ہائی کمشنر سے باتیں کی اور بتایا کہ وہ سات بھائی بہن ہیں۔ گیتا نے بتایا تھا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ ایک مندر گئی تھیں، اس کے بعد اس نے ’ویشنو دیوی‘ لکھا۔ ان معلومات کی بنیاد پر براہ مہربانی گیتا کے خاندان کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔

GEETA WILL BE BROUGHT BACK TO INDIA: SUSHMA

06 August, 2015
06Aug15_BBC گیتا01

We will bring Geeta back to India,” said Sushma Swaraj­06Aug15_BBC گیتا02
Following Indian commissioner to Pakistan Dr TCA Raghavan’s meeting with Geeta, the external affairs minister said that the hearing and speech impaired girl would be taken to India.
“We will bring Geeta back to India,” said Sushma Swaraj, the Indian minister for external affairs on Twitter. She said that her government was keen to bring home the stranded girl.
The minister on the social media said that the process requires legal formalities which they would complete. She said the Indian High Commissioner believes that the girl was Indian. “We are grateful to all individuals and institutions in Pakistan who looked after Geeta,” said Swaraj. Sources in the High Commission said that it is difficult to give a timeframe, adding that the formalities also include getting information and locating the family. The source said that soon, more officers would visit Geeta and try to get more information from her.04Aug15_VOA گیتاThe source said that once they get concrete information about Geeta, they would approach the Pakistani government for their assistance.
The Indian girl has been in Pakistan for the last 13 years when she mistakenly crossed the border, and has been living with the Edhi Foundation ever since.
Meanwhile, a family from Amritsar contacted Faisal Edhi saying that they had lost a deaf and mute girl 12 years ago. However they did not turn out to be Geeta’s family.