Tag: visit

دورہ امریکا : آرمی چیف کا انسداد دہشتگردی کے خلاف پرعزم

November 17, 2015
راحیل شریف 03
DU

اسلام آباد : امریکا کے پانچ روزہ دورے پر گئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پینٹاگون میں امریکی ڈیفنس سیکرٹری ایشٹن کارٹر سے ملاقات کرے دوطرفہ دفاعی تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹوئیٹ پیغامات کے ذریعے منگل کو جنرل راحیل شریف کے پینٹاگون کے دورے کے بارے میں بتایا۔ملاقات کے دوران امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا اوردہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کا اعتراف کیا۔ایشٹن کارٹر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ امریکا اپنا کردار ادا کرے گا اور دہشتگردی و انتہاپسندی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کی ہر کوشش کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے انسداد دہشتگردی کے لیے پاکستانی کوششوں کو ” خطے کے امن کے لیے مواقع کھولنا” قرار دیا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور امریکا دہشتگردی اور انتہا پسندی کے عالمی عفریت کے خلاف رابطوں کو جاری رکھیں گے۔ملاقات کے دوران جنرل راحیل شریف نے خطے کے چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کرے گا۔

Advertisements

اماراتی ولی عہد کا دورہ سعودی عرب، حکام سے ملاقاتیں

13Apr15_AAدورہ01

AA_BU

متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور ملک کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف الشیخ محمد بن زاید آل نھیان اعلیٰ اختیاراتی وفد کےہمراہ خصوصی دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں انہوں نے سعودی نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کی ہے۔سعودی عرب کی خبر رساں ایجنسی’’واس‘‘ کے مطابق اماراتی وفد کی نائب ولی عہد سے ملاقات کے موقع پر سعودی وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود تھے۔ ملاقات میں علاقائی اور عالمی مسائل بالخصوص یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔خیال رہے کہ اتوارکی شام ابو ظہبی کے ولی عہد اور مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف الشیخ محمد بن زاید نھیان ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کے ہمراہ ریاض پہنچے تھے۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرنائب ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف، وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان، وزیر مملکت ڈاکٹر سعود بن خالد الجبری اور سعودی عرب میں متحدہ عرب امارات کے سفیر محمد سعید الظاھری نے ان کا استقبال کیا۔اماراتی وفد میں ولی عہد کے ہمراہ نائب وزیراعظم الشیخ سیف بن زاید آل نھیان، قومی سلامتی کے مشیر الشیخ طحنون بن زاید آل نھیان، نائب وزیراعظم الشیخ منصور بن زاید آل نھیان ، وزیرخارجہ الشیخ عبداللہ بن آل نھیان، نائب وزیر برائے صدارتی امور احمد جمعہ الزعابی اور ڈپٹی کمانڈر ان چیف کے ملٹری ایڈوائزر میجر جنرل جمعہ احمد البواردی الفلاسی شامل تھے۔

امیر قطر کی خادم الحرمین الشریفین سے ملاقات

09Apr15_AAقطر01


AA_Orig

خلیجی ریاست قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی اعلیٰ اختیارتی حکومتی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے ہیں جہاں انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقات کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امیر قطر خصوصی طیارےسے ریاض بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں ولی عہد دوم، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نائف، وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان، جنرل انٹیلی جنس چیف خالد بن علی الحمیدان، سعودی عرب میں قطر کے سفیرالشیخ عبداللہ بن ثامر آل ثانی اور ریاض کے فوجی اڈے کے سربراہ میجر جنرل خالد بن فہد الروضان نے ان کا استقبال کیا۔
بعد ازاں امیر قطر ریاض میں العوجا شاہی محل پہنچے جہاں ان کی ملاقات شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہوئی۔ ملاقات میں خطے کی موجودہ صورت حال بالخصوص یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا
09Apr15_AAقطر02

ترک صدر ایردوآن کی دورۂ ایران پر تہران آمد

01Apr15_AAترک صدر01AA_Orig

ترک صدر رجب طیب ایردوآن ایران کے ساتھ یمن میں جاری بحران پر کشیدگی کے تناظر میں منگل کو سرکاری دورے پر تہران پہنچے ہیں۔ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل کی اطلاع کے مطابق رجب طیب ایردوآن کے ساتھ متعدد وزراء بھی دورے پر آئے ہیں۔وہ ایرانی قیادت سے دوطرفہ تعلقات اور اہم عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ترک صدر نے سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف فضائی مہم کی حمایت کی ہے جبکہ ایران حوثیوں کی امداد کررہا ہے۔ترک وزیر خارجہ نے گذشتہ جمعہ کو سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف کارروائی کے لیے لاجسٹیکس اور سراغرسانی کی مدد کی پیش کش کی تھی۔ترکی سمیت بیشتر علاقائی ممالک حوثیوں کے خلاف آپریشن فیصلہ کن طوفان کی حمایت کررہے ہیں۔گذشتہ ماہ رجب طیب ایردوآن نے ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں بالادستی کی کوشش کررہا ہے۔اس پر تہران میں متعیّن ترک سفیر کو وضاحت کے لیے ایرانی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا تھا۔ایران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی کوئی فوجی امداد کررہا ہے۔ایران ترکی میں معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے نصب میزائل سسٹم اور اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔