Category: Uncategorized

عمران خان اور ریحام میں طلاق ہوگئی

October 30, 201530Oct15_DU طلاق01DU

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور ریحام خان میں طلاق ہوگئی.
30Oct15_DU طلاق01a
پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق کے مطابق عمران خان اور ریحام خان نے باہمی رضا مندی سے طلاق کا فیصلہ کیا.نعیم الحق نے مزید کہا کہ معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیش نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا، “یہ میرے، ریحام اور ہمارے خاندانوں کے لیے دکھ کی گھڑی ہے، میری میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ ہماری پرائیویسی کا احترام کرے”۔
30Oct15_DU طلاق02عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ریحام خان کےاخلاقی کردار اور غریبوں کی مدد کے جذبے کا بہت احترام کرتے ہیں۔
30Oct15_DU طلاق03
تاہم انھوں نے طلاق کے موقع پر کسی قسم کے مالی معاہدے کی رپورٹس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
30Oct15_DU طلاق04
ریحام خان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں عمران خان سے اپنی طلاق کی تصدیق کی۔
30Oct15_DU طلاق05
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریحام خان اس وقت لندن میں موجود ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے عمران اور ریحام کی طلاق کی افواہیں میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان خبروں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “مجھے حیرت ہے کہ ٹی وی چینلز میری شادی سے متعلق اس طرح کے بیانات نشر کر رہے ہیں”، انھوں نے میڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد خبریں دینے سے گریز کرے۔پی ٹی آئی کے انتہائی قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “وہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے.””ریحام خان سیاست میں آنا چاہتی تھیں، تاہم عمران خان ایسا نہیں چاہتے تھے، ریحام خان گھر میں نہیں بیٹھنا چاہتی تھیں”.
مزید پڑھیں:’ریحام اب پی ٹی آئی تقریبات میں شریک نہیں ہوں گی’
یاد رہے کہ 2 ماہ قبل عمران خان نے ریحام خان پر پی ٹی آئی کی کسی تقریب یا فنکشن میں شرکت کرنے پر پابندی لگادی تھی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریحام کو پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا.پی ٹی آئی کی کچھ تقاریب میں شرکت نے لوگوں کے ذہنوں میں اس تاثر کو جنم دیا کہ شاید ریحام خان سیاست کے میدان میں قدم رکھنے جارہی ہیں،تاہم عمران خان نے اس تاثر کو مسترد کردیا تھا.عمران خان اور ریحام خان 10 ماہ قبل، 5 جنوری کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی.
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا ریحام سے اسلام آباد میں نکاح
واضح رہے کہ عمران خان کی بہنیں اور اہلخانہ ریحام سے ان کی شادی سے لاعلم تھیں، ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بھائی کی شادی کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ہوئی۔علیمہ خان نے اپنے بھائی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران جہاں رہیں، خوش رہیں لیکن وہ شادی پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔
مزید :عمران خان کی شادی کی خصوصی تصاویر
عمران خان نے پہلی شادی جیمز گولڈسمتھ کی بیٹی جمائما گولڈسمتھ سے کی تھی۔ تاہم 1990 کے وسط میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے عمران خان کو اپنی پہلی شادی کی وجہ سے مذہبی اور اعتدال پسند لوگوں کی جانب سے تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان کی پہلی شادی نو سال برقرار رہنے کے بعد سال 2004 میں ٹوٹ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جمائمہ کی عمران خان کو شادی پر نیک تمنائیں
ریحام سے دوسری شادی کے بعد عمران خان کی سابقہ شریک حیات جمائمہ خان نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں عمران خان کے لیے دوسری شادی پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ عمران خان اپنے زندگی کے اس نئے دور میں خوش رہیں گے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے انٹرویو

October 28, 2015
28Oct15_VOA فاروق01VOA

متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے واشنگٹن میں اپنے دورے کے دوران ’وائس آف امریکہ‘ کی اردو سروس کے سربراہ، فیض رحمٰن سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہداعش کراچی اور پاکستان میں دوسرے مقامات پر موجود ہے۔ مزید تفصیل اس انٹرویو میں دیکھیں۔Video
http://av.voanews.com/Videoroot/Pangeavideo/2015/10/9/91/91ec3e6a-62f7-4dc6-a860-1e22cb4c8638.mp4

افغانستان، پاکستان، انڈیا میں شدید زلزلہ، درجنوں ہلاک

October 26, 2015
26Oct15_BBC زلزلہ01BBC

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے مختلف علاقوں میں ریکٹر سکیل پر 7.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جرم جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔پاکستانی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک مختلف علاقوں سے کم از کم تیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع آئی ہے۔پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اس وقت تک کی اطلاعات کے مطابق صوبے کے محتلف علاقوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30 پوگئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے نقصان سے متعلق معلومات اکھٹی کرر ہے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھی ایک فرد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں ایک شخص کی لاش لائی گئی ہے اور کم سے کم 96 افراد زخمی ہیں۔اگرچہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختوانخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار نے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد ٹیلیفون لائنز بند ہو گئیں۔دہلی میں میٹرو ٹرین بھی تھوڑی دیر کے لیے رک گئی تھی۔انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے فوری حکم دیا ہے۔
26Oct15_BBC زلزلہ02انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان، بھارت اور افغانستان میں سب کی خیریت کی دعا کرتے ہیں اور ہم، پاکستان اور افغانستان سمیت ہر جگہ مدد کے لیے تیار ہیں۔بھارت میں ریلویز کے وزیر سوریش پربھو نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے زلزلے کے بعد ریلویز کے تمام ملازمین کو، تمام حفاظتی اقدام لینے اور ہوشیار رہنے کے لیے کہا ہے۔بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ڈبگری میں امان ہسپتال میں زلزلے کے بعد شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔ابھی تک ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر منگوائے جا رہے ہیں۔پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو بریگیڈیئر ڈاکٹر اشرف کے مطابق صوبے میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک لاہور میں کسی بھی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ ریسکیو سروسز ہائی الرٹ پر ہیں۔افغانستان کے شمال مشرقی صوبے علاقے تخار میں حکام کے مطابق زلزلے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ گورنر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سبھی متاثرین ایک ہائی سکول کی لڑکیاں تھیں۔ زخمیوں میں سے بھی سات کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی ’عالمی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث‘: کیری

October 18, 2015
18Oct15_VOA عالمی01VOA

واشنگٹن—
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دنیا کی بقا کا دارومدار موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں اربوں افراد کی غذائی ضروریات پر پڑنے والے اثرات سے منسلک ہے۔’مِلان ایکسپو‘ سے خطاب کرتے ہوئے، کیری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے زراعتی پیداوار میں اضافے میں ناکامی کا معاملہ بین الاقوامی خطرے کا باعث ہے۔ اٹلی مین ہونے والے ’مِلان ایکسپو‘ میں دھیان غذائی اجناس کی دستیابی پر مرتکز ہے اور کیری نے شرکا پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔

کیری نے کہا کہ، ’غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے نتائج بھوک کے علاوہ دوررس نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ محض عالمی غذائی سلامتی کا نہیں، دراصل یہ معاملہ دنیا کی سلامتی کا ہے‘۔

کیری نے کہا کہ’ یہ اتفاقیہ امر نہیں کہ شام میں خانہ جنگی سے فوری قبل، ملک تاریخ کی بدترین خشک سالی کا شکار رہا‘، جس کے نتیجے میں 15 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھا‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں یہ نہیں کہتا کہ شام کا بحران موسیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔ ظاہر ہے، ایسا نہیں ہے۔ اس کا سبب ایک مطلق العنان آمر ہے جو اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہا ہے، اُنھیں بھوک، اذیت دے رہا ہے، اور اپنے ہی لوگوں کو زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کر رہا ہے۔ تاہم، خشک سالی کی تباہ کُن صورت حال نے واضح طور پر ایک خراب صورت حال پیدا کی، جو انتہائی بدترین حالت تھی‘۔
اُنھوں نے موسمیاتی تبدیلی کو کئی پیچیدگیوں کا موجب قرار دیا۔

بقول اُن کے، ’اگر اس کے باعث تنازع جنم نہ بھی لے، یہ اس سے مزید مسائل کی چنگاریاں اٹھتی ہیں اور سیاسی قائدین کے لیے اس کے پیچیدہ نتائج نکلنے ہیں، جس صورت حال کو حل کرنا مشکل تر معاملہ ہوتا ہے‘۔
کیری نے کہا ’یہ کسی حد تک موسیاتی تبدیلی کا ہی شاخسانہ ہے کہ بڑے پیمانے پر تارکین وطن نے یورپ کا رُخ کیا، جو ایک بحرانی کیفیت ہے‘۔

اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اگر عالمی تپش کی وجہ سے دنیا کا زیادہ تر رقبہ رہنے کے قابل نہ رہا، تو یہ بحرانی صورت حال بدترین مسئلہ بن جائے گی۔

کیری نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ موسماتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کریں، کیونکہ اقدام کیے بغیر، بقول اُن کے،’تارکین وطن کی پریشان کُن صورت حال جو ہمیں آج درپیش ہے وہ اُس بڑے پیمانے کی ترک وطن کی حالت سے بہتر ہے جو سنگین خشک سالی، سمندروں کی سطح بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلی کی دیگر صورتوں میں نمودار ہو سکتی ہے، جن کا حل مشکل ہوگا‘۔

کیری کا یہ بیان نومبر میں اقوام متحدہ کے اُس اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے متعلق معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا مقصد عالمی تپش کو صنعتی دور سے قبل کی دو ڈگری سیلشئیس کی سطح پر رکھنے کی تگ و دو کرنا شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے موسمیاتی تبدیلی کے حل کو اولیت کا درجہ دے رکھا ہے، حالانکہ اِسے ریپبلیکن اکثریت والی امریکی کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

اردن میں ملعون قوم لوط کے برباد شہر کے کھنڈرات دریافت

October 15, 2015
15Oct15_AA لوط01al-Arabia

“سدوم” میں زندگی یک دم ختم ہوگئی تھی: امریکی محقیقین
اللہ کی جانب سے قوم لوط کی غلط کاریوں کی سزا کے بارے میں تمام آسمانی کتب بالخصوص قرآن کریم کے مبارک صفحات اس بدقسمت قوم کے تذکروں سے سے بھرے ہوئے ہیں مگریہ بات آج تک پردہ راز میں تھی کہ قوم لوط کا شہر کہاں تھا؟ امریکی محققین نے 10 سال کی مسلسل محنت شاقہ اور تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 3500 سال قبل اللہ کے عذاب کا شکار ہونے والی قوم لوط کے برباد شہر کے کھنڈرات ملے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی اس اہم اور غیر معمولی تاریخی واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی تحقیقات پر اپنی ایک رپورٹ میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قوم لوط کی نافرمانیوں اور ان کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب کی تفصیلات قرآن پاک کی نو سورتوں میں مذکور ہیں۔ قرآن کریم کے علاوہ دیگر آسمانی کتب اور صحائف میں بھی قوم لوط کی تباہی کے تذکرے ملتے ہیں۔

قوم لوط کے مرد اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کی طرف غیر فطری میلان رکھتے تھے۔ اس پر جلیل القدرپیغمبر حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو منع کیا اور اللہ کی طرف سے سخت پکڑ کی وعید سنائی مگران کی قوم نے بہ شمول ان کی بیوی کے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر پتھروں کی بارش کردی۔ عذاب کے وقت صرف حضرت لوط، ان کی اہلیہ کے سوا خاندان کے چند افراد اور کچھ رفقا ہی ز ندہ بچے، باقی سب اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔

قرآن کریم کی سورۃ ‘العنکبوت’ کی آیت 35 میں اللہ تعالیٰ نےقوم لوط کی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قوم لوط پرعذاب نازل کیا گیا مگر ان کے تباہ شدہ شہر کو آنے والے انسانوں کے لیے عبرت کے طورپر باقی رکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ “ولقد تركنا منها آية بيّنة لقوم يعقلون” [ اور ہم نے اہل خرد کے لیے کچھ واضح نشانیا باقی چھوڑ دیں]۔ قرآن کی وضاحت کے باوجود قوم لوط کے تباہ شہرکے بارے میں آج تک حضرت انسان کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پایا مگر حال ہی میں امریکی ماہرین ارضیات وآثار قدیمہ نے 10 سال کی تحقیق و جستجو کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اردن میں قوم لوط کےتباہ ہونے والے شہر کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ قوم لوط کے تباہ شہر”سدوم” کے کھنڈرات “تل الحمام” کے مقام پر پائے گئے ہیں۔ امریکی تحقیقاتی مشن کے سربراہ پروفیسر Steven Collins کا کہنا ہےکہ ان کی تحقیقات کا نتیجہ سامنے آیا تو وہ خود بھی حیران رہ گئے کیونکہ سدوم شہر میں زندگی دفعتاً ختم ہوگئی تھی۔

‘مظاہر زندگی کا یک دم خاتمہ’
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم Popular Archaeology نے پروفیسر کولینز کی قیادت میں کئی سال جنوبی اردن کے کھنڈرات میں تحقیق کی۔ 28 ستمبر کو تحقیقی ٹیم کے سربراہ نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ “سدوم” نامی شہر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ شہر حضرت لوط علیہ السلام کی اللہ کے عذاب کا شکار ہونے والی قوم کا ہے۔ اس خبرکو بڑےپیمانے پر عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ ماہرین نے بتایا کہ تباہ شدہ شہر کے کھنڈرات سے پتا چلتاہے کہ یہ ایک وسیع وعریض شہر تھا جس میں کئی قدیم عمارتوں کی موجودگی کا بھی پتا چلتا ہے۔ غالبا یہ شہر برونز دور حکومت میں تباہی سے دوچار ہوا جو جنوبی وادی اردن تک کے علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔
15Oct15_AA لوط02
تورات میں بھی قوم لوط کی تباہی کا تذکرہ موجود ہے۔ تورات میں “سفر تکوین” میں مذکور ہے کہ “اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو آگ سے عذاب دیا”۔ امریکی محقق کوللینز اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ “حقیقی معنوں میں قوم لوط کے شہرکی دریافت ایک گم شدہ خزانے کی دریافت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قوم لوط کے شہرمیں زندگی دفعتا ختم ہوگئی تھی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شہر 3500 سال قبل برونزی دور میں تباہ ہوا تاہم برونزی سلطنت کےعلاقوں کے موجودہ نقشوں میں اس شہر کا کوئی وجود نہیں ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ سدوم شہر دو حصوں میں منقسم دکھائی دیتا ہے۔ ایک بالائی اور دوسرا زیریں حصہ ہے۔ شہر کے گرد مِٹی کی اینٹوں کی 10 میٹر اونچی اور 5.2 میٹر چوٹی دیوار بھی دریافت ہوئی ہے۔ شہرکے دروازوں کی باقیات بھی ملی ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت بھی لوگ روز مرہ کے معمولات میں مشغول تھے مگر زندگی اچانک ہی ختم ہوگئی تھی۔ رہائش کے لیے بنائی گئے مکانات کے لیے مٹی کی اینٹیں استعمال کی گئی ہیں۔
15Oct15_AA لوط03

قوم لوط پرعذاب سے متعلق آیات بینات
تورات میں بیان کردہ روایات کے مطابق حضرت لوط ابراہیم علیہ السلام کے رشتے میں بھتیجے تھے۔ دونوں ایک ہی علاقے یعنی موجودہ رام اللہ کے قریب “بیت ایل” میں رہائش پذیر تھے۔ بعد ازاں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہ السلام ایک دوسرے سے دور ہوگئے اور اپنے اپنے مویشیوں کو لے چل دیے۔ حضرت لوط نے پانی وسبزے سے بھرپور مشرقی علاقے “ریانہ” کا رُخ کیا، جہاں پرانہوں نے “سدوم” اور “عمورہ” نامی شہر پائے۔ یہ دونوں شہر دریائے اردن کے کنارے کے پرواقع تھے۔ انہوں نے “سدوم” کو اپنا مسکن بنا لیا۔
15Oct15_AA لوط04
دلچسپ بات یہ ہے کہ قوم لوط کے جس شہر کوآج امریکی ماہرین نے دریافت کرنے کے بعد اس کے دو حصے بتائے ہیں۔ آج سے چودہ صدیاں پیشتر قرآن نے بھی اس کے دو حصوں کی نشاندہی کی تھی۔ سورۃ “ھود” کی آیات میں قوم لوط کے شہر کے دو حصوں کا ذکر ہے جہاں قرآن نے “ادناہ” [زیریں] کے لفظ میں اس کی وضاحت کی ہے۔حضرت لوط جب “سدوم” میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو فواحشات میں ملوث پایا۔ پیغمبر نے انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کی اصلاح کی کوشش شروع کردی۔ سورہ الشعراء میں ہے کہ حضرت لوط نے اپنی قوم کو کہا کہ ” فاتقوا الله وأطيعون” [اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو] ، سورۃ الشعراء، آیت 163۔ مگر انہوں نے حضرت لوط کی بات ماننے سے انکار کردیا اور ان کا مقابلہ شروع کردیا۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ قوم لوط کے جواب کا ذکر کرتے ہیں۔ “قالوا لئن لم تنته يا لوط لتكونن من المخرجين”[انہوں نے کہا کہ اے لوط اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے یہاں سے نکال باہر کریں گے]۔ سورۃ الشعراء آیت 167۔ مگر لوط علیہ السلام اپنی بات پر قائم رہے اور کہا کہ “تأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين”[آپ لوگ ایک ایسی بے حیائی کے مرتکب ہو رہے ہیں جو تم سے پہلے پوری دنیا میں کسی نے نہیں کی]۔ سورۃ الاعراف۔ آیت 80۔ سورۃ العنکبوت ، آیت 28 میں حضرت لوط کو اپنی قوم کو ان الفاظ میں مخاطب کرتے بتایا گیا۔ “انكم لتأتون الرجال وتقطعون السبيل وتأتون في ناديكم المنكر”۔ [کیا تم [شہوت رانی کے لیے] مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی [بھری] مجلس میں ناپسندیدہ حرکتیں کرتے ہو]۔

اس کے جواب میں قوم لوط اپنے نبی کو چیلنج کرتی ہے کہ ” إئتنا بعذاب الله إن كنت من الصادقين”[ اگرتو سچا پیغمبر ہے تو ہم پراللہ کا عذاب لا کردکھا]۔ سورہ العنکبوت ، آیت 29۔

سورۃ الشعراء میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ سے فریاد کی ” رب نجني وأهلي مما يعملون” سورۃ الشعراء، آیت 169۔ [اے میرے پروردگار مجھے اور میرے اہل خانہ اس [برائی] سے نجات دے جس کا ارتکاب یہ لوگ کررہے ہیں]۔ اس پراللہ تعالیٰ نے فرشتے حضرت لوط کے پاس انہیں اطمینان دلانے کے لیے نازل کیے۔ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ ” وقالوا لا تخف ولا تحزن إنا منجوك”[آپ خوف زدہ نہ ہوں اور نہ غم کریں۔ آپ بچ جانے والوں میں ہیں]۔ سورۃ العنکبوت آیت 33۔ فرشتوں نے مزید بتایا کہ وہ کیا کرنے والےہیں۔ “قالوا إنا مهلكو أهل هذه القرية إن أهلها كانوا ظالمين”[ ہم اہل بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں کیونکہ یہاں کے لوگ ظالم ہیں]۔ العنکبوت، آیت 31۔ فرشتوں نے کہا کہ “إنا منزلون على أهل هذه القرية رجزا من السماء بما كانوا يفسقون”[ہم اس بستی پر اس کے مکینوں کے فسق وفجور کے باعث آسمان سے مصیبت نازل کرنے والے ہیں]۔ العنکبوت، آیت 34۔ سورۃ الھود میں ہے کہ “فلما جاء أمرنا جعلنا عاليها سافلها وأمطرنا عليها حجارة من سجيل منضود”[پھر جب ہمارا [عذاب] کا حکم آیا تو ہم نے بستی کو تل پٹ کرکے رکھ دیا اور اس پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش کی جو تہہ در تہہ گرتے رہے]۔ ھود آیت، 82۔ سورہ الحجر میں ہے کہ “فأخذتهم الصيحة مشرقين” [پس انہیں طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سخت کڑک نے پکڑ لیا] الحجر، آیت 73۔ اور سورۃ العنکبوت میں آیت 35 میں مذکور ہے کہ “ولقد تركنا منها آية بيّنة لقوم يعقلون” [اور ہم نے اس [شہر] کی کچھ نشانیاں اہل خرد کے لیے باقی چھوڑ دیں]۔

تورات کی روایت کے مطابق قوم لوط پر آسمان سے آگ برسائی گئی۔ مگر قرآن کریم کی بیان کردہ روایات حالیہ تحقیق کے مطابق ہیں۔ کیونکہ اگر آگ کا عذاب نازل کیا گیا ہوتا تو اس شہر پرآج آگ کے آثار پائے جاتے۔ سورہ العنکبوت میں ہے کہ ایک پتھر[سیارہ] قوم پر لوط پر گرا۔ اس کے علاوہ بارش کے قطروں کی طرح اس پر پتھر برسائے گئے، جنہوں نے بستی کے اوپر کو نیچے کر دیا۔ پھر اس کے 35 صدیوں تک مٹی کی دبیز تہہ بچھا دی۔