Category: UNO

کشمیر: مشرف یو این قراردادیں ’پس پشت‘ ڈالنے پر تیار تھے

September 04, 2015
04Sep15_DU کشمیر
DU

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے جاری ہونے والے ایک خفیہ مراسلے میں کہا گیا کہ مشرف حکومت انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے مئی،2000 میں کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ’پس پشت‘ ڈالنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔
پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے یہ مراسلہ 27 مئی، 2000 کو اُس وقت کے وزیر خارجہ عبدالستار اور امریکی انڈر سیکریٹری سٹیٹ برائے سیاسی امور تھامس پکرنگ کے درمیان اسلام آباد میں ہوئی دو گھنٹوں پر مشتمل ون –ٹو-ون ملاقات کے بعد واشنگٹن کو بھیجا تھا۔مراسلے کے مطابق ’ستار نے کشمیر سے آگے سوچنا شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ لائن آف کنٹرول اور کشمیر کے اندر تشدد کم کرنے کی فوری ضرورت محسوس کرتے ہیں‘۔’ستار نے کہا کہ پاکستان ارادتاً 1940 کی دہائی کی اقوام متحدہ قراد داروں کو پس پشت ڈال سکتا ہے کیونکہ ان پر زور دینا فائدہ مند نہیں‘۔

29 مئی کو بھیجے گئے ایک اور مراسلے میں پکرنگ کی چیف ایگزیکٹیو پرویز مشرف سے ملاقات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ان تفصیلات کے مطابق مشرف نے پکرنگ کو بتایا تھا کہ پاکستان کشمیر میں تشدد میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ مشرف نے کشمیر میں تشدد کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت کئی صفحات پر مشتمل ان مراسلوں کے مطابق 2000 کے بعد سے کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ واضح رہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا باہمی بات چیت سے یہ مسئلہ حل کریں۔

مراسلوں میں کہا گیا کہ پکرنگ نے ملاقات کے دوران جنرل مشرف کو پاک-امریکا تعلقات میں حائل پانچ سنگین مسائل (کشمیر، افغانستان، جوہری عدم پھیلاؤ، جمہوریت اور معیشت )سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی توجہ پہلے تین مسائل پر مرکوز رکھنا چاہتےہیں۔پکرنگ نے خبردار کیا کہ ’کشمیر کا مسئلہ مستقبل قریب میں کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ جب تک لائن آف کنٹرول پر معاملات خراب رہیں گے اس وقت تک پورا خطہ خطرے میں رہے گا‘۔یاد رہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان دورے کے موقع پر کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی عسکری حل نہیں اور اس معاملہ پر آگے بڑھنے کا صرف ایک ہی راستہ مذاکرات ہیں۔

مراسلے کے مطابق، پکرنگ نے مشرف پر واضح کیا کہ وہ صدر کلنٹن کے نقطہ پر ہی زور دینا چاہیں گے۔انہوں نے جنرل مشرف کو بتایا کہ ہندوستانی حکام نے حریت کانفرنس کے کئی رہنماؤں کو رہا کرتے ہوئے ان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے اس سمت میں پہلا قدم رکھ دیا ہے۔’ہمارے خیال میں کشمیری رہنماؤں سے براہ راست بات چیت کی انڈین پیشکش سے پاکستان کو ٹیکٹیکل نقصان پہنچا کیونکہ اس طرح اسلام آباد مذاکراتی عمل سے باہر ہو جائے گا۔تاہم اگر پاکستان حکومت چاہے تو وہ اس موقع سے فائدہ بھی اٹھا سکتی ہے‘۔

’اگر پاکستان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور کشمیر میں جہادی عناصر کم کرنے جیسے مناسب اقدامات اٹھائے تو امریکا انڈیا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے دباؤ ڈال سکے گا‘۔ستار-پکرنگ ملاقات پر مشتمل مراسلے میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کرنے کے آئیڈیا پر مثبت ردعمل دکھایا۔مراسلے کے مطابق، ستار نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر حکومت پر زور دیا کہ اسلام آباد کی غیر موجودگی میں حریت رہنماؤں کی ہندوستانیوں سے براہ راست بات چیت ہونے دی جائے۔مراسلے میں بتایا گیا’ستار نے کہا کہ کشمیریوں سے براہ راست بات چیت کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی اس معاملہ میں دلچسپی ختم ہو گئی۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کے ایک ایسے حل میں دلچسپی ظاہر کی جس سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات سے قربت ہو سکے‘۔ستار نے کہا کشمیر ی رہنما خود 1991 میں کہہ چکے ہیں کہ اس مسئلہ کے حل میں پہلا قدم انہیں شامل کیا جانا ہے۔مراسلے میں ستار کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں کشمیری عوام اور ان کے خو د حکومت کرنے جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کرنا چاہیئے جبکہ دوسرے مرحلے میں علاقائی سرحدوں کے مسئلہ پر غور کیا جا سکتا ہے۔

انڈین ائیرلائن کی قندھار ہائی جیکنگ کے فورا ً بعد پکرنگ نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی سے ملاقات میں کہا تھا کہ غیر ریاستی عناصر استعمال کرنے کی پاکستانی پالیسی امریکی مفادات کیلئے خطرناک ہے۔پکرنگ نے خبردار کیا کہ ’ہائی جیکنگ امریکی قوانین کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے اور اس معاملہ سے اسی شدت کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے‘۔انہوں نے ملیحہ لودھی کو بتایاکہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی مضبوط نہیں، جس کی وجہ سےپاکستان کو عالمی برادری سے مدد نہیں ملے گی۔

ALTAF ASKS WORKERS TO DEMAND UN, WHITE HOUSE, NATO FOR TROOPS IN KARACHI

01 August, 2015
zDALLAS: Muttahida Qaumi Movement (MQM) Chief Altaf Hussain has asked his party workers to stage protest in front of United Nations, White House and NATO and make demand to send troops in Karachi.
Altaf Hussain was addressing MQM’s Annual Convention in the US city of Dallas via telephone. Altaf said, India itself is a coward country, if it had some honor it would not let bloodshed of Mohajirs at Pakistani soil. MQM Chief directed party workers to write letters to US newspapers and make them aware of the actual situation in Pakistan.Altaf Hussain asked MQM workers to continue movement for respectable life of mothers, sisters and daughters even if he was murdered.He dismissed money laundering charges and said all the bank accounts in London had been frozen and they were surviving in difficult situation. Terrorism is biggest threat for Pakistan, he asserted and added that the organizations banned by Interior Ministry are still operating in the country.

یمن میں شہری خدمات تباہی کے دہانے پر:اقوام متحدہ

01May15_AAبمباری خدماتAA_Orig

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے کہا ہے کہ یمن میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران بارہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا ہے یمن میں خانہ جنگی کے نتیجے میں صحت ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور ٹیلی مواصلات کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔بین کی مون کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یمن میں ایک مرتبہ پھر تمام فریقوں سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ اگر ایسا ممکن نہیں تو کم سے کم انسانی امدادی سرگرمیوں کے لیے ہی جنگ میں وقفہ کردیا جائے۔یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے 26 مارچ سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ برسرزمین ملک کے مختلف علاقوں میں حوثی جنگجوؤں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ لڑائی کے نتیجے میں خوراک ،ایندھن اور ادویہ و طبی سامان کی ترسیل رُک چکی ہے اور تمام ہوائی اڈے شہری پروازوں کے لیے بند ہیں۔بین کی مون نے خبردار کیا ہے کہ عرب دنیا کے اس غریب ملک میں امدادی سرگرمیاں آیندہ چند روز تک ہی جاری رہ سکیں گی۔انھوں نے تمام متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کا تحفظ کریں اور اسپتالوں اور مراکزِ صحت پر حملے فوری طور بند کردیں۔

سلامتی کونسل کی پابندی جارحیت کی مدد کے مترادف: حوثی

15Apr15_BBCحوثی01BBC_BU

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حوثی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی کو حوثی باغیوں نے ’جارحیت کی مدد‘ قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مذمت کی ہے۔
حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کو لوگ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے خلاف مظاہرے کریں۔اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کی تھی۔سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کر دیں اور صنعا سمیت دیگر زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جائیں۔دریں اثنا ایران نے ایک چار نکاتی امن معاہدہ تیار کیا ہے جو بدھ کے روز اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔
15Apr15_BBCحوثی02
ایران کی طرف سے تیار کردہ چار نکاتی امن منصوبے میں سعودی عرب کی طرف سے یمن پر بمباری کو بند کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر سعودی عرب کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا۔ سعودی عرب ایران پر یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن رپبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی قبائل کے رہنما بدالمالک الحوثی پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد کر دی اور ان کے بین الاقوامی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔صالح کے والد اور سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی قبائل کے دو دیگر رہنماؤں عبدالخاق الحوثی اور یحیی الحکیم کو سلامتی کونسل نے گذشتہ برس نومبر میں ’بلیک لسٹ‘ کر دیا تھا۔سلامتی کونسل نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی طرف سے کیے جانے والے ایسے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔یمن کو موجودہ بحران سے دو چار کرنے کا بڑی حد تک ذمہ دار علی عبداللہ صالح کو قرار دیا جاتا ہے جو 2012 میں صدارت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
15Apr15_BBCحوثی03
سلامتی کونسل میں 14 ارکان نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ اس کی طرف سے تجویز کردہ بعض نکات کو قرار داد کے متن میں شامل نہیں کیا گیا۔
روس کے نمائندے ویتیلے چورکن نے سلامی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو پیش کرنے والوں نے روس کی اس تجویز کو قرارداد میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں تنازعے میں ملوث تمام فریقوں پر جنگ بندی کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اقوام متحدہ:حوثیوں کے خلاف اسلحے کی پابندی عاید

15Apr15_DUپابندی01


AA_BU

معزول یمنی صدر کے بیٹے احمد صالح اورعبدالملک حوثی کے اثاثے منجمد
صفحہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے مرکزی کردار حوثیوں کو اسلحہ فروخت کرنے یا مہیا کرنے پرپابندی عاید کردی ہے اور ملک کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔سلامتی کونسل کے چودہ رکن ممالک نے منگل کو اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت قرارداد نمبر 2216 کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جبکہ روس عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ قراداد پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا ہے۔اس کا موقف تھا کہ اس کی مجوزہ ترامیم کو قرارداد میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل نے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے یمن کی سابق ایلیٹ ری پبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے دنیا بھر میں اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں۔سلامتی کونسل نے قبل ازیں نومبر2014ء میں حوثی گروپ کے دواور سینیر لیڈروں عبدالخالق الحوثی اور عبداللہ یحییٰ الحکیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔قرارداد کے تحت پانچ افراد اور یمن میں ان کی ہدایات یا احکامات پر چلنے والے دوسرے افراد پر اسلحے کی پابندی عاید کی گئی ہے۔اس پابندی کا اطلاق حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں پر ہوگا۔قرارداد میں حوثیوں سے لڑائی بند کرنے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات اور حوثیوں کی کارروائیوں کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر اسمنتھا پاورز نے کہا ہے کہ امریکا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے اور ان کی کارروائیوں ہی کے نتیجے میں ملک عدم استحکام سے دوچار ہوگیا ہے۔سلامتی کونسل میں قطر کی سفیر شیخہ عالیہ بنت احمد بن سیف آل ثانی کا قرارداد کی منظوری کے بعد کہنا تھا کہ اب حوثیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوری طورپر اپنی کارروائیوں سے باز آجائیں۔اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے قرارداد کو یمنی عوام کی فتح قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے مسودے سے واضح ہے کہ یمن میں حوثیوں کے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ کرنا فوجی کمانڈروں کا کام ہے۔

یمن سے متعلق خلیجی قرارداد پرسلامتی کونسل میں رائے شماری

14Apr15_AAووٹنگ01AA_BU

سلامتی کونسل میں یمن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی باغی گروپ اور سابق صدر علی عبداللہ صالح پر پابندیوں سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر آج رائے شماری کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک حوثی اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے بیٹے پر پابندیوں سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر آج ووٹنگ ہوگی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں حوثیوں اور ان کے حامیوں پر بھی پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کو غیر مشروط طور پر حکومت کا کنٹرول آئینی صدر اور اس کی کابینہ کے حوالے کرنے اور حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی بند کرنےکے لیے دبائو ڈالا جائے۔
مسودے میں ترامیم، روس کو دی گئی مہلت ختم
اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع نے “العربیہ” کو بتایا کہ خلیج تعاون کونسل کے سفراء نے سلامتی کونسل میں یمن سے متعلق مجوزہ قرارداد کے مسودے میں دو ترامیم کے بعد روس کو اس کا جواب دینے کی مہلت دی تھی جو آج منگل کو ختم ہو رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کے مطالبے پر قرارداد میں دو ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک تشدد کے خاتمے اور دوسری لڑائی کے دوران امدادی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کچھ دیر جنگ بندی سے متعلق تھی۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور خلیجی سفیروں کے صلاح مشورے سے شامل کی گئی نئی ترامیم کے بعد روس کو آگاہ کردیا گیا ہے اور اس سے تجاویز پراپنا ردعمل جاری کرنے کوکہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دی گئی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہناہے کہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی پر پابندی اور تنظیم کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کی سفارشات پر روس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

یمن سے متعلق خلیجی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش

09Apr15_AAاقوامقرارداد01AA_Orig

عالمی ادارے میں قرارداد پر رائے شماری کل جمعہ کو ہو گی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی ممالک کی جانب سے یمن کے استحکام کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔ امکان ہے کہ قرارداد پر رائے شماری کل جمعہ کے روز ہو گی۔
العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق نیویارک میں سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی قرارداد میں ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے، یمن سیاسی استحکام، آئینی حکومت کی بحالی اور ملکی وحدت و خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔’العربیہ’ کو ملنے والی قرارداد کے متن کی کاپی میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک یمن کی داخلی سلامتی، خود مختاری اور سیاسی استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ تمام خلیجی ممالک یمن میں جاری موجودہ سیاسی بحران کے جلد خاتمے اور تمام نمائندہ قومی دھاروں پر مشتمل حکومت کے قیام کے حامی ہیں۔
قرارداد میں یمن میں القاعدہ کے بڑھتے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ القاعدہ کو شکست دینے کے لیے مداخلت کریں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یمن میں پائیدار اور مضبوط حکومت نہ ہونے کی وجہ سے القاعدہ جیسے شدت پسندوں گروپوں کو پیش قدمی کا موقع ملا ہے۔خلیجی ممالک نے ایک بار پھر صدر عبد ربہ منصور ھادی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی حکومت کی بحالی کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ یمن میں آئینی حکومت کا خاتمہ موجودہ تمام مسائل کی بنیاد ہے جب تک آئینی حکومت بحال نہیں ہو جاتی اس وقت تک امن ومان کا قیام ممکن نہیں۔قرارداد میں یمن کے اندر جاری انسانی بحران پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مسئلے کو سیاسی انداز میں حل نہ کیے جانے سے انسانی بحران مزید گھمبیر صورت اختیار کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کی پیش کردہ قرارداد میں حوثیوں کی جانب سے یک طرفہ طور پر کیے گئے فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی بھی مذمت کی گئی ہے۔