Category: NAB

مگر مچھوں کو چھوڑو ، مچھلیوں کو پکڑو نیب عوام کو دھوکہ دے رہا ہے

22 August, 2015
22Aug15_KH نیب
Khabrain

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سپریم کورٹ نے نیب کی کارکردگی جانچنے کے لیے کمشن بنانے کا فیصلہ کر لیا، کمیشن اوگرا سمیت 179 میگا سیکنڈلز کے مقدمات پر اپنی فیکٹ فائنڈنگ دے گا، کمشن کے ارکان کے نام عدالتی حکم نامے میں جاری کیے جائیں گے۔ سماعت میں نیب کی جانب سے دو رپورٹس پیش کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق 82 ارب کی کرپشن میں ملوث مرکزی ملزم توقیر صادق کے مبینہ ملی بھگت سے بیرون ملک فرار سے متعلق کی جانے انکوائری میں کرنل بھٹی اور سابق پراسیکوٹر جنرل نیب پر توقیر صادق کو فرار کروانے کا الزام ثابت نہیں ہوا، نیب آرڈیننس سیکشن B-31 کے تحت انکوائری کی گی تھی جس کے بعد NFA لکھ دیا گیا تھا جس کا مطلب ہے نو فردرایکشن، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی ایچ آر نیب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کا قصور تھا تو آپ نے انہیں صرف عہدے سے ہٹایا ؟ آپ نے بے گناہ کو سزا دی، جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ نیب کا انداز آنکھوں میں دھول جھوکنے کے مترادف ہے، نیب نے اندر اندر انکوائری کرکے سب کو کلیئر کردیا۔ نیب نے توقیر صادق کو سہولت فراہم کی اس کا نام ای سی ایل میں بھی نہیں ڈالا، وارنٹ کے باوجود گرفتار نہیں کیا گیا، موٹروے پولیس، پولیس، امیگریشن کی مبینہ ملی بھگت سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوا اس وطن واپسی پر جو 30,40 لاکھ روپے کے اخراجات اٹھے وہ کون پورے کرے گا؟ وہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ تھا، معاملے میں تندہی سے کام نہیں کیا جارہا جب اس معاملے میں تند ہی سے کام کی ضرورت ہے نیب اتنا بڑا ادارہ ہے مگر جو بات پوچھتے ہیں کہا جاتا ہے کہ معلوم نہیں۔ نیب عوام کو دھوکہ دے رہا ہے، چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ چیرمین نیب بیرون ملک ہیں کیا علاج کی غرض سے گئے ہیں یا گھر پر ہیں جس پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیںکہ وہ بیمار ہیں یا نہیں لیکن وہ بیماری کی چھٹی پر ہیں، عدالت نے کہا کہ عدالت انہیں توہین عدالت کے نوٹس جاری کرے گی، ان کی جگہ کو اب کون ہے پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا انکی جگہ سعید سرگانا بطور قائم مقام چیئرمین کام کر رہے ہیں۔ وہ ان کی جگہ قائم مقام ڈیوٹی دے سکتے ہیںسپریم کورٹ الجہاد ٹرسٹ کیس میں یہ مثال سیٹ ہو چکی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ وہ انکوائری رپورٹ کے بارے کیا کہتے ہیں اسے مانتے ہیں کہ یہ درست ہے یا اسے مسترد کرتے ہیں؟ پراسیکوٹر نے کہا کہ معاملے پر ان کی اپنی کوئی رائے نہیں ،چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن بہت اہم ایشو ہے جسے پوری دنیا دیکھ رہی ہے، انکوائری میں صرف ایک بندے کو ریپٹری ایٹ کر کوئی ملی بھگت تھی، پراسیکیوٹر جنرل کہا کہ معاملے میں ملی بھگت کی گئی۔ عدالت نے قرار دیا اٹارنی جنرل سے معاملے پر معاونت طلب کی جائے گی۔ بعدازاں سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔
Advertisements