پیرس دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کا پولیس محاصرہ

November 18, 201518Nov15_AA فرانس01al-Arabia

فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی ہوئے

فرانس کے دارلحکومت پیرس کے شمالی علاقے سان دونی میں پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ کی ایک چھاپہ مار کارروائی کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔متعدد ذرائع اور خبر رساں اداروں کا کہنا ہے پولیس نے اس وقت پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ بلجیئم کے أبو عمر سمیت متعدد متشبہ افراد کا محاصرہ کر رکھا ہے۔پیرس سے ‘العربیہ’ کے نمائندے نے فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی ہے۔ مراسلہ نگار کے مطابق تادم تحریر فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا جس کے بعد سانی دونی کے مضافاتی علاقے میں میٹرو سروس بند کر دی گئی ہے۔ مشتبہ افراد اب بھی اس شمالی پیرس کے اس فلیٹ میں مجصور ہیں جس پر فرانس کی انسداد دہشت گردی پولیس کے یونٹ کے علی الصباح دھاوا بولا تھا۔

تفتیش سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کی لیگل پولیس کے ہمراہ انسداد دہشت گردی محکمہ کے اہلکار بھی منگل اور بدھ کی شب مارے جانے والوں چھاپوں میں شریک ہیں۔ ایک اور ذریعے کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ متوقع گرفتاریوں کے تانے بانے پیرس دھماکوں سے ملتے ہیں یا نہیں۔

دورہ امریکا : آرمی چیف کا انسداد دہشتگردی کے خلاف پرعزم

November 17, 2015
راحیل شریف 03
DU

اسلام آباد : امریکا کے پانچ روزہ دورے پر گئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پینٹاگون میں امریکی ڈیفنس سیکرٹری ایشٹن کارٹر سے ملاقات کرے دوطرفہ دفاعی تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا۔
پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ نے اپنے ٹوئیٹ پیغامات کے ذریعے منگل کو جنرل راحیل شریف کے پینٹاگون کے دورے کے بارے میں بتایا۔ملاقات کے دوران امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا اوردہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کا اعتراف کیا۔ایشٹن کارٹر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ امریکا اپنا کردار ادا کرے گا اور دہشتگردی و انتہاپسندی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان کی ہر کوشش کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔

امریکی ڈیفنس سیکرٹری نے انسداد دہشتگردی کے لیے پاکستانی کوششوں کو ” خطے کے امن کے لیے مواقع کھولنا” قرار دیا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور امریکا دہشتگردی اور انتہا پسندی کے عالمی عفریت کے خلاف رابطوں کو جاری رکھیں گے۔ملاقات کے دوران جنرل راحیل شریف نے خطے کے چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ کرے گا۔

پنٹاگون جنرل راحیل کے دورہ امریکا پر شکر گزار

November 17, 2015راحیل شریف 03DU

امریکا کے محکمہ دفاع (پنٹاگون) نے کہا ہے کہ وہ دوطرفہ امور پر مشاورت کے لیے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا پر ان کے شکر گزار ہیں۔
سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آرمی چیف کی امریکی حکام سے اہم ملاقاتوں کے دوران امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا جنرل راحیل شریف کے امریکا پہنچنے پر سیکریٹری دفاع، نائب سیکریٹری دفاع اور چیئرمین نے ان کا استقبال کیا.اس موقع پر ان کا کہنا تھا، “ہم جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا پر ان کے شکر گزار ہیں اور دوطرفہ دفاعی تعلقات کے فروغ کے لیے ان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے خواہاں ہیں۔”محکمہ دفاع کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے سپہ سالار منگل (17 نومبر کو) پنٹاگون میں سیکریٹری دفاع ایشٹن کارٹر، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور سینٹ کام کے سربراہ سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ پڑھیں : آرمی چیف کا دورہ امریکا: جوہری معاملے پر بات نہیں ہوگی
جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز امریکی آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل مارک مائیلی سے بھی ملاقات کی تھی، جبکہ وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن سے بھی ملاقات کریں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جنرل راحیل شریف اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کی رواں ہفتے کے آخر میں ملاقات کی بھی تصدیق کی۔
John Carryجان کیری یورپ اور ترکی کے دورہ کے بعد آج وطن واپس پہنچیں گے۔امریکا کے سرکاری ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کی وائٹ ہاؤس میں امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس سے ملاقات کے ساتھ امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کے امکانات ہیں۔
Joe Biden
یہ بھی پڑھیں : جوہری اثاثوں کی سیکیورٹی پر آرمی چیف مطمئن
جنرل راحیل شریف امریکا کے سینیئر قانون سازوں سے بھی کیپیٹل ہل میں ملاقات کریں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اپنے 5 روزہ دورے کے دوران امریکا کے تمام اہم سیاسی، دفاعی اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔جنرل راحیل کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کی اس فہرست سے پنٹاگون کے اس بیان کی بھی نفی ہوتی ہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار بغیر دعوت کے امریکا کا دورہ کر رہے ہیں اور پنٹاگون ان کی درخواست پر تمام ملاقاتوں کے انتظامات کر رہا ہے۔
Pentagon

Adnan Sami Khan Is Proud To Be Known As An Indian

November 16, 201516Nov15_Misc عدنان سمیع01
Adnan Sami Khan has not been given Indian citizenship but after his latest request to the Indian government to stop his deportation the government gave him permission to stay in the country for as long as he wants. Adnan Sami Khan made it very clear that he has no intentions to come back to Pakistan. He is very happy with his life In India and he couldn’t care less what the people in Pakistan think about him. According to one of the leading Indian Newspapers Adnan Sami Khan said, “I have heard that people in Pakistan are not very happy with this news and are burning my effigies. But I’m happy that I have finally found my home.”
16Nov15_Misc عدنان سمیع02Adnan Sami Khan went to India in 2001 after his stay in the country for many years the Pakistani government refused to renew his passport and that is when he asked the Indian government to legalize him in the country. Adnan Sami Khan wants Indian government to give him citizenship since he is not a citizen of any country now. He said, “I’m very thankful to the Indian ­government for considering my plea. But I’m waiting for the day the government grants me ­citizenship of this country. Right now I’m from no man’s land because my Pakistani ­citizenship has been renounced now.”
Sharing his feelings for India the singer said, “The love, adulation and warmth that I got from India is the reason why I chose this country. People all over the world know me as an Indian artist. I could have chosen any other country and wouldn’t have had to go through problems claiming my citizenship. But it is India where my heart is and has always been.”

سنجار میں یزیدیوں کی لوٹ مار، مسجد اور مکانات نذرآتش

November 16, 201516Nov15_AA سنجر01al-Arabia

یزیدیوں نے سنی عربوں کے متعدد مکانوں کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی
عراق کے شمالی قصبے سنجار میں یزیدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے بلوائیوں نے مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کرنا شروع کردیا ہے اور انھوں نے ایک مسجد کو بھی شہید کردیا ہے۔عراق کے خود مختار علاقے کردستان سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فورسز البیشمرکہ اور یزیدی مسلح ملیشیا نے امریکی اتحادیوں کی فضائی مدد سے جمعہ کے روز سنجار پر دوبارہ قبضہ کیا تھا اور وہاں سے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجو شکست کے بعد راہِ فرار اختیار کرگئے تھے۔داعش نے گذشتہ سال اگست میں اس قصبے پر قبضہ کیا تھا اور وہاں یزیدی فرقے کی خواتین اور مردوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔انھوں نے مردوں اور عورتوں کو بڑی تعداد کو قتل کردیا تھا اور عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا۔یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ قصبے کے بعض مکینوں نے داعش کے جنگجوؤں کو یزیدی فرقے کی نشان دہی میں مدد دی تھی۔

داعش کے اس قصبے پر قبضے کے بعد بعض مکینوں نے اپنے مکانوں کے بیرونی دروازوں پر لفظ ”سُنی” لکھ دیا تھا تا کہ وہ کسی قسم کی کارروائی سے بچے رہیں۔اب ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے انہی مکانوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کیا گیا ہے جن کے باہر لفظ سُنی لکھا ہوا تھا۔اس عینی شاہد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یزیدیوں نے قصبے میں ایک مسجد کو بھی جلا دیا ہے اور اس نے خود یہ جلی ہوئی مسجد دیکھی ہے۔ایک اور عینی شاہد نے بھی اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ یزیدی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنے کے بعد نذرآتش کررہے ہیں۔

لیکن دوسری جانب کرد سکیورٹی فورسز البیشمرکہ کے سنجار میں کمانڈر نے مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار اور انھیں نذرآتش کیے جانے کی اطلاعات سے انکار کیا ہے جبکہ ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔یادرہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوری میں سنجار کے شمال میں واقع سنی عربوں کی آبادی والے دو دیہات پر یزیدی مسلح لشکریوں کے حملوں کی اطلاع دی تھی۔انھوں نے اکیس افراد کو ہلاک کردیا تھا اور متعدد گھروں کو جلا دیا تھا۔

عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران داعش سے واپس لیے گئے دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی لُوٹ مار اور املاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ عراق میں جاری خانہ جنگی ان واقعات کے بعد نسلی اور فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرسکتی ہے اور اس سے تشدد کو تقویت مل سکتی ہے۔واضح رہے کہ یزیدی بھی نسلی اعتبار سے کرد ہیں مگر شمالی عراق میں مسلمانوں کی آمد کے بعد انھوں نے دین اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اپنے قدیم مذہب ہی پر قائم رہے تھے۔یزیدی شمالی عراق میں چند قصبوں اور دیہات میں آباد ہیں۔داعش کے ہاتھوں یزیدیوں کی بڑی تعداد کی ہلاکتوں کو اقوام متحدہ نے نسل کشی سے تعبیر کیا تھا۔