Category: Personalities

عمران خان اور ریحام میں طلاق ہوگئی

October 30, 201530Oct15_DU طلاق01DU

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور ریحام خان میں طلاق ہوگئی.
30Oct15_DU طلاق01a
پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق کے مطابق عمران خان اور ریحام خان نے باہمی رضا مندی سے طلاق کا فیصلہ کیا.نعیم الحق نے مزید کہا کہ معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیش نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا، “یہ میرے، ریحام اور ہمارے خاندانوں کے لیے دکھ کی گھڑی ہے، میری میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ ہماری پرائیویسی کا احترام کرے”۔
30Oct15_DU طلاق02عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ریحام خان کےاخلاقی کردار اور غریبوں کی مدد کے جذبے کا بہت احترام کرتے ہیں۔
30Oct15_DU طلاق03
تاہم انھوں نے طلاق کے موقع پر کسی قسم کے مالی معاہدے کی رپورٹس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
30Oct15_DU طلاق04
ریحام خان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں عمران خان سے اپنی طلاق کی تصدیق کی۔
30Oct15_DU طلاق05
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریحام خان اس وقت لندن میں موجود ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے عمران اور ریحام کی طلاق کی افواہیں میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان خبروں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “مجھے حیرت ہے کہ ٹی وی چینلز میری شادی سے متعلق اس طرح کے بیانات نشر کر رہے ہیں”، انھوں نے میڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد خبریں دینے سے گریز کرے۔پی ٹی آئی کے انتہائی قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “وہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے.””ریحام خان سیاست میں آنا چاہتی تھیں، تاہم عمران خان ایسا نہیں چاہتے تھے، ریحام خان گھر میں نہیں بیٹھنا چاہتی تھیں”.
مزید پڑھیں:’ریحام اب پی ٹی آئی تقریبات میں شریک نہیں ہوں گی’
یاد رہے کہ 2 ماہ قبل عمران خان نے ریحام خان پر پی ٹی آئی کی کسی تقریب یا فنکشن میں شرکت کرنے پر پابندی لگادی تھی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریحام کو پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا.پی ٹی آئی کی کچھ تقاریب میں شرکت نے لوگوں کے ذہنوں میں اس تاثر کو جنم دیا کہ شاید ریحام خان سیاست کے میدان میں قدم رکھنے جارہی ہیں،تاہم عمران خان نے اس تاثر کو مسترد کردیا تھا.عمران خان اور ریحام خان 10 ماہ قبل، 5 جنوری کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی.
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا ریحام سے اسلام آباد میں نکاح
واضح رہے کہ عمران خان کی بہنیں اور اہلخانہ ریحام سے ان کی شادی سے لاعلم تھیں، ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بھائی کی شادی کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ہوئی۔علیمہ خان نے اپنے بھائی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران جہاں رہیں، خوش رہیں لیکن وہ شادی پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔
مزید :عمران خان کی شادی کی خصوصی تصاویر
عمران خان نے پہلی شادی جیمز گولڈسمتھ کی بیٹی جمائما گولڈسمتھ سے کی تھی۔ تاہم 1990 کے وسط میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے عمران خان کو اپنی پہلی شادی کی وجہ سے مذہبی اور اعتدال پسند لوگوں کی جانب سے تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان کی پہلی شادی نو سال برقرار رہنے کے بعد سال 2004 میں ٹوٹ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جمائمہ کی عمران خان کو شادی پر نیک تمنائیں
ریحام سے دوسری شادی کے بعد عمران خان کی سابقہ شریک حیات جمائمہ خان نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں عمران خان کے لیے دوسری شادی پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ عمران خان اپنے زندگی کے اس نئے دور میں خوش رہیں گے۔

Saudi Arabia court confirms Shia cleric death sentence

October 27, 2015
27Oct15_النمر02BN_101
al-Jazeera
Supreme Court confirms capital punishment for Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests.

The Supreme Court in Saudi Arabia has confirmed the death sentence against Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests, one of his brothers said.

“After the confirmation of Sheikh Nimr’s death sentence by the Court of Appeal and then the Supreme Court, his life is in the hands of King Salman who can endorse the sentence or suspend the execution,” Mohammed al-Nimr said on Sunday.

He warned that his brother’s execution “could provoke reactions that we do not want,” as Sheikh Nimr had “supporters in the Shia areas of the Islamic world”.

Mohammed al-Nimr said he expected the king to “prove his wisdom” by halting the execution of his brother and six other Shia people.

Iran warning

Among those sentenced to death, “three, including my son Ali, were minors at the time of arrest” for involvement in anti-government protests that erupted in the Eastern Province in the wake of the Arab uprisings, he told AFP news agency.

The case of Ali al-Nimr, in particular, has led to strong reactions around the world, with many asking the Saudi authorities to grant the young Shia a stay from the execution.

Iran, the arch-foe of Saudi Arabia, on Sunday warned Riyadh not to execute the cleric.

“The execution of Sheikh Nimr would have dire consequences for Saudi Arabia,” said Deputy Foreign Minister Hossein Amir Abdollahian.

“The situation in Saudi Arabia is not good and provocative and tribal attitudes against its own citizens are not in the government’s interests,” he said in a statement.

Separation call

Sheikh Nimr had called in 2009 for separating the Eastern Province’s Shia-populated Qatif and al-Ihsaa governorates from Saudi Arabia and uniting them with Shia-majority Bahrain.

Last year, a special court in Riyadh sentenced him to death for “sedition”, “disobedience” and “bearing arms”.

Saudi Arabia’s estimated two million Shia people, who frequently complain of marginalisation, live mostly in the east, where the vast majority of the OPEC kingpin’s huge oil reserves lie.
27Oct15_النمر01

اسلام آباد میں بعض لوگ داعش سے وابستگی چاہتے ہیں

04Oct15_DU داعش01DU

لندن: پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے داعش کو القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر اس کا سایہ بھی پڑنے نہیں دیا جائے گا۔
فرانس کے خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس این سیکیورٹی اسٹڈیز لندن میں خطاب کے دوران جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو داعش کے سائے سے بھی محفوظ رکھا جائے گا۔پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو داعش سے وابستگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں جو کہ ایک بہت خطرناک رحجان ہے۔چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ القاعدہ کے مقابلے میں داعش سے نمٹنا بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔خیال رہے کہ القاعدہ نے 2001 میں امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا تھا۔شام اور عراق میں خود ساختہ خلافت قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم کے حوالے سے جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ داعش مستقبل کا بڑا خطرہ محسوس ہوتی ہے، یہ ایک بڑا نام ہے، القاعدہ بھی بڑا نام ہے لیکن اب داعش اس سے زیادہ بڑا نام بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں مفاہمت ہونا بہت ضروری ہے، اگر اس کو درست انداز میں نہیں کیا گیا تو افغان طالبان کے بعض دھڑے بڑے نام کی طرف جا سکتے ہیں اور یہ بڑا نام داعش ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈہ، آرمی چیف
آرمی چیف نے افغانستان میں جاری امن مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی فوج اور حکومت افغانستان میں دیرپا اور مستقل امن کی حمایت کرتی ہے۔جنرل راحیل شریف نے خطاب کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈہ ہے جسے خطے کے امن و استحکام کی خاطر حل کرنے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی جارحیت سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

لالو پرساد کے بیف کے متعلق بیان پر بی جے پی ناراض

October 04, 2015
04Oct15_BBC لالوپرشادBBC

بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کے بیف کے متعلق ایک بیان کو بی جے پی نے مسئلہ بنا لیا ہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں گائے کا گوشت ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک عرصے سے تنازعے کا باعث رہا ہے اور اس پر ایک عرصے سے سیاست ہوتی رہی ہے۔

ہجوم کی جنگجوئیت کا دور شروع
کیا بہار مودی کی یلغار کو روک سکےگا؟
لالو پرساد نے سنیچر کو نیوز ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے ایک بیان میں سوال کیا تھا ’ کیا ہندو بیف نہیں کھاتے ہیں؟‘اسی حوالے سے انھوں نے مزید کہا تھا: ’جو بیرون ممالک جاتے ہیں وہ بیف کھا رہے ہیں کہ نہیں؟ اپنے آپ کو ہندو کہنے والے بھی تو بیف کھا رہے ہیں۔ جو گوشت کھاتے ہیں ان کے لیے گائے اور بکرے کے گوشت میں کیا فرق ہے؟‘لالو نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) بیف کا نام لے کر پورے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔بی جے پی کے رہنماؤں نے لالو پرساد کے اس بیان کو بنیاد بنا کر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
04Oct15_BBC لالوپرشاد02 بی جے پی کے رہنما اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اسے ’ہندوؤں کو بدنام‘ کرنے والا بیان قرار دیا ہے۔گری راج نے ٹویٹ کیا: ’لالو بورا (پاگل ہو) گئے ہیں، ہندو گائے پالنے والے کبھی گائے نہیں کھاتے۔ ووٹ کے لیے ہندو کو بدنام نہ کریں۔ (اپنے) الفاظ واپس لیں نہیں تو ان کے گھر سے تحریک شروع کر دوں گا۔‘مرکزی وزیر راجیو پرتاپ روڈھي نے بھی اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اسے ہندوؤں کے عقیدے پر ضرب سے تعبیر کیا ہے۔بی جے پی کے حملے کے بعد لالو نے وضاحت دی ہے کہ بیف کا مطلب گائے کاگوشت نہیں ہوتا ہے۔انھوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے گوشت نہ کھانے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ بقول ان کے ’گوشت کھانے سے بیماری ہوتی ہے۔‘خیال رہے کہ حال ہی میں دارالحکومت دہلی سے قریب ایک گاؤں میں ایک مسلمان کو گائے کے گوشت کے شبے میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ایک سو چار (104) ایرانیوں کی میتیں تہران پہنچ گئیں

03Oct15_BBC حاجی01
al-Arabia

سعودی عرب میں حج کے دوران منیٰ میں ہلاک ہونے والے ایرانیوں کے جسدخاکی دارالحکومت تہران پہنچا دیےگئے ہیں۔سعودی عرب سے ایران سے تعلق رکھنے والے 104 لاشیں واپس لائی گئی ہیں۔ایران کا کہنا ہے کہ منیٰ میں بھگدڑ مچنے سے اس کے کم از کم 464 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔دوسری جانب سعودی حکام کا کہنا ہے کہ منیٰ میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 769 ہے تاہم غیرملکی میڈیا اور حکام کی جانب سے یہ تعداد 1000 سے زائد بتائی جارہی ہے۔ایرانی حکومت منیٰ واقعے کا الزام سعودی حکام کی ’بدانتظامی‘ پر عائد کرتی ہے۔سنیچر کو تہران میں منعقدہ تقریب میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ یہ افسوس ناک واقعہ سب کے لیے ’بڑا امتحان‘ ہے۔انھوں نے کہا: ’اس واقعے میں، ہماری زبان بھائی چارے اور احترام کی ہے۔‘ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’جب ضرورت پڑی، ہم نے سفارتی زبان کا استعمال کیا۔ اگر ضرورت پڑی تو اسلامی جمہوریہ ایران طاقت کی زبان بھی استعمال کرے گا۔‘خیال رہے کہ سعودی حکام کی جانب سے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے بارے میں نہیں بتایا کہ ان کا تعلق کس کس ملک سے تھا۔سعودی وزیرخارجہ عدل الجبیر نے ایران پر اس واقعے پر ’سیاست کرنے‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے اور ایران سے کہا ہے وہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کریں۔

ہربھجن سنگھ اور گیتا بسرا کی شادی طے

October 03, 2015
03Oct15_DU گیتاDU

ہندوستانی کرکٹر ہربھجن سنگھ اور بولی وڈ اداکارہ گیتا بسرا کی شادی طے پاگئی ہے.
ہندوستانی نیوز ویب سائٹ ہندوستان ٹائمز کے مطابق سوشل میڈیا پر آف اسپنر ہربھجن اور گیتا کی شادی کے کارڈ گردش کر رہے ہیں.سرخ اور سنہری رنگ کے اس شادی کارڈ پر ہربھجن اور گیتا کے نام نمایاں ہیں، جبکہ شادی کی تقریب رواں ماہ 29 اکتوبر کو پھگوارا روڈ پر واقع ہوٹل کلب کبانا میں منعقد کی جائے گی، جو ہربھجن کے آبائی علاقے جالندھر سے 20کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے.
03Oct15_DU گیتا02
کلب کبانا کے ایک سینیئر عہدیدار نے ہربھجن کے خاندان کی جانب سے بکنگ کی تصدیق کی تاہم انھوں نے ‘رازداری’ برقرار رکھنے کی غرض سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا.رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریبات 5 دن پر مشتمل ہوں گی، جس میں سنگیت (27 اکتوبر)، مہندی (28 اکتوبر)، شادی (29 اکتوبر) اور یکم نومبر کو دہلی میں دیا جانے والا ریسیپشن بھی شامل ہے.شاد کےموقع پر دلہن ڈیزائنر گھاگھرا جبکہ دلہا ہربھجن راگھوندرا راٹھور شیروانی زیب تن کریں گے.شادی کی تقریب میں کرکٹ اسٹارز اور بولی وڈ کے ستارے شریک ہوں گے.ہربھجن کی شادی میں کچھ جنوبی افریقی کھلاڑیوں کی شرکت کی خبریں بھی میڈیا میں گردش کر رہی ہیں.ہربھجن کی ہونے والی دلہن گیتا بسرا ‘بھیا سپر ہٹ’ اور ‘دی ٹرین’ جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں، جبکہ ان کی حالیہ فلم ‘سیکنڈ ہینڈ ہسبینڈ’ رواں برس جولائی میں ریلیز کی گئی۔

ZAID HAMID ANNOUNCES HIS RETURN THROUGH SOCIAL MEDIA

October 03, 2015
03Oct15_DU حامدDU
Renowned defence analyst Syed Zaid Zaman Hamid is back in Pakistan after being released by Saudi Arabian authorities, according to his Facebook official page and Twitter account.
Allahu Akbar !!! Alhamdolillah Kaseera !!Sir Zaid Hamid is back in Pakistan with dignity and in good health. Released…
According to the post Zaid Hamid is back is in good health. He won’t be available to address the media for some time because he says he needs to rest and spend time with his family. While on Twitter too he confirmed that he arrived last night and is safe.
Despite confirmations from social media and private television channels regarding his return, the Foreign Office of Pakistan has not issued a statement.
Few days ago there were rumors of Zaid Hamid’s death. Asad Kharal a renowned journalist tweeted about his demise, but soon it was refuted by his family and official Facebook account.
Two months ago, Zaid Hamid was arrested for hate speech against Saudi Arabia, while he was on a private visit with his wife. He was sentenced to 8 years jail and 1,000 lashes.

پارٹی کارکن اکبر حسین متحدہ ارکان اسمبلی رضا حیدر کا قاتل نکلا

October 03, 2015
03Oct15_DU قاتل01DU

کراچی: رینجرز نے کراچی کے علاقے گلشن معمار میں کارروائی کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے اراکین اسمبلی کے قتل میں ملوث ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے.
03Oct15_DU قاتل02
سندھ رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن معمار میں کارروائی کے دوران اکبر حسین عرف کالا اور کونین حیدر رضوی کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اکبر حسین عرف کالا نامی ٹارگٹ کلر ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی رضا حیدر اور ساجد قریشی کے قتل سمیت ٹارگٹ کلنگ کی 10 وارداتوں میں بھی ملوث ہے.یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رضا حیدر کو کراچی کے علاقے ناظم آباد میں 2 اگست 2010 کو اُس وقت سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا جب وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔
03Oct15_DU قاتل03
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق رضا حیدر کو قتل کرنے والے ملزمان ایک موٹر سائیکل اور سفید کار میں سوار تھے جبکہ حملہ آوروں نے فائرنگ سے قبل اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا جس کے باعث پولیس کو شبہ تھا واقعہ میں کالعدم لشکر جھنگوی نامی تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔رضا حیدر کے قتل کے بعد کراچی میں 3 روز تک ہنگامے ہوتے رہے جس میں 50 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔رضا حیدر کے قتل کے وقت ایم کیو ایم سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کی اتحادی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ کے رکن اسمبلی ساجد قریشی قتل
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی ساجد قریشی کو ان کے 25 سالہ بیٹے کے ہمراہ گزشتہ عام انتخابات میں ایم پی اے منتخب ہونے کے ایک ماہ بعد 21 جون 2013 کو نارتھ ناظم آباد میں اُس وقت قتل کیا گیا تھا جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آئے تھے جبکہ ان کے قتل کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔2013 میں اُس وقت ایم کیو ایم نے سندھ میں اپنے کارکنان میں ریفرنڈم کروایا تھا کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی صوبائی حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو البتہ آج تک اس ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ساجد قریشی کے قتل کے ایک ماہ بعد ہی پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن (سی آئی ڈی) ڈپارٹمنٹ کی حراست میں کالعدم تنظیم کے ایک مبینہ کارکن کی ہلاکت ہوئی تھی، جس کے حوالے سے سی آئی ڈی کا دعویٰ تھا کہ ملزم ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کے قتل میں ملوث تھا.
03Oct15_DU قاتل04
ساجد قریشی کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں بھرپور ہڑتال کی تھی جس میں کاروبار مکمل طور پر بند رہا تھا۔ملزم کی 2013 کے عام انتخابات سے قبل کراچی کے حالات خراب کرنے میں ملوث ہونے کے حوالے سے رینجرز ترجمان کا کہنا تھا کہ اکبر حسین انتخابات کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے ہی انتخابی کیمپوں پر عزیز آباد، ناظم آباد، مکا چوک اور یوسف پلازہ میں دستی بم حملوں میں ملوث تھا۔خیال رہے کہ 2013 کے عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم کے 8 انتخابی کیمپوں پر بم حملے ہوئے تھے جن میں متحدہ کے کئی کارکن ہلاک اور زخمی ہوئے تھے، ان حملوں کی ذمہ داری بھی طالبان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی جبکہ ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ سیکیولر نظریات کی وجہ سے ان کو دہشت گردی کے ذریعے آزادانہ انتخابی مہم چلانے نہیں دی گئی۔رینجرز نے اپنے اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن اکبر حسین عرف کالا نے متحدہ قومی موومنٹ کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر تمام جرائم کیے، جن کا مقصد عوام کی ہمدردی حاصل کرنا تھا۔دوسرے ملزم کے حوالے سے رینجرز نے بتایا ہے کہ کونین حیدر رضا رضوی ٹارگٹ کلنگ کی 7 وارداتوں کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری اور ہڑتالوں کے دوران جلاؤ گھیراو میں بھی ملوث ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں ایم کیو ایم کے 6 ارکان اسمبلی پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں جن میں سے 4 کی ہلاکت ہوئی.متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی رضا حیدر کو 2010 میں قتل کیا گیا، جنوری 2013 میں منظر امام کورنگی میں قتل ہوئے جن کے قاتل کو 10 روز قبل ہی رینجرز نے گرفتار کیا ہے قاتل کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے، جون 2013 میں ساجد قریشی کو نشانہ بنایا گیا، ایک سال بعد جون 2014 میں ایم کیو ایم کی خاتون رکن قومی اسمبلی طاہرہ آصف کو لاہور میں مبینہ ڈکیتی میں مزاحمت پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، دو ماہ قبل 18 اگست 2015 کو ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اور سینئر رہنما رشید گوڈیل پر کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے جبکہ 15 روز پہلے ہی 18 ستمبر کو ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی سیف الدین خالد کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی، تاہم سیف الدین اس حملے میں محفوظ رہے۔

مارک سیگل کا بیان ‘جھوٹ کا پلندہ’: مشرف

October 01, 2015
01Oct15_DU مشرف01DU

اسلام آباد: آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی صحافی مارک سیگل کے قتل میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو حقائق کے برعکس اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا۔

گزشتہ روز امریکی صحافی اور بے نظیر بھٹو کیس کے اہم گواہ مارک سیگل نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔عدالت کے سامنے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سیگل نے کہا کہ اُس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بےنظیر کو وہ سیکیورٹی فراہم نہیں کی جو سابق وزیراعظم کا حق تھا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر سے ان کی آخری ملاقات 26 ستمبر 2007 کو ایک ہوٹل میں ہوئی تاہم سانحہ کار ساز کے بعد بے نظیر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کے دوران محسوس ہورہا تھا کہ وہ پریشان تھیں۔

مارک سیگل کا بیان: ‘پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو دھمکایا تھا’
جماعت کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق پرویز مشرف نے مارک سیگل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا انہیں بیان پر حیرت ہوئی، مارک سیگل اگر سچے ہیں تو انہوں نے اپنی زیرادارت شائع ہونے والی بے نظیر بھٹو کی کتاب میں اس سچائی کا ذکر کیوں نہیں کیا؟مشرف نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو کو مجھ سے خطرہ ہوتا تو وہ مجھ سے سیکیوریٹی کیوں مانگتیں؟ مخالفین مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر بھٹو قتل کیس: دس گواہوں کو طلبی کے سمن جاری
اعلامیے کے مطابق انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا امریکا میں کوئی ٹیلی فونک رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے2007 میں بے نظیر بھٹو کو ٹیلی فون کال کیا اور جس کال کا حوالہ امریکی صحافی مارک سیگل نے دیا وہ جھوٹ پر مبنی ہے اور ایسے جھوٹے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے مخالفین کی ایک سازش ہے کہ وہ مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، سمجھ نہیں آتی کہ باربار مارک سیگل سے ہی انکوائری کیوں ہو رہی ہے۔جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ میں سچائی پر مکمل یقین رکھتا ہوں،حق اور سچ کو کوئی عار نہیں ہوتی۔مارگ سیگل جیسے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی بیانات اصل حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے۔خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء میں اس وقت فائرنگ اور ایک بم دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ 2008ء کے عام انتخابات کی مہم کے سلسلہ میں راوالپنڈی کے لیاقت باغ سے ایک تقریب سے خطاب کرنے کے بعد واپس جارہی تھیں۔اُس وقت سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بطور صدر اقتدار پر براجمان تھے۔