Tag: death

ڈوبنے والے شامی بچے کے باپ کا دکھ

03Sep15_BBC شامی04
BBC

ترکی کے ساحل پر لال قمیض پہنے اوندھے منہ پڑے شامی بچے کی تصویر نے دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور اس سے شام کے بحران میں انسانی جانوں کے زیاں پر ایک مرتبہ پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ترکی کی نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کی گئی یہ تصویر پوری دنیا میں دیکھی گئی ہے اور ٹوئٹر پر اس کا ہیش ٹیگ ’انسانیت ساحل پر بہہ کر آ گئی‘ ہے۔یہ بچہ ان دو کشتیوں میں سے ایک پر تھا ترکی سے یونان جانے کی کوشش میں ڈوب گئی تھیں۔ان میں کل 23 افراد سوار تھے جن میں سے کم از کم 12 ہلاک ہو گئے تھے۔ ڈوبنے والوں میں پانچ چھوٹے بچے تھے۔ انھیں میں سے ایک ایلان کردی تھا جس کی لاش ساحل پر سے ملی تھی۔ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتی کے سمندر میں جانے کے کچھ منٹ بعد اونچی لہریں اس سے ٹکرانے لگیں اور اسی دوران کپتان چھلانگ لگا کر کشتی سے اتر گیا۔
Video

03Sep15_AA شامی01
میں نے اپنے بچوں اور بیوی کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ ایک کے بعد ایک جان دیتے گئے۔’میں نے کشتی چلانے کی کوشش کی لیکن ایک اور اونچی لہر نے اسے الٹا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ سب کچھ ہوا۔ترکی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق تارکینِ وطن بدھ کو علی الصبح ترکی کے بودرم جزیرہ نما سے یونان کے جزیرے کوس جانا چاہتے تھے لیکن کچھ دیر بعد کشتیاں ڈوب گئیں۔تین سالہ ایلان اپنے پانچ سالہ بھائی گیلپ اور ماں ریحان کے ساتھ ڈوب گئے۔ ان کے والد عبداللہ اس حادثے میں بچ گئے۔اطلاعات کے مطابق عبداللہ نے سفر سے پہلے کینیڈا میں پناہ کی درخواست جمع کروائی تھی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
03Sep15_BBC شامی05
عبداللہ کی بہن تیما کردی نے جو کینیڈا کے شہر وینکور میں رہتی ہیں کینیڈا کے اخبار نیشنل پوسٹ کو بتایا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے میں ان کی مدد کر رہی تھیں۔میں انھیں سپانسر کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن ہم انھیں وہاں سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اسی وجہ سے وہ کشتی میں گئے۔اطلاعات کے مطابق عبداللہ کو داعش یا کسی اور جہادی گروہ نے کوبانی کے محاصرے کے دوران اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔کردی خاندان کے پاس اس لیے بھی کوئی اور راستے نہیں بچا تھا کیونکہ ترکی سے نکلنے کے لیے شامی کرد پناہ گزینوں کو پاسپورٹ درکار ہوتا ہے جو شاید بہت کم لوگوں کے پاس ہی ہے۔
Advertisements

داعش کا خلیفہ ابو بکر بغدادی کی کلینکل موت

WP_12SH_BU

داعش دہشتگرد گروہ کا خلیفہ ابو بکر البغدادی کو صیہونی حکومت کے ایک اسپتال میں ظاہری طور پر مردہ قرار دیا گیا۔عراقی انٹیلیجنس نے داعش کے نام نہاد خلیفہ ابو بکر بغدادی کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ عراقی انٹیلیجنس کے ایک موثق ذریعے نے بتایا کہ البغدادی کو مقبوضہ جولان کے ایک اسرائیلی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے تاہم اسے موت کے منہ سے بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں- بتایا جاتا ہے کہ ابو بکر البغدادی کو اس کی سیکورٹی کی بنا پر ترکی یا کسی دوسرے عرب ملک کی بجائے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے کے ایک ہسپتال لے جایا گیا ہے- مغربی میڈیا اور خصوصا امریکی حکام نے داعش کے سرغنہ کی موت کی ابھی تک تصدیق نہیں کی ہے- ابوبکر البغدادی کے جانشین کے تعین کی خبروں کے سامنے آنے پر امریکی زرایع نے ابوبکر البغدادی کے زخمی ہونے کی خبر کی تصدیق کی تھی-دوسری جانب تکفیری دہشتگردوں نے شام کے عوام کے خلاف اپنے تازہ ترین جرائم میں دسیوں بے گناہ شہریوں کو قتل کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دہشتگرد گروہ النصرہ کے دہشتگردوں نے اتوار کو صوبہ ادلب کے “جسرالشغور” علاقے میں حملہ کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں نے اس علاقے میں داخل ہونے کے بعد شام کے تیس عام شہریوں کو ایک ساتھ قتل کردیا۔ عرب ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں نے دو شامی خاندانوں کے تمام افراد کو قتل کردیا ہے۔