پاکستان: سرکاری وعوامی سطح پر فرانس سے اظہار یکجہتی

November 16, 201516Nov15_AA نواز01al-Arabia

پاکستان نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دہشت گردوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ وہ فرانس میں معصوم لوگوں کے خلاف اس دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ ضرورت کے اس وقت میں پاکستان فرانس کی حکومت اور وہاں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اُن کا ملک ان حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔اُدھر پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں بھی پیرس میں حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔بیان میں پاکستانی حکومت اور عوام کی طرف سے جانی نقصان پر فرانس کی حکومت اور عوام سے تعزیت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان فرانس کے ساتھ کھڑا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان میں ایک مرتبہ پھر حکومت کے اس موقف کو دہرایا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے۔پاکستانی حکومت کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں اور دینی حلقوں کی طرف سے بھی پیرس میں ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ملک میں سوشل میڈیا پر سرگرم افراد نے فرانس کے پرچم کے رنگوں سے اپنی ڈسپلے تصاویر کو اورلیپ کر کے فرانس کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

Advertisements

دہشت گردی کے وحشیانہ افعال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

November 16, 201516Nov15_AA سلمان01al-Arabia

فرانس سے مل کر دہشت گردی کی جنگ لڑیں گے: شاہ سلمان
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے اور گذشتہ جمعہ کو پیرس میں مختلف مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی”واس” کے مطابق شاہ سلمان نے دہشت گردی کے واقعے میں فرانس میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت ایک ناسور ہے اور ہم سب مل کر اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔دونوں رہ نمائوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون مزید مستحکم اور مضبوط کرنے سے اتفاق کیا۔ شاہ سلمان نے فرانسیسی صدر سے کہا کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
دنیا کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد پوری دنیا کے امن واستحکام کے دشمن ہیں۔درایں اثناء شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ “ٹیوٹر” پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلام کا ایسے وحشیانہ افعال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید موثربنانے کی ضرورت پر زور دیا۔قبل ازیں سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے پیرس حملوں کو وحشیانہ بربریت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرس حملوں میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔خیال رہے کہ جمعہ کو پیرس میں ہونے والی دہشت گردی میں کم سے کم 127 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان میں داعش کی موجودگی کے امکانات رد

November 15, 2015DI_00DU

اسلام آباد: پاکستان نے خود ساختہ دولت اسلامیہ (داعش) کی ملک میں موجودگی کے امکانات مسترد کر دیے۔
سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں کسی کو داعش کے ساتھ روابط قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
DI_01چوہدری نے کہا کہ پاکستان داعش سمیت کسی بھی انتہا پسند تنظیم سے لاحق تمام خطرات سے نمنٹے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ’پاکستان اپنی عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے‘۔
DI_02دوسری جانب، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ پیر س سانحہ پر فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
DI_04دفتر خارجہ کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب میں صادق نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد خود دہشت گردی کا نشانہ رہنے والا پاکستان دکھ اور تکلیف کی گھڑی میں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہے۔جدید انسانی تہذیب کیلئےدہشت گردی کو ایک مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے صادق نے کہا کہ اس طرح کے حملے کوئی مذہبی یا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔
DI_05سپیکر قومی اسمبلی نے دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے مشترکہ عالمی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے غیر معمولی سٹریٹیجک اقدامات کے ذریعے جرات مندی سے اس لعنت کا مقابلہ کیا۔صادق نے بتایا کہ پاکستان اس لڑائی میں عالمی برادری کی مدد کیلئے تیار ہے۔
DI_03

پیرس حملےدولتِ اسلامیہ کا ’جنگی اقدام‘ ہیں: صدر اولاند

November 14, 201514Nov15_BBC پیرس01BBC

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نےکہا ہے کہ فرانس میں گذشتہ روز ہونے والے حملے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے کیے ہیں۔
سنیچر کی صبح اپنے بیان میں صدر نے کہا ہے کہ یہ ایک ’جنگی اقدام‘ ہے اور اس کے پیچھے دولتِ اسلامیہ ہے۔جمعے کی شب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں چھ مقامات پر ہونے والے پرتشدد حملوں میں کم سے کم 127 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ادھر نہاد شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ نے جمعہ کی شب پیرس میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔فرانس کے صدر نے اپنے بیان میں بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد آٹھ تھی جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک ہوئی ہے۔اس موقع پر صدر نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فرانسیسی پروسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ حملوں میں کم ازکم 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 99 افراد شدید زخمی ہیں۔فرانس کے ہسپتالوں ایمرجنسی نافذ ہے اور خون کے عطیات کی اپیل کی جارہی ہے۔تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے اور فرانزک ٹیمز حملوں کے مقامات پر جا کر شواہد اکھٹے کر رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق پیرس کے بٹا کلان تھیٹر میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں کم سے کم 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔فرانس میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، کانسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹ سمیت چھ مختلف علاقوں میں مسلح افراد نے حملے کیے جن میں مبینہ خود کش دھماکے شامل ہیں۔

ایمرجنسی نافذ
فرانس کے صدر نے پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد عوام سے خطاب میں کہا کہ شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پیرس شہر میں کم سے کم 1500 فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا ہے تاہم ان کی اصل تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ پولیس کے مطابق بٹاکلان کانسرٹ ہال میں چار حملہ آور مارے گئے جن میں سے تین نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔تاحال ان حملوں کے مقاصد ظاہر نہیں ہوئے ہیں تاہم ایک عینی شاہد کے مطابق ایک حملہ آور نے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ حمایت ظاہر کی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک شخص چلا رہا تھا کہ ’یہ سب فرانسو اولاند کی غلطی ہے، انھیں شام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘

فرانس مغربی ممالک کے اتحاد میں شام ہے جو شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔پولیس کے آپریشن مکمل ہونے کے بعد فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے بٹاکلان تھیٹر کا دورہ کیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق پیرس میں سٹیڈیم کے باہر تین دھماکے ہوئے ہیں۔ دھماکوں کے وقت سٹیڈیم میں فرانس اور جرمنی کے درمیان دوستانہ فٹبال میچ ہو رہا تھا۔
14Nov15_BBC پیرس02سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے فرانس کے صدر بھی موجود تھے لیکن انھیں سٹیڈیم سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے ہیں یا نہیں۔بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انھوں ریسٹورنٹ کے باہر دس افراد کو سڑک پر پڑے دیکھا ہے۔ عوام سے کہا گیا ہے وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فرانس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’قابل نفرت دہشت گرد حملے‘ قرار دیا ہے۔

نقل و حرکت میں کمی
پیرس حملوں کے بعد فرانس نے سرحدوں کا کنٹرول سخت کر دیا ہے تاہم فضائی اور ریل سروسز معمول کے مطابق جاری ہیں۔ملک کے تمام سکول، ہوٹل اور تفریح گاہیں بند کر دی گئی ہیں۔امریکی ہوائی کمپنیوں نے حملوں کے پیشِ نظر شہر کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم دیگر فضائی کمپنیوں کی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔گو کہ پیریس آنے والی بین الاقوامی ٹرین سروس بھی کھلی ہے تاہم لندن سے پیرس آنے والی یوروسٹر ٹرین جو مکمل طور پر بُک تھی حملوں کے بعد خالی ہی آئی ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برطانوی ایئرلائنز نے پیرس آنے والی پروازوں میں تاخیر کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی چیک بتائی گئی ہے۔ادھر فرانس حملوں کے بعد اٹلی میںبھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی دورہ فرانس ملتوی کر دیا ہے۔ انھیں سنیچر کو روم اور اتوار کو پیرس پہنچنا تھا۔
14Nov15_BBC پیرس03

بہار انتخابات: لالو پرساد جیت گئے۔ مودی کی بی جے پی ہار گئی

November 08, 201508Nov15_Misc بہار01

08Nov15_Misc بہار04نئی دہلی : ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) کے مخالف لالو پرساد کے (جے یو ڈی) اتحاد نے واضح کامیابی حاصل کر لی۔
نتائج کے مطابق سابق وزیر اعلی نتیش کمار کے اتحاد جنتہ دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، نے جسمیں راشٹریہ جنتہ دل (آر جے ڈی) اور انڈین نیشنل کانگریس شامل ہیں واضح اکثریت سے انتخابات جیت لئے ہیں۔ریاست کی 243 نشستوں کے لیے 5 مرحلوں میں انتخابات ہوئے تھے، پہلا مرحلہ 12 اکتوبر اور آخری مقابلہ 5 نومبر کو ہوا تھا۔بہار کے ریاستی انتخابات ہندوستان کی حکمران جماعت بی جی پی نے اپنی تاریخ کی مہنگی تریم مہم چلائی۔
08Nov15_Misc بہار02رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے الیکشن سے 6 ہفتوں قبل انتخابی مہم شروع کی اور اس
دوران 600 سے زائد جلسے و ریلیاں منقعد کی۔
08Nov15_Misc بہار05

BBCبی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کو بہار میںمودی کی ناکامی قرار دیا جانے لگا ہے کامیابی کی امید تھی، جس سے ایوان بالا میں بی جی پی کو مزید نشستیں ملنے کا امکان تھا، مگر بہار میں بی جی پی کی ناکامی کو نریندی ۔

FirstPost
فرسٹ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی کا ہار جانا نریندی مودی کی ذاتی شکست ہے۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔نتائج کے مطابق بی جے پی کے مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے 178 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ بی جے پی کو 58 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اتحاد نے پہلے کے مقابلے مین 37 نشتیں زیادہ حاصل کی ہیں۔ جبکہ بی جے پی اپنی 36 نشستیں ہاردیں۔بی جے پی دہلی میں عام ادمی کے سے شکست کے بعد بہار میں دوسری بڑی شکست سے دو چار ہوئی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی نیتیش کمار سے رابطہ کرکے کامیابی پر مبارک باد دی۔

بیٹا بے گناہ ہے۔موت کی سزا نہ دیں ۔ سعودی شاہ سے اپیل

November 06, 201506Nov15_Misc نمر01

سعودی عرب میں ایک اکیس سالہ شیعہ نوجوان کو ملک میں اصلاحات کے حق میں مظاہروں میں شرکت پر موت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس نوجوان کے باپ نے شاہ سلمان سے اپیل کی ہے کہ اُس کے بیٹے کی زندگی بخش دی جائے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس نوجوان کے والد محمد النمر نے ایک انٹرویو میں امید ظاہر کی کہ شاہ سلمان اُس کے بیٹے علی کو، جو فروری 2012ء میں اپنی گرفتاری کے وقت صرف سترہ سال کا تھا، بچا لیں گے۔ یہ کیس آج کل پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
06Nov15_Misc نمر02
محمد النمر نے بدھ کے روز اپنے بیٹے کے ڈیتھ وارنٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’ہم امید کر رہے ہیں کہ وہ اُس پر دستخط نہیں کریں گے۔ سعودی عرب کی اعلیٰ ترین عدالت علی النمر کو موت کی سزا سنا چکی ہے اور اب اس نوجوان کی زندگی کا فیصلہ بادشاہ کے ہاتھوں میں ہے۔
محمد النمر نے خبردار کیا کہ اگر اُس کے بیٹے کو موت کی سزا دے دی گئی تو شیعہ اقلیت کی جانب سے پُر تشدد رد عمل سامنے آ سکتا ہے، جو کہ وہ خود بھی نہیں چاہتا:ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ خون کا ایک بھی قطرہ بہے۔
06Nov15_Misc نمر03
نمر النمر کو اُن مظاہروں کے پیچھے کارفرما اصل قوت گردانا جاتا ہے، جو چار سال پہلے اُس مشرقی صوبے میں شروع ہوئے تھے، جہاں سنی اکثریت کے حامل اس ملک کے زیادہ تر شیعہ آباد ہیں۔
علی النمر کے والد نے اعتراف کیا کہ اُس کا بیٹا، جو ایک ہائی اسکول میں پڑھتا تھا، ہزاروں دیگر افراد کے ہمراہ احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوا تھا۔ تاہم اُس نے کہا کہ اُس پر نقب زنی، پولیس پر حملہ کرنے اور آتش گیر بم پھینکنے کے جو متعدد دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ اُن کا مرتکب نہیں ہوا ہے اور بے گناہ ہے۔
بدھ کے روز فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے بھی اپیل کی ہے کہ اس نوجوان کی سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا جائے۔ وزارت کے ایک ترجمان نے کہا کہ اُن کا ملک کسی قسم کے بھی حالات میں سزائے موت کا مخالف ہے تاہم یہ نوجوان اُس وقت نابالغ تھا، جب یہ واقعات پیش آئے، جن کے الزام میں اُسے یہ سزا سنائی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ اس نوجوان کی سزا معاف کر دی جائے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوجوان پر تشدد کر کے اُس سے اعترافِ جرم کروایا گیا اور کسی وکیل تک رسائی کا بھی مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ مزید یہ کہ اُس کے کیس کی سماعت ایسے حالات میں ہوئی، جو بین الاقوامی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے۔

پھانسی کی سزا کا فیصلہ، آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے شیخ نمر کو سزائے موت، عالم تشیع کا رد عمل

November 06, 201506Nov15_SA نمر02Islam

اسلام ٹائمز: سعودی عرب میں شیخ نمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کیخلاف رہبر انقلاب اسلامی، سید علی خامنہٰ ی کے مشیر علی اکبر ولایتی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کےعلاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کر کے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
متعصب سعودی حکام کی جانب سے دباو اور سازش کے نتیجے میں مجاہد عالم دین، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا کے اعلان کے بعد پوری دنیا سے اس غیر منطقی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی حکومت آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا دینے کی گستاخانہ جسارت کرے گی، تو سعودی عرب میں سکیورٹی کے شدید مسائل سامنے آ جائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت چھوٹی سے مخالف کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیتوں کے ساتھ تشدد کا حربہ استعمال کرنا، جو عالم اسلام میں کافی معروف ہیں، یقینا سعودی عرب کو داخلی اور عالمی سطح پر شدید مسائل سے دوچار کر دے گا۔ علاءالدین بروجردی نے کہا کہ شیخ نمر سعودی عرب میں بزرگ عالم دین اور اعلٰی مدارج پر فائز، نیز مجاہد شخصیت ہیں اور ان کے خلاف حکومتی اقدامات سے سعودی عرب اور علاقے کے شیعہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونگے۔دریں اثنا عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی، سید علی خامنہ ای کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے بھی شیخ نمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں آل سعود کی حکومت سے کہا ہے کہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کر کے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دریں اثنا ایک معروف سیاسی مبصر اور تجزیہ نگار نصیر العمری نے کہا ہے کہ آل سعود نے شیخ نمر کے خلاف پھانسی کا سزا کا فیصلہ سنا کر دانشمندی سے عاری ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کا یہ فیصلہ آگ سے کھیلنے کے برابر ہے۔

خطیب جمعہ تہران آیت اللہ خاتمی نے بھی سعودی عدالت کی جانب سے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو بحرین کے انقلابیوں، ولایت فقیہ اور سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کی حمایت اور جدوجہد کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ایران میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دئے جانے پر ہائے واویلا کر رہی ہیں، لیکن سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آیت اللہ شیخ باقرالنمر کے خلاف پھانسی کی سزا کا فیصلہ ظالمانہ ہے۔ انہوں نے آل سعود کو خبردار کیا کہ وہ اس فیصلے پر عمل درامد کے نہایت سنگين نتائج بھگتے گی۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں ہزاروں افراد نے سعودی عرب کے سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر کے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی حمایت کی۔ مظاہرین نے سعودی عدالت کی جانب سے شیخ باقر النمر کو سنائے جانے والی پھانسی کی ‎سزا کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی پر زور دیا۔ مظاہرین نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور سعودی عرب کو مغربی حکومتوں کی سازشوں پر عمل درآمد کرنے والا ایجنٹ قرار دیا۔ ادھر شیخ عبدالمالک حوثی کے بھائی ابراہیم بدرالدین حوثی نے سعودی عرب کو بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو یمن کے انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ادھر حزب اللہ عراق کے سیکرٹری عباس المحمداوی نے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے تعلق س سے سعودی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر آل سعود نے شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی کی سزا دی تو علاقے میں آل سعود کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ھمام حمودی نے آل سعود سے کہا ہے کہ بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کا فیصلہ منسوخ کر دیا جائے۔ سومریہ نیوز کے مطابق ھمام حمودی نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کو مخالفین کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ سعودی حکومت شیخ باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کو منسوخ کر دے۔ عراق کے مختلف حلقوں نے سعودی حکومت کی جانب سے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی کی سزا کے سنائےجانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں بزرگ عالم دین آيت اللہ نمر کو آل سعود کی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے آل سعود کی عدالت کی جانب سے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آئی ایس او پاکستان، عوامی تحریک نے آل سعود کو شیخ باقرالنمر کو سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آل سعود کے مظالم کے خلاف سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں عوام کے احتجاجی مظاہرے ان کا حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تشدد آمیز اقدامات سے مشرقی علاقے کے عوام کی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت آل سعود سے کہا ہے کہ وہ بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سنائی گئی سزا کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ آل سعود کو اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے باز رکھیں۔

واضح رہے سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں عوام نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنے بزرگ عالم دین اور دینی پیشوا آيت اللہ شیخ باقرالنمر کے خلاف پھانسی کے حکم کی شدید مذمت کی تھی۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کے منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے سعودی عرب میں اہل تشیع نہایت نامناسب حالات میں زندگی گذار رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہر طرح کا تعصب روا رکھا جاتا ہے، شیخ نمر نے اسی صورتحال کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور ملک میں سب کو برابر حقوق دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شیخ باقر النمر متعدد مرتبہ سعودی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔ سعودی حکومت کے اس غیر عادلانہ فیصلے کیخلاف مظاہرے بحرین میں بھی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایک فوجی عدالت نے بدھ کے دن اس ملک کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آیت اللہ نمر کے لئے سزائے موت کے حکم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے، اعلان کیا ہے کہ سزائے موت کا یہ حکم بین لاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔ سعودی عرب، بحرین، عراق، لبنان، ایران سمیت پاکستان، ہندوستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے جید علما کرام نے بھی اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت کے اس مجرمانہ اقدام کو ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔ مجلس علماء ہند کے سیکرٹری مولانا کلب جواد نے لکھنو کی نماز جمعہ میں شیخ نمر باقر النمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی حکومت نہیں ہے اور آل سعود کی حکومت کسی کو بھی اپنے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔