Category: Terrorists Attacks

دہشت گردی کے وحشیانہ افعال کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

November 16, 201516Nov15_AA سلمان01al-Arabia

فرانس سے مل کر دہشت گردی کی جنگ لڑیں گے: شاہ سلمان
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے اور گذشتہ جمعہ کو پیرس میں مختلف مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی”واس” کے مطابق شاہ سلمان نے دہشت گردی کے واقعے میں فرانس میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت ایک ناسور ہے اور ہم سب مل کر اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔دونوں رہ نمائوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون مزید مستحکم اور مضبوط کرنے سے اتفاق کیا۔ شاہ سلمان نے فرانسیسی صدر سے کہا کہ دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
دنیا کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔ دہشت گرد پوری دنیا کے امن واستحکام کے دشمن ہیں۔درایں اثناء شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ “ٹیوٹر” پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلام کا ایسے وحشیانہ افعال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید موثربنانے کی ضرورت پر زور دیا۔قبل ازیں سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے پیرس حملوں کو وحشیانہ بربریت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیرس حملوں میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔خیال رہے کہ جمعہ کو پیرس میں ہونے والی دہشت گردی میں کم سے کم 127 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان میں داعش کی موجودگی کے امکانات رد

November 15, 2015DI_00DU

اسلام آباد: پاکستان نے خود ساختہ دولت اسلامیہ (داعش) کی ملک میں موجودگی کے امکانات مسترد کر دیے۔
سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں کسی کو داعش کے ساتھ روابط قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
DI_01چوہدری نے کہا کہ پاکستان داعش سمیت کسی بھی انتہا پسند تنظیم سے لاحق تمام خطرات سے نمنٹے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ’پاکستان اپنی عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے‘۔
DI_02دوسری جانب، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ پیر س سانحہ پر فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
DI_04دفتر خارجہ کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب میں صادق نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد خود دہشت گردی کا نشانہ رہنے والا پاکستان دکھ اور تکلیف کی گھڑی میں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہے۔جدید انسانی تہذیب کیلئےدہشت گردی کو ایک مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے صادق نے کہا کہ اس طرح کے حملے کوئی مذہبی یا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔
DI_05سپیکر قومی اسمبلی نے دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے مشترکہ عالمی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے غیر معمولی سٹریٹیجک اقدامات کے ذریعے جرات مندی سے اس لعنت کا مقابلہ کیا۔صادق نے بتایا کہ پاکستان اس لڑائی میں عالمی برادری کی مدد کیلئے تیار ہے۔
DI_03

پیرس کی ایک سڑک کا نام پاکستانی صحافی کے نام پررکھا گیا۔

November 2, 201502Nov15_BBC سلیم شہزادBBC

صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز نے صحافیوں کے خلاف بغیر مواخذے کے جرائم کرنے والوں کے خلاف عالمی دن کے موقعے پر پیرس کی 12 شاہراہوں کو ایسے صحافیوں کے نام منسوب کیا ہے جو قتل، تشدد یا گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں۔
جن شاہراہوں کا نام تبدیل کیا گیا ہے ان پر ان ممالک کے سفارت خانے واقع ہیں جہاں متاثرہ صحافیوں کو ناکردہ جرائم کی سزائیں دی گئیں۔نظیم نے پیرس میں پاکستانی سفارت خانہ جس سڑک پر واقع ہے اسے صحافی سلیم شہزاد کے نام سے موسوم کیا گیا ہےرپورٹرز ودآؤٹ بورڈرز کے مطابق اس عمل کا مقصد ان ممالک کی ناکامی کو دنیا کے سامنے لانا ہے جنھوں نے صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر کوئی کارروائی نہیں کی، اور انھیں یاددہانی کروانا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔
02Nov15_BBC سلیم شہزاد02رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز ان 12 شاہراہوں کو صحافیوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو نمایاں کرنے کے لیے علامت کے طور پر استعمال کر رہی ہے کیونکہ تنظیم کے خیال میں صحافیوں کے خلاف جرائم کرنے والے افراد نامناسب سرکاری تحقیقات اور حکومت کی سرد مہری کی وجہ اکثر اوقات سزا سے بچ جاتے ہیں۔تنظیم کے مطابق صحافیوں کے خلاف ہونے والے 90 فیصد سے زائد جرائم کے مقدمات کبھی بھی حل نہیں ہوتے۔صحافیوں کی عالمی تنظیم نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کی مہم کی حمایت اس ویب سائٹ http://fightimpunity.orgwebsite کو وزٹ کریں۔تنظیم کے مطابق اس ویب سائٹ پر آنے سے لوگوں کو لنبان کے صحافی صامر کثیر، فرانس کے گے آندرے کیفر اور میکسیکو کی ماریہ ایشٹر کے خلاف بلا سزا جرائم کی تفصیلات مل جائیں گی۔رپورٹرز وداؤٹ بارڈرز کی سیکریٹری جنرل کرسٹوف ڈیلوئر کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کر کے بچ جانے والوں کے مقدمات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چند حکومتوں نے جان بوجھ کر ان مقدمات میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔تنظیم کے مطابق گذشتہ دس سالوں کے دوران تقریباً 800 صحافیوں کو ان کے کام کے دوران ہلاک کیا گیا جبکہ رواں برس کے آغاز سے اب تک 48 صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

افغانستان سےگولہ باری،7 پاکستانی اہلکار ہلاک

October 27, 2015
27Oct15_DU گولہ01DU

پشاور، اسلام آباد: پاک-افغان سرحد پر شدت پسندوں کے حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 7 اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ڈان نیوز نے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں پاک-افغان سرحد کے قریب انگور اڈہ کے مقام پر واقع ایک ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی.
27Oct15_DU گولہ02
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چیک پوسٹ پر کتنے اہلکار تعینات تھے.واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے بارڈر پر سیکیورٹی سخت کر دی جبکہ سرحد پر ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔یاد رہے کہ 3 ماہ قبل جولائی میں بھی سرحد پار سے پاکستانی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 2 اہلکار زخمی ہوئے تھے ، جبکہ پاکستانی کی جانب سے جوابی فائرنگ سے ایک افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا تھا جس کے بعد کابل میں پاکستانی سفارتکار کو طلب کرکے افغان حکام نے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا.
27Oct15_DU گولہ03
خیال رہے کہ جنوبی وزیر ستان میں پاک فوج کی جانب سے 2009 میں آپریشن راہ نجات کے ذریعے عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا گیا تھا، اسی آپریشن کے بعد فوج کے مرکز جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر حملہ کیا گیا تھا، تاہم جوابی کارروائی میں تمام دہشت گرد مارے گئے تھے۔بعد ازاں جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا جبکہ اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر-ون اور مارچ 2015 میں آپریشن خیبر-ٹو کا آغاز کیا گیا، فوج کی ان کارروائیوں سے شدت پسند سرحد کی دوسری جانب افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے.اس سے قبل بھی افغانستان سے پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں کی کوششیں کی جاتی رہیں،تاہم پاکستانی فورسز نے انھیں ناکام بنا دیا.واضح رہے کہ ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ مذکورہ علاقوں میں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے، اس لیے ذرائع ابلاغ کو سرکاری اطلاعات پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے.
27Oct15_DU گولہ04

کوئٹہ میں دھماکا، 10 افراد ہلاک

October 19, 2015
19Oct15_DU کوئٹہ01DU

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
دھماکا منگل کی رات سریاب روڈ پر دکانی بابا چوک کے قریب ٹرمینل پر کھڑی ایک بس میں ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کوئٹہ سے کراچی جانے والی بس میں 40 مسافر سوار تھے، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔دھماکے کے بعد شہر کا حساس سمجھے جانے والے علاقے سریاب روڈ پر ٹریفک معطل ہو گیا جبکہ امدادی کارروائیں جاری ہیں۔ دھماکے کی شدت سے اطراف میں عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔

سعودی عرب: مجلس کے شرکا پر فائرنگ، پانچ ہلاک

October 17, 2015
17Oct15_BBC 02 سعودیہBBC

سعودی عرب کے میڈیا کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں ایک مجلس کے شرکا پر فائرنگ سے کم سے کم پانچ افراد شہید اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

العریبیہ ٹی وی کے مطابق فائرنگ کرنے والا ایک حملہ آور جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ہے بھی مارا گیا۔اطلاعات کے مطابق دو دیگر حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔دوسری جانب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔سعودی عرب کے ایک نیوز چینل کے مطابق یہ واقعہ جمعے کو مشرقی علاقے میں پیش آیا۔چینل کے مطابق فائرنگ میں چار افراد زخمی بھی ہوئے۔ایک عینی شاید نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ایک مسلح شخص نے مجلس کے شرکا پر فائرنگ کی۔‘سعودی عرب کے مشرق میں جمعے ہی کو شعیہ مسلمانوں کے خلاف دیگر مقامات پر کم شدت حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں شعیہ مسلمانوں کو تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس مئی میں سعودی عرب کے شہر دمام میں شعیہ مسلمانوں کی ایک مسجد کو نشانہ بنایا تھا۔اس واقعہ سے ایک ہفتہ قبل سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد پر ایک خودکش حملے میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سعودی عرب کا مشرقی صوبہ قطیف تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور اس کی زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

ایرانی جنرل ہمدانی کی شام میں ہلاکت بارے متضاد روایات!

October 16, 2015
16Oct15_AA ھمدانی01al-Arabia

ایک ہفتہ پیشتر شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سرکردہ عہدیدار جنرل علی ہمدانی کے قتل کے بعد ہلاکت کی متضاد تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایران کے ذرائع ابلاغ نے جنرل ہمدانی کی شام کے شہر حلب میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کو غیرمعمولی کوریج دی ہے اور ہلاکت کے پس منظر اور کیفیت کے بارے میں بھی مختلف واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل ھمدانی کے قتل کے بارے میں ایک روایت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر ہمدانی کو شمالی حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ یک گاڑی میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔جنرل ہمدانی کے قتل سے متعلق ایک دوسری روایت جو زیادہ مقبول ہو رہی ہے وہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر جرنل حسین ھمدانی حلب کے نواحلی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کے ساتھ لڑائی میں 8 اکتوبر کی رات کو ہلاک ہوئے۔ یوں پاسدارن انقلاب کے بیان اور سپریم سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کے بیانات میں جنرل ھمدانی کی ہلاکت کی الگ الگ کیفیات بیان کی گئی ہیں۔علی شمحانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں نے حسن ہمدانی کو قتل کیا ہے وہ اچھی طرح ان سے واقف نہیں تھے، جب کہ پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق داعش کو علم تھا کہ حلب میں وہ جس کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ایران کے ایک سینیر عہدیدار حسین علی ہمدانی ہیں۔

ٹیکسٹ پیغام تنازع کا موجب
جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے فوری بعد ایران کے ذرائع ابلاغ میں سب سے پہلے جو اطلاعات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ حسین علی ہمدانی شام میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پاسداران انقلاب کے عہدیداروں اور پاسیج فورس کے اہلکاروں نے اپنے موبائل پیغامات میں ایک دوسرے کو یہ بتانا شروع کیا کہ حسین ھمدانی حادثےمیں نہیں بلکہ شامی اپوزیشن کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب کے بعض ارکان کی طرف سے موبائل پر یہ پیغام بھی جاری کیا گیا کہ حسین ھمدانی حلب میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی جیپ ایک ٹرک کو اور ٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہو کر الٹ گئی تھی۔ حسین ھمدانی حادثےمیں شدید زخمی ہوئے اور اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ یوں ٹیکسٹ پیغامات میں بھی جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے۔ ٹیکسٹ پیغام میں یہاں تک بتایا گیا تھا کہ جنرل ھمدانی جنوب مشرقی حلب سے حماۃ شہر کی جانب جا رہے تھے کہ خناصر اور اثریا قصبوں کے درمیان ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔

ایران میں سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر پاسداران انقلاب کے ارکان اور باسیج فورسز کے عہدیداروں کے بیانات کے برعکس جنرل ہمدانی کی ہلاکت کی الگ ہی کیفیت بیان کی۔ سماجی کارکنوں نے لکھا کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تو انہیں کچلنے کے لیے جنرل ہمدانی نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں جنرل ہمدانی کو “ہیرو” نہیں سمجھا جاتا۔ سنہ 2009ء میں جنرل ہمدانی پاسداران انقلاب کے “محمد الرسول اللہ” بریگیڈ کے سربراہ تھے۔ وہ اپوزیشن کے اس حد تک خلاف تھے کہ اصلاح پسند رہ نمائوں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی سمیت سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے پائے گئے تھے۔

انٹیلی جنس کارروائی میں ہلاکت
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شمخانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جنرل حسین ھمدانی کو حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ تہران میں جامع مسجد امام حسین میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ شام میں جنرل حسین ھمدانی کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کا قتل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہیں اس وقت انٹیلی جنس کارروائی میں مارا گیا جب وہ ایک کار میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔اس کے برعکس پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حسین ھمدانی “داعش” ملیشیا کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ فارسی نیوز ویب پورٹل” جماران” نے “محمد رسول اللہ ” بریگیڈ کے سربراہ محسن کاظمینی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حسین ہمدانی کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہیں شام میں ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔کاظمینی کا کہنا تھا کہ جنر حسین ھمدانی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جا رہے تھے کہ حلب کے قریب راستے میں دشمن کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگ پھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ کاظمینی نے حسین ھمدانی کے قاتلوں کو “تکفیری” قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ آئندہ ایام میں ھمدانی کے قاتلوں سے انتقام لیا جائےگا۔