Category: ASWJ Sipah e Suhaba

پاکستان میں داعش کی موجودگی کے امکانات رد

November 15, 2015DI_00DU

اسلام آباد: پاکستان نے خود ساختہ دولت اسلامیہ (داعش) کی ملک میں موجودگی کے امکانات مسترد کر دیے۔
سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں کسی کو داعش کے ساتھ روابط قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
DI_01چوہدری نے کہا کہ پاکستان داعش سمیت کسی بھی انتہا پسند تنظیم سے لاحق تمام خطرات سے نمنٹے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ’پاکستان اپنی عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے‘۔
DI_02دوسری جانب، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور شدت پسندی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور وہ پیر س سانحہ پر فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
DI_04دفتر خارجہ کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب میں صادق نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد خود دہشت گردی کا نشانہ رہنے والا پاکستان دکھ اور تکلیف کی گھڑی میں فرانسیسی عوام کے ساتھ ہے۔جدید انسانی تہذیب کیلئےدہشت گردی کو ایک مشترکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے صادق نے کہا کہ اس طرح کے حملے کوئی مذہبی یا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔
DI_05سپیکر قومی اسمبلی نے دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے مشترکہ عالمی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے غیر معمولی سٹریٹیجک اقدامات کے ذریعے جرات مندی سے اس لعنت کا مقابلہ کیا۔صادق نے بتایا کہ پاکستان اس لڑائی میں عالمی برادری کی مدد کیلئے تیار ہے۔
DI_03

Peshawar: Qaisar Abbas gunned down by terrorists of Banned Sipah e Sahaba

September 11, 2015
12Sep15_SN قیصر عباس

Terrorists of banned Sipah e Sahaba, also known as banned Ahl e Sunnat wal Jama’at, killed an active Shia person Qaisar Abbas by firing near Mirza Qasim Imam Bargah in Peshawar, the capital city of KPK.

According to eye witnesses, the terrorists fired upon Qaisar Abbas and ran away shouting slogans of ‘Shia Kafir’. It should be clear that Federal Interior Minister Chauhadry Nisar had said that people who raise slogans of ‘Kafir Kafir’ will not be tolerated in the country after which today’s incident is considered as a challenge of terrorists to the federal Interior Minister. Now it is to be seen that how Chauhadry Nisar will deal with these terrorists, will he answer them and take any practical action or will remain silent, as always.

D.I.Khan: Another Shia Police Constable killed in target killing

September 11, 2015
11Sep15_SN خضر عباس
Shiat News

The demon of terrorism and target killing has once again gone out of control. Head Constable Khizar Abbas was killed by un-identified people when they fired upon him at Musgara market, near Gari ban that comes under city police station. The martyred Khizar Abbas belonged to Daajil, Bhakar and used to perform his duty at the High court.

According to initial information, two terrorists came on motorcycle and targeted him from the back side. Police officials told that 9mm pistol was used in the incident which also injured a passerby Laal Jan who has been shifted to Civil Hospital. It should be clear that this is the third incident of terrorism and target killing in D.I. Khan within a week and police officials have been targeted in all the three incidents. Syed Zeeshan Haider (also known as Shani Shah), who was killed few days ago, was also a police constable and was also placed at the High court, like Shaheed Khizar Abbas. These recurrent incidents of target killing have caused citizens to feel concerned and threatened whereas the police has been put on high alert after the incident, as a routine task.

وکیل کا قتل: رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر دھرنا

30 August, 2015
RT14a
30Aug15_DU امیر05DU

کراچی: سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایڈووکیٹ کے قتل کے خلاف وکلا نے رینجرز کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے وکیل سید امیر حیدر شاہ کو جمعہ کی شام کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔سید امیر حیدر شاہ ایڈووکیٹ کے قتل کے خلاف وکلاء نے سٹی کورٹ میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلاء نے سٹی کورٹ میں داخلی راستوں پر تالے ڈال دئیے ، جس کے باعث کوئی بھی سائل یا پیشی پر آنے والے افراد کورٹ میں داخل نہ ہو سکے۔
30Aug15_DU امیر02
کراچی: گلشن اقبال میں وکیل قتل
وکلاء کے احتجاج اور تالہ بندی کے باعث عدالتوں میں مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں ہی امیرحیدر شاہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔غائبانہ نماز جنازہ کے بعد وکلاء کی جانب سے ریلی بھی نکالی گئی۔ریلی میں شریک وکلاء احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے قریب ریڈ زون میں داخل ہو گئے۔مظاہرین ریلی کی صورت میں رینجرز ہیڈ کوارٹرز جناح کورٹس کے سامنے پہنچے اور وہاں دھرنا دے دیا۔احتجاج کرنے والے وکلا امیر حیدر شاہ ایڈووکیٹ کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔
30Aug15_DU امیر04
دھرنے کے دوران رینجرز حکام کی جانب سے کراچی بار ایسوسی ایشن کے وفد کو مذاکرات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد کراچی بار کے 6 رکنی وفد نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سے ملاقات کی۔وکلاء کا وفد کی قیادت کراچی بار کونسل کے صدر نعیم قریشی کر رہے تھے۔
30Aug15_DU امیر03
رینجرز کے ترجمان کے مطابق میجر جنرل بلال اکبر نے وکلاء کو قاتلوں کی گرفتاری کی یقین دھانی کروائی۔ڈی جی رینجرز نے کہا کہ قاتلوں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وکلاء کو سیکیورٹی خدشات پر میجر جنرل بلال اکبر کا کہنا تھا کہ وکلاء کو ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے جس کی سربراہی رینجرز کے لیفٹننٹ کرنل کے عہدے کا افسر کرے گا۔کراچی بار کے رینجرز حکام سے مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔واضح رہے کہ مقتول سید امیر حیدر شاہ سندھ ہائی کورٹ میں وکالت کر رہے تھے جبکہ وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق عہدیدار بھی تھے۔خیال رہے کہ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قتل کی وجہ ان کا پیشہ ہوسکتا ہے کیوں کہ امیر حیدر شاہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے کیسز بھی لیا کرتے تھے۔

علامہ امین شہیدی کے سانحہ راجہ بازارکے جھوٹے مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری

02 August, 2015
02Aug15_SH امین
Shafaqna

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج مجید اعوان نے مفتی امان اللہ قتل کیس میں کاونٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کومجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی سمیت مزید دو افراد کو فوری گرفتار کرنے کا حکم جاری کیاہے ، اطلاعات کے مطابق پنجا ب حکومت کی ایما پر یہ حکم جاری کیا گیا ہے، تفصیلا ت کے مطابق جامعہ تعلیم قرآن کےمہتم اور سانحہ عاشورہ راولپنڈی کےماسٹر مائنڈ مفتی امان اللہ قتل کیس کے سلسلے میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے علامہ امین شہیدی ،اشتیاق حسین اور کلب عباس کے وارنٹ گرفتاری جاری کیئے ہیں اور کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا حکم دیا ہے کہ ملزماں کو فوری گرفتا رکیا جائے۔ علاوہ ازیں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے علامہ امین شہیدی کے جھوٹے مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کو حکومتی بیلنس پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے ، انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ علامہ امین شہیدی کے خلاف بلاجواز اقدام ریاستی امن وامان کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا۔

اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنما ٹیکسلا سے گرفتار

(Dawn Urdu 05 June, 2015)
Untitled

کراچی: اہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے مرکزی رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی کو ٹیکسلا میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اے ایس ڈبلیو جے کے جنرل سیکریٹری علامہ تاج محمد حنفی نے ڈان سے گفتگو میں مولانا اورنگزیب فاروقی کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایا کہ انھیں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپے خاندان کے ساتھ ایک ذاتی ٹرپ پر سفر کررہے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کے مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی نے ایک دن قبل مری میں ایک ریلی میں شرکت کی تھی جس کے بعد ان کے خلاف راولپنڈی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ اے ایس ڈبلیو جے اسلام آباد چیپٹر کے میڈیا کوآرڈینیٹر حافظ اونیب فاروقی نے ڈان کو بتایا کہ اورنگزیب فاروقی کو پنجاب پولیس نے گرفتار کیا، تاہم ان کی گرفتاری کی وجوہات ناحال معلوم نہیں ہوسکیں۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا اورنگزیب فاروقی دو روز قبل کراچی سے اسلام آباد آئے تھے۔ مولانا اورنگزیب فاروقی کی گرفتاری کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی۔اسلام آباد میں احتجاج شروع کردیا گیا۔

اگر فوج نہیں بھیجی تو حرمین کی حفاظت ہم کریں گے

Muhammad Ahmed Ludhyanwi, AWJDU_BU

اسلام آباد: اہلِ سنت و الجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے پارلیمنٹ کی جانب سے یمن کے معاملے پر منظور کی گئی قرارداد کی مذمت کی ہے اور اس کو ’’عوامی امنگوں کے خلاف‘‘ اور ’’وقت کی بربادی‘‘ قرار دیا ہے۔
نہوں نے اہلِ سنت والجماعت کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے سامنے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حرمت کی حفاظت کی خاطر سعودی عرب کی غیرمشروط حمایت کرتے ہیں۔ ہم کسی کو بھی حرمین شریفین کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔مولانا لدھیانوی جنہوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران وفاقی دارالحکومت میں سعودی نواز ریلیوں کی قیادت کی تھی، اس موقع پر اعلان کیا کہ ایک کل جماعتی کانفرنس جسے انہوں نے ’’حرمین شریفین کے تحفظ‘‘ کے لیے ایک حتمی منصوبہ قرار دیا، سے قبل اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں اس طرح کے مزید عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
Taliban
جمعرات نو اپریل 2015ء کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک جلسے کے دورران جماعت الدعوۃ کے حافظ سعید اور اہل سنت والجماعت کے مولانا لدھیانوی دیگر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہاتھ ملاکر سعودی عرب کی حکومت کے لیے اپنے حمایت کا اظہار کررہے ہیں۔ —. فوٹو اے پی
انہوں نے کہا اگر ہماری حکومت نے فیصلہ نہیں کیا، تو ہم سعودی عرب جائیں گے، جس طرح امیر انصار الامّہ فضل الرحمان خلیل افغانستان گئے تھے۔مولانا لدھیانوی نے کہا کہ بعض عناصر سعودی عرب سے پاکستانیوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بعض عناصر شعیہ سنی فرقہ بندی کا شور مچا رہے ہیں۔تاہم جب اہلِ سنت والجماعت کے جلسے کے شرکاء نے اراکین پارلیمنٹ کے خلاف نعرے لگانے شروع کیا تو، انہوں نے ان کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں دوبارہ شمولیت اختیار کررہے ہیں، اس لیے انہیں قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔جلسے سے اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے، اور اب یہ وقت ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کرے۔انہوں نے کہا کہ ’’حرمین یا شیخین‘‘کی حفاظت میں کوئی فرق نہیں ہے، لیکن ایک نظریاتی تصادم موجود ہے۔مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ جنگ دو ملکوں کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ باغیوں کے خلاف جنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یمن میں جنگ بندی کے حق میں ہیں، وہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ پوری قوم حرمین شریفین کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ دفاعی لائن سعودی سرحد سے حرمین تک پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ہم پارلیمنٹ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ سعودی عرب فوج بھیجی جانی چاہیے، اب یہ فیصلہ فوج کو کرنا ہوگا۔مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ آرمی کو غیرمشروط اور بلاتاخیر فوجیوں کو بھیجنا چاہیے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم کو فعال بنایا جائے۔ایک اور مذہبی رہنما مولانا اشرف علی نے بیت اللہ (کعبہ شریف) کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے بیانات کو مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج اور ہمارے تمام وسائل کو حرمین شریفین پر قربان کردینا چاہیے۔پیر سیف اللہ خالد نے کہا کہ اگرچہ اللہ نے بیت اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، تاہم ہمیں بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس کے گھر کے لیے کس قدر جاں نثار ہیں۔اہل سنت والجماعت کے جلسے کے شرکاء لال مسجد پر اکھٹا ہوئے اور نیشنل پریس کلب تک نعرے لگاتے ہوئے مارچ کیا۔ پولیس کی جانب سے اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پریس کلب کو جانے والی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔