Category: Saudia and Allied

حوثیوں نے دور فاروقی کی تاریخ جامع مسجد شہید کردی

October 31, 2015
31Oct15_AA مسجد01al-Arabia

العریبیہ حکومت سعودی عربیہ کا ترجمان ہے
یمن میں اہل تشیع مسلک کے ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے ملک کے وسطی شہر اِب میں دوسرے خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تعمیر کی گئی جامع مسجد شہید کردی ہے۔
31Oct15_AA مسجد02مقامی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حوثی شدت پسندوں نے جامع مسجد کے ایک مینار کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب بڑی تعداد میں شہری مسجد میں نماز ادا کررہے تھے تاہم اس واقعے ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
یاد رہے کہ اب کی جامع مسجد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تعمیر کی گئی اور اس کا مینار 900 سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ مسجد کے مینار اور اس کے ایک بڑے حصے کو شہید کرنے کا الزام حوثیوں پر عاید کیا گیا ہے۔
یمنی محقق اور اسلامی آثار قدیمہ کے ماہر محمد القادری نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ وسطی یمن کے اِب شہر میں جامع مسجد العمری دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی ایک اہم ترین تاریخی یادگار تھی۔ القادری نے کہا کہ ان کے پاس مسجد کو شہید کرنے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ مسجد کا مینار او مئذنہ حوثیوں نے مسمار کردیا ہے جس کے باعث مسجد کا ایک بڑا حصہ شہید ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد کا مینار اس وقت ایک دھماکے سے مسجد پر اگرا جب لوگ وہاں نماز میں مصروف تھے۔ یہ حادثہ کسی قدرتی آفت،بارش یا آسمانی بجلی گرنے کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی کوئی فضائی حملہ یہاں کیا گیا ہے۔ یہ صرف حوثیوں کی سازش ہے۔ مسجد کا جو مینار شہید ہوا ہے اس کی مرمت کچھ ہی عرصہ قبل کی گئی تھی، اس لیے اس کے خود بہ خود گرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Advertisements

سعودی عرب میں داعش کا خودکش حملہ، ایک ہلاک متعدد زخمی

October 27, 2015
27Oct15_BBC داعشBBC

سعودی عرب میں ایک خودکش حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد ملک کی شیعہ اقلیت کو نشانہ بنانا تھا۔
بم دھماکہ یمنی سرحد کے نزدیک سعودی عرب کے جنوبی شہر نجران میں ہوا ہے۔خیال رہے کہ رواں سال عسکری گروہ کے سنّی شدت پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر فائرنگ اور بموں کے کئی خوفناک حملے کیے گئے ہیں۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔تاہم حملہ آور کی اس دھماکے میں ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو حملہ آور کے والدین کے نام ان کا ایک خط ملاہے جس سے حملہ آور کے حملے کے ارادے کی تصدیق ہوجاتی ہے۔دوسری جانب نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد ’مسترد کرنے والے اسماعیلی‘ تھے۔ اسماعیلی شیعہ اسلام کی ہی ایک شاخ ہیں۔نجران کے علاقے میں اسماعیلیوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔

دہشت گردی کے خلاف پاک – سعودی مشترکہ فوجی مشقیں

October 20, 2015
20Oct15_AA مشقین01al-Arabia

پاکستان اور سعودی عرب کی فورسز نے جہلم کے قریب پبی میں واقع “دہشت گردی کے خاتمے کے قومی مرکز” میں مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کر دیا ہے۔’الشہاب ون‘ نامی یہ مشقیں اگلے بارہ روزہ تک جاری رہیں گی، جس میں سعودی اسپیشل فورس کا 57 رکنی دستہ بھی شرکت کر رہا ہے۔کمانڈر منگلا لیفٹیننٹ جنرل عمر جاوید درانی کے جنگی مشقیں دیکھیں اور میں شریک جوانوں کی پیشہ وارنہ صلاحتیوں کے مظاہرے کی تعریف کی۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف دفاعی شعبوں میں تعاون کی ایک تاریخ ہے، تاہم پہلی بار دونوں ملکوں کی خصوصی فورسز کے دستے انسداد دہشت گردی کی مشترکہ مشقیں کر رہے ہیں۔پاکستان کی طرح سعودی عرب کو بھی حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کا سامنا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان واقعات میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیموں ’داعش‘ اور ’القاعدہ‘ سے منسلک عسکریت پسند ملوث ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کا سامنا رہا ہے اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ایک طویل عرصے سے مصروف عمل ہے۔

دوسری طرف پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور ترکی کی فضائی فورسز کی مشترکہ فضائی مشقیں مکمل ہو گئی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی ان مشقوں میں ترک فضائیہ کے ایک دستے نے شرکت کی جس میں پانچ ایف 16 طیارے، ہوابازوں اور تکنیکی عملے کے ارکان نے شرکت کی۔ بیان کے مطابق ان مشقوں کا مقصد پاکستان فضائیہ کی صلاحیت اور اس کی استعداد کار میں اضافہ کرنا تھا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے علاوہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی دفاعی شعبوں میں تعاون حاصل کرنے کا خواہاں ہے اس ماہ کے اوائل میں پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے امریکا کا دورہ کیا جس دوران انہوں نے دونوں ملکوں کی فضائی افواج کی مشترکہ مشقوں کے انعقاد پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔

یمنی حکومت مذاکرات اور حوثی یو این فیصلہ ماننے پر تیار

October 19, 2015
19Oct15_BBC AA حوشی01al-Arabia

یمن کی آئینی حکومت نے اقوام_متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی دعوت پر جنیوا میں یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق یمنی حکومت نے جنرل سیکرٹری بان کی مون کی دعوت قبول کرتے ہوئے جنیوا اجلاس میں شرکت کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔خیال رہے کہ ہفتے کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کے ذریعے صدر عبد ربہ منصور_ھادی کے نام ایک پیغام ارسال کیا تھا جس میں ان سے دوسرے جنیوا اجلاس میں شرکت کرنے اور باغیوں کے ساتھ بات چیت کی اپیل کی تھی۔’یو این’ سیکرٹری جنرل کی جانب سے یمنی صدر منصور ھادی کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا تھا کہ #حوثی باغی اور ان کے دیگر حامی بات چیت پر آمادگی کے ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد پر بھی تیار ہیں۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ باغیوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت میں انہوں نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں اور خلیجی امن فارمولے پرعمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔قبل ازیں ہفتے کو یو این سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے صدر ھادی کے نام بھیجے گئے ایک مکتوب میں ان سے دوسرے جنیوا اجلاس میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ بان کی مون کے مکتوب کے مطابق باغی گروپ حوثی یمن میں قیام امن کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 پر عمل درآمد کےساتھ ساتھ بحران کے حل کے لیے خلیجی ممالک کے وضع کردہ فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے بھی تیارہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے صدر ھادی کو بان کی مون کا یہ پیغام پہنچایا تھا جس کے بعد حکومت نے 48 گھنٹے میں اس کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ان دنوں ابو ظہبی، ریاض اور مسقط میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی میں مصروف ہیں۔

جمعہ کی شام اقوام متحدہ کے امن مندوب نے ریاض میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ یمن میں جاری خون خرابہ، قتل عام اور بربادی روکنے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت اپنے کے کسی ایک چپے سے بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ حکومت ہی #صعدہ سے المھرہ تک کی ذمہ دار اور جواب دہ ہے اور ہم پورے ملک میں امن واستحکام کے لیے مساعی کررہے ہیں۔اس موقع پراقوام متحدہ کے مندوب ولد الشیخ نے حوثی باغیوں کی جانب سے عدن میں حکومتی مراکز میں کیے گئے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ قرار دیا۔

ادھر یمن میں امن وامان کے حوالے سےقائم کردہ سیاسی کمیٹی کے سربراہ اور وزیرمملکت عبداللہ الصیادی نے بھی اقوام متحدہ کے امن مندوب سے ملاقات کی۔ سیاسی کمیٹی میں صدر ھادی، وزیراعظم بحاح اور ان کی کابینہ کے متعدد وزیر بھی شامل ہیں تاہم کمیٹی کی قیادت ایک وزیرکے پاس ہے۔سیاسی کمیٹی نے بھی ملک میں مزید بدامنی جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا قتل عام اور خون خرابے کی ذمہ دار ہے۔ باغی مذاکرات کے حوالے سے اپنی مرضی کی شرائط عاید کرکے سیاسی مساعی کو سبوتاژ کررہے ہیں۔

النصرۃ محاذ: بشارالاسد اور حسن نصراللہ کے سَر کی قیمت مقرر

October 14, 2015
14Oct15_DU داعشal-Arabia

شام میں القاعدہ سے وابستہ باغی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے صدر بشارالاسد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے سروں کے قیمت مقرر کردی ہے۔ابومحمد الجولانی کی سوموار کی شب ایک آڈیو ٹیپ جاری کی گئی تھی۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ”جو کوئی بھی بشارالاسد کو قتل کرے گا اور ان کی کہانی کا خاتمہ کرے گا،وہ اس کو تیس لاکھ یورو (چونتیس کروڑ ڈالرز) انعام کے طور پر دیں گے”۔

انھوں نے سوال کیا کہ ”مسلمان کب تک اقتدار کے حریص ایک شخص کے لیے اپنے حقوق سے محروم رہیں گے اور اپنا خون بہاتے رہیں گے۔انھوں نے اس آڈیو میں یہ بھی پیش کش کی ہے کہ ”اگر اسد خاندان کا کوئی فرد شامی صدر کی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے،تو النصرۃ محاذ اس کا اور اس کے خاندان کا تحفظ کرے گا”۔ابو محمد الجولانی نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو قتل کرنے والے کے لیے بیس لاکھ یورو (بائیس لاکھ ڈالرز) انعام مقرر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان کے خاندان یا فرقے ہی کا کوئی فرد یہ کام کرتا ہے تو اس کو بھی اس انعام سے نوازا جائے گا۔اس آڈیو پیغام میں القاعدہ سے وابستہ گروپ کے سربراہ نے بشارالاسد کے اقلیتی علوی فرقے کے افراد پر انتقامی حملوں میں تیزی لانے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ روسیوں کی حالیہ فوجی مداخلت کے بعد سنی مسلمانوں کا بلا امتیاز قتل کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس نے بشارالاسد کے اقتدار کو بچانے کے لیے فوجی مداخلت کی ہے لیکن وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے گا کیونکہ اس سے پہلے ایران اور حزب اللہ کی جنگی امداد ان کی حکومت کو بچانے میں ناکام ہوچکی ہے۔الجولانی نے کہا:”اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہ گیا کہ جنگ میں تیزی لائی جائے اور اللاذقیہ میں علویوں کے قصبوں اور دیہات کو حملوں میں نشانہ بنایا جائے۔میں تمام دھڑوں سے کہتا ہوں کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان دیہات پر سیکڑوں میزائل فائر کریں بالکل ایسے جس طرح سنیوں کے شہروں اور دیہات کو حملوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے”۔انھوں نے روس کی مداخلت کو مشرق سے نئی مسیحی صلیبی یلغار قراردیا ہے جو ان کے بہ قول ناکامی سے دوچار ہوگی۔انھوں نے کہا:”شام میں جنگ روسیوں کو ان ہولناکیوں کو بھلا دے گی،جن کا انھوں نے افغانستان میں سامنا کیا تھا۔روس کی نئی مداخلت مسلمانوں اور شام کے دشمنوں کے ہتھیاروں کی آخری چال ہے”۔

روس نے 30 ستمبر کو شام میں باغی جنگجو گروپوں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا اور اس نے حالیہ دنوں میں شام میں باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیارے شام میں داعش کے اہداف پر بمباری کررہے ہیں۔لیکن روسی فضائیہ کے بیشتر حملوں کا ہدف صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے لڑنے والے باغی جنگجو گروپ بنے ہیں۔ان میں النصرۃ محاذ بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ روسی طیارے عرب ممالک ،ترکی اور امریکا کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔باغیوں کا کہنا ہے کہ روس ”زمین کو پاک کرو” پالیسی کے تحت شام میں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور ان حملوں میں بیسیوں شہری ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ آزاد ذرائع سے روسی فضائی بمباری سے ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد وشمار بھی سامنے نہیں آرہے ہیں۔

حوثیوں نے جنگ بندی کا کوئی وعدہ نہیں کیا: العسیری

October 09, 2015
09Oct15_AA حوثی01al-Arabia

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف یمن میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان سے باغیوں نے جنگ بندی سمجھوتے سے متعلق ابھی تک کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔وہ العربیہ ڈاٹ نیٹ عربی سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اتحادی فورسز حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے خلاف اس وقت فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گی جس تک اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2216 کے مطابق حوثی باغی اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپا نہیں ہوجاتے اور قانونی حکومت کی پورے ملک میں عمل داری قائم نہیں ہوجاتی ہے۔سلامتی کونسل نے اپریل میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت یہ قرارداد منظور کی تھی۔اس کے تحت حوثی تحریک کے لیڈر اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف پابندیاں عاید کردی گئی تھیں۔اس میں حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کردے،غیرمشروط طور پر تشدد کا خاتمہ کرے اور مزید یک طرفہ اقدامات سے گریز کرے۔بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ جمعہ تک حوثی ملیشیا کی جانب سے اتحادی فورسز کے علاوہ یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو بھی جنگ بندی سے متعلق کوئی وعدہ موصول نہیں ہوا ہے۔انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ”اگر ایسا ہوتا ہے تو یمنی حکومت اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا”۔بعض میڈیا ذرائع نے حالیہ دنوں میں یہ اطلاع دی ہے کہ حوثیوں اور صالح ملیشیا نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے یہ کہا ہے کہ وہ گذشتہ چھے ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

مارب کے اہم علاقہ پر عرب اتحادی فوج کا مکمل کنٹرول

October 07, 2015
07Oct15_AA ماب01al-Arabia

عدن میں خالد_بحاح اور اماراتی فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے

VIDEO

یمن کے شہر مأرب میں عرب اتحادی فوج کے کمانڈر بریگیڈئر علی یوسف الکعبی نے بتایا ہے کہ حوثی اور علی عبداللہ صالح کے حامی جنگجوؤں پر مشتمل باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد گورنری کے مغربی علاقے میں واقع صراوح ڈائریکٹوریٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔بریگیڈئر الکعبی نے لڑائی میں حوثی ملیشیا کے متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت اور بڑی تعداد کو زندہ گرفتار کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ادھر اتحادی فوج میں شامل لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع ضبوہ فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔اسی علاقے میں السبعین پر بھی اتحادی طیاروں نے بمباری کی۔تعز شہر میں باغیوں کے متعدد ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بمباری سے حوثی اور صالح ملیشیا کے 18 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔میدان جنگ میں پے در پے شکست سے بےحال حوثی باغیوں نے اپنی 32 فوجی گاڑیاں لحج شہر کی شمالی مشرقی المسمیر ڈائریکٹوریٹ منتقل کر دی ہیں۔دارالحکومت صنعاء کا شمالی علاقہ زوردار دھماکے سے لرز اٹھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا صنعاء کے علاقے النہضہ کے سامنے جامع النور میں بارودی سرنگ پھٹنے سے ہوا۔

داعش کا ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں سرکاری ہیڈکوارٹرز اور سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے اڈے پر تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ان حملوں میں پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔داعش نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے چار خودکش بمباروں نے عدن میں دو اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا ہے۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔داعش نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ان حملوں میں فوجی مارے گئے ہیں مگران کی تعداد نہیں بتائی ہے۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی تھی کہ یمن کے جنوبی شہر عدن میں متعدد راکٹ حملوں میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔یمن میں عرب اتحادی فوج کی قیادت نے عدن میں ہونے والے حملے میں ایک سعودی فوجی کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے جنرل کمان نے فوج کے عدن میں ایک کیمپ پر حملے میں اپنے چار فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اماراتی اعلان کے مطابق ان حملوں کے اس کے متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
07Oct15_AA ماب02

یمن کے نائب صدر حملے میں بال بال بچے
۔یمنی حکومت کے ایک ترجمان اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں متعدد دھماکے ہوئے تھے۔اسی ہوٹل میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدے دار ٹھہرے ہوئے ہیں۔یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کے جولائی میں عدن پر دوبارہ قبضے اور وہاں سے حوثی باغیوں کی پسپائی کے بعد یہ سب سے بڑا اور تباہ کن حملہ تھا۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح القصر ہوٹل پر راکٹ گرینیڈ فائر کیے گئے تھے اور یہ راکٹ ہوٹل کے داخلی حصے میں گرے تھے۔07Oct15_AA ماب03
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہوٹل کے گیٹ پر ایک میزائل فائر کیا گیا تھا اور ایک میزائل اس کے نزدیک گرا تھا جبکہ شہر کے علاقے البریقہ میں تیسرا میزائل گرا ہے۔العربیہ پر نشر کی گئی تصاویر میں سیاہ دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔اس حملے کے بعد القصر ہوٹل کے ارد گرد سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
07Oct15_AA ماب04
واضح رہے کہ یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح اپنی کابینہ کے سات وزراء اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ہمراہ 16 ستمبر کو سعودی عرب سے عدن واپس آئے تھے۔وہ تب سے القصر ہوٹل ہی میں مقیم ہیں اور وہیں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں۔یمنی ذرائع کے مطابق وہ بم حملے میں محفوظ رہے ہیں۔خالد بحاح قبل ازیں یکم اگست کو مختصر وقت کے لیے عدن آئے تھے اور وہ پھر واپس الریاض چلے گئے تھے جہاں وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ہمراہ مقیم تھے اور وہیں سے جلاوطن حکومت چلا رہے تھے۔یمنی صدر ،وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان مارچ میں عدن پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سعودی عرب منتقل ہوگئے تھے۔
07Oct15_AA ماب05
جولائی میں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز اور جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فضائی مدد سے عدن اور دوسرے جنوبی شہروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کو نکال باہر کیا تھا۔