Category: Jihadi Girls

اسپین:داعش سے تعلق کے الزام میں لڑکی گرفتار

September 06, 2015
06Sep15_DU  جہادی لڑکیان02
DU

والنسیا: اسپین کی پولیس نے شام جا کر داعش کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک ہونے کے الزام میں 18 سالہ ماروکن لڑکی کو گرفتار کرلیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسپین میں گزشتہ سال سیکیورٹی خدشات سامنے آنے کے بعد سے اب تک داعش سے ہمدردی کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔پولیس نے والنسیا کے قریب گاندیا ٹاؤن سے لڑکی کو اس کے گھر سے گرفتار کیا اور اس موقع پر لڑکی کا پورا جسم کالے رنگ کے نقاب میں چھپا ہوا تھا جبکہ صرف اس کے ہتھکڑی لگے ہاتھ ہی دیکھے جاسکتے تھے۔پولیس نے لڑکی کے گھر سے شواہد سے بھرے ہوئے ڈبے بھی ہمراہ لے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دیگر خواتین کو داعش میں شامل ہونے کے لیے بھرتی کررہی تھی۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ جس وقت اسے گرفتار کیا گیا وہ شام جانے کے لیے سفر کی تیاری میں مصروف تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ لڑکی کا تعلق ماروکو سے ہے تاہم وہ اسپین میں طویل عرصے سے مقیم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ انٹرنیٹ پر جہادی نظریات کو پھیلانے کے لیے دہشت گرد حملوں کا جوز پیش کرتے ہوئے لوگوں کو ہلاک کرنے والی ویڈیوز کو پھیلارہی تھی۔
06Sep15_DU  جہادی لڑکیان01
خیال رہے کہ اسپین سے گرفتار ہونے والی یہ پہلی لڑکی نہیں ہے جس پر الزام ہے کہ وہ خواتین کو مسلح گروپ میں شمولیت کے لئے بھرتی کررہی تھی، اس سے قبل بھی ایک خاتون کو اسی جرم میں جولائی میں لانزاروٹے کے جزیرے سے گرفتار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اسپین سے 100 سے زائد افراد عراق اور شام میں شدت پسندوں سے جا ملے ہیں جن کے بارے میں حکام نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اسپین واپس آکر حملے کریں گے۔

یاد رہے کہ مارچ 2004ء میں القاعدہ سے متاثر ایک بمبار نے میڈرڈ میں مسافر سے بھری چار ٹرینوں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جس کے نتیجے میں 191 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اسپین پولیس نے واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 20 ماروکن افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

Advertisements

آسٹریلین جہادیوں کی شہریت ختم ہو سکتی ہے

27May15_BBC آسٹریلین جہادی01BBC_Orig

آسٹریلیا میں نئے حکومتی قوانین کے تحت دہشت گرد تنظیموں میں شامل کم از کم 50 آسٹریلوی باشندوں کو شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
حکومت جلد ہی ایسی قانون سازی کرے گی جس کے تحت عراق یا شام میں لڑنے والوں کی آسٹریلین شہریت ختم کر دی جائےگی۔ سنہ 2014 کے وسط سے دولت اسلامیہ میں شامل آسٹریلوی شہریوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ یہ قانون جون میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور یہ ’دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق ہے۔ منگل کو کینبرا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہمیں ان کی جانب سے بڑھتا ہوا خطرہ محسوس ہو رہا ہے جو ہم میں ہی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم 100 آسٹریلین شہری مشرق وسطیٰ میں میں لڑ رہے ہیں اور ان میں سے تقریباً نصف دہری شہریت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ مزید 150 افراد آسٹریلیا میں ایسی تنظیموں کی حمایت کر رہے تھے جبکہ آسٹریلیا کی انٹیلی جنس ایجنسی اے ایس آئی او دہشت گردی سے متعلق 400 سے زائد مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے۔ وزیراعظم ایبٹ کا کہنا ہے کہ ’ملکی سلامتی کے حوالے سے یہ سب سے بڑا چیلنج ہے جس کا سامنا ہم اپنی زندگیوں میں کر رہے ہیں۔ حکام مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ علاقوں سے واپس آنے والوں کے ساتھ ساتھ ان کو اور ان کی سرگرمیوں کی حمایت کرنے والوں کی وجہ سے مقامی سکیورٹی پر اثرات کے بارے میں بھی تشویش زدہ ہیں۔ 27May15_BBC آسٹریلین جہادی02آسٹریلیا میں بیرون ملک جا کر لڑنے کی منصوبہ بندی کے شبے میں پاسپورٹ ضبط کرنے کا قانون موجود ہے۔ تقریباً 100 پاسپورٹ قومی سلامتی کی بنیاد پر منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا کہ حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی غیر ریاستی نہ بنے اور شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ عدالتی جانچ کے تحت کیا جائے۔ شہریت سے قطع نظر دہشت گردی میں ملوث افراد کو قید کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے پاس آسٹریلین شہریت نہیں ہو گی تو انھیں ملک سے بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن کوئی بھی اپنی شہریت کسی جرم میں مجرم قرار دیے جانے بغیر بھی محروم ہو سکتا ہے۔ اس قانون میں دوسری نسل سے تعلق رکھنے والے آسٹریلین شہریوں کے لیے بھی کچھ حصے ہو سکتے ہیں کیونکہ حکومت اس امر کی جانب توجہ دے رہی ہے کہ وہ افراد جو کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کر سکتے ہیں لیکن ان کے پاس اس ملک کی شہریت نہیں ہے تو کیا انھیں بھی شہریت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔