Category: Hammas

شام: نامعلوم افراد کے حملے میں حماس رہ نما شہید

یحییٰ حورانی المعروف ابو صہیب
AA_BU

شام میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے ایک سرگرم رہ نما یحییٰ حورانی المعروف ابو صہیب کو دارالحکومت دمشق میں قائم فلسطینی پناہ گزین کیمپ ’’یرموک‘‘ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کردیا ہے۔ دوسری جانب حماس نے حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘کے مطابق یحییٰ حورانی کل سوموار کو پناہ گزین کیمپ کے اسپتال کی طرف آرہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔
اے ایف پی کے مطابق واقع پر حماس نے گہرے دکھ کا اظٖہار کرتے ہوئے اپنے اہم رکن کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ حورانی پناہ گزین کیمپ کے اسپتال میں مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والے افراد کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد اور دیکھ بحال کررہے تھے۔آخری اطلاعات تک کسی گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی اور نہ حماس نے کسی پر براہ راست اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔ البتہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو صہیب کا قتل ایک مجرمانہ اور بزدلانہ کارروائی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یرموک پناہ گزین کیمپ کے مکینوں میں سے بعض نے القاعدہ کی ذیلی تنظیم’’النصرہ فرنٹ‘‘ کو اس کا ذمہ دار قراردیا ہے جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حماس رہ نما پرقاتلانہ حملہ ’’جیش الحر‘‘ نے کیا ہے۔خیال رہے کہ شام کے محصور پناہ گزین کیمپ میں میں سرگرم کسی امدادی کارکن کے قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔
شام میں انسانی حقوق کی صورت حال کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے یرموک کیمپ میں کئی گروپ اپنااپنا اثرو رسوخ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان گروپوں میں سر فہرست ’’اکناف بیت المقدس‘‘ نامی تنظیم بھی شامل ہے جسے حماس کا حامی خیال کیا جاتا ہے۔
حماس کے علاوہ یرموک پناہ گزین کیمپ میں دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ اور النصرہ فرنٹ کے حامی بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ یہ تمام گروپ ایک دوسرے پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ ان کے حامیوں کے درمیان کئی خون ریزی جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔