Category: Boko Haram

نائیجیریا: مسجد میں بم دھماکا، 26 افراد ہلاک

October 16, 2015
16Oct15_DU نائیجیریا01DU

نائیجیریا کے شمالی شہر مایدوگوری میں اس وقت درجنوں افراد ہلاک ہوگئے جب نماز کی ادائیگی کے دوران مسجد کے قریب ایک بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایک سول ڈیفنس رضاکار نے بتایا ہے کہ مایدوگوری میں مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 26 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے۔ رضاکار نے دہشت گردوں کے حملے کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ تفصیلات فراہم کی۔ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد خود کش حملہ آوروں نے مسجد میں گھس کر اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب نمازی عبادت میں مصروف تھے۔نائیجیریا میں بوکو حرام نامی شدت پسند تنظیم کے خلاف سیکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرنے والے ایک رضا کار اور واقعے کے عینی شاہد موہتری احمدو کا کہنا تھا کہ اس نے دھماکے کے بعد 42 لاشیں گنتی کی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ مسجد میں ایک وقت میں 40 افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے تاہم اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ دھماکے کے وقت مسجد کی عمارت میں نمازیوں کی تعداد کیا تھی۔ احمدو نے بتایا کہ دھماکے میں تمام نمازی ہلاک ہوگئے اور ایک بھی زندہ بچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

واقعے کے دیگر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجکر 30 منٹ پر ہوئے۔واضح رہے کہ مذکورہ خود کش دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی بھی تنظیم یا گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔خیال رہے کہ سال 2009 میں نائیجیریا میں وجود میں آنے والی شدت پسند تنظیم بوکو حرام سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ فورسز پر حملوں اور شہری مقامات پر دھماکوں میں بھی ملوث ہے۔نائیجیریا میں گذشتہ کئی سالوں سے جاری کشیدہ صورت حال میں اب تک 17000 افراد ہلاک جبکہ 25 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

Advertisements

کینیا کی یونیورسٹی پر الشباب کے حملے میں 147 افراد ہلاک

03Apr15_BBCکینیا یونیورسٹی01

BBC, UK
BBC, UK

حکام نے کہا ہے کہ کینیا کی شدت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں ایک یونیورسٹی پر حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 147 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق گیریسا یونیورسٹی کالج کو شدت پسندوں سے خالی کروانے کا آپریشن اب مکمل ہو گیا ہے، اور چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔587 طلبہ کو یونیورسٹی سے بازیاب کرایا گیا ہے، جن میں سے 79 زخمی ہیں۔ملک کے بعض حصوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔نو شدید زخمی طلبہ کو ہوائی جہاز کی مدد سے دارالحکومت نیروبی پہنچا دیا گیا ہے۔صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس واقعے کو ’دہشت گردانہ حملہ قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا ادارہ کینیا کو دہشت گردی اور شدت پسندی روکنے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
03Apr15_BBCکینیا یونیورسٹی03
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے کینیا کو الشباب کا مقابلہ کرنے کے لیے مدد کی پیش کش کی ہے اور وہ اس تنظیم کو ختم کرنے میں خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔کینیا کی حکومت نے کہا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی الشباب کے ایک سرغنہ محمد کنو نے کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق پانچ مسلح حملہ آوروں نے صومالیہ کی سرحد کے نزدیک گیریسا شہر کی یونیورسٹی میں گھس کر مسلم اور غیر مسلم طلبہ کو علیحدہ کر کے 15 مسلمان طلبہ کو یونیورسٹی سے نکلنے کی اجازت دے دی۔ حملہ آوروں نے یونیورسٹی کی حفاظت پر مامور دونوں سکیورٹی گارڈز کو ہلاک کر دیا۔
03Apr15_BBCکینیا یونیورسٹی02
لشباب تنظیم نےاس سے پہلے بھی کئی بار کینیا میں ایسےحملے کیے ہیں۔ الشباب کے جنگجوؤں نے سنہ 2013 میں نیروبی کے معروف شاپنگ مال، ویسٹ گیٹ میں حملہ کر کے 67 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔گیریسا شہر میں واقع اس یونیورسٹی کو سنہ 2011 میں کھولاگیا تھا اور اس میں طلبہ کی تعداد 700 کےقریب ہے۔نیروبی میں بی بی سی سے تعلق رکھنے والےصحافی این سوئے نے بتایا گیرسا شہر صومالیہ سےنزدیک ہونے کی وجہ سے الشباب کے لیے ایک قدرے آسان ہدف تھا اور ماضی میں وہاں کئی حملہ ہو چکے ہیں۔ گیرسا شہر صومالیہ کی سرحد سے 90 میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں صومالی نژاد کینیائی باشندوں کی بڑی تعداد بستی ہے۔

نائیجیریا: عیسائی صدر کو شکست، مسلم امیدوار کامیاب

01Apr15_DUنائجیریا01
DU_BU

ابوجا: نائیجیریا میں اپوزیشن رہنما اور سابق فوجی آمر محمدو بوھاری نے صدارتی انتخابات میں صدر گڈ لک جو ناتھن کو شکست دے دی ہے۔

واضح رہے کہ گڈ لک جوناتھن عیسائی جبکہ جنرل (ر) بوھاری مسلمان ہیں اور چوتھی بار ملک کے سربراہ کے عہدے پر پہنچے ہیں۔غیر سرکاری نتائج کے مطابق محمدو بوھاری نے گڈ لک جو ناتھن کے مقابلے میں 20لاکھ زائد ووٹ لیے۔گڈ لک نے انتخابات میں شکست تسلیم کرکے بوھاری کو ٹیلی فون کرکے کامیابی پر مبارک باد دی ۔بوھاری کی کامیابی کے بعد نائیجیریا کے شمالی شہروں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور ان کی کامیابی کا جشن منایا، جشن منانے والوں میں نو منتخب صدر کی جماعت آل پروگریسیو کانگریس کے کارکنوں کی اکثریت شامل تھی۔
انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے والے مبصرین نے الیکشن کی تعریف کی البتہ دھاندلی کے معمولی الزامات بھی سامنے آئے۔واضح رہے کہ گڈ لک جوناتھن کی شکست کو ماہرین نئے پیرائے میں دیکھ رہے ہیں کیونکہ نائیجیریا کی تاریخ میں کبھی بھی کوئی صدر الیکشن کے ذریعے اقتدار سے باہر نہیں گیا اور اس کو انتخابات میں شکست نہیں ہوئی۔1960 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد نائیجیریا میں متعدد بار فوجی حکومتیں قائم ہوئی جبکہ ملک میں ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی بھی معمول تھی۔

اگرچہ نائیجیریا کے حالیہ الیکشن سے بہت سے لوگ مطمئن نہ ہوں تاہم ماہرین کی رائے ہے کہ ملک میں جمہوریت مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ محمدو بوھاری ملک کی شمالی ریاستوں سے زیادہ ووٹ ملے ہیں، ان ریاستوں میں امن وامان کی صورتحال شدید مخدوش ہے، خصوصاً بورنو ریاست جو شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔دسمبر 1983 میں نائیجیریا میں فوجی حکومت قائم ہوئی جس کے بعد جنوری 1984 سے اگست 1985 تک جنرل بوہاری ملک کے فوجی سربراہ رہے۔

بعد ازاں 2010 میں ملک میں عبوری حکومت قائم ہوئی جس کا سربراہ بھی بوھاری کو بنایا گیا۔اسی عبوری حکومت نے الیکشن کروائے اور محمدو بوھاری انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے باقاعدہ صدر بن گئے۔جبکہ حالیہ انتخابات میں وہ چوتھی بار مسند صدارت تک پہنچے ہیں۔واضح رہے کہ 36 ریاستوں پر مشتمل نائیجیریا بوکوحرام نامی شدت پسند تنظیم کے حملوں کا شکار ہے، جس کے حملوں میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔نائجیریا کی آبادی عیسائی اور مسلمانوں میں منقسم ہے، ملک کی 50 فیصد آباد مسلم، 49 فیصد عیسائی اور ایک فیصد دیگر مذاہب پر مشتمل ہے۔

بوکو حرام کے حملوں میں 45 نائجیرین ہلاک

06Mar15_DUحرام0

افریقی ملک نائجیریا کی ریاست بورنو کے ایک گاؤں میں اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے حملہ کرکے 45 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فوجی حکام اور واقعے کے ینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بوکو حرام کے جنگجوؤں نے جمعرات کے روز علی الصبح نجبا کے مکانوں پر فائرنگ شروع کردی۔جس گاؤں پر حملہ کیا یا ہے یہ ریاست کے دارالحکومت سے 60 کلو میٹر دور ڈمبوا ٹاؤن کے قریب واقع ہے۔ڈمبوا میں موجود حکومت کے ایک سینئر مقامی عہدیدار کے مطابق نجابا میں بوکو حرام کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد نو عمر بچوں کی ہے۔ نجابا سے تعلق رکھنے والے ریاست کت دارالحکومت مائدوگورو میں رہائشی ابراہیم واگو کا کہنا ہے کہ اس کے دو رشتہ دار مذکورہ حملے میں ہلاک کردیئے گئے ہیں۔

بیو ٹاؤن کی مشترکہ ٹاسک فورس کے ممبر کائو تیجانی کا کہنا تھا کہ جو خواتین گذشتہ روز نجابا کے علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی تھیں اب اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کو نکالنے میں مدد کی اپیلیں کررہی ہیں۔ شمالی نائجیریا کے علاقوں میں بوکو حرام کی جانب سے حملوں میں اب تک ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 15 لاکھ سے زائد افراد ہجرت پر مجبور کئے جاچکے ہیں۔ملک کے صدر گڈلک جو رواں ماہ کے اختتام پر ملک میں انتخابات کے خواہش مند ہیں، کو ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ملک میں سیکیورٹی کی ابتر صورت حال کے باعث انتخابات چھ ہفتے قبل 14 فروری کو ملتوی کردیئے گئے تھے۔ ملک میں انتخابات ملتوی کئے جانے کے بعد سے بوکو حرام کیخلاف فوجی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور فوج کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بیشتر شورش زدہ علاقے جنگجوؤں سے آزاد کروالئے ہیں۔