Category: Darooz (Syria)

شام: دروز پر بم حملہ، القاعدہ کا مشتبہ جنگجو گرفتار

September 07, 2015
07Sep15_AA دروز حملے
al-Arabia

شام میں حکام نے القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے ایک رکن کو دروز کمیونٹی پر بم حملوں کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق گرفتار شخص کا نام الوافد ابو ترابح ہے۔اس نے مبینہ طور پر سویدہ شہر میں گذشتہ جمعہ کی رات بم دھماکوں کے بعد حکومت کی املاک پر حملوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ان بم دھماکوں میں اکتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا ہے کہ ابو ترابح النصرۃ محاذ کا رکن ہے۔اس نے ملٹری پولیس اور سکیورٹی کی شاخوں پر حملوں اور سویدہ میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔

سوید میں بم دھماکوں میں شامی صدر بشارالاسد کے ایک ناقد معروف دروزعالم شیخ وحید البالوس بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ان حملوں کے بعد شہر کے مکینوں نے سرکاری عمارتوں پر پتھراؤ کیا تھا اور شامی حکومت پر بم دھماکوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے احتجاج کے دوران بشارالاسد کے والد حافظ الاسد کا ایک مجسمہ بھی مسمار کردیا تھا۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق مشتعل ہجوم نے اس جنوب مغربی شہر میں دو سکیورٹی عمارتوں پر بھی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں چھے سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ دروز شیعہ مذہب کی ایک خفیہ شاخ کے پیروکار ہیں۔وہ شام میں جاری خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے دو حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ بعض ان کی مخالف حزب اختلاف کے حامی ہیں۔وہ شام کی کل آبادی کا صرف تین فی صد ہیں۔یاد رہے کہ خانہ جنگی کے آغاز سے قبل شام کی آبادی دو کروڑ تیس لاکھ نفوس پر مشتمل تھی۔

شیخ وحید البالوس سویدہ میں النصرۃ محاذ اور داعش کے خلاف لڑائی میں ایک طاقتور ملیشیا کی قیادت کرتے رہے تھے لیکن وہ دروز افراد کی شامی فوج میں شمولیت کے بھی مخالف تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ انھیں اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی موت سے شامی حکومت کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہ ان کی دروز آبادی کی فوج میں بھرتی کی مخالفت کی وجہ سے نالاں تھی۔

Advertisements