Category: Ansar Ullah, Houthi

حوثیوں نے دور فاروقی کی تاریخ جامع مسجد شہید کردی

October 31, 2015
31Oct15_AA مسجد01al-Arabia

العریبیہ حکومت سعودی عربیہ کا ترجمان ہے
یمن میں اہل تشیع مسلک کے ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے ملک کے وسطی شہر اِب میں دوسرے خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تعمیر کی گئی جامع مسجد شہید کردی ہے۔
31Oct15_AA مسجد02مقامی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حوثی شدت پسندوں نے جامع مسجد کے ایک مینار کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب بڑی تعداد میں شہری مسجد میں نماز ادا کررہے تھے تاہم اس واقعے ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
یاد رہے کہ اب کی جامع مسجد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تعمیر کی گئی اور اس کا مینار 900 سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ مسجد کے مینار اور اس کے ایک بڑے حصے کو شہید کرنے کا الزام حوثیوں پر عاید کیا گیا ہے۔
یمنی محقق اور اسلامی آثار قدیمہ کے ماہر محمد القادری نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ وسطی یمن کے اِب شہر میں جامع مسجد العمری دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی ایک اہم ترین تاریخی یادگار تھی۔ القادری نے کہا کہ ان کے پاس مسجد کو شہید کرنے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ مسجد کا مینار او مئذنہ حوثیوں نے مسمار کردیا ہے جس کے باعث مسجد کا ایک بڑا حصہ شہید ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد کا مینار اس وقت ایک دھماکے سے مسجد پر اگرا جب لوگ وہاں نماز میں مصروف تھے۔ یہ حادثہ کسی قدرتی آفت،بارش یا آسمانی بجلی گرنے کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی کوئی فضائی حملہ یہاں کیا گیا ہے۔ یہ صرف حوثیوں کی سازش ہے۔ مسجد کا جو مینار شہید ہوا ہے اس کی مرمت کچھ ہی عرصہ قبل کی گئی تھی، اس لیے اس کے خود بہ خود گرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

مارب کے اہم علاقہ پر عرب اتحادی فوج کا مکمل کنٹرول

October 07, 2015
07Oct15_AA ماب01al-Arabia

عدن میں خالد_بحاح اور اماراتی فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے

VIDEO

یمن کے شہر مأرب میں عرب اتحادی فوج کے کمانڈر بریگیڈئر علی یوسف الکعبی نے بتایا ہے کہ حوثی اور علی عبداللہ صالح کے حامی جنگجوؤں پر مشتمل باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد گورنری کے مغربی علاقے میں واقع صراوح ڈائریکٹوریٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔بریگیڈئر الکعبی نے لڑائی میں حوثی ملیشیا کے متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت اور بڑی تعداد کو زندہ گرفتار کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ادھر اتحادی فوج میں شامل لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع ضبوہ فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔اسی علاقے میں السبعین پر بھی اتحادی طیاروں نے بمباری کی۔تعز شہر میں باغیوں کے متعدد ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بمباری سے حوثی اور صالح ملیشیا کے 18 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔میدان جنگ میں پے در پے شکست سے بےحال حوثی باغیوں نے اپنی 32 فوجی گاڑیاں لحج شہر کی شمالی مشرقی المسمیر ڈائریکٹوریٹ منتقل کر دی ہیں۔دارالحکومت صنعاء کا شمالی علاقہ زوردار دھماکے سے لرز اٹھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا صنعاء کے علاقے النہضہ کے سامنے جامع النور میں بارودی سرنگ پھٹنے سے ہوا۔

داعش کا ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں سرکاری ہیڈکوارٹرز اور سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے اڈے پر تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ان حملوں میں پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔داعش نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے چار خودکش بمباروں نے عدن میں دو اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا ہے۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔داعش نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ان حملوں میں فوجی مارے گئے ہیں مگران کی تعداد نہیں بتائی ہے۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی تھی کہ یمن کے جنوبی شہر عدن میں متعدد راکٹ حملوں میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔یمن میں عرب اتحادی فوج کی قیادت نے عدن میں ہونے والے حملے میں ایک سعودی فوجی کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے جنرل کمان نے فوج کے عدن میں ایک کیمپ پر حملے میں اپنے چار فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اماراتی اعلان کے مطابق ان حملوں کے اس کے متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
07Oct15_AA ماب02

یمن کے نائب صدر حملے میں بال بال بچے
۔یمنی حکومت کے ایک ترجمان اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں متعدد دھماکے ہوئے تھے۔اسی ہوٹل میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدے دار ٹھہرے ہوئے ہیں۔یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کے جولائی میں عدن پر دوبارہ قبضے اور وہاں سے حوثی باغیوں کی پسپائی کے بعد یہ سب سے بڑا اور تباہ کن حملہ تھا۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح القصر ہوٹل پر راکٹ گرینیڈ فائر کیے گئے تھے اور یہ راکٹ ہوٹل کے داخلی حصے میں گرے تھے۔07Oct15_AA ماب03
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہوٹل کے گیٹ پر ایک میزائل فائر کیا گیا تھا اور ایک میزائل اس کے نزدیک گرا تھا جبکہ شہر کے علاقے البریقہ میں تیسرا میزائل گرا ہے۔العربیہ پر نشر کی گئی تصاویر میں سیاہ دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔اس حملے کے بعد القصر ہوٹل کے ارد گرد سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
07Oct15_AA ماب04
واضح رہے کہ یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح اپنی کابینہ کے سات وزراء اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ہمراہ 16 ستمبر کو سعودی عرب سے عدن واپس آئے تھے۔وہ تب سے القصر ہوٹل ہی میں مقیم ہیں اور وہیں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں۔یمنی ذرائع کے مطابق وہ بم حملے میں محفوظ رہے ہیں۔خالد بحاح قبل ازیں یکم اگست کو مختصر وقت کے لیے عدن آئے تھے اور وہ پھر واپس الریاض چلے گئے تھے جہاں وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ہمراہ مقیم تھے اور وہیں سے جلاوطن حکومت چلا رہے تھے۔یمنی صدر ،وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان مارچ میں عدن پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سعودی عرب منتقل ہوگئے تھے۔
07Oct15_AA ماب05
جولائی میں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز اور جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فضائی مدد سے عدن اور دوسرے جنوبی شہروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کو نکال باہر کیا تھا۔

یمن میں فوجیوں کی ہلاکت پر یو اے ای کا تین روزہ سوگ

September 06, 2015
06Sep15_AA امارتی قتل
al-Arabia

متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے صدارتی امور نے یمن میں کم از کم 45 اماراتی فوجیوں کی ہلاکت پر تین دن کے سوگ کا اعلان کردیا ہے۔متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘وکالت عربیہ الامارات’ کے مطابق اس تین روزہ سوگ کے دوران تمام قومی عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔وزارت کے بیان کے مطابق “متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے مظلوموں کی مدد کے لئے جانے والے عرب اتحادی فوج میں شامل بہادر اماراتی فوجیوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق وسطی یمن کے علاقے مآرب میں موجود فوجی ایک فوجی اڈے کے ہتھیاروں کے ڈیپو میں حادثاتی طور پر آگ لگ جانے کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔سعودی عرب اور اس کی اتحادی عرب ریاستیں ماہ مارچ سے یمن میں جبری طور پر معزول کی جانیوالی حکومت کی بحالی اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیائوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے فوجی آپریشن کررہے ہیں۔

سعودی اتحادیوں کو تعز میں حوثی حملوں کا سامنا

یمن
al-Arabia

مارب اور الجوف میں طبل جنگ مناسب وقت پر بجے گا: منصور ھادی
یمن کے شہر تعز میں عوامی مزاحمت کاروں نے بھرپور کارروائی کے ذریعے شہر کے اہم مقامات کو باغیوں سے پاک کرا لیا ہے۔دوسری جانب صالح نواز جنگجوؤں اور حوثی ملیشیا نے رہائشی آبادی پر بھاری اسلحے سے گولا باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے علاوہ متعدد مکانات کو آگ لگنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ مزاحمت کاروں نے حوثی باغیوں کی جانب سے بعض اہم مقامات پر دوبارہ قبضے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔اسی اثناء میں اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں نے البیضاء، مارب، الحدیدہ، حجہ اور شبوہ میں بیحان اور عسیلان نامی قصبات پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جس کی زد میں آ کر باغیوں کی کئی فوجی گاڑیاں تباہ اور دسیوں جنگجو ہلاک ہو گئے۔یمنی صدر عبدربہ منصور ھادی نے کہا ہے کہ مارب اور الجوف گورنریوں میں طبل جنگ مناسب وقت پر بجے گا جس کے بعد ہماری فوج اور مزاحمت کاروں کا اگلا ٹھکانہ صنعاء کی طرف پیش قدمی ہو گا۔انہوں نے مارب میں تھرڈ ملٹری زون کے کمانڈر جنرل عبدالرب الشدادی کو فون کیا تاکہ ان کی عسکری تیاریوں اور انتظامات کے بارے میں جانکاری حاصل کر سکیں۔ایب کے علاقے میں مزاحمت کاروں اور حوثی اور صالح ملیشیا کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔ اس وقت العدین، حزم العدین اور جبل بعدان نامی ڈائریکٹیوریٹس میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ باغی ملیشیا العدین قصبے پر بھاری توپخانے سے گولے برسا رہے ہیں۔

آل سعود پر ایک کاری ضرب

31 August, 2015
31Aug15_SH ضربShafaqna

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک حوثی نے جب اپنی تازہ ترین تقریر میں کہا کہ سعودی عرب کے حملے جاری رہنے کی صورت میں یمن کی سیکورٹی فورسز اسٹریٹیجک آپشنز کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیں گی تو مبصرین نے عوامی تحریک انصاراللہ کے اسٹریٹیجک آپشنز کے بارے میں قیاس آرائياں شروع کر دیں۔ انصاراللہ کے مخالف ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی کہ عبدالملک حوثی کی مراد یمن اور جیبوٹی کے درمیان واقع آبنائے باب المندب پر حملے کر کے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے راستے میں خلل پیدا کرنا ہے۔ لیکن استقامت کے قریبی ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کی سرزمین میں انصاراللہ کی پیشقدمی اور نجران، جیزان اور عسیر کے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لینے پر مبنی انصاراللہ کے منصوبے کی خبر دی تھی۔ اگرچہ بعض مبصرین اور ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں تحریک انصاراللہ کی پیشقدمی کے بارے میں شک کا اظہار کیا تھا اور عبدالملک حوثی کے دعوے کو ایک کھوکھلا دعوی قرار دیا تھا.
31Aug15_SH ضرب04
لیکن دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں رونما ہونے والے گزشتہ ایک ہفتے کے واقعات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ تحریک انصاراللہ کے سربراہ کے وعدے کھوکھلے نہیں تھے اور یہ تحریک اسٹریٹیجک آپشنز کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں پر عزم ہے ۔ اسکڈ میزائل کا فائر کیا جانا، زمین سے فضا مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے جیزان کے علاقے میں سعودی عرب کے اپاچی ہیلی کاپٹر کی سرنگونی، سعودی عرب ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا انہدام، سعودی عرب کے ایک علاقے پر کنٹرول اور بریگيڈ اٹھارہ کے کمانڈر میجر جنرل عبدالرحمن الشہرانی کی ہلاکت ان اقدامات کا صرف ایک معمولی حصہ ہیں جن میں سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں انصاراللہ کے جوانوں نے شدت پیدا کی ہے اور جن کی وجہ سے انصاراللہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دی جانے والے دھمکیوں میں وزن پیدا ہوا ہے۔ یمن کے جنوبی علاقوں سے فوجی حکمت عملی کے تحت تحریک انصار اللہ کی پسپائی کے اعلان کے چند دن بعد یمن اور سعودی عرب سرحدی علاقوں میں انصاراللہ کے حملوں میں شدت پیدا ہوئي ہے۔ اسی زمانے میں یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ جنوبی علاقوں سے پسپائی کا ایک مقصد شمالی علاقوں پر توجہ مرکوز کرنا اور سعودی عرب کی سرزمین میں داخل ہو کر حملے کرنا ہے۔ تحریک انصاراللہ کے مجاہدین کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے پر توجہ دیئے جانے سے جہاں سعودی عرب کی فوجی کمزوری ماضی کی نسبت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے اور آل سعود کے لئے ایک بڑی شکست شمار ہوتی ہے وہیں اس کیس کے نمایاں ہونے کا بھی باعث بنی ہے جسے سعودی عرب نے ہمیشہ چھپانے کی کوشش کی اور کسی حد تک یہ مسئلہ فراموش بھی ہو چکا تھا۔
31Aug15_SH ضرب03
نجران، جیزان اور عسیر یمن کی سرزمین کا حصہ تھے اور سعودی عرب نے سنہ انیس سو چونتیس میں لشکر کشی کرکے ان علاقوں پر قبضہ اوران علاقوں کو اپنی سر زمین میں شامل کر لیا تھا۔ اس زمانے سے اب تک یمن کی کوئي بھی حکومت ان علاقوں کو سعودی عرب کے قبضے سے آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ لیکن انصاراللہ کے حملوں کی وجہ سے ان علاقوں کی آزادی کا معاملہ ایک بار پھر رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔لبنان سے شائع ہونے والے روزنامے الاخبار نے اسی مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب کا سب سے بڑا جیوپولیٹیکل نقصان یمن کے مذکورہ صوبوں کے قبضے سے متعلق مقدمے کے احیا سے عبارت ہے۔ دریں اثنا تحریک انصاراللہ کے ایک ناقد یمنی سیاسی مبصر ہیکل بافنع نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے: “سعودی عرب کے لئے حالات بگڑتے جا رہے ہیں۔ دنیا ایک ایسے مسئلے سے آگاہ ہونے جا رہی ہے جس کو سعودی عرب کے حکام اب تک چھپائے ہوئے تھے۔ وہ یہ کہ جیزان، عسیر اور نجران میں سعودی حکومت کو اغیار سمجھا جاتا ہے۔”
31Aug15_SH ضرب02
سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں تحریک انصاراللہ اور عوامی رضا کار فورس کے اہلکاروں کی پیش قدمی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ان مقبوضہ علاقوں کے اکثر باشندے یمنی قبیلوں نیز زیدی اور اسماعیلی فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ منظر عام پر آنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ قبائل تحریک انصاراللہ کا ساتھ دے رہے ہیں اور انہوں نے یمن پر سعودی عرب کی جارحیت شروع ہونے کے بعد جازان، نجران اور عسیر صوبوں کی آزادی کے لئےایک عوامی تحریک شروع کر دی تھی۔ ہیکل بافنع نے سعودی عرب کی بریگیڈ اٹھارہ کے کمانڈر کی ہلاکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہےکہ جہاں تک میں جانتا ہوں یمنی نژاد یہ مقامی باشندے پہلی بار یمن کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جا ملے ہیں۔ دریں اثنا یمن کے صدارتی گارڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپ لوگ بہت جلد نجران پر حملے کے دوران یمن کی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی کامیابی کی ایسی خبریں سنیں گے جن سے دنیا والے حیران رہ جائیں گے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ انصاراللہ یمن کے شمالی مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے سلسلے میں پر عزم ہے اور ان علاقوں کی آزادی یقینا آل سعود پر ایک کاری ضرب ہوگی۔

یمن میں شہریوں کی ہلاکت جنگی جرائم کے مترادف ہے

18Aug15_BBC یمن01BBC

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں ’شہریوں کی ہلاکتوں ۔کا ایک خونی سلسلہ‘ چل نکلا ہے
واضح رہے کہ رواں سال 26 مارچ سے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج کا یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامی حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملہ جاری ہے۔اس جنگ میں ابھی تک چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے آدھے عام شہری ہیں۔ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمام فریق جنگی جرائم کے مرتکب ہیں۔اپنی 30 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ایمنسٹی نے جون اور جولائی کے دوران ہونے والے آٹھ فضائی حملوں کا جائزہ لیا ہے جس میں 141 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان میں بیشتر خواتین اور بچے تھے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک سکول، ایک بازار اور ایک مسجد پر ہونے والے حملے کے ساتھ ان حملوں میں کثیر آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے کا مزاج نظر آتا ہے۔
18Aug15_BBC یمن02
ایمنسٹی کی اہلکار ڈوناٹیلا روویرا نے کہا: ’رپورٹ میں بہیمانہ اور خونی موت کی دلخراش داستان رقم ہے۔ اس کے ساتھ تعز اور عدن پر ہونے والے ناجائز حملوں کی بربادی کی داستان بھی ہے۔ یہ تمام فریق کی جانب سے جنگی جرائم کے ارتکاب کے مترادف ہے۔‘انھوں نے کہا کہ شہریوں کو زمین پر دونوں جانب سے ہونے والی فائرنگ سے بچنے کے علاوہ سعودی اتحاد کی جانب سے ہونے والے فضائی حملے سے بھی بچنا ہے۔رپورٹ میں تعز اور عدن میں حوثی باغیوں کی جانب سے ہونے والے 30 حملوں کا بھی ذکر ہے۔روویرا نے بتایا کہ ’شہری آبادی کے تحفظ کو سراسر نظر انداز کرتے ہوئے‘ انھوں نے بھی گنجان آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ سے ایک ’بین الاقوامی کمیشن‘ کے قیام کی بات کہی ہے جس کے تحت ان مبینہ جنگی جرائی کی جانچ ہو سکے۔حوثی باغیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں صنعا پر قبضہ کرکے تقریبا ملک کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا تھا اور صدر منصور ہادی کو سعودی عرب بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔یمن کے انسانی بحران کو اقوام متحدہ نے آفت قرار دیا ہے جس میں دو کروڑ افراد یعنی کہ ملک کی 80 فی صد آبادی متاثر ہوئی ہے۔

سعودی عرب کے دو صوبوں “کوہ الدود” اور “الغاویہ” پر یمنی فوج کا کنٹرول

(Shafaqna KSA: 12 June, 2015)
12Jun15_SH حوشی

یمنی فوج کے ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ فوج اور عوامی رضاکاروں نے یمن کی سرحد پر واقع سعودی عرب کے صوبہ جازان کے دو علاقوں “کوہ الدود” اور “الغاویہ” پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یمنی فوج اور رضاکاروں نے جمعرات کو صوبہ جازان میں سعودی عرب کی تین سرحدی چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب نے بدھ کے روز یمنی فوج کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں اپنے دو فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا- سعودی عرب نے کہا ہے کہ جازان کے جنوبی سرحدی علاقے الحرث میں یمن کے سرحدی دستوں کے ساتھ بدھ کی شام ہونے والی جھڑپ میں دو سعودی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں- ادھر یمنی عوام پر سعودی جارحیت کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا- اطلاعات کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے جمعرات کی صبح یمن کے جنوبی شہر تعز پر ایک بار پھر حملہ کیا جس میں کم سے کم دس افراد جاں بحق اور ایک سو دس سے زیادہ زخمی ہوگئے- دریں اثنا پریس ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ عدن پر ہونے والے سعودی عرب کے فضائی حملوں میں کم سے کم بیس عام شہری جاں بحق ہوگئے ہیں- دوسری طرف الحدث ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ یمن کے مفرور اور مستعفی صدر منصور ہادی کے مسلح حامیوں کا ایک لیڈر محمد حسین عشال ہلاک ہوگیا ہے- رپورٹ کے مطابق محمد حسین عشال تعز شہر میں عوامی تحریک انصاراللہ کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں ہلاک ہوا ہے-