Category: القاعدہ

القاعدہ کا اہم کمانڈر ساتھیوں سمیت شام میں ہلاک

October 18, 2015
18Oct15_AA القاعدہ01al-Arabia

شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق القاعدہ کا ایک اہم کمانڈر دو ساتھی جنگجوؤں سمیت مارا گیا ہے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے سعودی شہری سنافی النصر [جن کا اصل نام عبدالمحسن عبداللہ ابراہیم تھا] امریکی قیادت میں سرگرم اتحادی فوج کا نشانہ بنا یا اسے روسی لڑاکا طیاروں سے اپنے انجام دے دوچار کیا۔انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ ‘آبزرویٹری’ کے بتایا کہ سنافی کی ہلاکت جمعرات کے روز شمالی شام کے علاقے دانا میں ہوئی جہاں وہ القاعدہ کی مقامی شاخ النصرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے سعودی اور مراکشی جنگجوؤں کے ہمراہ موجود تھے۔

امریکی قیادت میں مغربی اتحاد گذشتہ ایک برس جبکہ روسی طیارے اسی سال 30 ستمبر سے النصرہ فرنٹ اور داعش کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہیں۔

شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ سنافی کی موت روسی بمباری سے ہوئی یا وہ امریکی اتحادیوں کا نشانہ بنا، تاہم القاعدہ سے منسلک شام کی جنگ میں مصروف تنظیم النصرہ فرنٹ کے مطابق سنافی النصر کو دانا کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی پر 2 میزائل داغے گئے۔

شامی آبزرویٹری متعدد رضاکاروں کے توسط سے شام کے اندر سے معلومات جمع کرتی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جمعرات کے حملوں میں القاعدہ ہی کا ایک مصری کمانڈر بال بال بچا۔ حملوں کا نشانہ بننے والے چاروں رہنماؤں کو القاعدہ کے کمانڈر ایمن الظواہری نے شام بھجوایا تھا۔

سنافی النصر ان 6 افراد میں شامل ہیں جن کے نام گزشتہ برس اقوام متحدہ نے پابندیوں کی فرست میں شامل کیے تھے۔ 30 سالہ عبد المحسن عبد اللہ ابراہیم الشارخ سعودی عرب کو مطلب 85 افراد کی فہرست میں شامل تھے. رپورٹس کے مطابق سنافی النصر کو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کا کزن بتایا جاتا ہے، وہ القاعدہ کی جنگی حمت عملی ترتیب دینے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔

شام میں مارے جانے والے بن لادن خاندان کے سنافی النصر کے 6 بھائی تھے جن میں سے زیادہ تر القاعدہ میں شامل ہو گئے تھے، ان کے 2 بھائی عبد الہادی عبد اللہ ابراہیم الشیخ اور عبد الرزاق عبد اللہ ابراہیم الشیخ امریکا حفاظتی مرکز گوانتا نامو بے میں بھی قید رہے تھے، جن کو 2007 میں سعودی عرب کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔

فوجی کارروائی پاکستان میں ہونی چاہیے تھی

September 11, 2015
11Sep15_BBC فوجی کاروائی01
BBC

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر القاعدہ کے حملوں کے 14 برس بعد بھی دنیا ایک ایسی جنگ میں دھنسی ہے جس میں دور دور تک کسی قسم کی جیت کا نام و نشان نہیں، باوجود اس کے کہ ان تمام برسوں میں پوری دنیا کی سیاست کا رخ اسی جنگ نے متعین کیا ہے۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پچھلے 14 برسوں میں دہشتگردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ گلوبل پیس انڈیکس کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کو اس جنگ کی بھاری قیمت چکانی پڑی جس کا تخمینہ لگ بھگ چودہ ٹریلین یا چودہ لاکھ کروڑ ڈالر لگایا جاتا ہے جو عالمی ملکی پیداوار کا تیرہ فیصد بنتا ہے۔جوہری جنگ سے بچاؤ پر کام کرنے والے نوبل انعام یافتہ ادارے انٹرنیشنل فیزیشنز فار پریوینشن آف نیوکلیئر وار کے حساب میں اب تک صرف عراق، افغانستان اور پاکستان میں لگ بھگ 13 لاکھ لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ اس جنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔نیویارک پر حملوں کے وقت القاعدہ تنظیمی اعتبار سے ایک محدود سا گروہ تھا لیکن اب اس کی طرز کے نظریات والی تنظیمیں دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کا اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا میں 50 سے 70 سلفی نظریات کے جہادی گروہ موجود ہیں جن کے جنگجوؤں کی مجموعی تعداد 75 ہزار سے سوا لاکھ تک ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے اس سے یہی سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟امریکہ کی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی (ڈی آئی اے) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) مائیکل ٹی فلن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ناسمجھی ہے۔ ’ہم مختلف معاشروں کی انسانی، سماجی اور ثقافتی اقدار اور ان معاشروں کے چال چلن کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ان کے مطابق امریکہ کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے بنائے جانے والے بین الاقوامی اتحاد کا انحصار انتہائی حد تک عسکری قوت پر رہا ہے۔’اس سرکش انحصار کی وجہ سے قومی طاقت کے دیگر ذرائع جیسے کہ انفارمیشن اور ڈپلومیسی دب گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وقت کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں انتہا پسند کم ہونے کی بجائے بڑھتے گئے۔پاکستان کے سابق فوجی ترجمان میجر جنرل (ر) اطہر عباس اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ بی بی سی اردو سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بگڑا ہی اس لیے کہ امریکہ نے افغانستان کے سیاسی مسائل کو طاقت کے زور پر حل کرنا چاہا۔امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے ڈاکٹر سیتھ جونز انسداد دہشتگردی کے ماہر محقق ہیں۔بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے افریقی انتہا پسند گروہ الشباب کے خلاف صومالی حکومت کی کامیابی کا حوالہ دیا اور کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا اصل چیلنج مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا ہے۔’کسی بھی ایسے ملک میں جہاں انتہا پسندوں کی پناہ گاہیں ہوں ہماری توجہ غیر ملکی مداخلت کو محدود کرنے اور مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنے پر ہونی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ، مائیکل ٹی فلن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کی اسلامی ریاستوں کو بھی اپنے مذہب میں موجود انتہا پسند رحجانات کی نشاندہی کرنی ہو گی اور اس کا سدباب کرنا ہو گا۔

یہ سب تو وہ ہے جو ہوا، لیکن ایسا کیا ہو سکتا تھا کہ صورتحال میں ابتری کی بجائے بہتری آتی؟ مائیکل ٹی فلن کی رائے میں پہلے دن سے ہی امریکہ کو پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستان کی سرزمین پر القاعدہ کے خلاف فوجی کاروائیاں کرنی چاہیے تھیں۔ ’ہمیں جیسے ہی معلوم ہوا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں موجود ہے، ہمیں پاکستان کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ایک ٹارگٹڈ آپریشن کرنا چاہیے تھا اور پاکستانیوں کو بتانا چاہیے تھا کہ یہ آپریشن ایک ایسے شخص کے خلاف ہے جو پاکستانی نہیں، عربی ہے۔ان کے مطابق پاکستان نے ایک بڑی غلطی یہ کی کہ اس نے ان انتہا پسندوں کو اپنی سر زمین پر قدم جمانے دیے۔ ’اس میں شک نہیں کہ اس جنگ میں پاکستانی فوج نے حیرت انگیز جرات کا مظاہرہ کیا ہے لیکن تاریخ شاید یہی کہے کہ پاکستان اس سے کہیں زیادہ کر سکتا تھا۔لیکن میجر جنرل (ر) اطہر عباس ایسے خیالات کو تباہ کن سمجھتے ہیں۔ ’ایسا کرنے سے تمام چھوٹے بڑے گروہ اسے امریکی حملہ سمجھ کر امریکہ کے خلاف متحد ہو جاتے۔جہاں تک پاکستان کے کچھ زیادہ کرنے کا تعلق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ صرف ضرب عضب میں پاکستان نے دو سو کروڑ ڈالر خرچ کر کے تین ہزار سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ ’اب پاکستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں ان جہادیوں کا کنٹرول ہو اور نہ ہی وہ شام اور عراق کی طرح پاکستان میں کسی بڑی کاروائی کی اہلیت رکھتے ہیں۔اس کے برعکس رینڈ کارپوریشن کے ڈاکٹر سیتھ جونز کا کہنا ہے کہ ضرب عضب ایک لحاظ سے گھاس کاٹنے کے مترادف ہے یعنی ایک جگہ صاف کی لیکن شدت پسند کہیں اور منتقل ہو گئے۔
11Sep15_BBC فوجی کاروائی02
ڈاکٹر جونز کی رائے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فوجی حملوں سے کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس انتہا پسند سوچ کو ختم کیا جائے۔ اور ایسا کرنے کے لیے شدت پسندوں کی پروپیگنڈا مہم، جو وہ سوشل میڈیا اور موبائل فونز کے ذریعے بڑے مؤثر طریقے سے چلا رہے ہیں، بھی ختم کرنا ہو گی۔اس میں شک نہیں کہ اب تک جو ہوا اور کیا ہونا چاہیے تھا، اس پر مبصرین کی رائے منقسم ہے۔ لیکن ایک نکتے پر سب متحد ہیں اور وہ یہ کہ اب تک دہشتگردی کے خلاف دنیا کی کوششیں ایک جنگ کے تناظر میں کی گئی ہیں۔لیکن اس دوران انٹرنیٹ کے ذریعے رابطوں میں سہولت، تیزی سے بڑھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے شدت پسند گروہ اور ایسے افراد نے جو اکیلے ہی کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں، مل کر دشمن کی شناخت کو اور مشکل بنا دیا ہے۔ان محرکات کے پیش نظر اب شاید دنیا کو، اور خصوصاً پاکستان کو، جدید ٹیکنالوجی اور شدت پسندوں کی جانب سے اس کے بےجا اور موثر استعمال کے خلاف صف آراء ہونا پڑے کیونکہ پچھلے 14 برسوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجی قوت کسی بھی نظریاتی جنگ کا فیصلہ کن حربہ نہیں ہو سکتی۔

اوباما بھی نواز شریف سے ’ڈو مور‘ کہیں گے

2Sep15_DU اوباما
DU

واشنگٹن:وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر بارک اوباما 22 اکتوبر کو واشنگٹن میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے شیڈول ملاقات میں دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔
منگل کو یہاں ایک میڈیا بریفنگ میں پریس سیکریٹری جاش ایرنسٹ نے بتایا کہ پاکستانی وزیر اعظم نے وائٹ ہاؤس میں اوباما سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی۔امریکا کی قومی سلامتی مشیر سوزن رائس نے اتوار کو اسلام آباد میں ملاقات کے دوران نواز شریف کو دعوت نامہ دیا۔ایرنسٹ نے بتایا کہ ’امریکا اس دورے کامنتظر ہے کیونکہ وہ بہت سے اہم معاملات پر پاکستانی لیڈر سے گفتگو چاہتا ہے‘۔ہم متعدد مرتبہ عندیہ دے چکے ہیں کہ پاکستانی عوام کی سیکیورٹی اور امریکا کے قومی سلامتی مفادات کے لیے خطرہ بننے والے شدت پسند گروہوں اور دوسروں کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستانی حکومت کو مزید کام کر نے کی ضرورت ہے‘۔’اوریقیناً پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران سوزن رائس نے ان معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ میں پر اعتماد ہوں کہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورے میں بھی انہی مسائل پر غور ہو گا‘۔

وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ کی حالیہ پریس بریفنگز میں امریکی حکام نے نہ صرف کچھ عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے افغانستان میں حملوں کیلئے پاکستانی سرزمین استعمال ہونےکی تصدیق کی بلکہ متعدد بار دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائی کے مطالبے کو بھی دہرایا۔خیال رہے کہ 2013 اور2011 کے درمیان باہمی کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اس طرح کی میڈیا بریفنگز میں امریکا کا ’ڈومور‘ مطالبہ معمول بن گیا تھا۔ تاہم، بعد میں تعلقات معمول پر آنے کے بعد یہ مطالبہ پس پشت چلا گیا۔

جب ایرنسٹ سے پوچھا گیا کہ آیا سوزن رائس نے پاکستانی قیادت کو یقین دلایا کہ کابل میں حالیہ دہشت گردی کی وجہ سے اتحادی سپورٹ فنڈ کی مد میں روکی گئی 300 ملین ڈالرز کی اگلی قسط جاری کی جائے گی؟ تو انہوں نے براہ راست جواب دینے کے بجائے کہا ’سوزن رائس کے ایجنڈے پر پہلا نقطہ پاکستان اور امریکا کے درمیان سیکیورٹی تعلقات تھے‘۔

عدن کی حفاظت کے لئے 3 ہزار فوجی تعنیات

03 August, 2015
3Aug15_AA عدنal-Arabia

عبدالمالک الحوثی نے بالواسطہ عدن میں ہزیمت تسلیم کر لی
العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ حال ہی میں حوثی باغیوں کے قبضے سے آزاد کرائے گئے عدن شہر کو دوبارہ باغیوں کی دست برد سے محفوظ رکھنے کے لئے تین ہزار فوجیوں کو پورے ساز و سامان کے ساتھ میدان میں اتارا جا رہا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب حوثی باغیوں کے رہنما عبدالمالک حوثی نے اپنے حالیہ خطاب میں بالواسطہ طور پرعدن میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا۔ بقول عبدالمالک حوثی یہ جز وقتی نقصان ہےجبکہ ان کے سیاسی مخالف اسے کامیابی تصور کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات معزول صدر صالح کے حامی اور حوثی ملیشیا کی طرف سے ہزیمت کا اعتراف ہے۔عبدالمالک الحوثی کے مطابق ‘عدن میں ہونے والی کارروائی ان کی ملیشیا کے لئے ایک وارننگ کا درجہ رکھتی ہے’۔ انہوں مطالبہ کیا کہ محاذ جنگ ہر تازہ دم جنگجووں کی کمک بھیجی جائے۔ اس وقت اسٹرٹیجک آپشنز کا چناو لازمی ہو گیا ہے۔

لیبیا :انصار الشریعہ نے مختاربلمختار کی ہلاکت کی تردید کردی

16Jun15_AA لیبیاAA_Orig

لیبیا میں جنگجو گروپ انصار الشریعہ نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے لیڈر مختار بلمختار کی امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاکت کی تردید کردی ہے۔
انصارالشریعہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کے مشرق میں امریکا کے فضائی حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں مختاربلمختار شامل نہیں تھے۔اس گروپ نے ان سات افراد کے نام بھی جاری کیے ہیں اور کہا ہے کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے سوموار کو لیبیا میں القاعدہ کے لیڈر کو حملے میں نشانہ بنانے کی اطلاع دی تھی لیکن اس کو بھی پکا یقین نہیں ہے کہ اس کے دو ایف 15 لڑاکا طیاروں کی بمباری میں القاعدہ کی الجزائری شاخ کے رہ نما ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ڈیبوراہ لی جیمز کا کہنا ہے کہ ”حملے کا حقیقی اثرات کا ابھی جائزہ لیا جارہا ہے”۔ واضح رہے کہ امریکا اور مغربی ذرائع ابلاغ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ان کی ہلاکت کی اطلاع دے چکے ہیں۔ مختاربلمختار کو مغربی ذرائع ابلاغ نے مختلف نام دے رکھے ہیں۔انھیں یک چشم ،مسٹر مارلبرو کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔وہ شمالی افریقا سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ المرابطون کے رہ نما ہیں۔قبل ازیں وہ القاعدہ کی شاخ اسلامی مغرب میں القاعدہ کے رہ نما رہے تھے۔ ان پر سنہ 2013ء میں الجزائر میں ایک گیس پلانٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔اس حملے میں مسلح جنگجوؤں نے اڑتیس افراد کو یرغمال بنانے کے بعد ہلاک کردیا تھا۔ مہلوکین میں زیادہ تر مغربی باشندے تھے۔ ان کے بارے میں پہلے یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ وہ مالی میں ایک حملے میں ہلاک ہوگئے تھے لیکن بعد میں سکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ وہ گذشتہ سال مالی سے خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں منتقل ہوگئے تھے۔ لیبیا کی خبررساں ایجنسی لانا نے سرکاری حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ امریکی طیارے نے ملک کے دوسرے بڑے شہر بن غازی سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر مغرب میں واقع قصبے اجدابیا کے جنوب میں ایک فارم پر حملہ کیا تھا۔اس اہلکار کے بہ قول بلمختار انصار الشریعہ سمیت بعض انتہا پسند گروپوں کے لیڈروں کے ساتھ ایک اجلاس میں شریک تھے۔ لیکن انصار الشریعہ نے اپنے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ آیا بلمختار بھی اس اجلاس میں شریک تھے یا نہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے انصار الشریعہ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اس کے جنگجو بن غازی میں لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

القاعدہ نے تصدیق کردی کہ امریکی حملہ میں یمن سے وابستہ انکا سپاہ سالار مارا گیا۔

16Jun15_AP الظواہریAssociated Press

قاہرہ(اےپی)۔ القاعدہ نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ یمنی مہم جوئی سے وابستہ انکا طاقتورتر نمبر ۲سپاہ سالار ناصر الوحوشی امریکی حملہ میں مارا گیا۔ منگل کو مشرق وسطی میں القاعدہ میڈیا ونگ کی جانب سے ریلیز ہونے والی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ اس کی جگہ قاسم الرامی کو نئے سپاہ سالار ک حیثیت سے متعین کیا گیا ہے۔ وحوشی القاعدہ کے ایمن الظواہری جوکہ اسامہ بن لادن کے ذاتی سیکٹری کی حیثیت سے کام کرچکے ہین۔ ان کا نائب تھا۔
16Jun15_AP 02الظواہری
نوٹ: تاریخ میں وحشی نام کاایک ایسا غلام گذرا ہے۔ جس نے حضرت حمزہ کو شہید کیا۔
جنگِ احد میں وحشی بن حرب نے رسول کریمﷺ کے چچا حمزہ ؓبن عبدالمطلب کو ایک کمین گاہ سے برچھی پھینک کر شہید کیا اور ابو سفیان کی بیوی ہند سے انعام وصول کیاتھا

پاکستان میں دہشت گردوں کی حقیقی شناخت کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(25 May, 2015)
25May15_SH دہشتگرد01SH_Orig

بعض جماعتیں اور یوتھ آرگنائیزیشن یا تو دماغی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں یا قلبی طور پر سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور طالبان کے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے حامی ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ ایک ہی تکفیری دیوبندی خارجی دہشتگرد گروہ مختلف تنظیموں کے ناموں کے لبادوں سے مختلف طبقوں اور لوگوں کو مختلف وجوہات کی بناء پر قتل کر رہا ہے
25May15_SH دہشتگرد03
فوج اور سیکیورٹی فورسز کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے قتل کرتا ہے کیوں کہ ان کے خیال میں فوج امریکی غلام ہونے کی وجہ سے ناپاک اور مرتد ہے اور ان کے خیالی اسلام اورمتشدد خلافت کی راہ میں رکاوٹ شیعہ مسلمانوں کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے قتل کرتا ہے کیوں کی ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی نظر میں شیعہ اسلام سے خارج ہیں
25May15_SH دہشتگرد02
بریلوی سنیوں اور صوفیوں کو یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اس وجہ سے قتل کرتا ہے کیوں کہ بریلوی اور صوفی سنی اس تکفیری گروہ کے خیال میں مشرک و بدعتی ہیں احمدیوں کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے قتل کرتا ہے کیوں کہ اس کے خیال میں احمدی ختم نبوت کے منکر ہونے کی وجہ سے مرتد اور واجب القتل ہیں
25May15_SH دہشتگرد04
پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا قتل عام اس لیئے کرتا ہے کیوں کہ اس کے خیال میں وہ فوجی جوانوں کی اولادیں تھیں اور دشمن کی اولاد کا قتل ان کی نظر میں جائز ہے مسیحی برادری کو یہ تکفیری دیوبندی گروہ اس لیئے مارتا ہے کیوں کہ یہ جاہل گروہ امریکی انتظامیہ اور پاکستانی مسیحیوں میں فرق ہی نہیں کر سکتا، ان کے خیال میں امریکہ کا مطلب عیسائی ہیں معتدل دیوبندیوں کو بھی یہ گروہ اس لیئے نشانہ بناتا ہے کیوں کہ وہ ان کے انتہا پسندانہ خیالات کی حمایت نہیں کرتے اور شیعہ مسلمانوں اور بریلوی سنیوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور نماز پڑھتے ہیں
25May15_SH دہشتگرد05
اس لیئے یہ بات تو صحیح ہے کہ اس تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ، جس کو ہم کالعدم اہل سنت والجماعت، انجمن سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جند ﷲ، تحریک طالبان، داعش یا القاعدہ وغیرہ کے مختلف ناموں سے پاکستان میں جانتے ہیں، کا نشانہ تمام پاکستانی ہیں لیکن یہ بات بھی اتنی ہی صحیح اور درست ہے کہ اس گروہ کے نزدیک شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور نسل کشی کی وجوہات اور فوجیوں کے قتل کی وجوہات میں فرق ہے۔
22May15_DU قاتل02
شیعہ مسلمان کو یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد اس کے عقیدے، نظریئے اور مسلک کی وجہ سے قتل کرنا جائز اور مباح سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا قتل کرتے ہیں نہ کہ پاکستانی ہونے کی وجہ سے۔ اس لیئے بعض جماعتیوں اور یوتھیاؤں کا یہ کہنا کہ یہ نہیں کہا جائے کہ پاکستان میں یہ تکفیری دیوبندی دہشتگرد اقلیتی گروہوں کا قتل عام کر رہے ہیں بالکل ایک بے سر و پا مطالبہ ہے بلکہ در حقیقت ان تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کے جرائم اور ان کے مقاصد پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے

صفورا بس حملے کا ایک اور ملزم گرفتار

23May15_DU صفورہ01DU_BU

حیدرآباد: کراچی پولیس نے شیعہ اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے ایک اور ملزم کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔
جمعہ کی صبح کراچی پولیس کی ایک ٹیم نے یہاں حیدرآباد سے صفورا گوٹھ بس حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ طاہر منہاس کے چھوٹےبھائی خالد منہاس کو گرفتار کرلیا۔
پولیس نے کوٹری کے علاقے غریب آباد کالونی میں خالد منہاس کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئی۔ جب جامشورہ پولیس کے ایس ایس پی طارق ولایت سے رابطہ کیا گیا تو انہوں سے اس گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خالد منہاس کوٹری میں ٹی بی سینیٹوریم کا ملازم ہے۔ اس چھاپے کے بعد اس کے گھروالے علاقہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

تعلیم یافتہ دہشتگرد ملک کے لیے بڑا خطرہ؟

22May15_DU دھشتگردDU_BU

کئی لوگوں کے لیے طاہر، سعد، اظفر،اور ناصر نئے جنگجو کردار ہوں گے، لیکن ہم پہلے بھی ان سے ملتے جلتے کرداروں کی زندگیوں اور ارادوں کے بارے میں کئی بار پڑھ چکے ہیں۔
ان گرفتار شدہ افراد کے اعترافات نے کئی لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کو، جو سمجھتے ہیں کہ دہشتگرد صرف نچلے طبقے اور غیر معمولی حالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔
ویسے تو یہ پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے ہیں، لیکن یہ مبینہ طور پر کراچی میں دہشتگرد حملوں کی حالیہ لہر کے ذمہ دار ہیں، جس میں اسماعیلی برادری کے افراد کا قتلِ عام، اور انسانی حقوق کی کارکن سبین محمود کا قتل بھی شامل ہے۔ یہ حیران کن تو ہے، لیکن اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔ ان نوجوانوں کی ایک طویل فہرست ہے جو پاکستان کی پڑھی لکھی مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں، اور دہشتگردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
آئی بی اے گریجویٹ سے ‘عسکریت پسند’ تک
ڈینیئل پرل کے قاتل عمر سعید شیخ، القاعدہ کا آئی ٹی ماہر نعیم نور خان، القاعدہ کا کارکن ڈاکٹر ارشد وحید، ٹائمز اسکوائر بم دھماکے کا ماسٹر مائنڈ فیصل شہزاد، ڈینش سفارت خانے پر بم حملے کا مجرم حماد عادل، اور کراچی ڈاکیارڈ پر نیوی فریگیٹ کی ہائی جیکنگ میں ملوث اویس جاکھرانی اس فہرست میں سے صرف چند نام ہیں۔ بالائی متوسط اور اونچے طبقے کے لوگوں میں انتہاپسند رجحانات کوئی نئی بات نہیں ہیں، لیکن حالیہ چند سالوں میں ان طبقات سے جنم لینے والے دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مغرب میں مقیم پاکستانی برادری بڑھتے ہوئے انتہاپسندانہ رجحانات سے اچھی طرح واقف ہے۔ پاکستان میں پڑھی لکھی مڈل کلاس سے دہشتگردوں کا جنم لینا ایک نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ دہشتگردی کی یہ نئی لہر نہ صرف دیگر عسکریت پسند گروپوں کو جنم دیتی ہے، بلکہ اس میں موجود عسکریت پسند بھی خود کو دوسروں سے ممتاز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں کئی طرح کے گروہ شامل ہیں، بشمول مرکزی دہشتگرد تنظیموں سے الگ ہوجانے والے گروہ۔ پنجابی طالبان اور جند اللہ اس کی واضح مثالیں ہیں جو کہ اس رجحان کی نئی علامات ہیں۔ نئے تیار ہوتے ہوئے دہشتگرد اس رجحان کا ایک خطرناک پہلو ہیں۔ اپنے اندر انتہاپسند رجحانات کی پرورش خود کرنے والے افراد ان دہشتگرد نظریات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ پھر بھلے ہی یہ کسی مقامی یا بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتے، لیکن یہ مسلسل اپنے جیسے انتہاپسند خیالات رکھنے والوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اس کیٹیگری میں شامل دہشتگردوں کی تعداد کافی زیادہ ہوسکتی ہے۔ کسی دہشتگرد گروہ کو ڈھونڈ کر اس میں شمولیت اختیار کرنے میں ناکامی انہیں خود اپنے اہداف کا تعین کر کے حملوں پر اکسا سکتی ہے۔
جنداللہ کا عنصر
شہری دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے اس نئے رجحان کو سمجھنے میں جنداللہ کا عنصر کافی مددگار ہو سکتا ہے۔ جس طرح پاکستان میں پنجابی طالبان کے کئی گروہ ہیں، اسی طرح پاکستان میں جنداللہ کے نام سے بھی کئی گروہ کام کر رہے ہیں۔ ایرانی بلوچستان میں فعال جنداللہ کو چھوڑ کر، پشاور اور کراچی میں اس نام سے جو بھی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، وہ ایک ہی طرح کے رجحانات رکھتی ہیں۔ اپنے اسلام پسند پس منظر کی وجہ سے وہ قدرتی طور پر اسلامک اسٹیٹ (داعش) کی جانب جھکاؤ رکھتی ہیں، اور افغانستان کی حزبِ اسلامی کے ان کمانڈرز کو پسند کرتی ہیں جو داعش کی بیعت کر چکے ہیں۔
داعش کی نئی شکارگاہ پاکستان ….. دہشتگردوں کے لیے فائدہ؟
تنظیمی ڈھانچے کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ تنظیمیں عملی طور پر بہت خطرناک ہوتی ہیں۔ یہ بڑے عسکری گروہوں کو ان کے دہشتگرد مقاصد کے لیے افرادی قوت بھی فراہم کرتی ہیں۔ ان گروہوں کو پکڑنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ یہ گروہ مجرمانہ سرگرمیوں سے پیسہ بناتے ہیں، اور اپنے چھوٹے سائز کی وجہ سے وہ کم وسائل کے ساتھ بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ غیر واضح انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے یہ گروہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے میں آزاد ہوتے ہیں، اور اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ نت نئی اقسام کے دہشتگرد حملے کرتے ہیں۔ صفورہ گوٹھ حملے میں گرفتار افراد مبینہ طور پر ٹارگٹ کلنگ سے لے کر بڑے حملوں تک میں ملوث رہے ہیں، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ مختلف حملوں کے لیے مختلف نام استعمال کرتے ہوں، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ دیا جا سکے۔ ان گرفتار افراد نے جن کارروائیوں کا اعتراف کیا ہے، ان میں ایک ایسا حملہ بھی شامل ہے جس کی ذمہ داری کسی زمانے میں کراچی کے ایک غیر معروف گروہ تحریکِ خلافت نے قبول کی تھی۔ یہ وہی گروہ ہے جس نے پاکستان میں سب سے پہلے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ وہی گروہ ہے یا نہیں۔
سبین مولاناعزیزکے خلاف مہم پر نشانہ بنی
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان گروہوں کا القاعدہ برِصغیر سے تعلق تھا، جس کا کراچی میں کافی بڑا نیٹ ورک ہے، اور ان کے اہداف اور حکمتِ عملی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ داعش سے متاثر ہیں۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ گروہ علاقائی اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ بہتر سے بہتر تعلقات و روابط کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ان کی القاعدہ کے ساتھ وابستگی کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں ایک ہی خطے میں فعال ہیں۔ اس دہشتگرد گروہ کو قابو کرنا بلاشبہ سندھ پولیس کی بڑی کامیابی ہے، جس نے انہیں دہشتگردوں کی اس نئی کھیپ سے نمٹنے میں کافی تجربہ فراہم کیا ہے۔ امید ہے کہ پولیس حکام اس بات کو جان گئے ہوں گے کہ یہ کراچی میں فعال ایسا واحد گروہ نہیں ہے۔

ڈرون حملے: دو القاعدہ رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق

Ayeman ud Dhari, al-QaidaDU_BU

اسلام آباد: القاعدہ کی نئی انڈین شاخ نے پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں میں اپنے دو رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
اتوار کو جاری ہونے والے ایک آڈیو پیغام میں اسامہ محمود نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت القاعدہ ( افغان امور ) کے ڈپٹی نائب احمد فاروق اور قاری عمران سے کی۔محمود نے بتایا کہ عمران پانچ جنوری کو شمالی وزیرستان میں جبکہ فاروق بعد میں ہونے والے ایک اور حملے میں ہلاک ہو ئے۔القاعدہ رہنما ایمن الظواہری نے گزشتہ ستمبر میں برصغیر ہندوستان میں القاعدہ کی نئی شاخ بنانے کا اعلان کیا تھا۔مشرق وسطی میں دہشت گرد تنظیم داعش کی سرگرمیوں کی وجہ سے القاعدہ پس منظر میں جاتی نظر آتی ہے۔