Category: Warning

کافر قرار دینے پر حکومت کارروائی کرے گی

چودھری نثار علی خان2
DU

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پیر کے روز کہا کہ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے پر اب حکومت کارروائی کرے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرقہ ورایت پھیلانے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جائیں گے۔مدارس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بیرونی امداد کا طریقہ کار حکومت وضع کرے گی جبکہ رجسٹریشن کے حوالے سے اتفاق رائے ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا مدارس کی رقوم کی ترسیل بینکوں کے ذریعے کی جائے گی جس پر رضامندی ظاہر کردی گئی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مدارس کی آسان رجسٹریشن کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ تین ماہ میں ان کے تمام کوائف حاصل کیے جائیں گے۔چوہدری نثار نے کہا کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے مذہب اور ملک سے مخلص نہیں، دہشت گردی میں ملوث افراد یا ادارے کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، انہیں بدنام کرکے مالی امداد حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کےلیے علما کرام کا کردار قابل تحسین ہے، انہوں نے ہی خود کش حملوں کو حرام قرار دیا۔چوہدری نثار نے مزید کہا کہ سانحہ صفورا میں ملوث دہشت گردمدارس سے نہیں یونیورسٹی سے پڑھے تھے۔

دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے
دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں لڑی جانے والی جنگ کامیابی سے جاری ہے اور دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔وزیراعظم نے یہ گفتگو وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ پاکستان مدارس کی پانچ تنظیموں کے اتحاد کے نمائندہ علما سے خطاب کرتے ہوئے کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان ہمارے ملک کا اہم ایجنڈا ہے جس کے متفقہ نکات پر ہم بتدریج عمل کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر بامعنی عمل کے لیے ضروری تھا کہ مختلف مکتبہ فکر کے علما سے مشاورت کی جائے۔

اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات بھی شریک تھیں۔
نوازشریف
وزیراعظم نے کہا کہ ہم سب مل کر اس ملک کو دہشت گردی سے پاک کررہے ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کے اتھ کی ضرورت ہے۔انہوں نے وفد کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سکون اور امن آنے سے ساری خرابیاں دور ہوں گی، ہم نیشنل ایکشن پلان کے ایجنڈے کی سیاست سے بالاتر ہوکر تکمیل چاہتے ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مدرسوں کے تقدس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، ہم دل سے محسوس کرتے ہیں کہ مدرسے مثبت کردار ادا کررہے ہیں اور ان کی اصلاحات کے لیے ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں مل جل کر امن قائم کرنا ہوگا اور دہشت گردی اور فرقہ واریت کے زہر کو ختم کرنا ہوگا۔اجلاس میں مولانا تقی عثمانی، مولانا محمد حنیف جالندھری، مفتی منیب الرحمان سمیت دیگر علمائے کرام بھی موجود تھے۔

Advertisements

Slow pace of NAP dismays PM

22 August, 2015
22Aug15_Nat سست رفتاری
Nation
ISLAMABAD – Slow pace of the implementation on National Action Plan against terrorism has disappointed Prime Minister Nawaz Sharif.

At a meeting with his cabinet colleagues and military leadership yesterday, the prime minister ordered gearing up for the master anti-terror plan.

The national plan was devised after the country’s worst terrorist attack eight months ago in which Taliban slaughtered more than ten dozen schoolchildren in the Army Public School.

The meeting, which was also attended by Chief of Army Staff General Raheel Sharif at PM House, decided to swoop down on the militants and their supporters in the settled areas too, particularly in Punjab.

Sources in the meeting told The Nation that PM Nawaz was a bit annoyed over the slackness shown by the departments concerned on NAP implementation and mentioned the undue delay in activating NACTA.

The government had approved much-delayed Rs2 billion fund for NACTA following a similar meeting a couple of weeks ago.
The new chief of NACTA would also be in the saddle in a couple of days, a source in government confirmed.

Sources in the ruling PML-N said that the most desired component of NACTA would be a intelligence directorate where all the intelligence agencies of the country would be pooling information, which would greatly help the law enforcement agencies to proactively operate against militants.

The yesterday’s meeting came a day after the military launched a ground offensive against the local and foreign militants in the remote and mountainous Shawal Valley of North Waziristan.

Gen Raheel briefed the meeting about the ground offensive.
It also decided to enhance surveillance in the major cities keep in view the possibility of militant’s sneaking into settled areas of KP and Punjab in bid to flee ongoing military operation.

The meeting expressed satisfaction over the accomplishments made by the Army, Rangers and other law enforcement agencies in ongoing operations.

Finance Minister Ishaq Dar, Interior Minister Chaudhry Nisar Ali Khan, Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif, Adviser on National Security and Foreign Affairs Sartaj Aziz, PM’s Special Assistant Tariq Fatemi and other high-ups attended the meeting.

Pakistan has been battling homegrown insurgency for over a decade following its decision to side with the US-led coalition against the Taliban in Afghanistan.

The government has also amended its constitution to allow military courts to try terror suspects.

Despite previously having specific anti-terror courts, cases dragged on for many years and many suspects escaped punishment due to legal loopholes or lack of witnesses, who would often not appear out of fear of repercussions from militant groups.

عالمی جنگ چھیڑنے کے لیے داعش کا بھارت پر حملے کا منصوبہ؟

اردو میں تحریر دستاویزنے نیا پنڈورا بکس کھول دیا

(al-Arab 31 July, 2015)

31Jul15_AA داعش

عراق اور شام میں سرگرم نہایت خطرناک عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام “داعش” کے عالمی خلافت کے قیام کے دعوئوں کے بعد امریکا میں ایک نئی دستاویز سامنے آئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ داعش پوری دنیا کو عالمی جنگ کی گھسیٹنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس خطرناک منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے داعش نے بھارت کو میدان جنگ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔برطانوی اخبار “ڈیلی میل” کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کو اردو زبان میں تحریر کی گئی ایک مستند دستاویز ملی ہے جو مبینہ طور پر بھارت اور پاکستان میں سرگرم جہادی عناصر بالخصوص داعش کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی تیار کردہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ بھارت پر حملہ کر کے امریکا کو بھی اس جنگ میں براہ راست شامل کرنا چاہتے ہیں۔امریکا اور یورپی اخبارات میں سامنے آنے والی اس دستاویز کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک پاکستانی نژاد شخص سے ملی ہے جس کے مبینہ طور پر تحریک طالبان کے ساتھ بھی روابط ہیں۔خیال یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دستاویز داعش کے جنگجوئوں کی تیار کردہ ہے جس میں پاکستان میں سرگرم طالبان اور القاعدہ عناصر کو داعش کی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ عالمی خلافت کے قیام کے لیے دولت اسلامی کا ساتھ دیں۔اس غیر مصدقہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ داعش بھارت پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکا کو بھی جنگ میں گھسیٹ کر اسے عالمی جنگ میں تبدیل کیا جائے گا۔ جب امریکا اور اس کے اتحادی اس جنگ میں کود پڑیں گے تو پوری مسلم اُمہ متحد ہو جائے گی اور یہ آخری جنگ ہوگی جس کے بعد دنیا میں اسلامی خلافت کا پرچم لہرائے گا۔دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش سے تعلق رکھنے والے جنگجو افغانستان سے انخلاء کرنے والے امریکی فوجیوں، امریکی، مغربی سفارت کاروں اور پاکستانی حکام پر بھی قاتلانہ حملے کریں گے۔امریکی حکام اس دستاویز کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ایک مستند دستاویز ہے۔ اگرچہ یہ اردو میں تحریر کی گئی ہے تاہم اس میں استعمال ہونے والی علامات اور اصطلاحات داعش کی نشاندہی کرتی ہیں۔خیال رہے کہ بھارت نے کچھ عرصہ سے 25 مشتبہ جنگجوئوں پر نظر رکھی ہوئی ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ داعش میں شامل ہونے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اگرچہ اُنہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی کے خلاف کوئی عدالتی کارروائی شروع کی گئی ہے تاہم ان کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ وہ داعش میں شمولیت کے لیے شام جانا چاہتے تھے۔قبل ازیں بھارتی وزیردفاع روائو ایندر جیٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش پاکستان سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پچھلے ماہ خود داعش کی جانب سے بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور ان کے بہت قریب پہنچ گئی ہے۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ داعش کس ملک سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

کانگریس پاکستانی زبان بول رہی ہے

(Dawn 12 June, 2015)
Indian Defence Minister - Manohar Parikar

نئی دہلی : ہندوستان کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے جمعرات کو وزیراعظم نریندرا مودی کے سنیئر ساتھیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ میانمار میں متنازع فوجی کارروائی پر جارحانہ بیانات دے رہے ہیں جبکہ اس نے پڑوسی ممالک کو ہراساں کرنے والے وزراءکے بچگانہ بیانات کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک ترجمان کے بیان کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کانگریس پارٹی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن پاکستان کی زبان بول رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان بیانات کا یہ تبادلہ نریندر مودی کے ساتھیوں کی جانب سے شمال مشرقی ریاست منی پور کے
علیحدگی پسندوں کے خلاف ہندوستانی فوج کی کارروائی پر تبصروں کے بعد ہوا۔ Indian Defence Minister - Manohar Parikar2
ہندوستانی فوج کی جانب سے دعویٰ سامنے آیا تھا کہ اس کے فوجیوں نے میانمار کی سرحد کو عبور کرکے وہاں عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔ میانمار حکومت کے ایک ترجمان نے اپنے ملک کے اندر ہندوستانی فوجی کارروائی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میانمار کسی عسکریت پسند کو اجازت نہیں دے گا کہ اس کی سرزمین کو ہندوستان کو ہدف بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بی جے پی نے اپوزیشن جماعت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی بجائے پاکستان کی ‘ زبان’ بول رہی ہے۔ کانگریس کے ترجمان آنند شرما نے وزیر دفاع منوہر پاریکر کے تند و تیز بیان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ‘ غیر ذمہ دارانہ’ بیانات دینے کی ‘ عادت’ کا شکار ہیں۔ آنند شرما کا یہ بیان وزیر دفاع کے ایک روز پہلے کے بیان کے بعد سامنا آیا جس میں منوہر پاریکر نے میانمار آپریشن کو ” ذہن کی تبدیلی” قرار دیا تھا جو کہ بظاہر ان کی جانب سے پاکستان کے لیے اشارہ تھا۔ وزیر نے کہا کہ ” جو ہندوستان کے نئے موقف سے خوفزدہ ہیں انہوں نے پہلے ہی ردعمل ظاہر کرنا شروع کردیا ہے”۔ کانگریس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ” سنجیدگی اور باشعور سوچ کا مظاہرہ کیا جانا چاہئے، جارحانہ اور پرغرور دعوے انڈین اسپیشل فورسز کے آپریشنز میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے”۔ انہوں نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو مناسب الفاظ کے ساتھ بولنے اور کام کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انداز سنجیدہ سوالات کو اٹھاتا ہے۔ ان کے بقول ” میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ انہیں رہنمائی اور مشاورت فراہم کریں، وزیراعظم کو اپنے وزراءکو روکنا چاہئے تاکہ ایسا پھر دوبارہ نہ ہوسکے”۔ پی ٹی آئی کے مطابق کانگرنس کے ترجمان نے کہا ” جو لوگ قومی سلامتی کا خیال رکھ رہے ہیں وہ منی پور کے حالات پر اخبارات اور فوٹو گرافس کو اسپانسر کرنے میں مصروف ہیں۔ آنے والے دنوں کے لیے وہ کیا تجویز کرنا چاہتے ہیں”۔
ان کی جانب سے یہ الفاظ بظاہر قومی سلامتی کے مشیر پر حملہ تھے۔
کانگرنس کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کے نیشنل سیکرٹری سری کانت شرما نے کہا ” کانگریس لوک سبھا میں انتخابات میں شکست کے بعدسے مایوسی کا شکار ہے، وہ ہر چیز پر تنقید اور منفی خیالات کا اظہار کرتی ہے”۔ ان کا کہنا تھا ” انگریس کو حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی زبان بولنے سے گریز کرنا چاہئے جیسا وہ ماضی میں کرتی رہی ہے۔ اسے تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہئے اور قومی مفاد اور ملکی سلامتی پر بات کرنی چاہئے”۔ پی ٹی آئی کے مطابق سری کانت شرما نے کہا کانگریس کو یہ معاملہ سیاسی نہیں بنایا چاہئے اور اسے اپنے دس سالہ دور حکومت کی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہئے ” اب ملک میں مضبوط قیادت موجود ہے اور ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ اس آپریشن کے ذیعے یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ جو کوئی بھی ہندوستان کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا موت اس کا پیچھا کرے گی”۔ ان کا مزید کہنا تھا ” میانمار کا حملہ تو بس ایک آغاز ہے، اس طرح کی مزید کارروائیاں اس وقت ہوں گی جب کوئی ہندوستان کی سیکیورٹی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرے گا”۔

حزب اللہ کا النصرہ فرنٹ کو نشانہ بنانے کا اعلان

Hasan Nasrullah, Hizb UllahUT_Or

بیروت: لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے قائد حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے جنگجو شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرِپیکار النصرہ فرنٹ کو نشانہ بنائیں گے۔ حسن نصر اللہ کے مطابق حزب اللہ ان سنّی جنگجوؤں پر قالعمون کے سرحدی علاقے میں حملے کرے گی تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کارروائیاں کب کی جائیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کی مسلح باغی قوتیں جو کہ سرحد پار لبنان میں حزب اللہ کو بھی وقتاً فوقتاً نشانہ بناتی رہی ہیں، ایک ‘ناقابلِ قبول خطرہ’ ہیں۔ حزب اللہ شام کی موجودہ حکومت کی حامی ہے اور وہاں جاری خانہ جنگی میں اس کے سینکڑوں جنگجو صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ حسن نصر اللہ نے قالعمون کے جس علاقے میں حملے کرنے کا اعلان کیا ہے وہ شام اور لبنان کی سرحد پر واقع ہے اور وہاں سرحد کی نگرانی کا موثر نظام موجود نہیں ہے۔ اپنے خطاب میں حسن نصر اللہ نے کہا کہ سرحد پار سے القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے شدت پسندوں کے حملوں نے لبنان کی سکیورٹی کے لیے ایک ناقابلِ قبول خطرہ پیدا کر دیا ہے جس کا ‘فوری علاج’ ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘(لبنانی) حکومت اس معاملے سے نمٹنے کے قابل نہیں اس لیے ہم ضروری کارروائی کریں گے اور اس عمل کی ذمہ داری اور نتائج قبول کریں گے’۔ انھوں نے اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا کہ حزب اللہ یہ کارروائی کب شروع کرے گی تاہم ان کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ‘جب بھی ہم کارروائی کا آغاز کریں گے ہم کوئی بیان جاری نہیں کریں گے بلکہ کارروائی خود اس کا منہ بولتا ثبوت ہو گی –

الطاف حسین کی تقریرکیخلاف مذمتی قرارداد منظور

02May15_DUکوئٹہ01DU_BU

کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے جبکہ ایوان نے وفاقی حکومت سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے اپنے خطاب میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے مدد کرنے کی بات کی تھی جبکہ انھوں نے پاک فوج پر بھی تنقید کی تھی، تاہم بعد میں ایم کیو ایم قائد نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی۔ہفتے کو ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں الطاف حسین کی تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد قرارداد مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی اور وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے 13 ارکان اسمبلی کے دستخط سے پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔قرار داد میں کہا گیا کہ ‘گزشتہ روز ایک لسانی تنظیم کے نام نہاد سربراہ نے اپنی تقریر میں ملکی اداروں اور خاص طور پر افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے بہت قابل نفرت الفاظ استعال کیے۔ یہ الفاظ ملک سے بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں ، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، یہ ایوان مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسی فاشٹ پارٹیوں کے خلاف پابندی کی کارروائی عمل میں لائی جائے’۔قرار داد میں مزید کہا گیا کہ ‘ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں لسانی پارٹی کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں، جنھوں نے پورے کراچی کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ایسے عناصر کی سرکوبی انتہائی ضروری ہے اور بلوچستان اسمبلی اور صوبے کے عوام اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے نام نہاد لیڈر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں’۔
02May15_DUکوئٹہ02سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ فوج پاکستان کی حفاظت کے لیے لازوال قربانیاں دے رہی ہے اور فوج پرتنقید اُن کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج محب وطن اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے اور افواج پاکستان کے خلاف بیانات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔اس موقع پراسمبلی میں ایم کیوایم کے خلاف دھواں دھار تقاریر کی گئیں۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زرئی نے متحدہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایم کیو ایم کراچی میں پشتونوں کے قتل میں ملوث ہے’۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ بھی موجود تھے۔

مسلّح افواج کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمّہ داری

02May15_DUایم کیو ایم01DU_BU

اسلام آباد : وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی معذرت ایک بہتر اقدام ہے مگر ملکی سلامتی اور قومی مفاد سے تعلق رکھنے والے معاملات نہایت حسّاس ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اچھی طرح سوچنا سمجھنا چاہئے۔
وزیراعظم ہاﺅس سے جاری ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے غیر محتاط بیانات نہ صرف قومی اداروں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ان سے عوام کے جذبات اور احساسات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے ذمّہ دار ادارے کی حیثیت سے مسلّح افواج کی ساکھ اور احترام کا خیال رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی ملکی آئین اور قانون کے مطابق ظابطہ اخلاق کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے آئندہ اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ غیر ذمّہ دارانہ اور قومی مفاد کے منافی بیانات کی تشہیر نہ ہو۔خیال رہے کہ جمعرات کو رات گئے الطاف حسین نے اپنے خطاب میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے مدد کرنے کی بات کی تھی جبکہ انھوں نے پاک فوج پر بھی تنقید کی تھی۔
اسی تسلسل میں: مظالم نہ رکےتوملک کوناقابل تلافی نقصان ہوگا
تاہم بعد میں ایم کیو ایم قائد نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی۔الطاف حسین کے بیان پر فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے ٹوئیٹر کے ذریعے تقریر کی مذمت کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا تھا جبکہ عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر سیاسی رہنماﺅں نے بھی اس کی مذمت کی تھی۔
اسی تسلسل میں: ملکی سیاسی قیادت کی مذمت
عمران خان نے تو اپنے بیان میں الطاف حسین کے خطاب پر وزیراعظم کی خاموشی کو حیران کن قرار دیا تھا۔دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے جبکہ ایوان نے وفاقی حکومت سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔