Category: War

اسرائیل سے جنگ اور شام میں لڑائی برابر ہیں: نصر اللہ

October 19, 2015
19Oct15_AA نصراللہ01al-Arabia

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے معرکہ آرائی اور شام میں جنگ یکساں طور پر اہم ہیں۔ صہیونی اور تکفیری دونوں منصوبوں کا مقصد ہمارے عوام اور معاشروں کی تباہی ہے تاکہ وہ ذلت کی ایسی اتاہ گہرائیوں میں جا گریں جہاں ان میں قوت ارادی بالکل ختم ہو جائے۔گذشتہ ہفتہ شام میں داد شجاعت دیتے ہوئے مارے جانے والے حزب اللہ کے سرکردہ رہنما کے یاد میں منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نصر اللہ نے کہا کہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں ‘تکفیری’ منصوبے کی بیخ کنی کے لئے ایک فیصلہ کن جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہماری جنگجو میدان جنگ میں اترنے کے لئے پہلے سے زیادہ تیار اور آمادہ ہیں۔اپنے ریکارڈ شدہ ویڈیو خطاب میں حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ مزاحمت کار جنگجو آج میدان جنگ میں حاضر ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ تیار ہوں کیونکہ ہمیں ایک فیصلہ کن جنگ کا مرحلہ درپیش ہے۔سوموار کے روز حزب اللہ نے بیروت کے جنوب میں اللویزہ میونسپلٹی میں اپنے سرکرہ کمانڈر حسن محمد الحاج کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی۔ حسن محمد الحاج شام میں بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں حسن محمد الحاج کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ رواں مہینے کی دس تاریخ کو حماہ گورنری میں ہونے والی لڑائی میں مارے گئے۔شام میں سرکاری فوج کے ہمراہ لڑنے والی ایرانی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ غیر شامی تنظیموں میں سب سے بڑی مسلح تنظیم ہے کہ جو بشار الاسد فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ حزب اللہ کی مدد سے ہی شام کی سرکاری فوج کو مختلف علاقوں میں جنگی برتری حاصل ہے۔

سوڈانی فوج نے عدن میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

October 18, 2015
18Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی کے حکومتی ذرائع کے مطابق #سوڈان کی جانب سے بھیجی گئی فوج اور گاڑیاں جنوبی #یمن میں #عدن کے علاقے میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ سوڈان سے بھیجے گئے سیکڑوں فوجیوں نے عدن کے مختلف شہروں میں امن وامان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنھبال لی ہیں۔ سوڈانی فوج عدن میں یمنی حکومت کی ماتحت نیشنل فورس کے ساتھ امن وامان کے قیام میں اس کی مدد کر رہی ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق سوڈان، یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری آپریشن میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں خرطوم میں یمنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنی فوج وہاں پر امن وامان کو یقینی بنانے میں معاونت کے لیے بھجوائی ہے۔ سوڈانی فوج کے تازہ دم دستے البریقہ شہر میں قائم الزیت بندرگاہ پر اترے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈان سے آنےوالی فوج یمن میں امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یمنی فوج کی مدد کرےگی۔ غالب امکان ہے کہ سوڈانی فوجی دستے تعز کوباغیوں سے چھڑانے میں بھی حکومتی فوج کی مدد کریں گے۔

قبل ازیں سوڈان نے نائب صدر جنرل بکری حسن صالح کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن میں جاری آپریشن کے اتحاد کا حصہ ہونے کی بناء پر چھ ہزار فوجی یمن بھیجنے کا پابند ہے۔

القاعدہ کا اہم کمانڈر ساتھیوں سمیت شام میں ہلاک

October 18, 2015
18Oct15_AA القاعدہ01al-Arabia

شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق القاعدہ کا ایک اہم کمانڈر دو ساتھی جنگجوؤں سمیت مارا گیا ہے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے سعودی شہری سنافی النصر [جن کا اصل نام عبدالمحسن عبداللہ ابراہیم تھا] امریکی قیادت میں سرگرم اتحادی فوج کا نشانہ بنا یا اسے روسی لڑاکا طیاروں سے اپنے انجام دے دوچار کیا۔انسانی حقوق کے مانیٹرنگ گروپ ‘آبزرویٹری’ کے بتایا کہ سنافی کی ہلاکت جمعرات کے روز شمالی شام کے علاقے دانا میں ہوئی جہاں وہ القاعدہ کی مقامی شاخ النصرہ فرنٹ سے تعلق رکھنے والے سعودی اور مراکشی جنگجوؤں کے ہمراہ موجود تھے۔

امریکی قیادت میں مغربی اتحاد گذشتہ ایک برس جبکہ روسی طیارے اسی سال 30 ستمبر سے النصرہ فرنٹ اور داعش کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہیں۔

شامی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ سنافی کی موت روسی بمباری سے ہوئی یا وہ امریکی اتحادیوں کا نشانہ بنا، تاہم القاعدہ سے منسلک شام کی جنگ میں مصروف تنظیم النصرہ فرنٹ کے مطابق سنافی النصر کو دانا کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا اور ان کی گاڑی پر 2 میزائل داغے گئے۔

شامی آبزرویٹری متعدد رضاکاروں کے توسط سے شام کے اندر سے معلومات جمع کرتی ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ جمعرات کے حملوں میں القاعدہ ہی کا ایک مصری کمانڈر بال بال بچا۔ حملوں کا نشانہ بننے والے چاروں رہنماؤں کو القاعدہ کے کمانڈر ایمن الظواہری نے شام بھجوایا تھا۔

سنافی النصر ان 6 افراد میں شامل ہیں جن کے نام گزشتہ برس اقوام متحدہ نے پابندیوں کی فرست میں شامل کیے تھے۔ 30 سالہ عبد المحسن عبد اللہ ابراہیم الشارخ سعودی عرب کو مطلب 85 افراد کی فہرست میں شامل تھے. رپورٹس کے مطابق سنافی النصر کو مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کا کزن بتایا جاتا ہے، وہ القاعدہ کی جنگی حمت عملی ترتیب دینے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔

شام میں مارے جانے والے بن لادن خاندان کے سنافی النصر کے 6 بھائی تھے جن میں سے زیادہ تر القاعدہ میں شامل ہو گئے تھے، ان کے 2 بھائی عبد الہادی عبد اللہ ابراہیم الشیخ اور عبد الرزاق عبد اللہ ابراہیم الشیخ امریکا حفاظتی مرکز گوانتا نامو بے میں بھی قید رہے تھے، جن کو 2007 میں سعودی عرب کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔

شیعہ افغانوں کی شامی جنگ کے لئے ایرانی بھرتی

October 18, 2015
18Oct15_AA بھرتیal-Arabia

ایرانی پاسداران انقلاب شیعہ مسلک افغانوں کو پانچ سو ڈالر ماہانہ مشاہرے اور ایران میں سکونت کے عوض شام میں لڑائی کے لئے بھرتی کر رہے ہیں۔افغانستان میں ہزارہ شیعہ آبادیوں میں ایران کے فرنٹ مین کے طور پر شام کی لڑائی میں نوجوانوں کی بھرتی کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی میں بھی ایران، افغان ہزارہ شیعہ آبادی کی قابل رحم حالت کا فائدہ اٹھا کر ایسے کام کرنا رہا ہے۔برطانوی جریدے ‘ٹائمز’ نے اپنی جون 2015ء کی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں پانچ ہزاروں افغانوں کی شامی فوج کے شانہ بشانہ شامی لڑائی میں شرکت کا انکشاف کیا تھا۔ اخبار نے دعوی کیا تھا کہ ایران اپنے شہروں میں پناہ گزین افغان ہزارہ اقلیت کے نوجوانوں کو شام میں براہ راست بھرتی کر رہا ہے۔

اس سال کے اوائل میں جنوبی شام کے علاقوں دمشق، درعا اور القنیطرہ [جنہیں ‘موت کی مثلت’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے] میں ہونے والی لڑائی میں شامی فوجیوں کے ساتھ افغانوں کو بھی ‘داد شجاعت’ دیتے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر بشار الاسد کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر دیکھی جا سکتی ہیں۔فارسی زبان کے اخباری ذرائع کے حوالے سے جمع کردہ معلومات کے مطابق جنوری دو ہزار تیرہ سے شام میں 113 ایران، 121 افغان اور 20 پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔

ایرانی جنرل ہمدانی کی شام میں ہلاکت بارے متضاد روایات!

October 16, 2015
16Oct15_AA ھمدانی01al-Arabia

ایک ہفتہ پیشتر شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سرکردہ عہدیدار جنرل علی ہمدانی کے قتل کے بعد ہلاکت کی متضاد تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایران کے ذرائع ابلاغ نے جنرل ہمدانی کی شام کے شہر حلب میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کو غیرمعمولی کوریج دی ہے اور ہلاکت کے پس منظر اور کیفیت کے بارے میں بھی مختلف واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل ھمدانی کے قتل کے بارے میں ایک روایت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر ہمدانی کو شمالی حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ یک گاڑی میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔جنرل ہمدانی کے قتل سے متعلق ایک دوسری روایت جو زیادہ مقبول ہو رہی ہے وہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر جرنل حسین ھمدانی حلب کے نواحلی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کے ساتھ لڑائی میں 8 اکتوبر کی رات کو ہلاک ہوئے۔ یوں پاسدارن انقلاب کے بیان اور سپریم سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کے بیانات میں جنرل ھمدانی کی ہلاکت کی الگ الگ کیفیات بیان کی گئی ہیں۔علی شمحانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں نے حسن ہمدانی کو قتل کیا ہے وہ اچھی طرح ان سے واقف نہیں تھے، جب کہ پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق داعش کو علم تھا کہ حلب میں وہ جس کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ایران کے ایک سینیر عہدیدار حسین علی ہمدانی ہیں۔

ٹیکسٹ پیغام تنازع کا موجب
جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے فوری بعد ایران کے ذرائع ابلاغ میں سب سے پہلے جو اطلاعات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ حسین علی ہمدانی شام میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پاسداران انقلاب کے عہدیداروں اور پاسیج فورس کے اہلکاروں نے اپنے موبائل پیغامات میں ایک دوسرے کو یہ بتانا شروع کیا کہ حسین ھمدانی حادثےمیں نہیں بلکہ شامی اپوزیشن کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب کے بعض ارکان کی طرف سے موبائل پر یہ پیغام بھی جاری کیا گیا کہ حسین ھمدانی حلب میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی جیپ ایک ٹرک کو اور ٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہو کر الٹ گئی تھی۔ حسین ھمدانی حادثےمیں شدید زخمی ہوئے اور اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ یوں ٹیکسٹ پیغامات میں بھی جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے۔ ٹیکسٹ پیغام میں یہاں تک بتایا گیا تھا کہ جنرل ھمدانی جنوب مشرقی حلب سے حماۃ شہر کی جانب جا رہے تھے کہ خناصر اور اثریا قصبوں کے درمیان ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔

ایران میں سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر پاسداران انقلاب کے ارکان اور باسیج فورسز کے عہدیداروں کے بیانات کے برعکس جنرل ہمدانی کی ہلاکت کی الگ ہی کیفیت بیان کی۔ سماجی کارکنوں نے لکھا کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تو انہیں کچلنے کے لیے جنرل ہمدانی نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں جنرل ہمدانی کو “ہیرو” نہیں سمجھا جاتا۔ سنہ 2009ء میں جنرل ہمدانی پاسداران انقلاب کے “محمد الرسول اللہ” بریگیڈ کے سربراہ تھے۔ وہ اپوزیشن کے اس حد تک خلاف تھے کہ اصلاح پسند رہ نمائوں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی سمیت سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے پائے گئے تھے۔

انٹیلی جنس کارروائی میں ہلاکت
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شمخانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جنرل حسین ھمدانی کو حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ تہران میں جامع مسجد امام حسین میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ شام میں جنرل حسین ھمدانی کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کا قتل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہیں اس وقت انٹیلی جنس کارروائی میں مارا گیا جب وہ ایک کار میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔اس کے برعکس پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حسین ھمدانی “داعش” ملیشیا کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ فارسی نیوز ویب پورٹل” جماران” نے “محمد رسول اللہ ” بریگیڈ کے سربراہ محسن کاظمینی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حسین ہمدانی کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہیں شام میں ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔کاظمینی کا کہنا تھا کہ جنر حسین ھمدانی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جا رہے تھے کہ حلب کے قریب راستے میں دشمن کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگ پھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ کاظمینی نے حسین ھمدانی کے قاتلوں کو “تکفیری” قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ آئندہ ایام میں ھمدانی کے قاتلوں سے انتقام لیا جائےگا۔

مارب کے اہم علاقہ پر عرب اتحادی فوج کا مکمل کنٹرول

October 07, 2015
07Oct15_AA ماب01al-Arabia

عدن میں خالد_بحاح اور اماراتی فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے

VIDEO

یمن کے شہر مأرب میں عرب اتحادی فوج کے کمانڈر بریگیڈئر علی یوسف الکعبی نے بتایا ہے کہ حوثی اور علی عبداللہ صالح کے حامی جنگجوؤں پر مشتمل باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد گورنری کے مغربی علاقے میں واقع صراوح ڈائریکٹوریٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔بریگیڈئر الکعبی نے لڑائی میں حوثی ملیشیا کے متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت اور بڑی تعداد کو زندہ گرفتار کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ادھر اتحادی فوج میں شامل لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع ضبوہ فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔اسی علاقے میں السبعین پر بھی اتحادی طیاروں نے بمباری کی۔تعز شہر میں باغیوں کے متعدد ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بمباری سے حوثی اور صالح ملیشیا کے 18 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔میدان جنگ میں پے در پے شکست سے بےحال حوثی باغیوں نے اپنی 32 فوجی گاڑیاں لحج شہر کی شمالی مشرقی المسمیر ڈائریکٹوریٹ منتقل کر دی ہیں۔دارالحکومت صنعاء کا شمالی علاقہ زوردار دھماکے سے لرز اٹھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا صنعاء کے علاقے النہضہ کے سامنے جامع النور میں بارودی سرنگ پھٹنے سے ہوا۔

داعش کا ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں سرکاری ہیڈکوارٹرز اور سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے اڈے پر تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ان حملوں میں پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔داعش نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے چار خودکش بمباروں نے عدن میں دو اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا ہے۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔داعش نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ان حملوں میں فوجی مارے گئے ہیں مگران کی تعداد نہیں بتائی ہے۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی تھی کہ یمن کے جنوبی شہر عدن میں متعدد راکٹ حملوں میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔یمن میں عرب اتحادی فوج کی قیادت نے عدن میں ہونے والے حملے میں ایک سعودی فوجی کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے جنرل کمان نے فوج کے عدن میں ایک کیمپ پر حملے میں اپنے چار فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اماراتی اعلان کے مطابق ان حملوں کے اس کے متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
07Oct15_AA ماب02

یمن کے نائب صدر حملے میں بال بال بچے
۔یمنی حکومت کے ایک ترجمان اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں متعدد دھماکے ہوئے تھے۔اسی ہوٹل میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدے دار ٹھہرے ہوئے ہیں۔یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کے جولائی میں عدن پر دوبارہ قبضے اور وہاں سے حوثی باغیوں کی پسپائی کے بعد یہ سب سے بڑا اور تباہ کن حملہ تھا۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح القصر ہوٹل پر راکٹ گرینیڈ فائر کیے گئے تھے اور یہ راکٹ ہوٹل کے داخلی حصے میں گرے تھے۔07Oct15_AA ماب03
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہوٹل کے گیٹ پر ایک میزائل فائر کیا گیا تھا اور ایک میزائل اس کے نزدیک گرا تھا جبکہ شہر کے علاقے البریقہ میں تیسرا میزائل گرا ہے۔العربیہ پر نشر کی گئی تصاویر میں سیاہ دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔اس حملے کے بعد القصر ہوٹل کے ارد گرد سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
07Oct15_AA ماب04
واضح رہے کہ یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح اپنی کابینہ کے سات وزراء اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ہمراہ 16 ستمبر کو سعودی عرب سے عدن واپس آئے تھے۔وہ تب سے القصر ہوٹل ہی میں مقیم ہیں اور وہیں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں۔یمنی ذرائع کے مطابق وہ بم حملے میں محفوظ رہے ہیں۔خالد بحاح قبل ازیں یکم اگست کو مختصر وقت کے لیے عدن آئے تھے اور وہ پھر واپس الریاض چلے گئے تھے جہاں وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ہمراہ مقیم تھے اور وہیں سے جلاوطن حکومت چلا رہے تھے۔یمنی صدر ،وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان مارچ میں عدن پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سعودی عرب منتقل ہوگئے تھے۔
07Oct15_AA ماب05
جولائی میں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز اور جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فضائی مدد سے عدن اور دوسرے جنوبی شہروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کو نکال باہر کیا تھا۔

ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان فضائی حملوں کا ارادہ رکھتا تھا

06Oct15_DU حملہ01DU

سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے انکشاف کیا ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان نے پاکستانی سرزمین پر فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی
انڈیا ٹوڈے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حملوں کے بعد سینیٹر جان مکین کی قیادت میں ایک امریکی وفد سے ان کی ملاقات ہوئی تھی جس میں وفد نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انڈیا مریدکے میں جماعت الدعوہ اور لشکر طیبہ کے خلاف فضائی کارروائی کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفد سے ان کی ملاقات لاہور میں ہوئی تھی جس میں رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور پاکستان اور افغانستان کے خصوصی امریکی سفیر رچرڈ بالبروک بھی شامل تھے۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے مکین کو کہا کہ اگر پاکستانی حدود میں ایسی کوئی کارروائی ہوئی تو پاکستانی فوج اس کا جواب دے گی۔قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دونوں ممالک کے درمیان دوستی، امن اور سیکیورٹی کے معاہدوں کی حامی تھے۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے مفاد کے بارے میں سوچتے تھے جو خطے سے فوجی دستوں کی واپسی چاہتے تھے۔انٹرویو کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ سر کریک پر فیصلہ کرلیا گیا تھا، صرف معاہدے پر دستخط کیے جانے باقی تھے جبکہ سیاچن پر ہندوستان نے پاکستانی منصوبہ قبول کرلیا تھا اور ڈیل ہونے جارہی تھی۔