Category: Threat

داعش کے صف اول کے پانچ مدارالمہام جنگجوئوں کا تعارف

October 13, 2015
13Oct15_AA داعش01al-Arabia

شام اورعراق کے وسیع علاقے پر قابض دولت اسلامیہ “داعش” کی سرکوبی کے لیے اس وقت کئی ممالک سرگرم ہیں مگر ابھی تک نہ صرف تنظیم کا بنیادی ڈھانچہ قائم ہے بلکہ تنظیم کی مرکزی قیادت بہ شمول داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی کو بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکا ہے۔ اگرچہ عراقی حکومت اور امریکی فوج کی جانب سے داعش کی صف اول کی قیادت کے قافلوں کو بمباری سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں مگر ان حملوں میں داعش کو کتنا جانی نقصان پہنچایا گیا اس کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتوار کو عراقی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کی فوج نے الانبار کے کربلہ علاقے میں “داعش” کے ایک قافلے کو نشنانہ بنایا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر اس قافلے میں داعشی خلیفہ البغدادی اور ان کے نہایت قریبی حلقے کے جنگجو شامل تھے۔ عراقی انٹیلی جنس حملے میں داعش کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کررہی ہے۔”فاکس نیوز” ٹی وی چینل کی رپورٹ میں امریکی عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ الکربلہ کے مقام پر عراقی فوج کے حملے میں البغدادی سمیت داعش کا کوئی مرکزہ رہ نما زخمی نہیں ہوا ہے تاہم عراقی حکام حادثے کے مقام سے DND کے نمونے حاصل کرنے کے بعد ان کی تحقیقات کررہے ہیں۔ عراقی حکام کے بہ جس قافلے کو بمباری سے نشانہ بنایا گیا ہے وہ داعشی خلفیہ کے قافلے کے اندز میں الکربلہ کی طرف رواں دواں تھا۔عراقی حکومت کی طرف سے اس طرح کے دعوے ماضی میں بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ ان میں نومبر 2014ء میں البغدادی کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کی تحقیقات بھی ہنوز پردہ راز میں ہیں۔ اس سے قبل مارچ 2014ء میں بھی نینویٰ میں البلعاج کے مقام پر داعشی خلیفہ کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم اس حملے کی تحقیقات بھی سامنے نہیں آسکیں۔اس نوعیت کا جب بھی کوئی حملہ کیا گیا تو داعش کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس کی تردید میں غیرمعمولی پروپیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے۔ داعشی جنگجوئوں کا کہنا ہے کہ خلیفہ البغدادی کے مارے جانے کے بعد بھی “داعش” موجود رہے گی۔ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔البغدادی کے مقربین کے حوالے سے بہت کم تفصیلات ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہیں۔ تاہم حال ہی میں برطانوی اخبار “ڈیلی اسٹار” نے البغدادی کے پانچ قابل اعتماد اور نہایت قریبی ساتھیوں کا تعارف شائع کیا ہے۔

العفری
13Oct15_AA داعش02
پچھلے سال مارچ میں عراقی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ نینویٰ کے مقام پر داعشی خلیفہ البغدادی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں ممکنہ طور پر البغدادی بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ عراقی حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ البغدادی کے زخمی ہونے کے بعد داعش نے علاء العفری نامی دوسرے داعشی کمانڈر کو خلیفہ کا نام مقرر کیا ہے۔علاء العفری کا اصل نام عبدالرحمان مصطفیی القادولی ہے۔ العفری عراق کی موصل گورنری میں فزکس کا استاد رہ چکا ہے اور اس کا شمار چوٹی کے دہشت گردوں میں ہوتا ہے۔ اس نے سنہ 1998ء میں افغانستان کے سفر کے دوران عسکری تربیت حاصل کی اور اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ میں سرگرم رہا۔ سنہ 2004ء میں وہ افغانستان سے عراق لوٹا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ العفری القاعدہ میں اسٹریٹجک نوعیت کے معرکوں کا ماسٹر مائینڈ تھا۔ پچھلے سال مئی میں عراقی فوج کی جانب سے ایک فضائی حملے میں اس کے مارے جانے کا بھی دویٰ کیا گیا تھا تاہم امریکا نے العفری کی ہلاکت کی تردید کی تھی۔

الانباری
13Oct15_AA داعش03
داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کے مقربین میں دوسرا نام ابو علی الانباری کا ملتا ہے۔ الانباری شام میں البغدادی کا نائب ہے اور اس کے براہ راست البغدادی سے رابطے ہیں۔ داعش میں اہم ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تنظیم کی مرکزی شوریٰ کا رکن، البغدادی کا خصوصی ایلچی اور “الخلافہ” کی انتظامی کونسلوں کا انچارج ہے۔داعش سے منحرف ہونے والے جنگجوئوں کا بتانا ہے کہ الانباری نامی جنگجو کمانڈر تنظیم میں انٹیلی جنس کونسل، سیکیورٹی اور شام میں ہونے والی تمام آپریشنل کارروائیوں کا بھی انچارج ہے۔الانباری کا رہائشی تعلق موصل سے ہے تاہم اس نے اپنے نام کے ساتھ موصل کے بجائے الانبار کا لاحقہ شامل کیا ہے۔ وہ امریکا کے عراق پر صدام حسین کے خلاف کیے گئے آپریشن کے دوران عراقی فوج میں خدمات انجام دے چکا ہے۔ عراق پرامریکی قبضے کے بعد الانباری نے “انصارالاسلام” نامی گروپ میں شامل ہوگیا۔ بعد ازاں یہی تنظیم ابو مصعب الزرقاوی کی قیادت میں “دولت الاسلامی العراق والشام” کے نام میں تبدیل ہوگئی تھی۔

الشیشانی
13Oct15_AA داعش04
داعشی خلیفہ کے مقربین خاص کے حلقے میں شمالی شام کے ابو عمر الشیشانی نامی کمانڈر بھی سر فہرست ہیں۔ ابو عمر الشیشانی تنظیم کی مجلس شوریٰ کے رکن، اسٹریٹیجک کارروائیوں کے ماہر اور عراق میں تنظیم کا نیٹ ورک پھیلانے کے ماسٹر مائینڈ سمجھے جاتے ہیں۔الشیشیانی امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل ہے اور اسے دنیا کے خطرناک ترین دہشت گردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی خطرے کے پیش نظر امریکا نے الشیشانی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔ابو عمر الشیشیانی کا اصل نام “طارخان طایومورازفیٹچ ہے اور اس کا والد عیسیٰ جب کہ والدہ مسلمان تھی جس کا تعلق جارجیا سے تھا۔الشیشانی کو کچھ عرصہ قبل جارجیا میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل میں اس نے انتہا پسندانہ خیالات اپنائے اور رہائی کے بعد شام میں سرگرم داعش میں شامل ہوگیا۔

العدنانی
13Oct15_AA داعش05
ابومحمد العدنانی کا حقیقی نام طہ صبحی فلاحہ بتایا جاتا ہے۔ العدنانی داعش کا ترجمان اور نہایت بااثر شخص سمجھا جاتا ہے۔ داعش کے قیام کا اعلان سب سے پہلے اسی نے پڑھ کر سنایا اور البغدادی کو تنظیم کا خلیفہ بنانے کا بھی اعلان کیا۔العدنانی کا آبائی شہرادلب ہے۔ کئی دوسرے سرکردہ جنگجئوں کی طرح العدلانی بھی عراق اور افغانستان میں القاعدہ میں شامل رہا ہے۔ عراق میں سرگرم رہتے ہوئے وہ پانچ سال تک قید بھی رہ چکا ہے۔ رہائی کے بعد اس نے دوبارہ شدت پسندوں میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔العدنانی کے کمالات میں عسکری پسندوں کو متحد کرنا بھی شمل ہے۔ سنہ 2013ء میں العدنانی نے مغربی ممالک کے شہریوں کو داعش میں شمولیت کی دعوت دی جس کے بعد اسے عالمی شہرت حاصل ہوگئی تھی۔

الناصر
13Oct15_AA داعش06
داعشی کمانڈر ابو سلیمانی الناصر داعش کی عسکری کونسل کا سربراہ اور تنظیم کا کلیدی مہمات کا ذمہ دار ہے۔ اس کے بارے میں بہت کم لوگوں کوعلم ہے۔ داعش کے ماہرین کا کہنا ہے کہ الناصر کا اصل نام نعمان سلیمان منصور الزیدی ہے جو سنہ 2014ء میں داعش کی صف اول میں نمودار ہوا۔الناصر کی شہریت کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکی ہیں تاہم ممکنہ طورپر اسے شامی شہری ہی بتایا جتا ہے مگر اس کا خاندان مغربی پس منظر بھی رکھتا ہے۔الناصر نے عراق میں عسکری گروپوں کے ایک مرکز میں جنگی تربیت حاصل کی۔ سنہ 2003ء میں عراق میں امریکا کے ایک فضائی حملے میں بھی وہ معمولی زخمی ہوچکا ہے۔ دولت اسلامیہ عراق نے اسے سنہ 2010ء میں “وزیر دفاع” کا عہدہ سونپا۔کہا جاتا ہے کہ عراق میں امریکا کے زیرانتظام “بوکا” نامی ایک جیل میں بھی الناصر کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ اسی جیل میں تنظیم کے سربراہ ابو بکر البغدادی بھی قید رہا۔
Advertisements

بھارتی فوج کسی بھی مختصر جنگ کے لیے تیار ہے: جنرل سہاگ

September 03, 2015
جنرل دلبیر سنگھ سہاگ
BBC

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے کہا ہے کہ مستقبل میں ہونے والی جنگیں مختصر ہوں گی جن کی تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں ملے گا لیکن بھارتی فوج ایسی کسی بھی لڑائی کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے یہ بات بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ کے 50 برس کی تکمیل پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔جنرل سہاگ نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے میں شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرحد پار سے جموں و کشمیر میں شورش کو فروغ دینے اور تشدد کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جنرل دلبیر سہاگ نے الزام لگایا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں شدت پسندوں کے حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے علاقوں کو بھی تشدد کے دائرے میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس پس منظر میں انہوں نے کہ ہمیں احساس ہے کہ مستقبل کی جنگیں مختصر ہوں گی، اور محاذ پر جانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملے گا، اس لیے ہر وقت پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت ہے اور یہ تیاری اب ہماری آپریشنل حکمت عملی کا کلیدی حصہ ہے۔ جنرل سہاگ کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا وہ جنگ کی تیاری کر رہی ہے کیونکہ جنرل سہاگ کے بیان سے لوگ فکرمند ہیں۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر مجید میمن نے کہا کہ لڑائی سے بچنے کی ہر قیمت پر کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ اس سے سب کا نقصان ہوتا ہے لیکن حالات اگر بگڑ جائیں تو ضروری ہے کہ فوج صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار رہے۔خیال رہے کہ بھارت میں 1965 کی جنگ کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر تین ہفتے طویل تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور پہلی مرتبہ حکومت اور فوج کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہےکہ اس جنگ میں جیت بھارت کی ہوئی تھی۔حکومت کے اس دعوے کو بہت سے دفاعی تجزیہ نگار یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ اس جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔جس سیمینار میں جنرل سہاگ نے مختصر جنگوں کی تیاری کی بات کہی اس میں وزیر دفاع منوہر پاریکر بھی موجود تھے۔وزیر دفاع نے کہا کہ 1965 کی جنگ میں اگرچہ بھارت کے پاس بہتر اسلحہ اور فوجی سازوسامان نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اس نے جنگ میں پاکستان کو شکست دی تھی۔بھارت نے سنہ 1965 میں پاکستان کے ساتھ جنگ کے 50 برس مکمل ہونے پر تقریبات کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارت اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔تین ہفتوں تک جاری رہنے والی تقریبات کا آغاز صدر پرنب مکھر جی نے دارالحکومت دہلی میں دہلی گیٹ پر شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر کی چڑھا کر کیا۔دونوں ہمسایہ ملکوں میں جنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 30 ہزار فوجی داخل کرنے سے ہوا تھا جس کے جواب میں بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد سے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔بھارت کی مغربی سرحدوں پر 17 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھارت کی ایک لاکھ فوج کا پاکستان کی 60 ہزار فوج سے مقابلہ تھا۔