Category: Target Killings

شام:قیدیوں کا انسانی ڈھال کے طور پر استعمال

November 02, 201502Nov15_AA ڈھال01BBC

ہنی پنجروں میں بند لوگوں کو سڑکوں پر گھمایا جاتا ہے
شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب مشرقی الغوطہ کے علاقے دوما میں “جیش الاسلام” نامی ایک حکومت مخالف تنظیم نے یرغمال بنائے گئے سرکاری فوجیوں اور بشارالاسد کے حامیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے”سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس” کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج کا حوالہ دیا جس میں “جیش الاسلام” نامی ایک تنظیم کے ہاں یرغمال بنائے گئے شامی فوجیوں اور بشارالاسد کے حامی مرد وخواتین کو آہنی پنجروں میں بند دوما کی سڑکوں پر ٹرکوں پر گھماتے دکھایا ہے۔
02Nov15_AA ڈھال02باغیوں کے اس اقدام کا مقصد شامی فوج کی جانب سے دوما میں مزید بمباری روکنا ہے۔فوٹیج میں “جیش الاسلام” کے ایک جنگجو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آہنی پنجروں میں بند حکومت کے حامیوں کو کھلی سڑکوں پر پھرانے کا مقصد شامی فوج کی علاقے میں بمباری رکوانا ہے۔دوما کے علاقے میں ایسے دسیوں پنجرے جگہ جگہ پر موجود ہیں اور کچھ پنجروں کو ٹرکوں پر لادیا گیا ہے جو دوما کی سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں۔ ان میں پانچ سے آٹھ افراد کو قید کیا گیا ہے۔ قیدیوں میں اسدی فوجی اور خواتین بھی شامل ہیں۔قیدیوں میں ایک شامی فوجی جو خود کو کرنل کے عہدے کا افسر بتاتا ہے کا کہنا ہے کہ ہم تین سال سے جیش الاسلام کی قید میں ہیں۔ ہم شامی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوما میں شہریوں پر بمباری نہ کرے۔
02Nov15_AA ڈھال03خیال رہے کہ جیش الاسلام نامی اس تنظیم نے شامی فوجیوں اور حکومت کے دسیوں حامیوں کو شمال مشرقی غوطہ کے دوما قصبے میں عدرا العمالیہ کےمقام سے دو سال قبل یرغمال بنایا تھا۔ قیدیوں کو ڈھال کے طور پر ایک ایسے وقت میں استعمال کیا جانے لگا ہے جب گذشتہ جمعہ کو شامی فوج نے دوما کے ایک مصروف بازار میں بمباری کرکے 70 افراد کو ہلاک اور 550 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔

داعش کے ہاتھوں ترکی میں دو صحافیوں کا قتل

October 31, 201531Oct15_AA داعش01

al-Arabia

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام ‘داعش’ کے دہشت گردوں نے مبینہ طور پر شام کے دو سماجی کارکنوں کو ترکی میں قتل کردیا ہے۔”الرقہ میں خاموش قتل عام” نامی ایک مہم کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مہم سے وابستہ سماجی کارکنوں ابراہیم عبدالقادر اور اس کے ساتھی فارس حمادی کو ترکی کے اورفا شہر میں ایک فلیٹ میں قتل کیاگیا۔ گذشتہ روز دونوں کو فلیٹ میں مردہ پایا گیا اور دونوں کے سرتن سے جدا کیے گئے تھے۔”الرقہ میں خاموش قتل” مہم کے بانی ابو محمد نے بتایا کہ ابراہیم عبدالقادر ان کے ساتھ ترکی میں کام کررہے تھے۔ انہیں داعش ہی نے قتل کیا ہے۔ابو محمد نے بتایا کہ مقتولین کا ایک تیسرا ساتھی حمادی کے گھرپرآیا اور اس نے بار بار دروازے پر دستک دی مگر اندر سے کوئی نہ آیا۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو دونوں خون میں لت پت پڑے تھے اور ان کے سرتن سے جدا کردیے گئے تھے۔ الرقہ میں داعش کے قبضے کے بعد ابراہیم عبدالقادر ترکی چلے گئے تھے جہاں وہ اپنے دوست فارس حمادی کے گھر میں رہ رہے تھے۔شام میں موجودگی کے دوران داعش نے عبدالقادر کو متعدد مرتبہ گرفتار کرنے اور اسے قاتلانہ حملے میں مارنے کی کوشش کی تھی مگر دہشت گرد شام میں اسے مارنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

خیال رہے کہ “الرقہ میں خاموش قتل عام” نامی مہم اپریل 2014ء سے جاری ہے جو خفیہ مقام سے شام بالخصوص الرقہ شہر میں ڈھائے جانے والے داعش کے مظالم کو بے نقاب کرتی رہتی ہے۔ اس مہم سے وابستہ کئی صحافیوں اور کارکنوں کو داعشی جنگجو پہلے بھی قتل اور اغوا کرچکے ہیں۔درایں اثناء ترک خبر رساں اداروں نے خبردی ہے کہ ترکی میں دو شامی صحافیوں کو پراسرار طورپر قتل کیا گیا ہے۔ پولیس نے قتل کے شبے میں سات شامی باشندوں کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

آرمی پبلک اسکول حملہ: ‘ملزم’ اٹلی سے گرفتار

October 29, 201529Oct15_DU اٹلی01DU

اسلام آباد: پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے میں ملوث کالعدم تنظیم کے ایک اہم مبینہ ملزم کو اٹلی سے گرفتار کرلیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم کے ایک اہم مبینہ ملزم عثمان غنی کو اطالوی پولیس نے گرفتار کیا، جسے انٹرپول کے ذریعے پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا.عثمان غنی کو رات تقریباً 3 بجے کے قریب نجی پرواز کے ذریعے اٹلی پولیس کے اسکواڈ میں اسلام آباد کے بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ لایا گیا اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مبینہ ملزم عثمان غنی کا تعلق ڈسٹرکٹ مردان کی تحصیل صوابی سے ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائی میں بھی ملوث ہے۔ملزم کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق ملزم عثمان غنی کی گرفتاری پاکستان کے لیے بہت بڑی کامیابی تصور کی جارہی ہے، اس گرفتاری سے مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ ملزم کے ذریعے کالعدم تنظیم کے دیگر ملزمان تک بھی رسائی حاصل کی جائے گی۔یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں اور اساتذہ سمیت کم از کم 150 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
29Oct15_DU اٹلی02حملے کے بعد پاک فوج کے میڈیا ونگ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاسم سلیم باجوہ نے میڈیا بریفنگ کے دوران تمام دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔عاصم باجوہ نے بتایا تھا کہ دہشت گرد اسکول میں سیڑھی لگاکر داخل ہوئے اور مرکزی ہال میں پہنچ کر فائرنگ کردی جبکہ خارجی راستوں پر بھی بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا ہدف یرغمال بنانا نہیں بلکہ مارنا تھا۔آئی ایس پی آر ترجمان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کہیں محفوظ نہیں رہے گی اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

Life sketch of Shaikh Nimr Baqir al-Nimr from Wikipedia

BN_004aPersonal
Nimr Baqr al-Nimr, commonly referred to as Sheikh Nimr (Arabic: نمر باقر النمر‎ or Nimr Baqir al-Namr, Nimr Bakir al-Nimr, and Nemr Baqir al-Nemr) is an independent Shia Sheikh in al-Awamiyah, Eastern Province, Saudi Arabia. He is popular among youth and critical of the Saudi Arabian government. He claimed that he was beaten by Mabahith when arrested in 2006. In 2009, he criticized Saudi authorities and suggested secession of the Eastern Province if Saudi Shias’ rights were not better respected. A warrant for his arrest was issued and 35 people were arrested. During the 2011–2012 Saudi Arabian protests, al-Nimr called for protesters to resist police bullets using “the roar of the word” rather than violence, predicted the overthrow of the government if repression continued,and was seen by The Guardian as having “taken the lead in [the] uprising”.

On 8 July 2012 al-Nimr was shot by police in the leg and arrested, in what police described as an exchange of gunfire.Thousands of people protested in response in several protests in which two men, Akbar al-Shakhouri and Mohamed al-Felfel, were killed by police bullets.
BN_003
Al-Nimr started a hunger strike and appeared to have been tortured. The Asharq Center for Human Rights expressed concern for al-Nimr’s health during his hunger strike on 21 August, calling for international support to allow access by family, lawyer and human rights activists.
On 15 October 2014, al-Nimr was sentenced to death by the Specialized Criminal Court for “seeking ‘foreign meddling’ in [Saudi Arabia], ‘disobeying’ its rulers and taking up arms against the security forces” and his brother, Mohammad al-Nimr, was arrested on the same day for tweeting information about the death sentence.

nmr albaqr

Religious career
Al-Nimr has been a Shia Sheikh in al-Awamiyah since 2008 or earlier. He studied for about ten years in Tehran and also studied in Syria. He initially followed Grand Ayatollah Mohammad Hussaini Shirazi and as of 2008, followed Grand Ayatollah Mohammad Taqi al-Modarresi.

As of 2008, he was independent of the two main political groups in the Eastern Province Shia community, Islahiyyah (the Shirazis) and Hezbollah Al-Hejaz (Saudi Hezbollah).

Al-Nimr has been the Friday prayers leader in al-Awamiyah since 2009 or earlier.
BN_007
Points of view
Al-Nimr supports “something between” individual and council forms of guardianship of the Islamic Jurists as a form of government.He supports Kurdish majority control of Iraqi Kurdistan. Al-Nimr believes that Shia ayatollahs would not promote violence and “murder in the name of God”. He supports “the idea of elections”.

BN_101

Al-Nimr stated that the United States (US) “wants to humiliate the world.” In August 2008, he said that he sees US citizens as a natural ally of Shia as the thinking of both US citizens and Shia is “based on justice and liberty”.

He believes that the Saudi state is “particularly reactionary” and that “agitation” is needed to influence state in general and the Saudi state in particular. According to John Kincannon, Counselor for Public Affairs at the U.S. embassy in Riyadh, Al-Nimr has made statements “perceived as supporting Iran”. In August 2008, he stated that he believes that Iran and other states outside of Saudi Arabia act mainly out of self-interest, not out of religious solidarity.

BN_005

Al-Nimr stated that in the case of internal conflict in Saudi Arabia, the Saudi Shia would have the right to ask for international intervention in analogy to requests for foreign military intervention by Kuwaitis and Saudis to the US in the 1990–91 Gulf War and people from Darfur during the War in Darfur.

Al-Nimr criticised Nayef bin Abdul-Aziz Al Saud, who was crown prince of Saudi Arabia, following Nayef’s death in June 2012. He stated that “people must rejoice at [Nayef’s] death” and that “he will be eaten by worms and will suffer the torments of Hell in his grave”.
Popularity

vvvvvvvv (محكمة  الجزائية سعودیہ (پولیس کا خفیہ ادارہ)vvvvvvvv

combine

^^^^^^^^^^اس ادارے کا طریقہ تحقیق نمایاں ہے^^^^^^^^^^^

Al-Nimr was described by US diplomat Gfoeller as “gaining popularity locally” in 2008. The Guardian described him as “[seeming] to have become the most popular Saudi Shia cleric among local youth” in October 2011. He retained his popularity in 2012, with thousands of people participated in Qatif street demonstrations in his support following his July 2012 arrest.

2004 and 2006 arrests
Al-Nimr was detained for several days in 2004. He was arrested by Mabahith in 2006 and beaten during his detention. Residents of al-Awamiyah campaigned to support him and he was released after several days.

Protest
2009 sermon and arrest order

In February 2009, an incident occurred in Medina involving differences in Shia and Sunni customs at the tomb of Muhammad, filming of Shia women by the religious police, protests by Shia in Medina and arrests. Six children were arrested during 4–8 March for taking part in a 27 February protest in Safwa.

Al-Nimr criticised the authorities’ February actions in Medina and the Minister of Interior in particular for discrimination against Saudi Arabian Shia. In a sermon, he threatened secession, stating “Our dignity has been pawned away, and if it is not … restored, we will call for secession. Our dignity is more precious than the unity of this land.”

A warrant for his arrest was issued in response. Protests took place in al-Awamiyah starting 19 March. Four people were arrested, including al-Nimr’s nephew, ‘Ali Ahmad al-Faraj, aged 16, who was arrested on 22 March. The police started tracking al-Nimr in order to arrest him and tried to take his children hostage. By 1 April, a total of 35 people had been arrested and security forces installed checkpoints on roads to al-Awamiyah. As of 1 April 2009, al-Nimr had not been arrested.

The Arabic Network for Human Rights Information said that the authorities were “persecuting Shia reformist Nimr Bakir al-Nimr for his criticism of policies of sectarian discrimination against the Shia in Saudi Arabia and for his call for reform and equality.”

Protests, arrest and death sentence 2011–2014 Saudi Arabian protests

In October 2011, during the 2011–2012 Saudi Arabian protests, al-Nimr said that young people protesting in response to the arrests of two al-Awamiyah septuagenarians were provoked by police firing at them with live ammunition. On 4 October, he called for calm, stating, “The [Saudi] authorities depend on bullets … and killing and imprisonment. We must depend on the roar of the word, on the words of justice”. He explained further, “We do not accept [the use of firearms]. This is not our practice. We will lose it. It is not in our favour. This is our approach [use of words]. We welcome those who follow such [an] attitude. Nonetheless, we cannot enforce our methodology on those who want to pursue different approaches [and] do not commit to ours. The weapon of the word is stronger than the power of lead.”

In January 2012, he called on authorities to “stop bloodshed”, predicting that the government would be overthrown if it continued its “month-long crackdown” against protestors. He criticised a list of 23 alleged protestors published by the Ministry of Interior. The Guardian described him as having “taken the lead in [the] uprising”.
July 2012 arrest and hunger strike

On 8 July 2012 al-Nimr was shot by police in the leg and arrested. According to Ministry of Interior spokesperson Mansour al-Turki, policemen tried to arrest al-Nimr and colleagues who were in a car. Al-Nimr and his colleagues fired live bullets at the policemen, police shot their guns in response, al-Nimr and his colleagues attempted to escape and crashed into a police car. According to al-Nimr’s brother Mohammed al-Nimr, Nimr al-Nimr was arrested “while driving from a farm to his house in al-Qatif”.

The Saudi Press Agency stated that al-Nimr was charged with “instigating unrest”.[14] Mohammed al-Nimr said that his brother “had been wanted by the Interior Ministry for a couple of months because of his political views”.

Thousands of people protested in response. Two men, Akbar al-Shakhouri and Mohamed al-Felfel, were killed in the protest. Pictures of al-Nimr “covered with what appeared to be a blood-stained white blanket” were published online by Eastern Province activists. On 16 July, activist Hamza al-Hassan stated that al-Nimr had received a brief visit by his family during which officials stated that the purpose of the visit was to request al-Nimr’s family to “calm the angry protestors”. According to al-Hassan and Press TV, al-Nimr had been tortured, had bruises on his face and had broken teeth”.

On 19 July, al-Nimr’s family said that al-Nimr had started a hunger strike. Al-Nimr’s family visited him again on 22 July. They stated that he had been badly tortured, with signs of torture on his head, that he was continuing his hunger strike, and that he had weakened.

Al-Nimr’s wife, Muna Jabir al-Shariyavi, died in a New York hospital while he was imprisoned. Two thousand people attended the funeral in Safwa on the evening of 30/31 August, called for al-Nimr to be unconditionally freed, for all Shia and Sunni detainees to be freed, and chanted “Down with Hamad”, “Bahrain Free Free, Peninsula Shield out”.

On 21 August, the Asharq Center for Human Rights expressed concern that al-Nimr was on the 45-th day of his hunger strike while in prison and said that he had not been charged. The Asharq Center appealed for international support for allowing access to al-Nimr by his family, lawyer and human rights activists.
Trial

Amnesty International stated that apart from the charge of firing at security forces on 8 July 2012, the other charges, of “disobeying the ruler”, “inciting sectarian strife” and “encouraging, leading and participating in demonstrations” were based on documentary evidence of al-Nimr’s sermons and interviews. Amnesty viewed these as representing the right to free speech and that al-Nimr did not incite violence in these. Amnesty stated that witnesses whose testimonies were used during the trial did not testify in court and that al-Nimr’s lawyer was not given a fair possibility to defend him.

The European Saudi Society for Human Rights (ESSHR) reported details of five of al-Nimr’s court appearances following the 8 July 2012 arrest. According to the ESSHR, 33 charges were laid in the first appearance, on 25 March 2013. On the 29 April 2013 court appearance, the defence was unable to respond to the charges because it did not have the details of the list of charges. On 23 December 2013, al-Nimr’s lawyer said that al-Nimr was unable to respond to the charges because he did not have a pen and paper. Al-Nimr’s lawyer was informed one day before the fourth appearance, on 15 April 2014. The ESSHR stated that neither al-Nimr’s lawyer nor his family were informed prior to the fifth court session, on 22 April 2014.

October 2014 death sentence

On 15 October 2014, al-Nimr was sentenced to death by the Specialized Criminal Court for “seeking ‘foreign meddling’ in [Saudi Arabia], ‘disobeying’ its rulers and taking up arms against the security forces”.[18] Said Boumedouha of Amnesty International stated that the death sentence was “part of a campaign by the authorities in Saudi Arabia to crush all dissent, including those defending the rights of the Kingdom’s Shi’a Muslim community.”

Nimr al-Nimr’s brother, Mohammad al-Nimr, tweeted information about the death sentence and was arrested on the same day.

The head of Iran’s armed forces warned Saudi Arabia that it would “pay dearly” if it carried out the execution.[25]

2015 appeal and imminent execution

In March 2015 the appeal court of Saudi Arabia upheld the death sentence against Sheikh Nimr al-Nimr.[26] In May, two months after rejecting the appeal, the Saudi government is allegedly preparing to execute the Sheikh any time despite protests.

On October 26, 2015, the Supreme Court of Saudi Arabia upheld the death sentence.
Reactions against the death sentence to Sheikh Nimr

On Saturday 8 November 2014, there was a demonstration outside Downing Street where Amina Taylor of Press TV (London) conveyed the Britons’ request to the head of the UK Government for his intervention on behalf of prominent Saudi Arabian Shia cleric Sheikh Nimr who was handed the death sentence in October 2014.

Reportedly on 13 November 2014 Muslims of different nationalities including Afghan, Iranian, Indian, Pakistani, Iraqi and Lebanese gathered in an organized protest in front of the United Nations against the death sentence of Sheikh Nimr and raised their voice for the freedom of all political prisoners in Saudi Arabia.
In March 2015 Nigerian people staged a protest in the city of Kano against the detention and death sentence of Sheikh Nimr al-Nimr, according to Tasnim News Agency.

On 13 May 2015 Shia marjas Ja’far Sobhani, Naser Makarem Shirazi, and Hossein Noori Hamedani condemned the death sentence.

Aware of the imminence of the execution of Sheikh Nimr in May 2015, Shia Muslims all over the world have staged peacful rallies and forwarded their petition to UNO to prevent the death sentence. Protests intensified and people took to the streets in Saudi Arabia, Bahrain, India and Iraq. In Iran, the only country with a predominantly Shiite population in the Middle East, clerics and scholars staged a mass sit-in on 13 May in Qom and Mashhad, to show their solidarity with Sheikh Nimr and record their agitation.

On 17 May 2015 Ahlul Bayt News Agency reported a peaceful protest rally in solidarity with Sheikh al-Nimr staged in Berlin, Germany. Demonstrators demanded the Saudi Government to immediately release Sheikh Nimr and drop all illegal charges against the Shia Saudi cleric. The protesters also condemned the systematic and widespread violations of human rights in Saudi Arabia.

Personal life

Nimr al-Nimr’s nephew, Ali Mohammed Baqir al-Nimr, who participated in the 2011–12 Saudi Arabian protests, was arrested in 2012, sentenced to death in 2014, and As of 23 September 2015, expected ratification of his sentence by King Salman of Saudi Arabia, to be carried out by beheading and crucifixion.

 

کوئٹہ میں مسافر بس میں دھماکہ، دس افراد ہلاک

October 19, 2015
19Oct15_BBC کوئٹہ01BBC

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 20 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ شہر کی مصروف شاہراہ سریاب روڈ پر بس ٹرمینل کے قریب ہوا ہے۔ایس ایس پی پولیس عبدالوحید خٹک کےمطابق دھماکہ سڑک سے گزرنے والی ایک مسافر بس میں ہوا۔انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیر مواد بس کی چھت پر نصب تھا۔سکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس میں تقریباً 35 سے 40 افراد سوار تھے۔دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب محرم الحرام کی مناسبت سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر اس سے پہلے بھی کئی بار دھماکے ہوئے ہیں لیکن حالیہ کچھ عرصے کوئٹہ امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے۔

سعودی عرب: مجلس کے شرکا پر فائرنگ، پانچ ہلاک

October 17, 2015
17Oct15_BBC 02 سعودیہBBC

سعودی عرب کے میڈیا کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں ایک مجلس کے شرکا پر فائرنگ سے کم سے کم پانچ افراد شہید اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

العریبیہ ٹی وی کے مطابق فائرنگ کرنے والا ایک حملہ آور جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ہے بھی مارا گیا۔اطلاعات کے مطابق دو دیگر حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا۔دوسری جانب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔سعودی عرب کے ایک نیوز چینل کے مطابق یہ واقعہ جمعے کو مشرقی علاقے میں پیش آیا۔چینل کے مطابق فائرنگ میں چار افراد زخمی بھی ہوئے۔ایک عینی شاید نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ایک مسلح شخص نے مجلس کے شرکا پر فائرنگ کی۔‘سعودی عرب کے مشرق میں جمعے ہی کو شعیہ مسلمانوں کے خلاف دیگر مقامات پر کم شدت حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں شعیہ مسلمانوں کو تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے رواں برس مئی میں سعودی عرب کے شہر دمام میں شعیہ مسلمانوں کی ایک مسجد کو نشانہ بنایا تھا۔اس واقعہ سے ایک ہفتہ قبل سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف میں شیعہ مسلمانوں کی مسجد پر ایک خودکش حملے میں 20 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سعودی عرب کا مشرقی صوبہ قطیف تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور اس کی زیادہ تر آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

سعودی عرب: مجلس پر فائرنگ، پانچ افراد ہلاک

October 17, 2015
17Oct15_DU سعودیہDU

ریاض: سرکاری ٹیلی ویژن العریبیہ کے مطابق مشرقی سعودی عرب میں ایک مجلس پر مسلح شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں
ریاض: سرکاری ٹیلی ویژن العریبیہ کے مطابق مشرقی سعودی عرب میں ایک مجلس پر مسلح شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ہیں.ادھر الاخباریہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق ‘ایک شخص نے سیھات میں حسینیہ پر فائرنگ کی۔’رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے باعث ایک خاتون سمیت چار افراد زخمی ہوئے جبکہ حملہ آور کی عمر 20 سال تھی تاہم حملے کے محرکات واضح نہیں ہوسکے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں میں حملہ آور شامل ہے یا نہیں.خیال رہے کہ گزشتہ سال عاشورہ کے دوران الدلوہ میں مسلح شخص نے بچوں سمیت سات اہل تشیع افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔وزارت داخلہ کے مطابق اس واقعے میں حملہ آور کا تعلق داعش سے تھا—

سترہ (17)۔ روز میں 37 فلسطینی قتل

October 17, 2015
17Oct15_DU فلسطینی01DU

غزہ: فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کرکے مزید دو فلسطینیوں کو قتل اور 98 کو زخمی کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان اشرف نے بتایا کہ غزہ کے شمالی حصے بیت الحنون کراسنگ کے قریب اسرائیلی فوج نے 22 سالہ فلسطینی نوجوان یحیٰ عبدالقادر فرحت کے سر میں گولی مار دی، جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔دوسرے فلسطینی نوجوان 22 سالہ محمد حمادیہ کو سرحدی علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔وزارت صحت کے مطابق آنسو گیس اور فائرنگ کے باعث 98 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 37 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ اسرائیلی فورسز سے جڑپوں میں سینکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اب تک 7 اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ 1993-1987 اور 2005-2000 کے دوران ہونے والے انتفاضہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

شقی القلب بھارتی نے بیوی کے کٹے سر کے ساتھ مارچ کیا

October 12, 2015
12Oct15_AA کٹاسرal-Arabia

جنونی شخص کو دیکھ کر راہگیر منظر نامہ کو فلم شوٹنگ سمجھے
بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونا میں پولیس نے اپنی بیوی کے کٹے ہوئے سر کو لے کر شہر کی سڑکوں پر گھومنے والے جنونی شخص کو گرفتار کرلیا۔Video

بھارتی میڈیا کے مطابق مہاراشٹرا کے شہر پونا میں 60 سالہ شخص رامو چون ایک ہاتھ میں اپنی بیوی کے کٹے ہوئے سر اور دوسرے میں کلہاڑی کو لے کر نہایت اطمینان اور بے خوفی کے ساتھ گھوم پھر رہا تھا جس کو دیکھ کر راہ گیر خوفزدہ ہوگئے اور پولیس کو اطلاع کر دی اور پولیس نے کچھ دیر بعد اس شخص کو بیوی کے کٹے ہوئے سر سمیت گرفتار کر لیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق رامو چون ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں چوکیدار ہے اور اس نے اپنی بیوی کو ناجائز تعلقات کے شبے میں کلہاڑیوں کے وار سے قتل کیا پھر اس کا سر کاٹ کر گھر سے باہر آ گیا اور انتہائی دیدہ دلیری سے بھرے بازار میں گھومتا پھرتا رہا۔ پولیس نے رامو کی بہو کی مدعیت میں اس کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

ِ

ترکی کے اخبار زماں کی خبریں اور تراشے

October 11, 2015
11Oct15_DU ترکی01
Turkey Zaman
Twin explosions that hit a rally of pro-Kurdish and leftist activists outside Ankara’s main train station on Saturday killed 95 people and wounded nearly 250, the Prime Ministry said, making the attack the deadliest single act of terrorism to occur on Turkish soil.

Speaking at a press conference along with the interior and justice ministers, Health Minister Mehmet Müezzinoğlu had earlier said the death toll was 86 and that 186 people were also injured in the attack, 28 of whom are in critical condition. A total of 62 people died at the scene of the attack while 24 died at hospitals, according to the health minister.
11Oct15_DU ترکی02
Interior Minister Selami Altınok dismissed suggestions that the authorities failed to take sufficient security measures to prevent the attack, when responding to a question if he was planning to resign over alleged negligence on the part of the state.

The attack targeting the peace rally in downtown Ankara came weeks before a parliamentary election slated for Nov. 1 and is set to significantly heighten political tensions in the country. Selahattin Demirtaş, co-chairman of the pro-Kurdish Peoples’ Democratic Party (HDP), lambasted the government after the attack, saying it was an “attack by the state on the people,” and saying that world leaders should not send messages of condolences to the president or the prime minister for the deaths.

“We are faced with a very large massacre, a vicious, barbarous attack,” he told reporters.
11Oct15_DU ترکی03
The attack also came amid expectations of a cease-fire by the Kurdistan Workers’ Party (PKK) terrorist organization until the election, three months after the organization ended a two-year-old cease-fire. The government had already dismissed the anticipated move as an election gambit to bolster the HDP.

Hours after the attack, a website close to the terrorist group said the PKK is halting its attacks in Turkey unless it comes under attack by Turkish security forces, in order to allow the election to proceed safely.

The HDP’s surprisingly strong showing at a parliamentary election on June 7 was a major factor that stripped the ruling Justice and Development Party (AK Party) of a parliamentary majority for the first time since 2002. Critics say the resumption of violence between the security forces and the PKK in the weeks after the June 7 election was part of political maneuvering aimed at undermining support for the HDP in the upcoming vote, a charge AK Party officials deny.
11Oct15_DU ترکی05
There was no claim of responsibility for the attack, however reports suggest the bombings might be the work of two suicide bombers. The second bomb went off three seconds after the first explosion, Minister Altınok said at the press conference.

He declined to comment, however, on whether suicide bombers were involved, saying an investigation into the explosion is still under way.
11Oct15_DU ترکی04
——————————————————————-

Video
http://video.zaman.com.tr/patlama-ani-ankaramp4_PBbd4qut.html