Category: Rigging

انتخابی ‘ بدانتظامی’ کا ذمہ دار کون؟

(Dawn Urdu, 12 June, 2015)
12Jun15_DUپی ٹی ٓئی

یہ پاکستان تحریک انصاف کی تنہا سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوسکتی تھی جو اسے آگے بڑھنے میں مدد دتی مگر خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات حکمران جماعت کے لیے سب سے بڑی شرمندگی میں تبدیل ہوگئے۔ حزب اختلاف جس نے 2013 کے انتخابات میں شکست کا منہ دیکھا تھا اور اب تک عمران خان کی پی ٹی آئی کے ہاتھوں سے شرمناک شکست کے اثر سے باہر نہیں نکل سکی تھی، اس سے بہتر موقع کی توقع کرہی نہیں سکتی تھی جو بلدیاتی انتخابات میں عظیم ترین بدانتظامیوں کی شکل میں ملا جس کے نتیجے میں کئی جانیں گئیں، انتشار پھیلا اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔ اس زخم کی تکلیف میں مزید اضافہ پی ٹی آئی کی دو اتحادی جماعتوں، جماعت اسلامی اور سنیئر وزیر شہرام ترکئی کی عوامی جمہوری اتحاد نے کیا جنھوں نے اس شور میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی گریہ زاری شروع کردی۔ جے آئی تو ایک قدم آگے بڑھ گئی اور اس نے براہ راست پی ٹی آئی پر ہی دھاندلی اور انتخابی نتائج میں ردوبدل کا الزام عائد کردیا۔ پی ٹی آئی پورے خیبر پختونخوا میں واحد بڑی جماعت کے طور پر ابھر جبکہ اپوزیشن جماعتیں اے این پی، جے یو آئی ایف اور مسلم لیگ ن نے بھی 2013 کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر بلدیاتی انتخابات کے نتائج، جس پر اپوزیشن احتجاج کررہی ہے اور پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتیں دھاندلی کے الزامات عائد کررہی ہیں، درحقیقت پارٹی کی مقبولیت کے عوامی تصور سے میل کھاتے ہیں۔ تاہم دھاندلی کے الزامات اور تشدد کے خلاف ماتم کے اونچے سر اور اپنے اتحادیوں کی جانب سے آنے والوں آوازوں کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے فوری طور پر الزامات کی انگلی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب اٹھا دی۔ ای سی پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مطلوبہ سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی۔ ٹھیک ہے ای سی پی کو گنجائش کے مسائل کا سامنا ہے مگر جب اس نے ملک گیر سطح پر انتخابات کا انعقاد کیا، اگرچہ اس کے اختتام پر لگ بھگ اسی قسم کی خامیوں کا وادیلا مچا اور وہ بھی کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ غلطیاں زیادہ بڑی نہیں، دیگر مسائل بشمول کہ اس سطح کے انتخابات ایک دن میں ہونے چاہئے یا نہیں، وہ اتنے بڑے نہیں کہ اتنے بڑے ہنگامے کا باعث بن جائیں۔ مسئلہ کسی اور چیز میں چھپا ہوا ہے۔ سچ حکومت کے اندرونی دستاویزات اور ضلعی ریٹرننگ افسران کے جمع کردہ خطوط میں چھپا ہوا ہے۔ یہ بات حکمران پی ٹی آئی کے لیے بالکل واضح ہے کہ ان انتخابات کا ضلعی انتظامیہ کے تحت انعقاد جسے سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر پولیس کا تعاون حاصل تھا، پوری مشق کو سوالیہ نشان بناتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ پولیس کو 350 ملین روپے انتخابات کے دن سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے دیئے گئے اور فورس نے اپنے اہلکاروں کی تعیناتی کا پلان بھی مرتب کیا جس میں انتہائی حساس، حساس اور عام پولنگ اسٹیشنز پر ضلعی انتظامیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے تجزیوں کی بنیاد پر اہلکاروں کی تعیناتی کی شرح دی گئی۔ تاہم تعینات پولیس اہلکاروں کی تعداد ضرورت کے مطابق کم تھی۔ حکومت کے ایک اندرونی تجزیے سے انکشاف ہوتا ہے کہ وادی پشاور کے تمام پانچ اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان اور صوابی میں تعینات پولیس اہلکاروں کی تعداد مجوزہ منصوبے سے 25 فیصد کم تھی، یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنی کثیر الجماعتی کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ وہ اضلاع ہیں جہاں تشدد اور دھاندلی کے واقعات کا شور بلند ہوا، پولیس یا تو صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی یا محض راہ گیر کا کردار ادا کرتی رہی۔ ڈپٹی کمشنرز جو کہ ضلعی ریٹرننگ افسران کا کام بھی کررہے تھے، اپنے کام کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہے اور وزیراعلیٰ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں ایک ڈپٹی کمشنر کی کوتاہیوں کی جانب نشاندہی کرتے ہیں جس کا نتیجہ اس کے خلاف فوجداری مقدمے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ اگر وہان خامیاں تھیں، اگر عملہ ناکافی اور غیر تربیت یافتہ تھا اور اگر بیلٹ پیپرز کم پڑگئے یا بروقت پہنچ نہیں سکے، یا اگر سیلز یا نشانات گمشدہ تھے تو ضلعی ریٹرننگ افسران کو ان مسائل کو ای سی پی کے علم میں لانا چاہئے تھا۔ اس کے برعکس ایک بڑے ضلع کے ضلعی ریٹرننگ افسر پولنگ کے روز سوتے ہوئے پائے گئے اور اعلیٰ صوبائی انتظامیہ کو متعدد فون کالز کرکے انہیں تلاش کرنا اور صبح گیارہ بجے اٹھانا پڑا۔ ایسے الزامات ہیں کہ حساس حلقوں میں نشانات دس ہزار روپے فی پیس فروخت ہوئے جبکہ امیدوارون اور بیلٹ پیپرز کی نقول پچیس سے ساٹھ ہزار روپے میں دستیاب تھیں، جبکہ عملے کو ان کی درخواست پر تعینات کیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ تیکنیکی طور پر ضلعی ریٹرننگ افسران ای سی پی کے تھت تھے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ڈپٹی کمشنرز بھی تھے جو دباﺅ کے سامنے کمزور ثابت ہوئے۔ کے پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک تسلیم کرتے ہیں ” یہ ماننا پڑے گا کہ انتخابات میں بدانتظامی ہوئی ہے اور ایسا ایک وجہ سے ہوا کہ انتخابی عمل کے لیے کوئی تیاریاں نہیں تھیں اور کوئی انتظامیہ موجود نہیں تھی”۔ ان کا مزید کہنا تھا “ای سی پی کی جانب سے بھی غلطیاں ہوئیں مگر ضلعی ریٹرننگ افسران کی جانب سے بھی غلطیاں ہوئین جو کہ ڈپٹی کمشنرز بھی تھے، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور اس پر ایکشن لیں گے”۔ وزیراعلیٰ غنڈا گردی اور تشدد کا الزام اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر اے این پی کے سر پر رکھتے ہیں ” یہ سب پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے”۔ مگر یہ انتخابات جن کے بارے میں ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا کہ یہ عوام کو اختیارات دینے اور نچلی سطح پر انقلاب دینے کے لیے ہے اور جس کا انعقاد باریک بینی سے تیار کردہ قانون کے ذریعے ہوا، شرمندگی میں تبدیل ہوگئے۔ انتخابی عمل نے پی ٹی آئی کے شفاف چہرے کو دھندلا دیا، جو اگرچہ ابتدا میں الزمات لگانے کے موڈ میں تھی، تاہم اس نے فوری طور پر عدلیہ یا فوج کی زیرنگرانی دوبارہ انتخابات کی پیشکش کردی۔ اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے اپوزیشن نے کچھ زیادہ ہی جوش میں یہ الزامات لگائے کہ حکومت حکمرانی کے لیے اپنی اخلاقی اتھارٹی سے محروم ہوچکی ہے اور اس کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جانے لگا، جو کہ پی ٹی آئی کے اپنے مطالبے کی بازگشت ہے جو انہوں نے اسلام آباد میں کنٹینر کے اوپر وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ مانگتے ہوئے کیا۔ اے این پی کے رہنماءمیاں افتخار حسین کہتے ہیں ” پی ٹی آئی نے ایک چیونگم کو چبالیا ہے، یہ سب روایتی بیانات ہیں اور اس کی جانب سے کسی نئی چیز کی پیشکش نہیں کی گئی”۔ تو کیا یہی وجہ ہے جس نے اپوزیشن کو سخت گیر مﺅقف اپنانے پر مجبور کیا؟ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کی بدزبانیوں کا طریقہ کار مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ افتخار حسین کے مطابق ” پی ٹی آئی بتدریج ایک فاشسٹ پارٹی کی شکل میں ڈھل رہی ہے اور ہم فکر مند ہیں کہ اگر ہم نے اس کی آمرانہ پالیسیوں پر ابھی بریک نہیں لگائے تو دیگر سیاسی جماعتوں کی بقاءداﺅ پر لگ جائے گی”۔ وہ اصرار کرتے ہیں ” کیا ہم نے دباﺅ نہیں ڈالا، میرا نہیں خیال کہ پی ٹی آئی نے نئے انتخابات کی پیشکش کی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان پر اعتماد کرسکتے ہیں؟ نہیں ہم نہیں کرسکتے”۔ بظاہر یا تو اپوزیشن جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو کچھ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہین تاکہ پرویز خٹک کی حکومت کے استعفے کے لیے پچ تیار کی جاسکے یا وہ سیدھے سادے انداز سے پرانی سیاست کا کھیل، کھیل رہی ہے تاکہ حکمران اتحاد کے اقتدار کے باقی ماندہ عرصے کو خراب کیا جاسکے۔مگر بدھ کی شٹرڈاﺅن ہڑتال کا نتیجہ اگر کچھ سامنے آیا ہے تو وہ یہ ہے کہ کے پی کے عوام جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشتگردی، خونریزی اور احتجاجی سیاست سے متاثر رہے ہیں، وہ اس طرح کی کالز پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں، کم از کم ابھی تو بالکل نہیں۔
Advertisements

این اے 125: الیکشن ٹرائبیونل کا فیصلہ معطل

(11M May, 2015)
Sa'ad Rafique, ML(N)AA_Orig

عدالتِ عظمیٰ نے خواجہ سعد رفیق کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی
عدالت عظمیٰ پاکستان نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 پر الیکشن ٹرائبیونل کے دوبارہ انتخاب کرانے سے متعلق فیصلے کو معطل کردیا ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہ میں قائم تین رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سوموار کو ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن ٹرائبیونل کے فیصلے کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائبیونل کے فیصلےمیں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ دھاندلی میں ملوّث تھے۔انھوں نے کہا کہ ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صرف سات پولنگ اسٹیشنوں میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں لیکن ان کا ان سے (سعد رفیق) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔فاضل عدالت نے ان کا موقف سننے کے بعد ٹرائبیونل کے این اے 125 اور پی پی 155 میں دوبارہ انتخاب کرانے کے فیصلے کو معطل کردیا ہے اور درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔عدالت نے ٹرائبیونل سے تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور مقدمے کی مزید سماعت چار ہفتے کے لیے ملتوی کردی ہے۔مقدمے کی سماعت کے بعد خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم میرٹ پر کیس لڑیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا”۔انھوں نے کہا کہ ”یہ میرے لیے بہت ہی تکلیف دہ امر تھا کہ مجھ پر بد دیانتی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔مجھے امید ہے کہ اگر ہم نے کچھ غلط نہیں کیا تو پھر سچ کھل کر سامنے آجائے گا”۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاضل عدالت کے حکم کی ایک مختلف انداز میں تشریح کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالت کا الیکشن ٹرائبیونل کے دوبارہ انتخاب کے فیصلے کو معطل کرنے کا حکم صرف ایک ماہ کے لیے ہے۔انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرنے والے الیکشن ٹرائبیونل فیصل آباد نے گذشتہ ہفتے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کو سنہ 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر اسمبلی سے باہر کردیا تھا اور ان کے حلقہ نیابت این اے 125 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 پر دوبارہ انتخاب کرانے کا حکم دیا تھا۔ خواجہ سعد رفیق لاہور کے اس حلقہ سے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے ۔ان کے مقابلے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے شکست خوردہ امیدوار حامد خان نے الیکشن ٹرائبیونل میں ان کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور اپنی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے حق میں جعلی اور بوگس ووٹ ڈالے گئے تھے۔ انھوں نے الیکشن ٹرائبیونل سے یہ استدعا کی تھی اس حلقے سے خواجہ سعد رفیق کی جیت کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کا حکم دیا جائے۔جاوید رشید محبوبی کی سربراہی میں قائم الیکشن ٹرائبیونل نے گذشتہ سوموار کو ایک صفحے کے مختصر فیصلہ میں کہا تھا کہ سات پولنگ اسٹیشنوں کے ووٹوں سے بھرے تھیلوں کو تیز دھار آلے کی مدد سے کھولا گیا تھا اور ریکارڈ میں گڑ بڑ کی گئی تھی۔ٹرائبیونل کے مقرر کردہ مقامی کمیشن اور نادرا نے اس حلقے کے ریکارڈ کے معائنے کے بعد اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ ان پوللنگ مراکز میں ہر ووٹر نے اوسطاً چھے ووٹ ڈالے تھے۔خواجہ سعد رفیق مئی 2013ء میں منعقدہ عام انتخابات میں لاہور کے اس حلقے سے 123416 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ان کے مد مقابل حامد خان نے 84495 ووٹ حاصل کیے تھے۔اسی حلقے سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 155 سے مسلم لیگ نواز کے میاں نصیر احمد 63709 ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ان کی جیت کو پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدوار حافظ فرحت عباس نے چیلنج کیا تھا۔ واضح رہے کہ این اے 125 قومی اسمبلی کے ان چار حلقوں میں سے ایک ہے جہاں پی ٹی آئی کے شکست خوردہ امیدواروں نے مسلم لیگ نواز کے کامیاب امیداواروں کی جیت کو چیلنج کیا تھا اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا۔ تین دوسرے حلقے این اے 110 (سیالکوٹ) این اے 122 (لاہور) اور این اے 154( لودھراں) ہیں۔ پی ٹی آئی نے ان چاروں حلقوں میں ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشان کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے قائد عمران خان نے اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے چار ماہ تک مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیے رکھا تھا۔

این اے 122: صرف 40 فیصد تصدیق شدہ ووٹ

09May15_DUعمران ایازDU_BU

لاہور: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے الیکشن ٹربیونل میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروا دی
ہفتے کو صوبائی الیکشن کمیشن میں الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم علی ملک نے دھاندلی کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران نادرا کے ڈائریکٹر فرانزک لیبارٹری عامر حسین نے اپنا بیان قلمبند کروا کر رپورٹ پیش کی ۔نادرا رپورٹ کے مطابق این اے 122 سے صرف 73,478 ووٹ تصدیق شدہ ہیں۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز میں کاسٹ کیے جانے والے ووٹوں کے انگھوٹوں کی تصدیق نہیں ہوئی جبکہ صرف 40 فیصد ووٹوں کے کاؤنٹر فائلز پر موجود انگوٹھوں کے نشانات نے نادرا ریکارڈ سے میچ کیا۔773 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں 93,582 ووٹ غیر تصدیق شدہ قرار دیئے گئے ہیں، جن پر انگوٹھوں کے نشان موجود نہیں تھے۔یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں مقامی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ این اے 122 سے کل 180,115 ووٹ کاسٹ کیے گئے۔اس حلقے سے کامیاب ہونے والے امیدوار مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ایاز صادق نے 92,393 جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان نے 83,542 ووٹ حاصل کیے تھے۔
اسی تسلسل میں: این اے 122 میں عمران خان کو شکست
اس طرح آج نادرا کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق این اے 122 کے تقریباً 50 فیصد سے زائد ووٹ غیر تصدیق شدہ ہیں۔نادرا رپورٹ کے مطابق اس حلقے میں 370 ووٹ بغیر شناختی کارڈ کے ڈالے گئے جبکہ 6,123 ووٹ غیر تصدیق شدہ شناختی کارڈ سے کاسٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
09May15_DU عمران ایاز0209May15_DU عمران ایاز03
رپورٹ کے مطابق 570 ایسے افراد نے یہاں سے ووٹ کاسٹ کیا، جو اس حلقے سے رجسٹرڈ ہی نہیں تھے، جبکہ 1715 ووٹ ایسے تھے جن کے انگوٹھے کے نشانات کاؤنٹر فوائلز پر نہیں پائے گئے۔جبکہ تحریک انصاف کے وکیل انیس علی ہاشمی نے آج دعوی کیا تھا کہ این اے 122 میں ایک لاکھ 36 ہزار ووٹ بوگس پائے گئے۔
میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کے نمائندے شعیب صدیق نے کہا کہ سردار ایاز صادق سمیت دیگر وفاقی وزراء جو عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے انہیں اب استعفی دے دینا چاہیے ۔
اسی تسلسل میں: این اے 122 میں انتخابی بے ضابطگیوں کی تصدیق
واضح رہے کہ نادرا نے عمران خان کی درخواست پر این اے 122 کے ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل کیا۔عمران خان نے ووٹوں کی تصدیق کے لیے نادرا کو 20 لاکھ روپے کی رقم ادا کی تھی۔**تصحیح: ابتداء میں اس خبر میں نادرا رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ غیر تصدیق شدہ ووٹوں کی تعداد 136،000 تھی، جبکہ یہ اعداد و شمار دراصل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نے اپنے بیان میں بتائے تھے، ہم اس حوالے سے معذرت خواہ ہیں۔
09May15_DU عمران ایاز04

دھرنے کا مقصد جنرل راحیل کو حکومت کے خلاف اکسانا تھا

Jawaid Hshmi, MultanDU_BU

کراچی : پاکستان تحریک انصاف کے سابق صدر اور سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے دعوی کیا ہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کا مقصد وزیراعظم نواز شریف کو ڈرانا نہیں بلکہ آرمی چیف جنرل راحیل کو حکومت کے خلاف اکسانا تھا۔
جمعرات کو ڈان نیوز کے پروگرام ’خبر سے خبر‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہاشمی کا کہنا تھا کہ دھرنے کے ماسٹر مائنڈ جنرل راحیل شریف کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتے تھے۔پی ٹی آئی کے باغی نے دعویٰ کیا کہ ‘دھرنے کے پیچھے فوج کے کچھ کمانڈرز اور اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل ظہیر الاسلام تھے جن کی پشت پر اصل ہاتھ احمد شجاع پاشا کا تھا’۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے بڑی ہمت سے فیصلہ کرکے جمہوریت کی کشتی ڈوبنے سے بچائی ورنہ ایسا پہلے بھی ہوتا آیا ہے اور اب بھی ہوجاتا۔جاوید ہاشمی کے بقول دھرنے کے دوران جب آگے بڑھنے اور قبضے کی بات ہوئی تو انہوں نے فوراً پریس کانفرنس کردی جس کے بعد پہلی بار ان کے پاس سابق آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا کا فون آیا۔انہوں نے بتایا کہ پاشا نے انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ نواز شریف ، خواجہ آصف اور چوہدری نثار سے نمٹ لیں گے۔گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینئر پارٹی لیڈر شاہ محمود قریشی نے اپنے اراکین اسمبلی سے کئی بار خود کہا کہ پنجاب میں منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے ثبوت اکھٹے نہیں کیے گئے نہ ہی ایسے ثبوت تحریک انصاف کے پاس ہیں‘۔ہاشمی کے بقول جنرل راحیل نےجوڈیشل کمیشن کے قیام کی گارنٹی دے دی تھی جس کے بعد دھرنا ختم ہوجانا چاہئے تھے تاہم اصل باس اور ہدایتکار ایسا نہیں چاہتے تھے ، عمران خان نے آگے جانے کی بات کی جس کی مخالفت کے بعد میں گھر واپس آگیا۔
08May15_آرمی02

حکمران جماعت نے مبینہ دھاندلی کی منصوبہ بندی کی

29Apr15_BBCدھاندلیBBC_BU

پاکستان تحریک انصاف نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا ذمہ دار حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کو قرار دیتے ہوئے کہا اس جماعت کے سیاسی ونگ نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی منصوبہ بندی کی تھی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے بدھ کو سنہ 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحققیات کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی عدالتی کمیشن کے سامنے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ حکمراں جماعت نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کی اور اس حوالے سے بیوروکریسی نے ان کی معاونت کی تھی۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عدالتی کمیش میں جمع کروائے جانے والے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات کی مبینہ دھالندلی میں الیکشن کمیشن کے اہل کاروں کے علاوہ ریٹرنگ افسران اور پریزائیڈنگ افسران بھی شامل ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ حکمراں اتحاد میں شامل جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) نے صوبہ خیبر پختون خوا میں بھی دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج خلیل الرحمن رمدے کو انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیتی رہی ہے جبکہ اس جماعت کی جانب سے عدالتی کمیشن میں جن گواہوں کی فہرست پیش کی گئی ہے اس میں ان دونوں شخصیات کے نام نہیں ہیں۔پاکستان میں گذشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھالندلی کے حوالے سے متعدد سیاسی جماعتوں نے بھی عدالتی کمیشن کے سوالوں کے جواب جمع کروائے ہیں جن میں مخصوص حلقوں میں دھاندلی کے بارے میں کہا گیا ہے۔ادھر عدالتی کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس ناصر الملک نے میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو کمیشن کی کارروائی پر تبصرہ کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالتی کمیشن کا کہنا تھا کہ میڈیا کمیشن کی کارروائی کو رپورٹ کرے لیکن ان پر تبصرہ نہ کرے۔عدالتی کمیشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس کمیشن کی کارروائی بند کمرے میں بھی کی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس نے کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار طے کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ایک نمائندے کا نام بھی طلب کیا ہے۔