Category: Restrictions

ایان علی کے بیرون ملک جانے پر پابندی

September 06, 2015
06Sep15_KH ایان علی
Khabrain

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) کرنسی سمگلنگ کیس میں ماڈل ایان علی پر کسٹم عدالت میں فرد جرم تو نہیں لگ سکی تاہم ذرائع کے مطابق ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرکے نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ کسٹمز نے ماڈل کے بیرون ملک فرار کے خدشے کے پیش نظر نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کر رکھی تھی۔ ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماڈل ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ۔ ماڈل ایان علی کے خلاف کسٹم عدالت کے جج رانا آفتاب احمد خان نے پانچ لاکھ چھ ہزار امریکی ڈالر دئی سمگل کرنے کے مقدمہ کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔

اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنما ٹیکسلا سے گرفتار

(Dawn Urdu 05 June, 2015)
Untitled

کراچی: اہل سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے مرکزی رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی کو ٹیکسلا میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اے ایس ڈبلیو جے کے جنرل سیکریٹری علامہ تاج محمد حنفی نے ڈان سے گفتگو میں مولانا اورنگزیب فاروقی کی گرفتاری کی تصدیق کی اور بتایا کہ انھیں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپے خاندان کے ساتھ ایک ذاتی ٹرپ پر سفر کررہے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کے مرکزی صدر مولانا اورنگزیب فاروقی نے ایک دن قبل مری میں ایک ریلی میں شرکت کی تھی جس کے بعد ان کے خلاف راولپنڈی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ اے ایس ڈبلیو جے اسلام آباد چیپٹر کے میڈیا کوآرڈینیٹر حافظ اونیب فاروقی نے ڈان کو بتایا کہ اورنگزیب فاروقی کو پنجاب پولیس نے گرفتار کیا، تاہم ان کی گرفتاری کی وجوہات ناحال معلوم نہیں ہوسکیں۔ انھوں نے بتایا کہ مولانا اورنگزیب فاروقی دو روز قبل کراچی سے اسلام آباد آئے تھے۔ مولانا اورنگزیب فاروقی کی گرفتاری کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی۔اسلام آباد میں احتجاج شروع کردیا گیا۔

اقوام متحدہ:حوثیوں کے خلاف اسلحے کی پابندی عاید

15Apr15_DUپابندی01


AA_BU

معزول یمنی صدر کے بیٹے احمد صالح اورعبدالملک حوثی کے اثاثے منجمد
صفحہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے مرکزی کردار حوثیوں کو اسلحہ فروخت کرنے یا مہیا کرنے پرپابندی عاید کردی ہے اور ملک کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔سلامتی کونسل کے چودہ رکن ممالک نے منگل کو اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت قرارداد نمبر 2216 کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جبکہ روس عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ قراداد پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا ہے۔اس کا موقف تھا کہ اس کی مجوزہ ترامیم کو قرارداد میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل نے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے یمن کی سابق ایلیٹ ری پبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے دنیا بھر میں اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں۔سلامتی کونسل نے قبل ازیں نومبر2014ء میں حوثی گروپ کے دواور سینیر لیڈروں عبدالخالق الحوثی اور عبداللہ یحییٰ الحکیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔قرارداد کے تحت پانچ افراد اور یمن میں ان کی ہدایات یا احکامات پر چلنے والے دوسرے افراد پر اسلحے کی پابندی عاید کی گئی ہے۔اس پابندی کا اطلاق حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں پر ہوگا۔قرارداد میں حوثیوں سے لڑائی بند کرنے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات اور حوثیوں کی کارروائیوں کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر اسمنتھا پاورز نے کہا ہے کہ امریکا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے اور ان کی کارروائیوں ہی کے نتیجے میں ملک عدم استحکام سے دوچار ہوگیا ہے۔سلامتی کونسل میں قطر کی سفیر شیخہ عالیہ بنت احمد بن سیف آل ثانی کا قرارداد کی منظوری کے بعد کہنا تھا کہ اب حوثیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوری طورپر اپنی کارروائیوں سے باز آجائیں۔اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے قرارداد کو یمنی عوام کی فتح قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے مسودے سے واضح ہے کہ یمن میں حوثیوں کے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ کرنا فوجی کمانڈروں کا کام ہے۔