Category: Resolution

حکومت-ایم کیو ایم مذکرات دوبارہ شروع

September 03, 2015
03Sep15_DU متحدہ02DU

اسلام آباد: کراچی آپریشن پر متحدہ قومی موومنٹ کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی بنانے کے معاملہ پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ-ن اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات بحال ہو گئے۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ دونوں پارٹیوں نے بدھ کو اپنے قانونی مشیروں کی موجودگی میں متفقہ Grievances Redressal Committee بنانے کیلئے تجاویز اور شرائط کے مسودے کا تبادلہ کیا۔اس موقع پر دونوں پارٹیوں کے ارکان نے اب تک مذاکرات میں پیش رفت پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت جمعرات کو بھی جاری رہے گی۔حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ مذاکرات خوش گوار ماحول میں ہو رہے ہیں اور جمعرات کو اجلاس کے بعد کمیٹی کی تشکیل متوقع ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ دونوں پارٹیوں میں کوئی اختلافات نہیں اور حتمی مسودے میں کچھ معمولی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ایم کیو ایم اور ن-لیگ کے درمیان مذاکرات کا آخری راؤنڈ 25 اگست کو ہوا تھا، جس کے بعد ایم کیو ایم کا وفد پارٹی مشاورت کیلئے کراچی چلا گیا۔

ذرائع کے مطابق، حکومت نے ایم کیو ایم کو نگران کمیٹی کی تشکیل کے نوٹیفکیشن کا مسودہ دے دیا ہے ، جس پر ایم کیو ایم نے مسودہ کا قانونی جائزہ لینے کے بعد رابطہ کرنے کا وعدہ کیا۔ایم کیو ایم ٹیم کے سربراہ فاروق ستار جبکہ ارکان میں کنور نوید جمیل، وسیم اختر اور بیرسٹر محمد علی سیف شامل ہیں۔اسی طرح ، بدھ کو پنجاب ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں ن-لیگی ٹیم کی قیادت وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کی اور پرویز رشید اور بیرسٹر ظفر اللہ خان ان کے معاون تھے۔ذرائع کے مطابق، ایم کیو ایم نے نگران کمیٹی کیلئے سابق ججوں، سابق فوجی افسران،سابق بیوروکریٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے نام تجویز کیے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں پارٹیاں کمیٹی کیلئے ایک نام جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد پر متفق ہیں۔

الطاف حسین کی تقریرکیخلاف مذمتی قرارداد منظور

02May15_DUکوئٹہ01DU_BU

کوئٹہ:بلوچستان اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے جبکہ ایوان نے وفاقی حکومت سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے اپنے خطاب میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے مدد کرنے کی بات کی تھی جبکہ انھوں نے پاک فوج پر بھی تنقید کی تھی، تاہم بعد میں ایم کیو ایم قائد نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی۔ہفتے کو ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں الطاف حسین کی تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد قرارداد مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی اور وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے 13 ارکان اسمبلی کے دستخط سے پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔قرار داد میں کہا گیا کہ ‘گزشتہ روز ایک لسانی تنظیم کے نام نہاد سربراہ نے اپنی تقریر میں ملکی اداروں اور خاص طور پر افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے بہت قابل نفرت الفاظ استعال کیے۔ یہ الفاظ ملک سے بغاوت کے زمرے میں آتے ہیں ، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، یہ ایوان مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایسی فاشٹ پارٹیوں کے خلاف پابندی کی کارروائی عمل میں لائی جائے’۔قرار داد میں مزید کہا گیا کہ ‘ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں لسانی پارٹی کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں، جنھوں نے پورے کراچی کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ایسے عناصر کی سرکوبی انتہائی ضروری ہے اور بلوچستان اسمبلی اور صوبے کے عوام اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے نام نہاد لیڈر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں’۔
02May15_DUکوئٹہ02سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ فوج پاکستان کی حفاظت کے لیے لازوال قربانیاں دے رہی ہے اور فوج پرتنقید اُن کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج محب وطن اور ملکی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے اور افواج پاکستان کے خلاف بیانات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔اس موقع پراسمبلی میں ایم کیوایم کے خلاف دھواں دھار تقاریر کی گئیں۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصر اللہ زرئی نے متحدہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایم کیو ایم کراچی میں پشتونوں کے قتل میں ملوث ہے’۔اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ بھی موجود تھے۔

مسلّح افواج کی ساکھ کا خیال رکھنا حکومتی ذمّہ داری

02May15_DUایم کیو ایم01DU_BU

اسلام آباد : وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ الطاف حسین کی معذرت ایک بہتر اقدام ہے مگر ملکی سلامتی اور قومی مفاد سے تعلق رکھنے والے معاملات نہایت حسّاس ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اچھی طرح سوچنا سمجھنا چاہئے۔
وزیراعظم ہاﺅس سے جاری ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے غیر محتاط بیانات نہ صرف قومی اداروں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ان سے عوام کے جذبات اور احساسات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع اور سلامتی کے ذمّہ دار ادارے کی حیثیت سے مسلّح افواج کی ساکھ اور احترام کا خیال رکھنا حکومت کی ذمّہ داری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ میڈیا کو بھی ملکی آئین اور قانون کے مطابق ظابطہ اخلاق کا بھرپور خیال رکھتے ہوئے آئندہ اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ غیر ذمّہ دارانہ اور قومی مفاد کے منافی بیانات کی تشہیر نہ ہو۔خیال رہے کہ جمعرات کو رات گئے الطاف حسین نے اپنے خطاب میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ‘را’ سے مدد کرنے کی بات کی تھی جبکہ انھوں نے پاک فوج پر بھی تنقید کی تھی۔
اسی تسلسل میں: مظالم نہ رکےتوملک کوناقابل تلافی نقصان ہوگا
تاہم بعد میں ایم کیو ایم قائد نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگ لی۔الطاف حسین کے بیان پر فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے ٹوئیٹر کے ذریعے تقریر کی مذمت کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا تھا جبکہ عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر سیاسی رہنماﺅں نے بھی اس کی مذمت کی تھی۔
اسی تسلسل میں: ملکی سیاسی قیادت کی مذمت
عمران خان نے تو اپنے بیان میں الطاف حسین کے خطاب پر وزیراعظم کی خاموشی کو حیران کن قرار دیا تھا۔دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کی نفرت انگیز تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے جبکہ ایوان نے وفاقی حکومت سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔

سلامتی کونسل کی پابندی جارحیت کی مدد کے مترادف: حوثی

15Apr15_BBCحوثی01BBC_BU

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حوثی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی کو حوثی باغیوں نے ’جارحیت کی مدد‘ قرار دیتے ہوئے قرارداد کی مذمت کی ہے۔
حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ جمعرات کو لوگ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے خلاف مظاہرے کریں۔اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے منگل کو یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد کی تھی۔سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کر دیں اور صنعا سمیت دیگر زیرِ قبضہ علاقوں سے نکل جائیں۔دریں اثنا ایران نے ایک چار نکاتی امن معاہدہ تیار کیا ہے جو بدھ کے روز اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔
15Apr15_BBCحوثی02
ایران کی طرف سے تیار کردہ چار نکاتی امن منصوبے میں سعودی عرب کی طرف سے یمن پر بمباری کو بند کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر سعودی عرب کے لیے قابل قبول نہیں ہو گا۔ سعودی عرب ایران پر یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن رپبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی قبائل کے رہنما بدالمالک الحوثی پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد کر دی اور ان کے بین الاقوامی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔صالح کے والد اور سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی قبائل کے دو دیگر رہنماؤں عبدالخاق الحوثی اور یحیی الحکیم کو سلامتی کونسل نے گذشتہ برس نومبر میں ’بلیک لسٹ‘ کر دیا تھا۔سلامتی کونسل نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی طرف سے کیے جانے والے ایسے اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن کی وجہ سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے۔یمن کو موجودہ بحران سے دو چار کرنے کا بڑی حد تک ذمہ دار علی عبداللہ صالح کو قرار دیا جاتا ہے جو 2012 میں صدارت چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
15Apr15_BBCحوثی03
سلامتی کونسل میں 14 ارکان نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ اس کی طرف سے تجویز کردہ بعض نکات کو قرار داد کے متن میں شامل نہیں کیا گیا۔
روس کے نمائندے ویتیلے چورکن نے سلامی کونسل میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو پیش کرنے والوں نے روس کی اس تجویز کو قرارداد میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں تنازعے میں ملوث تمام فریقوں پر جنگ بندی کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعے کا حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اقوام متحدہ:حوثیوں کے خلاف اسلحے کی پابندی عاید

15Apr15_DUپابندی01


AA_BU

معزول یمنی صدر کے بیٹے احمد صالح اورعبدالملک حوثی کے اثاثے منجمد
صفحہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے مرکزی کردار حوثیوں کو اسلحہ فروخت کرنے یا مہیا کرنے پرپابندی عاید کردی ہے اور ملک کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔سلامتی کونسل کے چودہ رکن ممالک نے منگل کو اقوام متحدہ کے منشور کے باب سات کے تحت قرارداد نمبر 2216 کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جبکہ روس عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ قراداد پر رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہا ہے۔اس کا موقف تھا کہ اس کی مجوزہ ترامیم کو قرارداد میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل نے منظور کردہ قرارداد کے ذریعے یمن کی سابق ایلیٹ ری پبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کے دنیا بھر میں اثاثے منجمد کر لیے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں عاید کردی ہیں۔سلامتی کونسل نے قبل ازیں نومبر2014ء میں حوثی گروپ کے دواور سینیر لیڈروں عبدالخالق الحوثی اور عبداللہ یحییٰ الحکیم کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔قرارداد کے تحت پانچ افراد اور یمن میں ان کی ہدایات یا احکامات پر چلنے والے دوسرے افراد پر اسلحے کی پابندی عاید کی گئی ہے۔اس پابندی کا اطلاق حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں پر ہوگا۔قرارداد میں حوثیوں سے لڑائی بند کرنے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جانب سے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے اقدامات اور حوثیوں کی کارروائیوں کی حمایت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر اسمنتھا پاورز نے کہا ہے کہ امریکا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے اور ان کی کارروائیوں ہی کے نتیجے میں ملک عدم استحکام سے دوچار ہوگیا ہے۔سلامتی کونسل میں قطر کی سفیر شیخہ عالیہ بنت احمد بن سیف آل ثانی کا قرارداد کی منظوری کے بعد کہنا تھا کہ اب حوثیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فوری طورپر اپنی کارروائیوں سے باز آجائیں۔اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے قرارداد کو یمنی عوام کی فتح قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس کے مسودے سے واضح ہے کہ یمن میں حوثیوں کے اقدامات ناقابل قبول ہیں۔یمن میں زمینی فوج بھیجنے سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ کرنا فوجی کمانڈروں کا کام ہے۔

یمن سے متعلق خلیجی قرارداد پرسلامتی کونسل میں رائے شماری

14Apr15_AAووٹنگ01AA_BU

سلامتی کونسل میں یمن میں اہل تشیع مسلک کے حوثی باغی گروپ اور سابق صدر علی عبداللہ صالح پر پابندیوں سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر آج رائے شماری کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک حوثی اور سابق صدرعلی عبداللہ صالح کے بیٹے پر پابندیوں سے متعلق پیش کی گئی قرارداد پر آج ووٹنگ ہوگی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں حوثیوں اور ان کے حامیوں پر بھی پابندیاں عاید کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ یمن میں حوثیوں کو غیر مشروط طور پر حکومت کا کنٹرول آئینی صدر اور اس کی کابینہ کے حوالے کرنے اور حوثیوں کو اسلحہ کی فراہمی بند کرنےکے لیے دبائو ڈالا جائے۔
مسودے میں ترامیم، روس کو دی گئی مہلت ختم
اقوام متحدہ کے سفارتی ذرائع نے “العربیہ” کو بتایا کہ خلیج تعاون کونسل کے سفراء نے سلامتی کونسل میں یمن سے متعلق مجوزہ قرارداد کے مسودے میں دو ترامیم کے بعد روس کو اس کا جواب دینے کی مہلت دی تھی جو آج منگل کو ختم ہو رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کے مطالبے پر قرارداد میں دو ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک تشدد کے خاتمے اور دوسری لڑائی کے دوران امدادی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کچھ دیر جنگ بندی سے متعلق تھی۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور خلیجی سفیروں کے صلاح مشورے سے شامل کی گئی نئی ترامیم کے بعد روس کو آگاہ کردیا گیا ہے اور اس سے تجاویز پراپنا ردعمل جاری کرنے کوکہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دی گئی مہلت آج ختم ہو رہی ہے۔ ذرائع کا کہناہے کہ حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی پر پابندی اور تنظیم کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کی سفارشات پر روس کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اگر فوج نہیں بھیجی تو حرمین کی حفاظت ہم کریں گے

Muhammad Ahmed Ludhyanwi, AWJDU_BU

اسلام آباد: اہلِ سنت و الجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے پارلیمنٹ کی جانب سے یمن کے معاملے پر منظور کی گئی قرارداد کی مذمت کی ہے اور اس کو ’’عوامی امنگوں کے خلاف‘‘ اور ’’وقت کی بربادی‘‘ قرار دیا ہے۔
نہوں نے اہلِ سنت والجماعت کی جانب سے نیشنل پریس کلب کے سامنے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حرمت کی حفاظت کی خاطر سعودی عرب کی غیرمشروط حمایت کرتے ہیں۔ ہم کسی کو بھی حرمین شریفین کی بے حرمتی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔مولانا لدھیانوی جنہوں نے گزشتہ ہفتے کے دوران وفاقی دارالحکومت میں سعودی نواز ریلیوں کی قیادت کی تھی، اس موقع پر اعلان کیا کہ ایک کل جماعتی کانفرنس جسے انہوں نے ’’حرمین شریفین کے تحفظ‘‘ کے لیے ایک حتمی منصوبہ قرار دیا، سے قبل اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں اس طرح کے مزید عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
Taliban
جمعرات نو اپریل 2015ء کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک جلسے کے دورران جماعت الدعوۃ کے حافظ سعید اور اہل سنت والجماعت کے مولانا لدھیانوی دیگر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ہاتھ ملاکر سعودی عرب کی حکومت کے لیے اپنے حمایت کا اظہار کررہے ہیں۔ —. فوٹو اے پی
انہوں نے کہا اگر ہماری حکومت نے فیصلہ نہیں کیا، تو ہم سعودی عرب جائیں گے، جس طرح امیر انصار الامّہ فضل الرحمان خلیل افغانستان گئے تھے۔مولانا لدھیانوی نے کہا کہ بعض عناصر سعودی عرب سے پاکستانیوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بعض عناصر شعیہ سنی فرقہ بندی کا شور مچا رہے ہیں۔تاہم جب اہلِ سنت والجماعت کے جلسے کے شرکاء نے اراکین پارلیمنٹ کے خلاف نعرے لگانے شروع کیا تو، انہوں نے ان کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں دوبارہ شمولیت اختیار کررہے ہیں، اس لیے انہیں قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔جلسے سے اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے، اور اب یہ وقت ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی مدد کرے۔انہوں نے کہا کہ ’’حرمین یا شیخین‘‘کی حفاظت میں کوئی فرق نہیں ہے، لیکن ایک نظریاتی تصادم موجود ہے۔مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ اس کے علاوہ یہ جنگ دو ملکوں کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ باغیوں کے خلاف جنگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ یمن میں جنگ بندی کے حق میں ہیں، وہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ پوری قوم حرمین شریفین کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ دفاعی لائن سعودی سرحد سے حرمین تک پھیلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا ہم پارلیمنٹ کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ سعودی عرب فوج بھیجی جانی چاہیے، اب یہ فیصلہ فوج کو کرنا ہوگا۔مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ آرمی کو غیرمشروط اور بلاتاخیر فوجیوں کو بھیجنا چاہیے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم کو فعال بنایا جائے۔ایک اور مذہبی رہنما مولانا اشرف علی نے بیت اللہ (کعبہ شریف) کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کے بیانات کو مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج اور ہمارے تمام وسائل کو حرمین شریفین پر قربان کردینا چاہیے۔پیر سیف اللہ خالد نے کہا کہ اگرچہ اللہ نے بیت اللہ کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، تاہم ہمیں بھی ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اس کے گھر کے لیے کس قدر جاں نثار ہیں۔اہل سنت والجماعت کے جلسے کے شرکاء لال مسجد پر اکھٹا ہوئے اور نیشنل پریس کلب تک نعرے لگاتے ہوئے مارچ کیا۔ پولیس کی جانب سے اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور پریس کلب کو جانے والی سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔