Category: Refugee

سعودی عرب میں پانچ لاکھ شامی پناہ گزینوں کی میزبانی

September 10, 2015
10Sep15_AA سعودیہ01
video


al-Arabia

شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی پُرخطر راستوں کے ذریعے یورپ منتقلی کی خبروں کے بعد یہ کہا جانے لگا تھا کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ کیوں نہیں دے رہا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والے اعدادو شمارمیں بتایا گیا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر بے بنیاد ہے کہ سعودی عرب نے شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں پانچ لاکھ شامی پناہ گزین سعودی عرب میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔ سعودی حکومت کی جانب سے نہ صرف یہ کہ انہیں عارضی قیام کا حق دیا گیا ہے بلکہ اُنہیں روزگار کی فراہمی کے ساتھ مفت میں صحت اور تعلیم کی سہولتیں بھی مہیا کی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام سے تین لاکھ باشندے عارضی اورمحدود مدت کے ویزوں پر سعودی عرب آئے تھے مگر وہ واپس نہیں جاسکے ہیں۔ ان میں ایک لاکھ شامی طلباء سعودی عرب میں مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے انہیں واپس جانے کے لیے کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالا ہے۔

شام سے نقل مکانی کر کے سعودی عرب آنے والے نصف ملین شہریوں کو عالمی سطح پر پناہ گزینوں میں اس لیے رجسٹرڈ نہیں کیا گیا کہ سعودی عرب نے انہیں اقامت، روزگار، صحت اور دیگر بنیادی شہری سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2011ء سے قبل سعودی عرب میں شامی تارکین وطن کی تعداد دو سے اڑھائی لاکھ کے لگ بھگ تھی، آج ان میں تین چوتھائی ملین مزید اضافہ ہوچکا ہے۔ ان میں ایک لاکھ کو اقامت کے ساتھ روزگار کی سہولتیں بھی حاصل تھیں۔ شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد وہاں سے مزید 3 لاکھ افراد سعودی عرب عارضی ویزوں پر آئے مگر واپس نہیں گئے۔ سعودی عرب ان کی بھی میزبانی کررہا ہے۔ انہیں مفت تعلیم، صحت اور دیگر سہولتیں بھی مہیا کی جا رہی ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے پہلے سے موجود شامی تارکین وطن کو مشکلات میں گھرے اپنے اہل خانہ کو بھی لانے کی اجازت دے تھی جس کے بعد بڑی تعداد میں شام سے لوگ نقل مکانی کرتے ہوئے سعودی عرب میں داخل ہوئے۔

Advertisements

جرمنی 5 لاکھ افراد کو پناہ دینے پر رضامند

September 08, 2015
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین01
al-Arabia

جرمن وائس چانسلر سگمار گیبرئیل نے کہا ہے کہ جرمنی کئی سالوں تک ہر سال پانچ لاکھ تک پناہ گزینوں کو قبول کرسکتا ہے۔بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توقعات کے مطابق جرمنی میں رواں سال آٹھ لاکھ سے زائد پناہ گزین آئیں گے جو کہ 2014 سے چار گنا زیادہ ہیں۔انہوں نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا دیگر یورپی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین02
یو این ایچ سی آر کے مطابق پیر کے روز صرف میسیڈونیا میں 7000 شامی پناہ گزین پہنچے جبکہ 30 ہزار یونان کے جزیروں پر موجود ہیں۔پناہ گزیوں کے مسئلے پر یورپی حکومتوں کی مختلف آراء منظر عام پر آئی ہیں جہاں ہنگری نے پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے باڑ لگادی ہے جبکہ جرمنی انہیں قبول کرنے پر رضامند ہے۔
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین03
یونانی وزیراعظم نے پیر کے روز کہا تھا کہ لیسبوز کا جزیرہ تارکین وطن کے بوچھ سے ‘پھٹنے’ والا ہے جہاں سے تقریباً 20 ہزار تارکین وطن داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔زی ڈی ایف ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے گیبرئیل نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ کئی سالوں تک ہم پانچ لاکھ افراد کو اپنا سکتے ہیں۔
08Sep15_AA جرمنی پناہ گزین04

جرمنی اور فرانس مزید 55 ہزار مہاجرین کو پناہ دیں گے

September 07, 2015
07Sep15_AA پناہ گزین01
al-Arabia

Video

جرمنی اور فرانس نے اپنے ہاں مزید پچپن ہزار تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔مہاجرین کی یہ تعداد ان ایک لاکھ بیس ہزار افراد میں شامل ہے جو حالیہ دنوں میں جنگ زدہ ایشیائی اور افریقی ممالک سے زمینی اور بحری راستے سے یونان،اٹلی ،آسٹریا اور ہنگری وغیرہ پہنچے ہیں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر نے ان مہاجرین کو تنظیم کے رکن دوسرے ممالک میں بسانے کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا ہے۔اس کا وہ آیندہ بدھ کو اعلان کرنے والے ہیں۔اس کے تحت جرمنی 31443 اور فرانس 24031 مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے گا۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے سوموار کو ایلزے پیلس پیرس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس تجویز کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپی کمیشن کے منصوبے کے تحت چوبیس ہزار مہاجرین کو قبول کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ”یہ ایک بحران ہے۔اس میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔اس کو کنٹرول میں لایا جاسکتا ہے اور ایسا کیا جائے گا”۔

جرمنی چانسلر اینجیلا مرکل نے بھی کہا ہے کہ مہاجرین کی ریکارڈ تعداد میں آمد آیندہ برسوں کے دوران ان کے ملک کو تبدیل کردے گی۔واضح رہے کہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔اس ملک میں صرف اختتام ہفتہ پر بیس ہزار مہاجرین کی آمد ہوئی ہے۔

جرمنی نے خانہ جنگی کا شکار شام سے بے گھر ہونے والے مہاجرین کے علاوہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں اور حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے ان مہاجرین کی آباد کاری اور دیکھ بھال کے لیے آیندہ سال کے دوران چھے ارب ستر کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قدامت پسند سی ڈی یو اور سوشل ڈیمو کریٹ ایس پی ڈی جماعتوں نے اتوار کی شب ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”وفاقی حکومت اپنے 2016ء کے بجٹ کی رقم میں تین ارب یورو کا اضافہ کرے گی تاکہ مہاجرین اور پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔اس رقم کے علاوہ علاقائی ریاستی حکومتیں اور مقامی حکام بھی مزید تین ارب یورو کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے”

مصری ارب پتی کا شامی مہاجرین کے لیے جزیرہ خریدنے کا اعلان

September 04, 2015
06Sep15_AA پناہ گزیں چیف
al-Arabia

شامی خاندان کو سمندر میں ڈبونے میں ملوث چار افراد گرفتار
تُرکی کے ساحل سے ملنے والی شامی بچے کی نعش نے اپنے پرائے سب کو دکھی کردیا ہے۔ بچے کے سمندر میں منہ کے بل گری نعش کو دیکھ کر مصرکے ایک ارب پتی کاروباری شخصیت نجیب ساویرس کا دل بھی پسیج گیا جس کے بعد انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی عارضی آبادکاری کے لیے ایک جزیرہ خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نجیب ساویرس نے اٹلی اور یونان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہاں آنے والے شامی پناہ گزینوں کو عارضی قیام کی سہولت مہیا کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کی آباد کاری کے لیے ایک جزیرہ مختص کرنے پر اتفاق کریں گے تاکہ شام سے نقل مکانی کرنے والوں کو وہاں پر رہائش مہیا کی جاسکے۔

نجیب ساویرس نے گذشتہ روز اپنے “ٹویٹر” اکاؤنٹ پر لکھا کہ “میں شامی پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے ایک جزیرہ خریدنے کا خواہش مند ہوں۔ مجھے توقع ہے کی اٹلی اور یونان کی حکومتیں میری اس خواہش کی تکمیل میں میری مدد کریں گی اور دونوں میں سے کوئی ایک ضرور مجھے ایک جزیrہ فروخت کر دے گی۔”

خیال رہے کہ نجیب ساویرس کا شمار نہ صرف مصر بلکہ عرب دنیا کی دولت مند شخصیات میں ہوتا ہے۔ ساویرس ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی “اورسکام” کے مالک ہیں۔ اس کےعلاوہ مصر میں ان کا “ON Tv” کے نام سے ایک ٹیلی ویژن چینل بھی ہے۔ انہوں نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ “ترکی کے ساحل سے ملنے والے ایک پناہ گزین شامی خاندان کے معصوم بچے کی نعش نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے ہیں۔ شامی پناہ گزین موت اور مصیبتوں سے گذر رہے ہیں۔ کوئی باضمیر انسان بچے کی تصویر دیکھنے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتا۔ ویسے تو ہم روزانہ ہی شامی پناہ گزینوں کی سمندرمیں اموات کی خبریں پڑھتے ہیں مگراب ان خبروں پر خاموش رہنے کا وقت نہیں رہا ہے۔ اوندھے منہ سمندر کے کنارے پڑے دو سالہ شامی بچے کی لاش دنیا کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔”

رپورٹ کے مطابق دو ارب نوے کروڑ ڈالرز کے مالک مصری صاحب ثروت نے “سی بی سی” ٹی وی کے پروگرام “ممکن” میں ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ وہ یورپی ملکوں میں شامی پناہ گزینوں کےلیے ایک جزیرہ خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک صحراء کو شہر بنا سکتے ہیں۔اس میں زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں مہیا کر سکتے ہیں تو ہمیں شامی پناہ گزینوں کے لیے کسی جزیرے کوآباد کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔

ترکی میں مشتبہ انسانی اسمگلر گرفتار
ترکی سے شامی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں کی طرف اسمگل کرنے کے الزام میں پولیس نے چار مشتبہ اسمگلروں کو حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے شامی باشندوں میں سمندر میں ڈوب کرجاں بحق ہونے والے شامی کرد بچے ایلان کردی اور اس کے خاندان کو اسمگل کرنے میں ملوث عناصر بھی شامل ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی پولیس نے “موگلا” ریاست کے “بودروم” شہر میں چار مشتبہ انسانی اسمگلروں کو حراست میں لیا ہے۔ مبینہ طور پر ان کا تعلق ایلان کردی اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آئے حادثے سے بھی ہے۔العربیہ کے نامہ نگار زیدان زنکلو نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے چاروں شامی غیر قانونی طور پر شہریوں کو سمندر کے راستے یونان اور دوسرے یورپی ملکوں تک پہنچانے کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔انہی چاروں میں سے کسی نے ایلان کردی اور اس کے خاندان کو بھی یورپ لے جانے کا جھانسا دے کر کشتی میں سوار کیا اور کھلے سمندر میں لے جا کرانہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا۔ پولیس زیرحراست افراد سے تفتیش کررہی ہے۔تاہم اس کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔