Category: Punishment

Adnan Sami Khan Is Proud To Be Known As An Indian

November 16, 201516Nov15_Misc عدنان سمیع01
Adnan Sami Khan has not been given Indian citizenship but after his latest request to the Indian government to stop his deportation the government gave him permission to stay in the country for as long as he wants. Adnan Sami Khan made it very clear that he has no intentions to come back to Pakistan. He is very happy with his life In India and he couldn’t care less what the people in Pakistan think about him. According to one of the leading Indian Newspapers Adnan Sami Khan said, “I have heard that people in Pakistan are not very happy with this news and are burning my effigies. But I’m happy that I have finally found my home.”
16Nov15_Misc عدنان سمیع02Adnan Sami Khan went to India in 2001 after his stay in the country for many years the Pakistani government refused to renew his passport and that is when he asked the Indian government to legalize him in the country. Adnan Sami Khan wants Indian government to give him citizenship since he is not a citizen of any country now. He said, “I’m very thankful to the Indian ­government for considering my plea. But I’m waiting for the day the government grants me ­citizenship of this country. Right now I’m from no man’s land because my Pakistani ­citizenship has been renounced now.”
Sharing his feelings for India the singer said, “The love, adulation and warmth that I got from India is the reason why I chose this country. People all over the world know me as an Indian artist. I could have chosen any other country and wouldn’t have had to go through problems claiming my citizenship. But it is India where my heart is and has always been.”

Advertisements

پھانسی کی سزا کا فیصلہ، آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے شیخ نمر کو سزائے موت، عالم تشیع کا رد عمل

November 06, 201506Nov15_SA نمر02Islam

اسلام ٹائمز: سعودی عرب میں شیخ نمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کیخلاف رہبر انقلاب اسلامی، سید علی خامنہٰ ی کے مشیر علی اکبر ولایتی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کےعلاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کر کے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔
متعصب سعودی حکام کی جانب سے دباو اور سازش کے نتیجے میں مجاہد عالم دین، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا کے اعلان کے بعد پوری دنیا سے اس غیر منطقی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جا رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کی حکومت آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا دینے کی گستاخانہ جسارت کرے گی، تو سعودی عرب میں سکیورٹی کے شدید مسائل سامنے آ جائيں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت چھوٹی سے مخالف کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شخصیتوں کے ساتھ تشدد کا حربہ استعمال کرنا، جو عالم اسلام میں کافی معروف ہیں، یقینا سعودی عرب کو داخلی اور عالمی سطح پر شدید مسائل سے دوچار کر دے گا۔ علاءالدین بروجردی نے کہا کہ شیخ نمر سعودی عرب میں بزرگ عالم دین اور اعلٰی مدارج پر فائز، نیز مجاہد شخصیت ہیں اور ان کے خلاف حکومتی اقدامات سے سعودی عرب اور علاقے کے شیعہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونگے۔دریں اثنا عالمی امور میں رہبر انقلاب اسلامی، سید علی خامنہ ای کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے بھی شیخ نمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ نمر نے سعودی عوام کے مطالبات کی حمایت کرنے اور زور زبردستی کے مقابل قیام کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا ہے۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان نے ایک بیان میں سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کے خلاف سعودی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں آل سعود کی حکومت سے کہا ہے کہ شیخ نمر کے خلاف اپنا فیصلہ منسوخ کر کے عوام کی آواز سنے جو اپنے کم از کم حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دریں اثنا ایک معروف سیاسی مبصر اور تجزیہ نگار نصیر العمری نے کہا ہے کہ آل سعود نے شیخ نمر کے خلاف پھانسی کا سزا کا فیصلہ سنا کر دانشمندی سے عاری ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کا یہ فیصلہ آگ سے کھیلنے کے برابر ہے۔

خطیب جمعہ تہران آیت اللہ خاتمی نے بھی سعودی عدالت کی جانب سے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو بحرین کے انقلابیوں، ولایت فقیہ اور سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کی حمایت اور جدوجہد کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ایران میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دئے جانے پر ہائے واویلا کر رہی ہیں، لیکن سعودی عرب کے بزرگ عالم دین کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آیت اللہ شیخ باقرالنمر کے خلاف پھانسی کی سزا کا فیصلہ ظالمانہ ہے۔ انہوں نے آل سعود کو خبردار کیا کہ وہ اس فیصلے پر عمل درامد کے نہایت سنگين نتائج بھگتے گی۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں ہزاروں افراد نے سعودی عرب کے سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کر کے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کی حمایت کی۔ مظاہرین نے سعودی عدالت کی جانب سے شیخ باقر النمر کو سنائے جانے والی پھانسی کی ‎سزا کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی پر زور دیا۔ مظاہرین نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور سعودی عرب کو مغربی حکومتوں کی سازشوں پر عمل درآمد کرنے والا ایجنٹ قرار دیا۔ ادھر شیخ عبدالمالک حوثی کے بھائی ابراہیم بدرالدین حوثی نے سعودی عرب کو بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو یمن کے انقلاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ادھر حزب اللہ عراق کے سیکرٹری عباس المحمداوی نے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کے تعلق س سے سعودی حکام کو خبردار کیا ہے کہ اگر آل سعود نے شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی کی سزا دی تو علاقے میں آل سعود کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔

عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ھمام حمودی نے آل سعود سے کہا ہے کہ بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کا فیصلہ منسوخ کر دیا جائے۔ سومریہ نیوز کے مطابق ھمام حمودی نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کو مخالفین کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ سعودی حکومت شیخ باقر النمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کو منسوخ کر دے۔ عراق کے مختلف حلقوں نے سعودی حکومت کی جانب سے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو پھانسی کی سزا کے سنائےجانے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں بزرگ عالم دین آيت اللہ نمر کو آل سعود کی عدالت کی جانب سے پھانسی کی سزا سنائے جانے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے آل سعود کی عدالت کی جانب سے سعودی عرب کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ شیعہ علماء کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آئی ایس او پاکستان، عوامی تحریک نے آل سعود کو شیخ باقرالنمر کو سزائے موت دیئے جانے کی مذمت کی ہے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آل سعود کے مظالم کے خلاف سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں عوام کے احتجاجی مظاہرے ان کا حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تشدد آمیز اقدامات سے مشرقی علاقے کے عوام کی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت آل سعود سے کہا ہے کہ وہ بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سنائی گئی سزا کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ آل سعود کو اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے باز رکھیں۔

واضح رہے سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں عوام نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنے بزرگ عالم دین اور دینی پیشوا آيت اللہ شیخ باقرالنمر کے خلاف پھانسی کے حکم کی شدید مذمت کی تھی۔ ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی شیخ باقر النمر کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی مذمت کی ہے اور اس فیصلے کے منسوخ کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے سعودی عرب میں اہل تشیع نہایت نامناسب حالات میں زندگی گذار رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہر طرح کا تعصب روا رکھا جاتا ہے، شیخ نمر نے اسی صورتحال کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور ملک میں سب کو برابر حقوق دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شیخ باقر النمر متعدد مرتبہ سعودی کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر جیل جا چکے ہیں۔ سعودی حکومت کے اس غیر عادلانہ فیصلے کیخلاف مظاہرے بحرین میں بھی ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایک فوجی عدالت نے بدھ کے دن اس ملک کے معروف شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی آیت اللہ نمر کے لئے سزائے موت کے حکم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے، اعلان کیا ہے کہ سزائے موت کا یہ حکم بین لاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔ سعودی عرب، بحرین، عراق، لبنان، ایران سمیت پاکستان، ہندوستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے جید علما کرام نے بھی اس امر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت کے اس مجرمانہ اقدام کو ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے۔ مجلس علماء ہند کے سیکرٹری مولانا کلب جواد نے لکھنو کی نماز جمعہ میں شیخ نمر باقر النمر کے خلاف آل سعود کی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی حکومت نہیں ہے اور آل سعود کی حکومت کسی کو بھی اپنے غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

آیت اللہ نمر کو سنائے گئے سزائے موت کے حکم پر آل سعود کو مراجع عظام کا انتباہ

November 06, 201527Oct15_النمر01ABNA Iran

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کی درباری عدالت کی جانب سے اس ملک کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ باقر النمر کو سزائے موت کے حکم سنائے جانے کے بعد مراجع عظام، علما اور حوزہ علمیہ کی اہم شخصیات نے الگ الگ بیان جاری کر کے اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدام کی مذمت کی ہے جبکہ اس اقدام کے انتہائی برے اثرات سامنے آنے سے خبردار کیا ہے انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اس حکم کے خلاف جلد از جلد قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی نے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ النمر کے سلسلے میں سنائے گئے سزائے موت کے حکم کو کالعدم قرار دلانے کی کوشش کریں۔
ایران کے تمام مراجع منجملہ آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی، آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی، آیت اللہ جوادی آملی، آیت اللہ سبحانی، آیت اللہ علوی گرگانی نیز جامعہ مدرسین، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی، حزب اللہ لبنان، حزب اللہ عراق، بحرین کی جمعیت الوفاق نے بھی الگ الگ بیانات جاری کر کے اس مظلومانہ حکم کی مذمت کی ہے جبکہ مراجع عظام نے ایران کے وزیر خارجہ ڈٓاکٹر محمد ظریف کو اس بارے میں جلد از جلد موثر قدم اٹھانے کی تاکید ہے۔تفصیلات کے مطابق حضرات آیات عظام صافی گلپائگانی، ناصر مکارم شیرازی ، سید محمد علی علوی گرگانی اور سید هاشم حسینی بوشھری نے الگ الگ بیان میں سعودی حکومت کی جانب سے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو دی جانے والی پھانسی کی سزا پر شدید رد عمل کا اظھار کیا ہے۔
حضرت آیت الله صافی گلپائگانی نے گذشتہ روز ایرانی صدر جمھوریہ ڈاکٹر حسن روحانی کے دفتر کے ذمہ دار ڈاکٹر نھاوندیان سے ہونے والی ملاقات میں سعودی حکومت کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلہ میں جلد از جلد موثر اور سنجیدہ اقدام کریں ۔
انہوں نے کہا: اس مظلوم اور انقلابی عالم دین کو پھانسی کی سزا، دنیا کے تمام شیعوں اور مسلمانوں کے کبیدہ خاطر ہونے اور ان کی کرب و بے چینی کا سبب ہے، آپ کو بغیر کسی جرم و گناہ کے سخت ترین سزا سنائی گئی ہے ۔
حضرت آیت الله صافی گلپائگانی نے مزید کہا : ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف اس سلسلہ میں جلد از جلد موثر اور سنجیدہ اقدام کریں، سعودی حکمرانوں کو دنیا کے مسلمانوں کے احساسات سے آگاہ کریں اور اس ظالمانہ فیصلہ کے نتائج سے انہیں با خبر کریں ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے آج اپنے درس خارج فقہ کے آغاز پر جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں مسجد آعظم قم میں منعقد ہوا ، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا کو ظالمانہ بتاتے ہوئے کہا: شیخ نمر کو پھانسی کی صورت میں سعودی حکومت ناقابل تصور حالات سے روبرو ہوگی ۔
انہوں نے سعودی حکومت کو متنبہ کیا : سعودی حکومت آگاہ رہے کہ اگر انہوں ںے شیخ نمر کو پھانسی دی تو یقینا دنیا کے تمام شیعہ اور جمھوریت پسند اہل سنت کی نفرت و غم و غصہ سے روبرو ہوں گے ۔
حضرت آیت الله مکارم شیرازی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شیخ نمر نے کوئی بلوا نہیں کیا تھا اور کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جو اس سزا کے مستحق ہوں، کہا: اپ کی جرات مندانہ تقریریں ، آپ کی شجاعت اور جھموریت پسند افکار کی نشانی ہے ۔
انہوں نے کہا : افسوس سعودیہ کے شیعہ سخت حالات سے روبرو ہیں اور بدترین دباو کا شکار ہیں، انہیں اپنے پروگرام کے انعقاد کی آزادی نہیں ہے، ان کے حقوق پائمال کئے جا رہے ہیں اور بہت سارے شیعہ ملازمت سے بھی محروم ہیں ۔
آیت ‌الله علوی گرگانی نے اپنے ارسال کردہ بیان میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ شیخ نمر کو پھانسی کی سزا، سعودی عوام کے غم و غصہ کا سبب اور اس ملک میں عوامی قیام کا باعث بنے گی کہا: ہم مطمئن ہیں کہ اس طرح کے اقدامات علاقہ اور خود عربستان میں آل سعود کی بنیادوں کو سست ہونے کا سبب ہوں گے ، سعودی عوام اس طرح کی سزاوں سے اپنی تحریک سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے ۔
انہوں نے آیت «و ما نقموا منهم الا أن یؤمنوا بالله العزیز الحمید » کی آئینہ میں سعودیوں کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذ٘مت کرتے ہوئے کہا : آپ کو پھانسی کی سزا سے ہمارے دل کو شدید چوٹ پہونچی ہے ، ظالم و آمریت سے مقابلہ تمام علماء کرام اور شیعوں کے لئے باعث فخر ہے مگر اس مقام پر ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ سعودی حکومت حق و انصاف اور اپنی عوام سے حسن سلوک کے بجائے انسان سوز مظالم ڈھانے پر تلی ہے ۔
آیت الله سید هاشم حسینی بوشهری نے اس ھفتہ نماز جمعہ کے خطبہ میں جو حرم مطھر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا میں سیکڑوں مومنین شرکت میں منعقد ہوا، شیخ نمر کی پھانسی کی سزا پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور مراکز کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں سعودی کورٹ پر ایک نگاہ ڈالنے کی تاکید کی اور کہا: علمائے اسلام شیخ نمر کی پھانسی کی سزا پر سخت رد عمل کا اظھار کریں ۔
انہوں نے سعودی کورٹ کی جانب سے شیخ نمر کو سنائی جانے والی پھانسی کی سزا کو محکوم کرتے ہوئے کہا: ہمارے لحاظ سے عوام ، علمائے اسلام ، بزرگان اور مراجع تقلید اس سزا پر سخت رد عمل کا اظہار کریں گے ۔
قم کے امام جمعہ نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم آئے دن ایران پر انسانی حقوق کی رعایت نہ کرنے کا الزام لگانے والے انسانی حقوق کے عالمی مراکز اور اداروں سے کہتے ہیں کہ ذرا سعودی عدالتوں پر بھی نگاہ ڈالیں اور ان کے اعمال پر غور و خوض کریں ۔

الطاف حسین کی میڈیا کوریج: پابندی حتمی تھی

November 04, 201504Nov15_DU الطاف01DU

اسلام آباد: انتہائی کوششوں کے نتیجے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی پارلیمنٹ میں واپسی کے بعد حکومت نے خود ہی ایم کیو ایم کو پریشان کردیا جب ایک حکومتی لاء افسر نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے خطاب پر لگائی جانے والی پابندی کا حکم عبوری نہیں، حتمی تھا.
گزشتہ روز سپریم کورٹ نے الطاف حسین کو لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے بھی کہا جہاں مذکورہ مقدمہ تاحال تعطل کا شکار ہے تاکہ وہ یہ معلوم کرسکیں کہ ان کے خطاب کی میڈیا کوریج پر 7 ستمبر کو لگائی جانے والی پابندی کا اصل متن کیا تھا۔جسٹس اعجاز افضال اور جسٹس قاضی فیض عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینج نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے دائر کی جانے والی ایک اپیل کی سماعت کی۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کی تصاویر و تقاریر شائع یا نشر کرنے پر پابندی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو معطل کیا جائے کیونکہ اس سے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت ان کو حاصل آزادی اظہار رائے کا حق متاثر ہورہا ہے۔
خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ایم کیو ایم کے سربراہ کی ہر قسم کی میڈیا کوریج پر پابندی لگائی جائے. بھی کہا گیا تھا کہ قابل اعتراض خطاب اور ریاست کے خلاف نعرے آئین کے تحت ملنے والی ’آزادی اظہار رائے‘ میں شامل نہیں ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا نے مشرف غداری کیس کے سماعت کے دوران خصوصی عدالت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا 7 ستمبر کا فیصلہ عبوری نہیں بلکہ حتمی تھا۔تاہم اس حکومتی موقف سے حال ہی میں اسمبلیوں میں واپس آنے والے ایم کیو ایم کے وزراء خوش نہیں ہیں جو کراچی آپریشن کے دوران اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اور لاپتہ ہونے پر مستعفی ہوگئے تھے۔جسٹس اعجاز افضال کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ موجودہ حالات میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم میں کسی قسم کی مداخلت اور بیان نہیں دیا جانا چاہیے اور پابندی سے متعلق فیصلہ عدالت خود کرے.انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے آنے والا مسئلہ عبوری حکم نامے سے متعلق ہے جسے ہائی کورٹ نے مزید توسیع نہیں دی تھی۔‘

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مذکورہ کیس کی 30 اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران ایک سوال کا جائزہ لیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ کا حکم تاحال قابل عمل ہے جبکہ اس میں توسیع کا حکم جاری نہیں کیا گیا۔گذشتہ سماعت کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے والے سردار ویرک اور عبدالمالک نے الطاف حسین کی وکیل عاصمہ جہانگیر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ بحیثیت پارٹی ایم کیو ایم کے خلاف نہیں ہیں تاہم وہ الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقاریر کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کچھ پمفلٹ بھی تقسیم کیے جن میں عاصمہ جہانگیر کو مختلف ہندوستانی رہنماؤں کے ساتھ دکھایا گیا جن میں شیو سینا کے بال ٹھاکرے بھی شامل تھے.عاصمہ جہانگیر پر یہ الزامات بھی لگائے کہ انھوں نے خود کو ایم کیو ایم کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔اس حوالے سے عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ صرف اور صرف اپنے مؤکل کو آئین کے تحت حاصل آزادی اظہار رائے کے حق کو یقینی بنانے کے حوالے سے فکر مند ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانا چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔

سپریم کورٹ کا مصطفیٰ کانجو کی بریت کا ازخود نوٹس

October 30, 201530Oct15_DU کانجو01DU

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی نے زین قتل کیس میں مصطفٰی کانجو کی بریت کا ازخود نوٹس لے لیا.
نمائندہ ڈان نیوز کے مطابق جسٹس انور ظہیر جمالی نے مقدمے کا تمام ریکارڈ سربمہر لفافے میں بند کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا.سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو اور ان کے ساتھیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے گاڑی کی ٹکر کے تنازع پر لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں 16 سالہ طالب علم زین کو قتل کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: زین قتل کیس: سابق وزیر مملکت کا بیٹا گرفتار
مصطفیٰ کانجو اور ان کے چار ساتھیوں سعداللہ، صادق امین، اکرام اللہ اور محمد آصف کو گرفتار کرکے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا.ابتدائی طور پر متعدد گواہوں نے انہیں شناخت کرلیا تھا، مقتول زین کے ماموں کا کہنا تھا کہ انھیں مصطفٰی کانجو کے خاندان کی جانب سے فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں ان سے مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے، دوسری صورت میں انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔تاہم بعد میں کیس کے تمام گواہوں نے پولیس کو دیئے گئے بیانات سے انحراف کرتے ہوئے ملزم کو پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: زین قتل کیس: مصطفیٰ کانجو ساتھیوں سمیت بری
جس کے بعد رواں ماہ 27 اکتوبر کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم مصطفیٰ کانجو کو 4 ساتھیوں سمیت بری کردیا تھا.

آیت اللہ نمر کی سزائے موت کے حوالے سے مراجع عظام کا سعودی حکام کو انتباہ

October 29, 201529Oct15_ABNA نمرABNA Iran - Copy

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قم کے مراجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی اور آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو سزائے موت کے حکم کی تائید کئے جانے پر سعودی حکام کو خبردار کیا اور کہا کہ اس طرح کے تعصب آمیز اقدامات سے اپنے ملک کو بحران کا شکار نہ بنائیں۔
انہوں نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ سعودی حکومت نے صرف تعصب کی بنا پر آیت اللہ نمر اور کئی دیگر مظلوم شیعوں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔
مراجع عظام نے سعودی حکام کو نصحیت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کو اس طرح کے غیر انسانی اور غیر شرعی اقدامات کے ذریعے بحران کا شکار نہ بنائیں اور یاد رکھیں کہ سعودی عرب کے آزادی طلب اور بزرگ علماء کے ساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک بھاری نقصان کا حامل ہو گا۔
انہوں نے سعودی حکام کے کردار کو تنقید کا نشابہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکام صرف بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں امریکہ اور اسرائیل کی نوکری کر رہے ہیں۔

Saudi Arabia court confirms Shia cleric death sentence

October 27, 2015
27Oct15_النمر02BN_101
al-Jazeera
Supreme Court confirms capital punishment for Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests.

The Supreme Court in Saudi Arabia has confirmed the death sentence against Shia cleric Sheikh Nimr al-Nimr, a leader of anti-government protests, one of his brothers said.

“After the confirmation of Sheikh Nimr’s death sentence by the Court of Appeal and then the Supreme Court, his life is in the hands of King Salman who can endorse the sentence or suspend the execution,” Mohammed al-Nimr said on Sunday.

He warned that his brother’s execution “could provoke reactions that we do not want,” as Sheikh Nimr had “supporters in the Shia areas of the Islamic world”.

Mohammed al-Nimr said he expected the king to “prove his wisdom” by halting the execution of his brother and six other Shia people.

Iran warning

Among those sentenced to death, “three, including my son Ali, were minors at the time of arrest” for involvement in anti-government protests that erupted in the Eastern Province in the wake of the Arab uprisings, he told AFP news agency.

The case of Ali al-Nimr, in particular, has led to strong reactions around the world, with many asking the Saudi authorities to grant the young Shia a stay from the execution.

Iran, the arch-foe of Saudi Arabia, on Sunday warned Riyadh not to execute the cleric.

“The execution of Sheikh Nimr would have dire consequences for Saudi Arabia,” said Deputy Foreign Minister Hossein Amir Abdollahian.

“The situation in Saudi Arabia is not good and provocative and tribal attitudes against its own citizens are not in the government’s interests,” he said in a statement.

Separation call

Sheikh Nimr had called in 2009 for separating the Eastern Province’s Shia-populated Qatif and al-Ihsaa governorates from Saudi Arabia and uniting them with Shia-majority Bahrain.

Last year, a special court in Riyadh sentenced him to death for “sedition”, “disobedience” and “bearing arms”.

Saudi Arabia’s estimated two million Shia people, who frequently complain of marginalisation, live mostly in the east, where the vast majority of the OPEC kingpin’s huge oil reserves lie.
27Oct15_النمر01