Category: Natural Disasters

پاکستان زلزلہ 2015

October 26, 2015

پاکستان میں شدید زلزلہ، کم از کم 200 ہلاک
Sura ZalzilaDUاسلام آباد: پاکستان کے مختلف علاقوں میں 7.5 شدت کے زلزلہ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 200 ہوگئی ہے جبکہ 1000 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
26Oct15_Multi زلزلہ01
امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.5 تھی جس سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان میں 212.5 کلو میٹر زیر زمین تھا.
26Oct15_Multi زلزلہ02
دوسری جانب محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 193 کلو میٹر زیر زمین تھا۔
26Oct15_Multi زلزلہ03
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ 2 بجکر 9 منٹ پر آیا، جبکہ اس کا دورانیہ ایک منٹ سے زائد تھا۔محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کیا ہے.ڈان نیوز کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، گجرانوالہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
26Oct15_Multi زلزلہ04
زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، کوہاٹ، بھکر اور گرد و نواح میں بھی محسوس کیے گئے۔زلزلے کے باعث پشاور اور لاہور میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے موبائل فون سروسز رک گئیں جبکہ لوگ خوفزدہ ہوکر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے.
26Oct15_Multi زلزلہ06
al-Arabia
پاکستان میں شدید زلزلہ، 200 افراد جاں بحق، سیکڑوں زخمی
7.5 کی شدت کے زلزلے کے جھٹکے افغانستان اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے
26Oct15_Multi زلزلہ11
پاکستان کے قریبا تمام بڑے شہروں میں سوموار کی دوپہر دو بج کر نو منٹ پر 7.5 کی شدت کا زلزلہ آیا ہے جس کے نتیجے میں مکانوں کی چھتیں گرنے اور عمارتیں منہدم ہونے سے دو سو سے زیادہ افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔شدید زلزلے کے جھٹکے افغان دارالحکومت کابل اور بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں میں میں بھی محسوس کیے گئے ہیں۔رات گئے پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں فاٹا میں قدرتی آفت کے نتیجے میں ایک سو اکانوے اموات کی تصدیق ہوچکی تھی۔زلزلے سے صوبہ پنجاب میں پانچ ،آزاد جموں وکشمیر میں ایک اور گلگت ،بلتستان میں تین افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔مالا کنڈ ڈویژن کے کمشنر عثمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ سوات ،اپر اور لوئر دیر ،چترال ، شانگلہ اور بونیر کے علاقوں میں ایک سو سینتیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔حکام نے زلزلے سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ ابھی بہت سے دشوار گذار پہاڑی علاقوں تک امدادی ٹیموں کی رسائی نہیں ہوسکی ہے اور مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہوچکے ہیں۔پاک فوج کی امدادی ٹیمیں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور فوجی ہیلی کاپٹر بھی زخمیوں کو نکالنے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔وادیِ سوات میں زلزلے سے عمارتیں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد جاں بحق اور کم سے کم دو سو زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں کو سیدو شریف کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مکانات گرنے سے چار افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ضلع چکوال کے علاقے کلر کہار میں ایک آٹھ سالہ بچہ اور ضلع قصور میں مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ہے۔آزاد جموں وکشمیر میں ضلع میرپور کے علاقے اسلام گڑھ میں اسکول کی عمارت منہدم ہونے سے ایک چودہ سالہ طالب علم جاں بحق ہوگیا۔سرگودھا میں زلزلے سے ایک عمارت منہدم ہوگئی جس سے ایک خاتون جاں بحق اور دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔راول پنڈی کے مصروف کاروباری مرکز راجا بازار میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا ہے۔

زلزلے کا مرکز ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں افغانستان کے شہر فیض آباد سے بیاسی کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔اس کی گہرائی 196 کلومیٹر تھی۔امریکا کے جیالوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز پاکستان کے شمال مغربی شہر چترال سے 67 کلومیٹر دور تھا۔جیالوجیکل سروے نے پہلے ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7 بتائی تھی مگر پھر اس پر نظرثانی کرتے ہوئے شدت 7.5 بتائی ہے۔پاکستان کے محکمہ موسمیات نے بھی پہلے ریختر اسکیل پر زلزلے کی شدت 8.1 بتائی تھی۔

چترال میں زلزلے سے تیرہ افراد اور گلگت ،بلتستان میں تین افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔اس علاقے میں تودے اور بھاری پتھر گرنے سے شاہراہیں بند ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دشواری کا سامنا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے تمام وفاقی ،سول ،فوجی اور صوبائی اداروں کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کی ہدایت کی ہے۔صدر ممنون حسین نے اس قدرتی آفت کے نتیجے میں میں انسانی اموات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (انٹر سروسز پبلک ریلشنز) کے سربراہ لیفٹنینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی اہلکاروں کو کسی حکم کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کی ہدایت کی ہے اور پاک فوج کی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کردی گئی ہیں۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے شمال مغربی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہیں اور ان علاقوں میں وقفے وقفے سے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ستمبر 2013ء میں صوبہ بلوچستان میں 7.7 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں آٹھ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اکتوبر 2005ء میں ملکی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔ریختر اسکیل پر اس کی شدت 7.6 تھی۔اس کے نتیجے میں تہتر ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی تھیں اور پینتیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے تھے۔
26Oct15_Multi زلزلہ12
BBC

ایک سو ستر 170 سے زیادہ ہلاک، ہزار سے زائد زخمی
26Oct15_Multi زلزلہ21
پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو آنے والے زلزلے سے مجموعی طور ملک بھر میں 170 سے زائد افراد ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہوا ہے۔
زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

انھوں نے کہا کہ زلزلے سے شاہراہ قراقرام پانچ مقامات پر بلاک ہو گئی ہے۔ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور اس کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جرم کے جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصان کے متعلق معلومات اکھٹی کر ر ہے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔پاکستان کے صوبے پنجاب کے ریسکیو ذرائع کے مطابق صوبے میں زلزلے کے نتیجے میں تین ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی نے قبائلی علاقوں میں 31 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔بی بی سی سے گفتگو میں ادارے کے ترجمان عادل ظہور نے بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اور نقصانات باجوڑ ایجنسی میں ہوئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ باجوڑ میں 26 افراد ہلاک جبکہ مہمند ایجنسی میں چار فراد ہلاک ہوئے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا ہے اور زلزلے میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف سے ٹیلفونک بات چیت میں انھوں نے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارت نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
26Oct15_Multi زلزلہ22
پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں ایک شخص کی لاش لائی گئی ہے اور کم سے کم 96 افراد زخمی ہیں۔اگرچہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختونخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔ابھی تک ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر منگوائے جا رہے ہیں۔پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
26Oct15_Multi زلزلہ23

افغانستان، پاکستان، انڈیا میں شدید زلزلہ، درجنوں ہلاک

October 26, 2015
26Oct15_BBC زلزلہ01BBC

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے مختلف علاقوں میں ریکٹر سکیل پر 7.5 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جرم جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔پاکستانی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ابھی تک مختلف علاقوں سے کم از کم تیس افراد کی ہلاکت کی اطلاع آئی ہے۔پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔زلزلے سے خوف زدہ شہری کھلے آسمان تلے

صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ اس وقت تک کی اطلاعات کے مطابق صوبے کے محتلف علاقوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30 پوگئی ہے جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے نقصان سے متعلق معلومات اکھٹی کرر ہے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے بھی ایک فرد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال میں ایک شخص کی لاش لائی گئی ہے اور کم سے کم 96 افراد زخمی ہیں۔اگرچہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختوانخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

لاہور میں بی بی سی کی نامہ نگار نے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد ٹیلیفون لائنز بند ہو گئیں۔دہلی میں میٹرو ٹرین بھی تھوڑی دیر کے لیے رک گئی تھی۔انڈیا کے وزیراعظم نریندرا مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے فوری حکم دیا ہے۔
26Oct15_BBC زلزلہ02انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان، بھارت اور افغانستان میں سب کی خیریت کی دعا کرتے ہیں اور ہم، پاکستان اور افغانستان سمیت ہر جگہ مدد کے لیے تیار ہیں۔بھارت میں ریلویز کے وزیر سوریش پربھو نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے زلزلے کے بعد ریلویز کے تمام ملازمین کو، تمام حفاظتی اقدام لینے اور ہوشیار رہنے کے لیے کہا ہے۔بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

ڈبگری میں امان ہسپتال میں زلزلے کے بعد شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگ گئی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔ابھی تک ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کا جائزہ لینے کے لیے فوج کی ہیلی کاپٹر منگوائے جا رہے ہیں۔پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ریسکیو بریگیڈیئر ڈاکٹر اشرف کے مطابق صوبے میں 14 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک لاہور میں کسی بھی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔انھوں نے بتایا کہ ریسکیو سروسز ہائی الرٹ پر ہیں۔افغانستان کے شمال مشرقی صوبے علاقے تخار میں حکام کے مطابق زلزلے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہو گئے ہیں۔ گورنر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ سبھی متاثرین ایک ہائی سکول کی لڑکیاں تھیں۔ زخمیوں میں سے بھی سات کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

پاکستان میں شدید زلزلہ، کم از کم 60 ہلاک

October 26, 2015
26Oct15_DU زلزلہ01DU

اسلام آباد: پاکستان کے شمالی علاقہ جات سمیت افغانستان اور ہندوستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔
امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.7 تھی جس سے ملک کے کئی شہر لرز اٹھے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان میں 212.5 کلو میٹر زیر زمین تھا
26Oct15_DU زلزلہ04دوسری جانب محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 193 کلو میٹر زیر زمین تھا
26Oct15_DU زلزلہ02
۔محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ 2 بجکر 9 منٹ پر آیا، جبکہ اس کا دورانیہ ایک منٹ سے زائد تھا
26Oct15_DU زلزلہ03محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کیا ہے.ڈان نیوز کے مطابق دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، گجرانوالہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
26Oct15_DU زلزلہ05
زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، کوہاٹ، بھکر اور گرد و نواح میں بھی محسوس کیے گئے۔زلزلے کے باعث پشاور اور لاہور میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے موبائل فون سروسز رک گئیں جبکہ لوگ خوفزدہ ہوکر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے.

منیٰ حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 2,177 ہو گئی

20Oct15_DU منیٰ01
DU

دبئی: امریکی خبر رساں ادارے (اے پی) کے اعداد و شمار کے مطابق سانحہ منیٰ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 177 تک جاپہنچی ہے۔
سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے یہ اعداد و شمار 180 میں سے ان 30 ممالک کے سرکاری میڈیا رپورٹس اور حکام کے بیانات کو سامنے رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں، جن کے شہری رواں سال حج کے لیے گئے تھے۔اعدادو شمار کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے حجاج میں سب سے زیادہ تعداد ایران کی ہے جس کے 465 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ مالی کے 254، نائجیریا کے 199، کیمرون 76، نائیجر 72، سنیگال کے 61، آئوری کوسٹ کے 52 اور بینن کے
باون(52) حاجی سانحہ میں جاں بحق ہوئے.

سانحے میں جاں بحق ہونے والے دیگر ممالک میں مصر کے 182، بنگلہ دیش کے 137، انڈونیشیا کے 126، ہندوستان کے 116، پاکستان کے 102، ایتھوپیا کے 47، چاڈ کے 43، موروکو کے 36، الجیریا کے 33، سوڈان کے 30، برکینا فاسو کے 22، تنزانیہ کے 20، سومالیہ کے 10، کینیا کے 8، گھانا کے 7، ترکی کے 7، میانمار کے 6، لیبیا کے 6، چین کے 4، افغانستان کے 2 جبکہ اردن اور ملائشیا کے ایک، ایک حاجی شامل ہیں.سانحہ منیٰ 24 ستمبر کو رمی کے دوران بھگڈر مچنے سے پیش آیا تھا جس میں جاں بحق ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سیکڑوں افراد لاپتہ بھی ہوگئے جن کی حادثے کے تقریباً ایک ماہ بعد بھی تلاش جاری ہے۔سعودی حکام کی جانب سے حادثے کے دو دن بعد 26 ستمبر کو 769 افراد کے جاں بحق ہونے اور 934 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی تاہم اس کے بعد حکام نے ہلاکتوں میں اضافے اور زخمیوں کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی۔
P03

مزید پڑھیں : سانحہ منیٰ: جاں بحق حجاج کی تعداد 769 ہو گئی
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتوار کی شب سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ محمد بن نایف عبد العزیز کی زیر صدارت منیٰ حادثے کے حوالے سے اجلاس ہوا تاہم اس میں بھی سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے نئے اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی جانب سے حج کے دوران پیش آنے والے تاریخ کے بدترین سانحے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔منیٰ حادثے سے قبل رواں سال ہی مکہ معظمہ میں کرین حادثہ بھی پیش آیا تھا جس میں 111 عازمین جاں بحق ہوگئے تھے۔یہ بھی پڑھیں : سانحہ منیٰ : جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 102 ہوگئیایران کی جانب سے منیٰ حادثے کے بعد حج کے تمام انتظامات کسی آزاد باڈی کو دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے سعودی عرب نے یکسر مسترد کردیا تھا۔ایران نے سانحے کی ذمہ داری سعودی شاہی خاندان پر ڈالتے ہوئے کہا کہ حادثہ بدانتظامی کی وجہ سے پیش آیا جبکہ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی اصل تعداد بھی چھپائی جارہی ہے۔

P02

یہ پڑھیں : حج کے دوران پیش آنے والے سانحات
ایرانی حکومت کے مطابق سانحے میں چار(4) ہزار سات سو(700) سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تاہم اس حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔واضح رہے کہ سانحہ منیٰ میں اب تک 100 سے زائد پاکستانی حجاج کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔حادثے کے نتیجے سیکٹروں پاکستانی حجاج بھی لاپتہ ہوئے جن کی تلاش تاحال جاری ہے۔
P01
20Oct15_DU منیٰ02

موسمیاتی تبدیلی ’عالمی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث‘: کیری

October 18, 2015
18Oct15_VOA عالمی01VOA

واشنگٹن—
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دنیا کی بقا کا دارومدار موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں اربوں افراد کی غذائی ضروریات پر پڑنے والے اثرات سے منسلک ہے۔’مِلان ایکسپو‘ سے خطاب کرتے ہوئے، کیری نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے زراعتی پیداوار میں اضافے میں ناکامی کا معاملہ بین الاقوامی خطرے کا باعث ہے۔ اٹلی مین ہونے والے ’مِلان ایکسپو‘ میں دھیان غذائی اجناس کی دستیابی پر مرتکز ہے اور کیری نے شرکا پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کیا جائے۔

کیری نے کہا کہ، ’غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس کے نتائج بھوک کے علاوہ دوررس نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ محض عالمی غذائی سلامتی کا نہیں، دراصل یہ معاملہ دنیا کی سلامتی کا ہے‘۔

کیری نے کہا کہ’ یہ اتفاقیہ امر نہیں کہ شام میں خانہ جنگی سے فوری قبل، ملک تاریخ کی بدترین خشک سالی کا شکار رہا‘، جس کے نتیجے میں 15 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جس کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا، جو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھا‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’میں یہ نہیں کہتا کہ شام کا بحران موسیاتی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔ ظاہر ہے، ایسا نہیں ہے۔ اس کا سبب ایک مطلق العنان آمر ہے جو اپنے ہی لوگوں پر بم برسا رہا ہے، اُنھیں بھوک، اذیت دے رہا ہے، اور اپنے ہی لوگوں کو زہریلی گیس کے ذریعے ہلاک کر رہا ہے۔ تاہم، خشک سالی کی تباہ کُن صورت حال نے واضح طور پر ایک خراب صورت حال پیدا کی، جو انتہائی بدترین حالت تھی‘۔
اُنھوں نے موسمیاتی تبدیلی کو کئی پیچیدگیوں کا موجب قرار دیا۔

بقول اُن کے، ’اگر اس کے باعث تنازع جنم نہ بھی لے، یہ اس سے مزید مسائل کی چنگاریاں اٹھتی ہیں اور سیاسی قائدین کے لیے اس کے پیچیدہ نتائج نکلنے ہیں، جس صورت حال کو حل کرنا مشکل تر معاملہ ہوتا ہے‘۔
کیری نے کہا ’یہ کسی حد تک موسیاتی تبدیلی کا ہی شاخسانہ ہے کہ بڑے پیمانے پر تارکین وطن نے یورپ کا رُخ کیا، جو ایک بحرانی کیفیت ہے‘۔

اُنھوں نے متنبہ کیا کہ اگر عالمی تپش کی وجہ سے دنیا کا زیادہ تر رقبہ رہنے کے قابل نہ رہا، تو یہ بحرانی صورت حال بدترین مسئلہ بن جائے گی۔

کیری نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ موسماتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدام کریں، کیونکہ اقدام کیے بغیر، بقول اُن کے،’تارکین وطن کی پریشان کُن صورت حال جو ہمیں آج درپیش ہے وہ اُس بڑے پیمانے کی ترک وطن کی حالت سے بہتر ہے جو سنگین خشک سالی، سمندروں کی سطح بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلی کی دیگر صورتوں میں نمودار ہو سکتی ہے، جن کا حل مشکل ہوگا‘۔

کیری کا یہ بیان نومبر میں اقوام متحدہ کے اُس اجلاس سے قبل سامنے آیا ہے، جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے متعلق معاہدہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی، جس کا مقصد عالمی تپش کو صنعتی دور سے قبل کی دو ڈگری سیلشئیس کی سطح پر رکھنے کی تگ و دو کرنا شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس نے موسمیاتی تبدیلی کے حل کو اولیت کا درجہ دے رکھا ہے، حالانکہ اِسے ریپبلیکن اکثریت والی امریکی کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

فلپائن میں سمندری طوفان

October 18, 2015
18Oct15_BBC طوفان01

فلپائن میں کوپّو طوفان آنے کی وجہ سے حکام نے اندرون ملک بہت سی پروازیں منسوخ کردی ہیں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔سست رو طوفان اتوار کی صبح سیگران شہر کے قریب لوزان جزیرے سے ٹکرایا ہے۔
پیشین گوئی کی گئی ہے کہ کوپّو طوفان سے تین روز تک بارش ہوسکتی ہے جس سے سیلاب کی صورت حال پیدا ہونے اور ممکنہ طور پر زمین کے تودے گرنے کے خدشات ہیں۔تباہ کاری سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ ساحل پر بسنے والے کئی ہزار افراد کو پہلے ہی محفوظ مقام پر پر منتقل کردیا گیا تھا۔کوپّو نامی اس طوفان، جو لینڈو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے سبب تقریبا 250 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہے اور یہ آہستہ آہستہ آگے کی طرف بڑھ رہا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس سے ایک لمبے وقت تک شدید بارشیں ہوسکتی ہیں۔
18Oct15_BBC طوفان02ہوا بھی اتنی تیز ہے کہ اس سے آسانی سےدرخت اکھڑ سکتے ہیں، عمارتوں کی چھتیں ہوا سے تباہ ہوسکتی ہیں جس سے بجلی کی فراہمی بری طرح متاثر ہونے کا خدشتہ ہے۔نیشنل ڈزاسٹر رسک ریڈکشن کی منتظمہ کاؤنسل کے سربراہ الیکزنڈر پاما کا کہنا ہے : ’جانی نقصان کم سے کم کرنے کے لیے اب ہم زبردستی ساحلی علاقوں اور دریاؤں کے آس پاس بسنے والے لوگوں کو وہاں سے نکال رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: ’چونکہ ہوا وقت کے ساتھ بہت تیز ہوتی جاری ہے اور طوفان کے پاس آتے ہی یہ بہت تیز ہوجائے گی اس لیے حالات کافی سنگین ہیں۔اندرون ملک بہت سی پروازیں منسوخ کردی منسوخ کر دی گئی ہیں اور جہاز رانی کا عمل بھی پوری طرح سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران جنوبی چین کے سمندروں میں گم ہونے والی کشتی کو تلاش کرنے کی مہم بھی روک دی گئی ہے۔ کشتی پر چار افراد سوار تھے۔
18Oct15_BBC طوفان03
ایزابیلا صوبے کے ایک رہائشی ویر مالا بانا نے خبر رساں ادارہ رائٹرز نے کو فون پر بتایا کہ فوجی ساحلی علاقوں کو لوگوں سے زبردستی نکال رہے تھے۔ان کا کہنا تھا: ’چار گھنٹے سے شدید بارش اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ صوبے میں بجلی بھی نہیں ہے اس لیے خبروں کا پورا انحصار اب ریڈیو پر ہے۔اطلاعات کے مطابق طوفان سے ہونے والی بارش اب دارالحکومت منیلا کا رخ کر رہی ہے لیکن وہاں ہوائیں اتنی تیز چلنے کا امکان نہیں جس سے کوئی خطرہ لاحق ہو۔اس سے قبل فلپائن کے صدر بینگونو آکینو نے طوفان سے متعلق ٹی وی پر لوگوں کو خبردار کیا تھا تاکہ لوگ محفوظ مقامات پر چلے جائیں۔سمندری طوفان كوپّو منگل تک فلپائن میں ہی رہنے کا خدشہ ہے اور اس کے بعد یہ تائیوان کی طرف بڑھ جائے گا۔ فلپائن میں یہ طوفان ایسے وقت آیا ہے جب دو سال پہلے آنے والے طوفان سے ہونی تباہی کے بعد سے مکمل طور پر بحالی نہیں ہو پائی ہے۔

کراچی: جھگیوں پر پہاڑی تودہ گرنے سے 13 افراد ہلاک

October 13, 2015
13Oct15_DU جھگیاںDU

کراچی: سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے گلستان جوہر بلاک ون میں جھگیوں پر پہاڑی تودہ گرنے سے 7 بچوں اور خواتین سمیت 13 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ کے دیگر افراد کو نکالنے کے لئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکاروں کے علاوہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے حادثے پر پہنچی اور امدادی کاموں کا آغاز کردیا۔تودہ گرنے کے باعث متاثر ہونے والی جھونپڑی سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کی مدد بھی لی جارہی ہے۔
13Oct15_DU 02 جھگیاں
ریسکیو ذرائع کے مطابق متاثرہ جھونپڑی سے 7 بچوں اور خواتین سمیت 13 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ دیگر افراد کی تلاش کے لئے امدای کام جاری ہیں۔واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت غلام فرید، محمد ایوب، سائرہ، نسرین، ریحانہ بی بی، خالدہ، مائرہ اور آمنہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔کمشنر کراچی شیعب صدیقی بھی امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے لئے جائے حادثہ پر موجود ہیں۔امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کمشنر کراچی کا کہنا تھا کہ ‘امدادی سرگرمیاں کب تک جاری رہے گی؟ اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ادھر ایم کیوایم کے رہنما فیصل سبزواری اور محمد حسین بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کیے جائیں۔