Category: Money Laundering

ایان علی کی ‘بریت’ کیلئے درخواست دائر

October 15, 2015
15Oct15_DU ایان01DU

راولپنڈی: کرنسی اسمگلنگ کیس میں ماڈل ایان علی پر آج بھی فرد جرم عائد نہیں کی جاسکی جبکہ ان کے وکیل نے بریت کیلئے درخواست دائر کر دی ہے.
عدالت نے ماڈل کی بریت کی درخواست پر سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ڈان نیوز کے مطابق کرنسی اسمگلنگ کیس کی سماعت کے لیے ماڈل ایان علی کسٹم عدالت میں پیش ہوئیں۔سماعت کے دوران ایان علی کے وکیل لطیف کھوسہ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اپنی موکلہ کی بریت کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں جو کچھ لکھا ہے وہ کسٹم حکام کے لیے لمحہ فکریہ ہے جبکہ ہائی کورٹ نے ایان علی کے خلاف کسٹمز کے تمام الزامات کو رد کردیا ہے۔سماعت کے دوران کسٹم عدالت نے جج رانا آفتاب احمد نے کہا کہ آج بھی اگر تاریخ دے دی تو میڈیا پر آئے گا کہ جج صاحب تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں۔لطیف کھوسہ نے وقفہ سماعت کے بعد درخواست کے حوالے سے اپنا موقف جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایان علی کو 4 ماہ تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا جس دوران ان پر کسی طرح کا جرم ثابت نہیں ہوسکا۔

پچھلا حوالہ: ماڈل ایان علی کرنسی اسمگلنگ کےالزام میں گرفتار
لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ پر فرد جرم کسی ثبوت کے بغیر نہیں عائد کیا جاسکتی لہٰذا ایان علی کو آرٹیکل 265 اے کے تحت بری کیا جائے۔اس موقع پر کسٹمز کے وکیل فیروز جنجوعہ نے کہا کہ کیس کے فیصلے میں پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے اس لیے بریت کی درخواست پر آج ہی بحث کی جائے۔سماعت کے دوران راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کے صدر کی جانب سے ایان علی کے گارڈز کے وکلاء جیسے لباس پہن کر عدالت آنے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے درخواست کی گئی جس پر عدالت نے ماڈل کے گارڈز کو آئندہ سماعت پر دیگر رنگوں کے لباس پہن کر آنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے ایان علی کی بریت کی درخواست پر سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
Advertisements

ایان علی کے بیرون ملک جانے پر پابندی

September 06, 2015
06Sep15_KH ایان علی
Khabrain

راولپنڈی (خصوصی رپورٹ) کرنسی سمگلنگ کیس میں ماڈل ایان علی پر کسٹم عدالت میں فرد جرم تو نہیں لگ سکی تاہم ذرائع کے مطابق ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرکے نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ کسٹمز نے ماڈل کے بیرون ملک فرار کے خدشے کے پیش نظر نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کر رکھی تھی۔ ایک ذمہ دار افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ماڈل ایان علی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ۔ ماڈل ایان علی کے خلاف کسٹم عدالت کے جج رانا آفتاب احمد خان نے پانچ لاکھ چھ ہزار امریکی ڈالر دئی سمگل کرنے کے مقدمہ کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔

AYYAN ALI COULDN’T BE INDICTED IN CURRENCY SMUGGLING CASE

September 04, 2015
04Sep15_NH ایان علی01
NewsHub
RAWALPINDI: Model Ayyan Ali could not be indicted in the currency smuggling case today as the challan of the case was incomplete.
“It has not been determined so far, whether the property dealer and the purchaser of property are accused or if they are the witnesses in the case,” he argued.
“Solid evidence is available against the accused about her involvement in money laundering,” the reply added seeking permission, to conduct an investigation against Ayyan.
The court reprimanded the customs authorities for their failure to produce a complete challan and directed them to present a complete challan on the next hearing. The judge also ordered the custom officials to record complete statements of witnesses Owais and Mumtaz and to fulfill the legal requirement with regard to a petition filed in the Lahore High Court in connection with the arrest of the two men. The hearing of the case has been adjourned till September 15.

حساس اداروں کا ایا ن علی کو گر فتار کر نیکا فیصلہ

September 03, 2015
03Sep15_KH ایان علی
Khabrain

لاہور (سیاسی رپورٹر) حساس اداروں نے منی لانڈرنگ میں ملوث ماڈل اداکارہ ایان علی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری آنے والے چند روز میں متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایان علی کی گرفتاری اور اس کے بعد ضمانت پر رہائی کے حوالے سے حساس اداروں کو شدید تحفظات ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ملزمہ سے تفتیش میں پولیس نے حقائق نہیں اگلوائے گئے۔ جبکہ ان اداروں کے پاس اس بات کے ثبوت ہیں کہ ایان علی کے ذریعہ باہر منتقل کئے جانے والے کروڑوں روپے میں سے پیشتر رقم دہشت گردوں تک پہنچتے تھے اور رقم پاکستان میں ددہشت گردی میں استعمال ہوتی تھی، اس سلسلے میں حساس اداروں نے ایان علی کے غیر ملکی دوروں اور ان میں باہر لے جائی جانے والی دولت کے علاوہ دہشت گردوں کی مکمل تفصیلات بھی حاصل کر لی ہیں جن تک یہ رقوم پہنچائی جاتی تھیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں ایان علی کی گرفتاری متوقع ہے اور انہیں گرفتاری کے بعد 90 روز کیلئے رینجرز کے حوالے کیا جائے گا تا کہ ان سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے حوالے سے مزید مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض حساس اداروں نے اس سے پہلے بھی حکومتی افراد کو اطلاع دی تھی کہ ایان علی کی گرفتاری لازم ہے، یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ضمانت کے باوجود دہشت گردی اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کے ملزمہ کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے اور ضمانت اس کے راستے میں حائل نہیں۔ اور اداروں کو یہ بات کا مکمل حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان میں منی لانڈرنگ کے واقعہ کی مرکزی کردار سے ان لوگوں کے حقائق معلوم کر سکیں جو یہ رقوم بھجواتے تھے اور یہ بڑی بڑی رقمیں باہر کن کو ملتی تھیں اور وہ اسے کن مقاصد کیلئے استعمال کرتے تھے۔

آصف زرداری پر ہاتھ ڈالنا جنگ کی ابتداء ہوگی

27 August, 2015
سید خورشید شاہ
DU

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے رہنماء سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اگر آصف علی زرداری پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو یہ جنگ کی ابتداء کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔
وفاقی دارالحکومت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کبھی فوج کے خلاف بات نہیں کی، پارلیمنٹ کے اندر رہ کر جنگ لڑیں گے۔
تین(3) کروڑکی کرپشن: پی پی رہنما قاسم ضیاء گرفتار
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین صدر آصف علی زاداری کے حوالے سے سید خورشید شاہ نے کہا کہ وہ ہر سال چھٹیوں پر بیرون ملک جاتے ہیں، ایک ہفتے میں وہ ملک واپس آ جائیں گے۔پیپلز پارٹی کے رہنماوں کی گرفتاری پر انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ بند کی جائے، ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری افسوسناک ہے، قاسم ضیاء کو ہتھکڑی لگانے پر نیب کو شرم آنی چاہیے۔
سابق وزیراعظم گیلانی اور امین فہیم کی گرفتاری کے احکامات
انہوں نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں پر بھی مقدمات کو تشویشناک قرار دیا۔اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے سندھ میں نیشنل اکاؤنٹی بیلٹی بیورو (نیب) کی کارروائیوں پر شدید اعتراض کیا گیا۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نیب جو کچھ سندھ میں کر رہا ہے وہ مناسب نہیں، کیا ساری کرپشن صرف سندھ میں ہی ہو رہی ہے، کیا باقی صوبوں میں کرپشن نہیں ہے۔
سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم 90 روز کیلئے رینجرز کے حوالے
انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو بنگالیوں کے ساتھ کیا گیا وہ اب سندھیوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔خورشید شاہ نے مشورہ دیا کہ بدعنوانی کے الزامات پر پارٹی سربراہوں سے براہ راست بات کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں بھارتی ایجنسی را پوری طرح متحرک ہے، فوج کون کون سے محاذوں پر دشمنوں کا مقابلہ کرے گی، سندھ میں پکنے والا لاوا صرف پیپلز پارٹی ہی روک سکتی ہے۔
فوج کو سیاستدانوں کیلئے رکاوٹیں پیدا نہیں کرنی چاہیے
نوازا شریف کو مشورہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو باہر آنا چاہیے، وہ پیپلز پارٹی کو بتائیں کہ کون کون بدعنوان ہے، اور انہوں نے کیا کیا کرپشن کی ہے، پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم کو پیشکش کی ہے کہ بیٹھ کر بات کی جائے تمام ادارے ان کے ماتحت ہیں۔خورشید شاہ نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بتائیں ملک میں کیا ہو رہا ہے، موجودہ صورت حال میں وفاق کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، انتقامی کارروائیوں کے باوجود پارلیمنٹ کو کمزور نہیں کریں گے۔قبل ازیں خورشید شاہ کی صدارت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کامسیٹس انسٹیٹیوٹ نے کسی سے منظوری لیے بغیر برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے الحاق کیا، برطانوی یونیورسٹی طلبہ سے ڈگری کے عوض 2ہزار پاؤنڈز وصول کر رہی ہے، کامسیٹس نے کسی سے منظوری لیے بغیر برطانیہ کی یونیورسٹی سے الحاق کیا، کامسیٹس یونیورسٹی کیس ایگزیکٹ سے بھی بڑا اسکینڈل معلوم ہوتا ہے۔

ایان علی کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی از سر نو تفتیش کی تیاریاں

(جمعرات 7 مئ 2015)
Ayan Ali, ModelExpressNews_BU

راولپنڈی: کرنسی اسمگلنگ کیس میں گرفتار معروف ماڈل ایان علی کیخلاف مقدمے کی سماعت کل (جمعہ کو) ڈیوٹی جج بینکنگ عدالت صابر سلطان کی عدالت میں ہوگی۔حتمی چالان پیش نہ کیے جانے پر فریقین کے وکلاء میں گرما گرم بحث متوقع ہے۔
تفتیشی ٹیم نے موقع کا نقشہ بھی تیار کر لیا ہے مگر اسے ملزمہ کے وکیل کو نہ دینے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ملزمہ کیخلاف کرنسی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے دونوں الزامات میں نئے چالان اور از سر نو تفتیش کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔آئندہ چند روز میں ماڈل کی ایئرپورٹ آمد سے گرفتاری تک سرگرمیوں کی ملنے والی فوٹیج کے تحت گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔اے ایس ایف کے حکام نے اس روز راول لاؤنج آنیوالے افرادکی لسٹ سے کچھ نام ٹیمپرنگ کرکے حذف کیے ہیں اور وہ ’’افراد‘‘ فوٹیج میں موجود ہیں ۔اس بنیاد پر اے ایس ایف کے ذمے داران کو بھی شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔

بیان ریکارڈ کراکے دبئی جانے والے ہارون اور اویس نے وہاں جا کرتفتیشی ٹیم سے رابطہ ختم کردیا ہے،جس ملزم کووعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی وہ بھی وعدہ معاف گواہ بننے کی حامی بھر کرغائب ہوگیا ہے۔اس معاملے میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ہوتے ہی مزید افرادکی گرفتاریاں کی جائیں گی۔