Category: Incidents

گیتا کی ہندوستان واپسی، مودی کا ایدھی کیلئے ایک کروڑ روپے کا اعلان

October 27, 2015
27Oct15_DU گیتا01
DU

نئی دہلی: ہندوستانی وزیراعظم نریندری مودی نے 12 سال قبل ہندوستان سے ٹرین کے ذریعے غلطی سے پاکستان میں داخل ہونے والی سماعت اور قوت گویائی سے محروم ہندوستانی لڑکی گیتا کی واپسی پر ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان کردیا۔
مودی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ وہ گیتا کا خیال رکھنے پر ایدھی فاؤنڈیشن کا لفظوں میں شکر ادا نہیں کرسکتے، وہ رحم دلی اور ہمدردی کے فرشتے ہیں۔
27Oct15_DU گیتا03
27Oct15_DU گیتا02
انہوں گیتا کی بحفاظت واپسی پر وزیراعظم نواز شریف کا بھی شکریہ ادا کیا۔مودی کا کہنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن نے جو کیا اس کی کوئی قیمت نہیں تاہم وہ فاؤنڈیشن کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان کررہے ہیں۔
27Oct15_DU گیتا04خیال رہے کہ آج صبح نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشل ایئرپورٹ پر ہندوستانی اور پاکستانی عہدیداران نے گیتا کا استقبال کیا۔واضح رہے کہ ہندوستانی لڑکی گیتا 12 سال قبل ہندوستان سے ٹرین کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئی تھی.
27Oct15_DU گیتا05میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان رینجرز نے 2003 میں سرحد عبور کر کے لاہور پہنچنے والی ایک 11 سالہ لڑکی کو تحویل میں لیا تھا جس کے بعد اسے ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا گیا، جہاں بلقیس ایدھی نے اسے گیتا کا نام دیا۔
مزید پڑھیں: ہندوستانی شہری گیتا وطن پہنچ گئیاس معاملے پر گہری نظر رکھنے والے پاکستان میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن انصار برنی گیتا کی تصاویر لے کر اکتوبر 2012 میں ہندوستان گئے تھے تاہم اس وقت کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی تھی
27Oct15_DU گیتا06تاہم سلمان خان کی فلم “بجرنگی بھائی جان” کی دونوں ممالک میں کامیابی کے بعد گیتا کے معاملے نے ایک بار پھر سر اٹھایا.رواں سال عید الفطر پر ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم میں سلمان خان قوت گویائی سے محروم ایک پاکستانی بچی کو اس کے والدین تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں.انصار برنی کا دعویٰ تھا کہ “بجرنگی بھائی جان” ان کی جانب سے 2012ء میں گیتا کے خاندان کی تلاش میں ہندوستانی کے کیے جانے والے دورے سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔
27Oct15_DU گیتا02

نواز شریف سے جلاوطنی کا معاہدہ طلب

16Jun15_DU نوازDaily Dawn Urdu Or

اسلام آباد: چوہدری شجاعت کی قیادت میں مسلم لیگ ق نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ وزیراعظم کو مشرف کے دور میں جلاوطنی کے معاہدے کی دستاویزات پیش کرنے کا حکم صادر کرے۔
ابتدائی سماعت کے بعد جسٹس نورالحق قریشی نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹیریٹ کی عمارت کی ملکیت سے متعلق ایک مقدمے میں یہ درخواست دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس عمارت کی ملکیت سے متعلق یہ معاملہ 2011ء سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے زیرالتواء ہے۔ اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت کے بعد نواز شریف کو سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا تھا، اور ابتدائی طور پر میاں محمد اظہر کو مسلم لیگ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔بعد میں چوہدری شجاعت نے ان کی جگہ لے لی تھی۔ مسلم لیگ نے سیکیریٹریٹ پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ مسلم لیگ ق کے وکیل سردار عبدالرزاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس وقت مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف اور شہباز شریف نے 2 نومبر 2000ء کو اس وقت کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، لہٰذا وہ اس عمارت کے حق کا دعویٰ نہیں کرسکتے۔ مسلم لیگ ن نے ایک مقامی عدالت میں 2011ء کے دوران اس عمارت کی واپسی کی ایک پٹیشن دائر کی تھی، اسلام آباد ہائی کورٹ کی تشکیل کے بعد یہ معاملہ اس ہائی کورٹ میں پہنچا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حال ہی میں مسلم لیگ ن کے ایک عہدے دار اور رکن قومی اسمبلی طارق عزیز چوہدری کے بیانات ریکارڈ کیے تھے۔

نکاح پڑھاتے ہوئے نکاح خواں کی روح پرواز کر گئی مصری دارلحکومت قاہرہ میں خوشی کی تقریب میں صف ماتم بچھ گئی

(al-Arabia, 12 June, 2015)
12Jun15_AA چل پسے

مصر میں حال ہی میں ایک دُکھی کرنے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب شادی کی مسرتوں بھری تقریب کے دوران عین عقد نکاح کے وقت فرشتہ اجل نے نکاح خوان کو آ لیا اور انہیں خطبہ نکاح بھی مکمل کرنے کی مہلت بھی نہ دی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قاہرہ کے قریب شادی کی ایک تقریب میں نکاح خوان دُلہا اور دلہن کے مابین عقد نکاح کے لیے خطبہ مسنونہ دیتے ہوئے ناگہانی موت کا شکار ہوا اور خوشی کی یہ تقریب ماتم میں تبدیل ہو گئی۔ایک مقامی تنظیم “روضہ بنی سلامہ الخیریہ” کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں تقریب نکاح کے دوران نکاح خوان کو اچانک موت کا شکار ہوتے دکھایا گیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ قاہرہ کے جنوبی علاقے الجیزہ میں پیش آیا۔ویڈیو میں دکھائے گئے نکاح خوان کی شناخت ابراہیم منصور الغدار کے نام سے کی گئی ہے جو ایک مقامی مسجد میں نکاح خوان تھے۔ وہ نماز جمعہ سے فراغت کے بعد بیٹھے اور محلے میں ہونے والی ایک شادی کے نکاح کی تقریب شروع کی۔ دعا کے دوران انہوں نے اپنا ایک ہاتھ سینے پر رکھ کر “اللہ اکبر، اللہ اکبر” کہنا شروع کر دیا اور بیٹھے بیٹھے گر پڑے۔ ان کی موت عارضہ قلب کے باعث ہوئی۔ اس کے بعد شادی کی دیگر تقریبات منسوخ کردی گئی اور تمام لوگ نکاح خوان کی تدفین میں مصروف ہو گئے۔

اے این پی رہنما سینیٹر اعظم ہوتی وفات پاگئے

AzamKhan HotiDU_BU

پشاور:اےاین پی کے سینئر رہنما سینیٹر اعظم خان ہوتی آج طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ ان کی نمازِ جنازہ مردان میں ادا کی جائے گی
اعظم خان ہوتی 5فروری 1971ء میں مردان میں پیدا ہوئے۔ وہ مردان کی معروف شخصیت تھے۔
AKH_02
خیبر پختونخوا میں اے این پی کے گزشتہ دورِ حکومت کے دوران سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کے والد ہونے کی وجہ سے مردان میں بابا کے نام سے مشہور تھے۔
AKH_04
اعظم خان ہوتی میاں محمد نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے پچھلے دونوں ادوار میں مواصلات کے وزیر رہے۔
AKH_05
مرحوم 2012ء میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ اس سے قبل وہ 1993ء میں بھی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
Hoti with wife
اعظم خان ہوتی بیگم نسیم ولی کے بھائی اور اسفندیارولی کے ماموں تھے۔

سانحہ طاہر پلازہ کے 3 مرکزی ملزم گرفتار

14Apr15_DUطاہر پلازہ01DU_BU

کراچی: رینجرز نے کراچی کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے سانحہ طاہر پلازہ کے تین مرکزی ملزموں کو گرفتار کرلیا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق ترجمان رینجرز کے مطابق نو اپریل 2008 کو کراچی سٹی کورٹ کے قریب واقع طاہر پلازہ میں آگ لگانے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کا تعلق ایک سیاسی جماعت سے ہے۔
ملزمان محمد علی قریشی، نعیم اور شمس نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ انہوں نے طاہر پلازہ میں کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی۔ترجمان کے مطابق تفتیش کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سٹی کورٹ کے اطراف کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگائی اور فائرنگ کی جس کی زدمیں آکر متعدد وکیل اور سائلین زخمی ہوئے۔سانحے میں آفتاب عباسی ایڈووکیٹ، دو خواتین رضیہ بتول اور ثوبیہ سمیت چھ افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے، رینجرز ملزمان سے مزید تفتیش کررہی ہے۔

جنسی جرائم میں جینز کا بہت عمل دخل ہے

10Apr15_BBCجنس01BBC_Orig

ایک تحقیق کےمطابق جن افراد کے بھائی جنسی جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ان میں اس طرح کا جرم کرنے کے امکانات پانچ گنا زیادہ ہوتے ہیں۔تحقیق میں کہاگیا ہے کہ جنسی جرائم میں جینز کا اثر کافی زیادہ ہوتا ہے۔سویڈن میں 1973 اور 2009 کے درمیان کی جانے والی اس تحقیق میں 21,566 مردوں کا تجزیہ کیا گیا جن سے جنسی جرائم سرزد ہوئے تھے۔اس تحقیق کے شریک مصنف یونیورسٹی آف آکسفرڈ کے پروفیسر سینا فاضل کہتے ہیں کہ اس تحقیق کے نتائج سے جرم روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔یونیورسٹی آف آکسفرڈ اور سویڈن کے کارولنکسا انسٹیٹیوٹ کے تحقیق کاروں کی طرف سے کی گئی اس تحقیق میں جنسی جرائم کے اس تناسب کو دیکھا گیا جو جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کے بیٹوں یا بھائیوں نے کیے تھے۔اس کے بعد اس کا موازنہ سویڈن میں اسی عمر اور خاندانی پروفائل رکھنے والی عام آبادی سے کیا گیا۔اس سے یہ سامنے آیا کہ جنسی جرائم میں سزا پانے والے 2.5 فیصد افراد کے بھائی بھی یہ جرم مرتکب کر چکے ہیں۔اس تحقیق میں جنسی جرائم میں سزا پانے والوں کے بیٹوں کے ریکارڈ کو بھی دیکھا گیا جس سے سامنے آیا کہ وہ عام سویڈن کے افراد کی نسبت چارگنا زیادہ اس طرح کے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ماضی میں بھی تحقیقی مقالوں میں خاندانی تعلقات اور جرائم کی رغبت کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ایک تحقیق میں کہا گیا کہ پرتشدد جرائم کرنے والے مردوں کے بچے بھی عام بچوں کی نسبت 3.5 گنا زیادہ ایسا جرم کر سکتے ہیں۔پروفیسر فاضل نے کہا کہ حالیہ تحقیق میں ہم نے دیکھا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث ہونے کا کتنا زیادہ اثر پڑتا ہے۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب ہم دو طرح کے بھائیوں کے سیٹ کا تجزیہ کرتے ہیں جن کا خاندانی پس منظر ایک جیسا ہوتا ہے تو اس میں ایک سیٹ میں جنسی جرائم سرزد کرنے کا خدشہ کیوں زیاہ ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے تجزیے سے حکام ممکنہ مجرموں کو پکڑ سکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آج جب ان افراد کا مشاہدہ کیا جاتا ہے جن میں جنسی جرائم مرتکب کرنے کے امکانات زیادہ ہیں تو جینز کے اثرات کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے۔انھوں نے ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ اگرچہ کسی بھی انسان کا ماحول اس کے جنسی جرائم مرتکب کرنے پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن اس کی جینز کا بھی اس خطرے میں 30 سے 50 فیصد تک ہاتھ ہوتا ہے۔لیکن تحقیق کے مصنفین نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اگر کسی کے بھائی یا باپ نے ریپ کیا ہے تو وہ بھی جنسی جرم کرے گا۔کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر نکلاس لینگسٹروم کہتے ہیں کہ یہ ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ اس میں کچھ بھی عارفانہ نہیں۔لوگ اس بات پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ مشکل انسانی رویے میں جینز کا بہت زیادہ حصہ ہوتا ہے۔یقیناً، آپ کسی خودکار روبوٹ کی طرح وراثت میں چیزیں نہیں لیتے کہ آپ بڑے ہو کر جنسی مجرم بن جائیں گے۔

پیغمبرِ اسلام پر ایرانی فلم ریلیز کے لیے تیار

06Apr15_BBCایرانی فلم01BBC_BU

ایران کے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم ساز اور ہدایت کار مجید مجیدی کی تاریخی فلم محمد – خدا کے پیغمبر ایران اور دنیا کےدوسرے ملکوں میں ریلیز کے لیے تیار ہے۔ایران میں بننے والی یہ اب تک کی سب سے مہنگی فلم ہے اور اسے مکمل کرنے میں کئی برس لگے ہیں۔یہ فلم پیغمبرِ اسلام کی زندگی پر بنی ہے اور اسے تین حصوں میں مکمل کیا جائے گا۔جو فلم ریلیز ہونی ہے وہ پہلا حصہ ہے اور اس میں پیغمبرِ اسلام کی پیدائش سے ان کے شام کے پہلے دورے تک کے واقعات کا احاطہ کیاگیا ہے جب ان کی عمر 12 برس تھی اور روایت کے مطابق راستے میں جب ایک عیسائی راہب نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک دن خدا کے نبی بنیں گے۔فلم کی بیشتر شوٹنگ تہران سے کچھ دور واقع ایک پہاڑی علاقے میں کی گئی ہے جہاں چھٹی اور ساتویں صدی کے مکہ اور مدینہ کا ایک وسیع سیٹ تیار کیا گیا۔مجیدی فلم کا کچھ حصہ بھارت میں شوٹ کرنا چاہتے تھے لیکن سابق منموہن سنگھ حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ فلم کا کچھ حصہ جنوبی افریقہ میں فلماياگیا ہے۔ فلم میں سپیشل ایفکٹس کیمرے اور موسیقی کے لیے دنیا کے نامور ماہرین کی مدد لی گئی ہے ۔اس فلم کو ایران کی سرکاری سرپرستی اور منظوری حاصل ہے۔ پیغمبرِ اسلام پر بننے والی اس فلم پر تین کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔مجید مجیدی کا کہنا ہے کہ فلم بین الاقوامی سطح پر کوئی پیفام پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ وہ اس فلم کے ذریعے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہےکہ انھوں نے سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں کے علما سے صلاح و مشورے کے بعد متفقہ پہلوؤں کی بنیاد پر یہ فلم بنائی ہے اور اس کا مقصد اسلام کا اتحاد بھی ہے۔اسلام میں بالخصوص سنی مسلک میں پیغمبرِ اسلام کی تصویر یا شبیہ پیش کرنے کی ممانعت رہی ہے۔ شیعہ مسلک کا تصور سنیّوں کے مقابلے نسبتاً اعتدال پسند رہا ہے۔مجیدی نے اس فلم میں پیغمبرِ اسلام کےبچپن کا کردار ادا کرنے والے کا چہرہ نہیں دکھایا ہے۔ انہیں صرف پشت سے دکھایا گیا ہے اور واقعات کو پیش کرنےمیں دیگر کرداروں کی مدد لی گئی ہے۔06Apr15_BBCایرانی فلم02مجیدی کی ان حساس کوششوں کے باوجود اس فلم کی شروعات سے قبل ہی سنیّوں کے سرکردہ مذہبی ادارے جامعہ الازہر نے اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ یہ فلم بننے کی اجازت نہ دے ۔قطر نے تو یہاں تک اعلان کر دیا کہ وہ خود ایک ارب ڈالرکی مالیت سے پیغمبرِ اسلام پر اپنی ایک فلم بنائے گا۔
سّنی آبادی والے بیشتر عرب ملکوں میں یہ فلم شاید ریلیز نہ ہو۔
اس فلم کی ریلیز پر بھارت اور پاکستان جبیسے ملکوں میں بھی مسلمانوں کے کچھ حلقوں کی طرف سے اعتراض کیے جانے کا پورا امکان ہے۔بہت ممکن ہے کہ حکومت سے اس فلم پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا جائے اوراگر ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو کوئی حیرانی نہیں ہو گی اگر حکومت بدامنی پھیلنے کے نام پر اس فلم کی نمائش پر پابندی بھی لگا دے۔لیکن اس فلم کے خلاف احتجاج مظاہرہ یا اس فلم پر پابندی کا مطالبہ غلط ہو گا۔ اس فلم پر کسی تنازع کا کوئی سبب نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب پیغمبروں پر فلم بنی ہو۔فلم کے ڈائریکٹر مجیدی کا کہنا ہے کہ ’حضرت عیسٰی پر ڈھائی سو فلمیں بن چکی ہیں۔ حضرت موسیٰ پر سو سے زیادہ فلمیں ہیں، دوسرے پیغمبروں پر اسی سے زیادہ فلمیں بنی ہیں جبکہ دی مسیج واحد فلم ہے جو پیغمبرِ اسلام پر بنی ہے اور وہ فلم اسلام کے بارے میں صرف جہاد اور تلوار کا تصور پیش کرتی ہے۔اس لیے دنیا کو پیغمبرِ اسلام سے روشناس کرانے کی یہ ان کی کوشش ہے۔سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں کتابوں، خیالات ، تقریروں اور فلموں پر پابندی بے معنی ہو چکی ہے۔یہ صرف کسی ریاست یا گروپ کی اجتماعی ذہنیت اور تنگ نظری کی عکاس ہو سکتی ہے۔ کسی کتاب، تصور اور فلم سے لاتعلق ہو کر اسے مسترد کیا جا سکتا ہے یا پھر اسی شکل میں اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا ہے۔یہ فلم کسی بھی دوسری فلم کی طرح ایک فلم ہے اور ہر شخص کو اسے دیکھنے یا نہ دیکھنے کی آزادی حاصل ہے۔

ہندو بھی گائے کا گوشت کھاتے تھے

05Apr15_BBCگائے01BBC_BU

لوگوں میں یہ غلط تاثر ہے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی ہیں جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ بالکل ہی بے بنیاد خیال ہے کیونکہ اس کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں ہے۔قدیم ہندوستان کے ویدک ادب میں ایسی کئی شواہد ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس دور میں بھی گائے کے گوشت کا استعمال کیا جاتا تھا۔ جب یگیہ (ایک مذہبی تقریب) ہوتی تھی تب بھی گائے کو قربان کیا جاتا تھا۔اس وقت یہ بھی رواج تھا کہ اگر مہمان آ جائے یا کوئی خاص شخص آ جائے تو اس کے استقبال میں گائے کوذبحہ کیا جاتا تھا۔شادی بیاہ کے رسم میں یا پھر گھر باس (نئے گھر میں آباد ہونے کی رسم) کے وقت بھی گائے کا گوشت کھلانے کا رواج عام ہوا کرتا تھا۔ یہ عہد گپت (تقریبا 550- 320 عیسوی) سے پہلے کی بات ہے۔05Apr15_BBCگائے02

گائے ذبح کرنے پر کبھی پابندی نہیں رہی ہے لیکن پانچویں صدی سے چھٹی صدی عیسوی کے آس پاس چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے وجود میں آنے اور زمین عطیہ کرنے کا رواج عام ہوا۔اسی وجہ سے کاشت کاری کے لیے جانوروں کی اہمیت بڑھتی گئی۔ بطور خاص گائے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ اس کے بعد کی مذہبی کتابوں یہ باتیں سامنے آئیں کہ گائے کو ذبحہ کیوں نہیں کرنا چاہیے۔رفتہ رفتہ گائے کو نہ مارنا ایک نظریہ بن گیا، برہمنوں کا نظریہ۔پانچویں اور چھٹی صدی تک دلِتوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس وقت برہمن مذہبی اصولوں میں یہ بھی ذکر کرنے لگے کہ جو گائے کا گوشت کھائے گا وہ دلِت ہے۔05Apr15_BBCگائے03
اسی دوران اسے قابل تعزِیر بنایا گیا یعنی جس نے گائے کو ذبح کیا اسے کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔پھر بھی ایسی سزا نہیں تھی کہ گو کشی کرنے والے کی جان لی جائے، جیسا کچھ آج لوگ کہہ رہے ہیں۔ لیکن گوکشی کو برہمن کے قتل کے زمرے میں رکھا گیا۔اس کے باوجود اس کے لیے کسی سخت سزا کا قانون نہیں تیار کیا گیا۔سزا کے طور پر صرف اتنا طے کیا گیا کہ گائے کوذبحہ کرنے والے کو برہمنوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔مذہبی کتب میں یہ کوئی بڑا جرم نہیں ہے اس لیے زمانہ قدیم میں اس پر کبھی پابندی نہیں لگائی گئي۔05Apr15_BBCگائے04البتہ اتنا ضرور ہوا کہ مغل بادشاہوں کے دور میں کہ راج دربار میں جینیوں کا عمل دخل رہا اس لیے بعض مخصوص موقعوں پر گائے ذبحہ کرنے پر پابندی رہی۔سارا تنازع 19 ویں صدی میں شروع ہوا جب آریہ سماج کی تشکیل ہوئی اور سوامی دیانند سرسوتی نے ’گوركشا‘ کے لیے مہم چلائی۔اور اس کے بعد ہی یہ امتیاز سامنے آیا کہ جو ‘بیف’ فروخت کرتا اور کھاتا ہے وہ مسلمان ہے۔اسی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی آغاز ہوا۔ اس سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوتے تھے۔ویسے گوونش کی ایک پوجا ہوتی ہے جس کا نام ’گوپاشٹمي‘ ہے۔ اس کے علاوہ گائے کے لیے علیحدہ کوئی مندر نہیں ہوتے۔کہیں کسی نے مندر بنائے ہوں تو یہ الگ بات ہے کیونکہ یہاں مندر تو فلمی ستاروں کے بھی بنائے گئے ہیں۔05Apr15_BBCگائے05اصل سوال یہ ہے کہ ریاست یعنی حکومت کھانے پر اپنا قانون چلا سکتی ہے یا نہیں؟
جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ملک کی اکثریت کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بیف پر پابندی لگانا چاہیے تو آپ انھی میں سے ایک طبقہ کے جذبات کو ٹھیس بھی پہنچا رہے ہیں۔وہیں ایک دوسرے طبقے کے کھانے پینے پر آپ قدغن بھی لگا رہے ہیں ملک میں دلت بیف کھاتے ہیں اور کھلے عام کھاتے ہیں، قبائلی کھاتے ہیں۔جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ میں برہمنوں کو چھوڑ کر باقی سب کھاتے ہیں۔ تمل ناڈو میں بھی ایک بڑا طبقہ ہے جو بیف کھاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت صرف توہمات پر چل رہی ہے۔

چارسدہ میں خواتین اوربچوں سمیت 10افراد کا قتل

05Apr15_DUچارسدہ قتل01DU_BU

چارسدہ میں تنگی کےعلاقے جیندی میں ایک گھر پرنامعلوم افراد کی فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق ہوگئے۔ڈان نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہےکہ حملہ آوروں نےگھرمیں گھس کراندھا دھند فائرنگ کی اور واقعے کے بعد فرار ہو گئے۔فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو نے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ لاشیں تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال تنگی منتقل کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے عزیزوں کے بیان پرابتدائی رپورٹ درج کرلی گئی ہے۔قتولین کےرشتےداروں نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا ہے کہ گھرکے داماد نے رشتے کے تنازع پرفائرنگ کی۔

Iran Congratulates Nigeria on Successful Presidential Election

04Apr15_FarsنائیجیریاFars_BUTEHRAN (FNA)- Iranian Foreign Ministry Spokeswoman Marziyeh Afkham on Saturday congratulated the Nigerian nation and government on peaceful presidential election in the African country.
Afkham also congratulated Muhammadu Buhari on his election as the new Nigerian president.

“Holding calm elections and the respect shown by the presidential candidates to the election results indicates the Nigerian politicians and political parties’ good and praiseworthy grasp of the importance of the situation and priorities of that big country,” Afkham said.

Nigerian opposition candidate Muhammadu Buhari defeated President Goodluck Jonathan in Nigeria’s presidential election few days ago.

Jonathan on Tuesday publicly conceded Buhari’s victory, expressing his gratitude for the opportunity to lead the nation.

“I thank all Nigerians once again for the great opportunity I was given to lead this country and assure you that I will continue to do my best at the helm of national affairs until the end of my tenure,” he said in a statement.

In the recent election, he received more votes in Nigeria’s Northwestern states, hit hardest by the acts of violence committed by Takfiri Boko Haram terrorists. In Borno state, for instance, he won 94 percent of the votes. Many had criticized Jonathan’s handling of the violence.