Category: Elections

بہار انتخابات: لالو پرساد جیت گئے۔ مودی کی بی جے پی ہار گئی

November 08, 201508Nov15_Misc بہار01

08Nov15_Misc بہار04نئی دہلی : ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) کے مخالف لالو پرساد کے (جے یو ڈی) اتحاد نے واضح کامیابی حاصل کر لی۔
نتائج کے مطابق سابق وزیر اعلی نتیش کمار کے اتحاد جنتہ دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، نے جسمیں راشٹریہ جنتہ دل (آر جے ڈی) اور انڈین نیشنل کانگریس شامل ہیں واضح اکثریت سے انتخابات جیت لئے ہیں۔ریاست کی 243 نشستوں کے لیے 5 مرحلوں میں انتخابات ہوئے تھے، پہلا مرحلہ 12 اکتوبر اور آخری مقابلہ 5 نومبر کو ہوا تھا۔بہار کے ریاستی انتخابات ہندوستان کی حکمران جماعت بی جی پی نے اپنی تاریخ کی مہنگی تریم مہم چلائی۔
08Nov15_Misc بہار02رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے الیکشن سے 6 ہفتوں قبل انتخابی مہم شروع کی اور اس
دوران 600 سے زائد جلسے و ریلیاں منقعد کی۔
08Nov15_Misc بہار05

BBCبی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کو بہار میںمودی کی ناکامی قرار دیا جانے لگا ہے کامیابی کی امید تھی، جس سے ایوان بالا میں بی جی پی کو مزید نشستیں ملنے کا امکان تھا، مگر بہار میں بی جی پی کی ناکامی کو نریندی ۔

FirstPost
فرسٹ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی کا ہار جانا نریندی مودی کی ذاتی شکست ہے۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔نتائج کے مطابق بی جے پی کے مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے 178 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ بی جے پی کو 58 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اتحاد نے پہلے کے مقابلے مین 37 نشتیں زیادہ حاصل کی ہیں۔ جبکہ بی جے پی اپنی 36 نشستیں ہاردیں۔بی جے پی دہلی میں عام ادمی کے سے شکست کے بعد بہار میں دوسری بڑی شکست سے دو چار ہوئی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی نیتیش کمار سے رابطہ کرکے کامیابی پر مبارک باد دی۔

ودیا دیوی نیپال کی پہلی خاتون صدر منتخب

October 30, 201530Oct15_BBC نیپال01BBC

نیپال میں پارلیمان نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ودیا دیوی بھنڈاری کو صدر منتخب کر لیا ہے۔
ودیا دیوی صدر کے عہدے پر منتحب ہونے والی دوسری شخصیت ہیں۔ودیا دیوی بھنڈاری، رام باران یادو کی جگہ منتخب ہوئی ہیں جو سنہ 2008 میں نیپال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد منتخب ہونے والے پہلے صدر تھے۔54 سالہ ودیا دیوی بھنڈاری اس وقت نیپال کی حکمران کمیونسٹ جماعت ’یونائیٹڈ مارکسسٹ لینینسٹ‘ کی نائب چئیرمین ہیں۔ودیا دیوی بھنڈاری سنہ 2009 سے 2011 تک وزیر دفاع بھی رہ چکی ہیں۔صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے نیپال میں اقلیتوں اور خواتین کو حقوق دلانے کا وعدہ کیا ہے۔اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں نیپالی پارلیمان نے کے پی شرما اولی کو نیا وزیراعظم منتخب کیا تھا۔بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے مدیر چارلز ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ ودیا دیوی بھنڈاری شرما اولی کی قریبی ساتھی ہیں اور اس مردوں کے معاشرے میں وہ ایک لمبے عرصے تک سیاسی کارکن رہی ہیں۔

اصغر خان کیس: وزیراعظم کا بیان ریکارڈ

October 15, 2015
چودھری نثار علی خان2DU

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اصغر خان کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کروادیا ۔

یاد رہے کہ اصغر خان کیس میں 1990 کے عام انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف اتحاد بنانے کے لئے 14 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ مذکورہ کیس میں پیش رفت ہوگی.تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘اس کیس کے حل ہونے میں سابق فوجی افسران کے بیانات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں’۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اصغر خان کیس سمیت ایف آئی اے کے پاس موجود دیگر کیسز کو منتقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کی اربوں روپے کی جعال سازی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ روز دیئے جانے والے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کیس پر ایف آئی اے کی جانب سے قابل ذکر پیش رفت سامنے آئی ہے۔سابق صدر پرویز مشرف غداری کیس کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اپنا کام مکمل کردیا ہے اور اگر اس میں کوئی تاخیر ہے تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیا جانے والا حکم ہے۔خواجہ آصف سے اختلافات کے حوالے سے کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ان کو ضروری نہیں ہے کہ وہ وزارت دفاع، جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور فوج پر اثر انداز ہوں، نہ ہی ایسا کبھی ماضی میں ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی ضرورت پیش آئے گی۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کے چوہدری نثار سے روابط نہیں ہیں۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ حکومت کا ہی حصہ ہے اور فوج سے رابطے کے لئے زمینی حقائق کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیراعظم کے دورہ امریکا کے ایجنڈے کے حوالے سے کئے جانے والے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’دشمن کی زبان بولنے والے خود ساختہ دوستوں کے خلاف رد عمل سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسسز (را) کی پاکستان میں مداخلت واضح ہے اور ہندوستان کی اسپانسر دہشت گردی کے مسئلے کو امریکی دورے کے دوران اٹھایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان پر ہندوستان میں غیر ریاستی عناصر کو مدد فراہم کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ہندوستان یہ تسلیم کرچکا ہے کہ ان کے ریاستی ادارے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔انھوں نے کہا کہ محرم میں سیکیورٹی کے لئے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ 10،000 فوجی اہلکار اور 6300 پیرا ملٹری اہلکار بھی تعینات کئے جائیں گے۔

سرمایہ جیتے گا (یہان ہر چیز بکتی ہے۔ بولو کیا کیا خریدو گے)۔

October 08, 2015
08Oct15_DU سرمایہDU

پاکستان میں سیاست، سیاسی جماعتیں اور سیاست میں عملی حصہ لینے والے کرداروں میں سے ہر وہ کردار زیادہ بااثر ہو کر اُبھرا جس کی پشت پر سرمائے کی طاقت تھی، اور یہ رجحان گزشتہ ایک دہائی کی سیاست میں مزید تیزی سے سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں رائج سیاسی تصورات میں سرمائے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور اس کا آغاز سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ کی خریداری، جس کو ٹکٹ فیس اور پارٹی ڈونیشن کے جیسے نام دیے جاتے ہیں، سے لے کر انفرادی طور پر سیاسی مہم جوئی میں خرچ ہونے والے پیسوں تک جاری رہتا ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 122 میں ضمنی انتخابات میں دو بڑی سیاسی جماعتیں میدان میں اپنے اپنے تگڑے اُمیدواروں کو اُتار چکی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کا تگڑا اُمیدوار 2013 میں انتخابات جیت کر قومی اسبملی میں اسپیکر کی نشست پر براجمان ہوا اور پاکستان تحریکِ انصاف کے موجودہ اُمیدوار عبد العلیم خان اسی حلقے سے مسلم لیگ ق کے دور میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ حلقہ ان دونوں اُمیدواروں کا آبائی سیاسی حلقہ ہے اور تین ہفتوں سے جاری انتخابی مہم کو دیکھ کر بہت سے حقائق واضح ہوئے ہیں۔ سیاست میں پیسے کی چمک کس طرح سے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کا عملی مظاہرہ اس حلقے میں ضمنی انتخاب کی تیاری سے ہوتا ہے۔لاہور کے علاقے دھرم پورہ سے لے کر گڑھی شاہو، شادمان، اچھرہ، ریلوے اسٹیشن، اپر مال روڈ تک جگہ جگہ پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ نواز کے اُمیدواروں کے بڑے بڑے بینرز، فلیکس، پوسٹرز، گاڑیوں پر اشتہارات، رکشوں کی پشت پر رہنماؤں کی تصاویر سے لے کر گلی محلوں میں کھلنے والے ایک ایک دفتر میں ہونے والے تمام اخراجات اُمیدوار براہ راست خود برداشت کر رہے ہیں۔اس وقت لاہور کا یہ حلقہ سیاسی گہما گہمی کا مرکز اور رنگ برنگی تصویروں سے سجا ہوا ہے لیکن اس سجاوٹ کے پیچھے وہ سرمایہ ہے جو ان اُمیدواروں کی جیب سے خرچ ہو رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکن سیاسی دفاتر کھولیں تو ان دفاتر کے لیے کرایہ، کُرسیوں کی خریداری اور روز مرہ کی بنیاد پر دس ہزار روپے چائے پانی کا خرچ بھی اُمیدواروں کی جیب سے ہی ادا ہو رہا ہے۔مجھے انتہائی معزز شخصیات نے ایک امیدوار کے حوالے سے براہ راست بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص سات ووٹوں کی یقین دہانی کروائے گا تو اُسے ایک موٹر بائیک بھی اُمیدوار کی جانب سے خرید کر تحفے میں دی جائے گی بشرطیکہ اگر وہ جیتا۔ سرمائے کی طاقت نے ووٹوں کو خریدنے کا عمل صرف یہیں تک نہیں محدود رکھا بلکہ حلقے میں خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے والے ووٹرز کے گھروں کا راشن پانی بھی انہیں اُمیدواروں کی جیب سے جا رہا ہے۔غربت کا سیاسی استحصال کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کہ انہیں چند ہزار روپوں کے عوض خرید کر جیتنے کی راہ ہموار کی جائے۔ سیاسی میدان میں جیت کے لیے اُمیدوار کسی مقصد کے تحت یہ کروڑوں روپے حلقے میں ووٹرز پر نچھاور کرتا ہے، لیکن ہمارا بے شعور ووٹر ابھی اس کو سمجھنے سے عاری ہے۔حکمران سیاسی جماعت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو نوکری کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ سرمائے کی طاقت کی بناء پر غریبوں کی غربت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سیاسی جنگ کو سرمائے کی چمک نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ لاہور کے اس ضمنی انتخاب کو حکمران جماعت نے اپنی سیاسی زندگی اور سیاسی موت تصور کر رکھا ہے اور اس کے لیے حکومتی وسائل بھی بھرپور طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز خود اس حلقے میں سیاسی مہم جوئی کرنے کے لیے کودے ہیں اور ان کے ساتھ سرکار کا تعلقات عامہ کا شعبہ بھی متحرک ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ وفاق سے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور لاہور میں موجود تمام ممبرانِ قومی اسمبلی کو بھی یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ حلقے میں متحرک ہوں جس کے لیے یہ تمام موصوف سرکاری فنڈز اور وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ حکمران جماعت نے اپنی طاقت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حلقے کی تمام سیاسی مہم جوئی کو پاکستان ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھانے کا ٹھیکہ بھی لے لیا ہے، لیکن یہ ٹھیکہ بلامعاوضہ ہے کیونکہ سارے اخراجات عوامی ٹیکسوں سے ہی پورے کیے جائیں گے۔سرمائے کی طاقت کے بل بوتے پر لڑے جانے والے اس انتخاب میں سیاسی نظریات کی موت ہو چکی ہے اور نظریہ ضرورت ہی سکہء رائج الوقت ہے۔ تگڑا سیاسی پہلوان وہی ہے جس کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہے اور وہ اس پیسے سے ووٹرز کی وقتی ضروریات کو پورا کرنے کی سکت رکھتا ہے۔

اس ساری سیاسی مہم جوئی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جمہوری حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کو غربت کی لعنت اور بے روزگاری کی مصیبت میں مبتلا رکھیں کیونکہ یہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ جمہوریت جمہور میں سے اُن افراد کے مجموعے پر مشتمل ہے جو سرمائے کی طاقت رکھتے ہیں، جمہوریت کے نام پر ووٹوں کو اس انداز میں خریدنے کا تعلق بھی معاشی طاقت سے ہے۔سیاسی جماعتوں کی اسی حکمت عملی کی بناء پر اس جمہوریت کو سرمایہ دارانہ جمہوریت ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے، اور برحق دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جمہور، یعنی غریب اور متوسط طبقے کی نمائندگی صنعت کاروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا وہ ٹولہ کر رہا ہے جس نے جمہوریت کے نام پر اس ملک کے عوام کو غربت، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی، سماجی انتشار، بھوک اور قتل و غارتگری کے سوا کچھ نہیں دیا۔

لاہور ضمنی الیکشن کیلئے تیاریاں عروج پر

October 05, 2015
05Oct15_DU ضمنی01DU

لاہور: لاہور کے حلقہ این اے-122 میں 11 اکتوبر کو ہونے والا ضمنی الیکشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے اور دونوں پارٹیوں کی پوری توجہ اس وقت اس حلقے پر مرکوز ہو چکی ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار سردار ایاز صادق 2013ء کے عام انتخابات میں کامیاب قرار پائے تھے تاہم ان کے مخالف امیدوار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ان کی کامیابی کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کر دیا تھا۔جس پر 2 سال بعد رواں برس ہفتہ 22 اگست کو ٹریبونل نے فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ اس حلقے میں دوبارہ انتخابات منعقد کروائے۔اتوار کو عمران خان نے یہاں سمن آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ضمنی الیکشن میں دھاندلی روکنے کی موثر حکمت عملی تیار کر لی ہے.انہوں نے الزام لگایا کہ ن-لیگ نے خواتین کے پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کا منصوبہ بنایا ہے لیکن اس دفعہ پی ٹی آئی دھاندلی روکنے کے لیے پہلے سے بہتر تیاری کرے گی۔

عمران خان نے ایک بار پھر ن لیگ کی حکومت کو دھاندلی کی پیداوارقرار دیتے ہوئے کہا ’عجیب نظام ہے جہاں لوگ تحریک انصاف کےساتھ ہیں مگر انتخابات ن لیگ جیت جاتی ہے‘۔ان کا کہنا تھا، ’جنہوں نے پہلے دھاندلی کی اب وہی دوبارہ الیکشن کر وا رہے ہیں‘۔پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ چوہدری محمد سرور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو دھاندلی روکنے کی تربیت دے رہے ہیں۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ پولنگ کے بعد ووٹوں کے تھیلے لے کر جانے والی گاڑی میں بھی فوجی تعینات ہونا چاہیے جبکہ تحریک انصاف کے کارکن بھی ریٹرننگ افسران کی گاڑی کے پیچھے جائیں گے۔

حکومت کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعووں سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا، ’نوازشریف نے 2017 تک لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تاہم نیپرا کے مطابق لوڈشیڈنگ 2020 سے پہلے ختم نہیں ہوگی‘۔ان کا کہنا تھا،’عوام پینے کے پانی کو ترس رہی ہے لیکن حکومت اربوں روپے میٹرو بس اور میٹرو ٹرین پر لگارہی ہے۔‘پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبر فیصلے کا دن ہوگا اور این اے-122 کے عوام اِس دن دھاندلی کو شکست دیں۔اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد نے جلسے سے خطاب میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں زلزلے آنے والے ہیں۔پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبرکو ان کا شیر سے نہیں بلکہ گیڈر سے مقابلہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد

مسلم لیک ن کا جھنڈا
DU

لاہور: ملک کی سات بڑی اپوزیشن جماعتوں نے، جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی شامل ہے، پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک دوسرے کی حمایت اور ضلعی سطح پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے ضلعی عہدیداران کو مسلم لیگ (ن) کے خلاف سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہدایات بھی کردی گئی ہیں.گزشتہ روز ایک اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمے، کسانوں کے مسائل کے حل، شفاف الیکشن اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف فوج کے جاری آپریشن کو سراہتے ہوئے اس کی حمایت بھی کی۔

اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پی ٹی آئی پنجاب کے آرگنائزر چوہدری سرور، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو، جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ، پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سیکریٹری جنرل نواز گنڈا پور، مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری جنرل راجہ نثار عباس، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل پیر اعجاز ہاشمی اور سنی اتحاد کونسل کے نمائندے بھی شامل تھے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذمہ دار چاروں صوبوں کے موجودہ صوبائی الیکشن کمشنرز کو لازمی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے پر قسم کے لائحہ عمل کے حوالے سے اتفاق کیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دھاندلی کی منصوبہ سازی کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے۔چوہدری سرور نے مزید کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) صوبائی الیکشن کمشنرز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیتی ہے تو پی ٹی آئی ان کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران جماعت نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس موقع پر منظور وٹو نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے معاشرے کے پسماندہ طبقات کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔پی پی پی پنجاب کے صدر نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کو فی کس 2 کروڑ روپے ادا کررہی ہے تاکہ وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکیں اور یہ دھاندلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔

ن لیگ کا این اے-122، این اے-154 میں ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان

27 August, 2015
پرویز رشید، وزیر اطلاعات
DU

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نواز نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کے حلقوں این اے-122 اور این اے-154 میں ضمنی انتخابات لڑنے کا اعلان کردیا۔
ریڈیو پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو سردار ایاز صادق کیخلاف این اے-122 لاہور سے ضمنی انتخاب لڑنے کی دعوت دی جبکہ انہوں نے جہانگیر ترین کو بھی این اے-154 میں انتخاب لڑنے کی دعوت دی۔اسلام آباد میں جماعت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترقی اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ان کی پارٹی ان حلقوں میں حکم امنتاعی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ن لیگ صرف ایک تھرڈ امپائر کو جانتی ہے اور وہ عوام ہیں، ان کی جماعت انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتی۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ این اے-122 سے ن لیگ کے امیدوار ایاز صادق ہوں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایاز صادق کے وکیل ملک سے باہر ہیں، الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی تاہم اس سلسلے میں حکم امتناع کے لیے کوشش نہیں کی جائے گی۔پرویز رشید نے کہا کہ ن لیگ نے اب تک پی ٹی آئی کو تمام ضمنی انتخابات میں شکست دی ہے اور آئندہ آنے والے ضمنی انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوگا۔خیال رہے کہ یہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب گزشتہ روز این اے-154 لودھراں پر الیکشن ٹریبونل نے اپنا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں دیا اور حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دے دیا۔اس سے قبل خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق کے خلاف بھی ایسا ہی فیصلہ آچکا ہے۔ٹریبونل نے تینوں حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا حکم دیا ہے۔

!جنوبی یمن کے سیاست دانوں کی لاٹری نکل آئی

04 August, 2015
04Aug15_AA جنوبی یمنal-Arabia

سیاسی حالات نے جنوبی یمن کو سیاسی فوقیت دلوا دی یمن میں اس وقت ایک طرف حوثی باغی اور ان کے ہمراہ سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیا لڑ رہی ہے اور دوسری جانب آئینی حکومت کی بحالی کے لیے فوج اور اس کی حامی مزاحمتی ملیشیا کی پیش قدمی جاری ہے۔
اس وقت یمنی مزاحمتی قوتوں نے ملک کے جنوبی حصے عدن کے بیشتر علاقوں کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔ نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار عدن واپس آ چکے ہیں۔
یمن جغرافیائی اعتبار سے دو بڑے حصوں شمالی اور جنوبی میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ملک کے اعلیٰ عہدوں پر بیشتر جنوبی یمن کی قیادت فائز ہے۔ صدر عبد ربہ منصور ھادی اور وزیراعظم خالد بحاح سمیت کئی اہم شخصیات کا تعلق جنوبی یمن سے ہے۔ چند ماہ قبل جب یمن میں مفاہمتی مذاکرات کے ذریعے سیاسی بحران کے حل کی کوشش کی گئی تھی تو اس وقت اعلیٰ عہدیوں پر تعیناتی کے حوالے سے ایک نیا فارمولہ طے پایا تھا۔ اس فارمولے کے تحت جنوبی یمن سے دو اور شمالی یمن سے ایک اہم شخصیات کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں میں سے ایک دیا جائے گا۔ عہدیداروں کی تقسیم علاقائی اور جغرافیائی بنیادوں پر نہیں تھی بلکہ سیاسی حالات نے ایسی فضاء پیدا کر دی تھی۔ انہی تقرریوں میں انجینیر حیدر العطاس، ڈاکٹر احمد عبید بن دغر اور عبدالعزیز جباری شامل ہیں جو جنوبی یمن کے باشندے ہونے کے باوجود عوامی جمہوریہ یمن کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

حیدرالعطاس
انجینیر حیدر العطاس ایک دیرینہ سیاسی رہ نما اور جنوبی یمن کے سرکردہ لیڈر ہیں۔ وہ 1994ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنھبالنے سے قبل بھی پارلیمنٹ کے اسپیکر، کئی کمیٹیوں کے چیئرمین سمیت متعدد اعلیٰ ریاستی عہدوں پر تعینات رہے۔ 1994ء کی یمن میں علاحدگی کی جنگ کے بعد حید العطاس واپس جنوبی یمن لوٹ گئے۔ 1997ء میں 16 دیگر اہم شخصیات سمیت ان پر غداری کامقدمہ چلایا گیا اور ان کی عدم موجودگی میں انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ وہ وقت اور آج تک وہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کے سخت مخالف رہے۔ العطاس جنوبی یمن کو شمالی حصے سےعلاحدہ کرنے کے پر زور حامی تھے اور وہ جنوبی یمن کو عوامی جمہوریہ یمن قرار دلوانا چاہتے تھے۔ان کی سیاسی بصیرت کو دیکھتے ہوئے انہیں صدر عبد ربہ منصور ھادی کا مشیر خاص مقرر کیا گیا۔ یہ تعینات جنوبی اور شمالی یمن کے درمیان مفاہمت کی فضاء ہموار کرنے کی ایک کوشش ہے۔

احمد عبید بن دغر
ڈاکٹر احمد عبید بن دغر منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انہیں بھی صدر ھادی کا میشر مقرر کیا گیا۔ حیدر العطاس کی طرح ڈاکٹر دغر بھی ایک دیرینہ اور کہنہ مشق سیاست دان ہیں۔
جہاں تک العطاس کا تعلق ہے تووہ ماضی میں متنازع شخصیت رہے ہیں۔ ان پر ملک کو توڑںے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سزائے موت بھی سنائی گئی تاہم بعد ازاں عدالت نےان کی پھانسی کی سزا ختم کر دی تھی۔ سنہ 2000ء میں وہ دوبارہ علی صالح کے چرنوں میں جا بیٹھے اور نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب صدر قرار پائے۔ سنہ 2011ء میں جب علی صالح کے خلاف عوامی بغاوت نے سر اٹھایا تو حیدر العطاس ان کے پرزور حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔

شمالی یمن کا اکلوتا امیدوار
صدر عبد ربہ منصور ھادی کے ایک تیسری مشیر عبدالعزیز جباری ہیں۔ ان کا تعلق شمالی یمن سے ہے۔ وہ پیپپلز کانگریس کی ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے رکن بھی منتخب ہوچکے ہیں۔ ان کا آبائی تعلق شمالی یمن کے ذمار شہر سے ہے۔ شمالی یمن سے صدر کے مشیر منتخب ہونے والوں میں وہ اکلوتی شخصیت ہیں۔ یمنی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ھادی کے اہم مشیروں کی تعیناتی میں جنوبی اور شمالی یمن کا سیاسی بنیادوں پر فرق نہیں رکھا گیا بلکہ موجودہ حالات میں اس سے بہتر اور فیصلہ نہیں ہو سکتا تھا۔ جنوبی یمن سے زیادہ عہدیداروں کو لینے کا مقصد ملک میں مفاہمت کی فضاء کوقائم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
ماضی میں عبدالعزیز جباری صدر منصور ھادی کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے حوثی باغیوں کے خلاف بھی کھل کر آواز بلند کی۔ سنہ 2012ء میں الجباری نے ملک میں انصٓف اور ترقی پارٹی کی بنیاد رکھی اور خود اس کے سیکرٹری جنرل بنے۔ یہ ایک سیکولر جماعت ہے اس کےموجودہ ارکان کی اکثریت ماضی میں علی عبداللہ صالح کے ساتھ رہ چکی ہے۔

انتخابی ‘ بدانتظامی’ کا ذمہ دار کون؟

(Dawn Urdu, 12 June, 2015)
12Jun15_DUپی ٹی ٓئی

یہ پاکستان تحریک انصاف کی تنہا سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوسکتی تھی جو اسے آگے بڑھنے میں مدد دتی مگر خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات حکمران جماعت کے لیے سب سے بڑی شرمندگی میں تبدیل ہوگئے۔ حزب اختلاف جس نے 2013 کے انتخابات میں شکست کا منہ دیکھا تھا اور اب تک عمران خان کی پی ٹی آئی کے ہاتھوں سے شرمناک شکست کے اثر سے باہر نہیں نکل سکی تھی، اس سے بہتر موقع کی توقع کرہی نہیں سکتی تھی جو بلدیاتی انتخابات میں عظیم ترین بدانتظامیوں کی شکل میں ملا جس کے نتیجے میں کئی جانیں گئیں، انتشار پھیلا اور دھاندلی کے الزامات سامنے آئے۔ اس زخم کی تکلیف میں مزید اضافہ پی ٹی آئی کی دو اتحادی جماعتوں، جماعت اسلامی اور سنیئر وزیر شہرام ترکئی کی عوامی جمہوری اتحاد نے کیا جنھوں نے اس شور میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی گریہ زاری شروع کردی۔ جے آئی تو ایک قدم آگے بڑھ گئی اور اس نے براہ راست پی ٹی آئی پر ہی دھاندلی اور انتخابی نتائج میں ردوبدل کا الزام عائد کردیا۔ پی ٹی آئی پورے خیبر پختونخوا میں واحد بڑی جماعت کے طور پر ابھر جبکہ اپوزیشن جماعتیں اے این پی، جے یو آئی ایف اور مسلم لیگ ن نے بھی 2013 کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر بلدیاتی انتخابات کے نتائج، جس پر اپوزیشن احتجاج کررہی ہے اور پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتیں دھاندلی کے الزامات عائد کررہی ہیں، درحقیقت پارٹی کی مقبولیت کے عوامی تصور سے میل کھاتے ہیں۔ تاہم دھاندلی کے الزامات اور تشدد کے خلاف ماتم کے اونچے سر اور اپنے اتحادیوں کی جانب سے آنے والوں آوازوں کو دیکھتے ہوئے پی ٹی آئی نے فوری طور پر الزامات کی انگلی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب اٹھا دی۔ ای سی پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ مطلوبہ سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی۔ ٹھیک ہے ای سی پی کو گنجائش کے مسائل کا سامنا ہے مگر جب اس نے ملک گیر سطح پر انتخابات کا انعقاد کیا، اگرچہ اس کے اختتام پر لگ بھگ اسی قسم کی خامیوں کا وادیلا مچا اور وہ بھی کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ غلطیاں زیادہ بڑی نہیں، دیگر مسائل بشمول کہ اس سطح کے انتخابات ایک دن میں ہونے چاہئے یا نہیں، وہ اتنے بڑے نہیں کہ اتنے بڑے ہنگامے کا باعث بن جائیں۔ مسئلہ کسی اور چیز میں چھپا ہوا ہے۔ سچ حکومت کے اندرونی دستاویزات اور ضلعی ریٹرننگ افسران کے جمع کردہ خطوط میں چھپا ہوا ہے۔ یہ بات حکمران پی ٹی آئی کے لیے بالکل واضح ہے کہ ان انتخابات کا ضلعی انتظامیہ کے تحت انعقاد جسے سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر پولیس کا تعاون حاصل تھا، پوری مشق کو سوالیہ نشان بناتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ پولیس کو 350 ملین روپے انتخابات کے دن سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے دیئے گئے اور فورس نے اپنے اہلکاروں کی تعیناتی کا پلان بھی مرتب کیا جس میں انتہائی حساس، حساس اور عام پولنگ اسٹیشنز پر ضلعی انتظامیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے تجزیوں کی بنیاد پر اہلکاروں کی تعیناتی کی شرح دی گئی۔ تاہم تعینات پولیس اہلکاروں کی تعداد ضرورت کے مطابق کم تھی۔ حکومت کے ایک اندرونی تجزیے سے انکشاف ہوتا ہے کہ وادی پشاور کے تمام پانچ اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان اور صوابی میں تعینات پولیس اہلکاروں کی تعداد مجوزہ منصوبے سے 25 فیصد کم تھی، یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنی کثیر الجماعتی کانفرنس کے دوران کیا۔ یہ وہ اضلاع ہیں جہاں تشدد اور دھاندلی کے واقعات کا شور بلند ہوا، پولیس یا تو صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی یا محض راہ گیر کا کردار ادا کرتی رہی۔ ڈپٹی کمشنرز جو کہ ضلعی ریٹرننگ افسران کا کام بھی کررہے تھے، اپنے کام کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہے اور وزیراعلیٰ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں ایک ڈپٹی کمشنر کی کوتاہیوں کی جانب نشاندہی کرتے ہیں جس کا نتیجہ اس کے خلاف فوجداری مقدمے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ اگر وہان خامیاں تھیں، اگر عملہ ناکافی اور غیر تربیت یافتہ تھا اور اگر بیلٹ پیپرز کم پڑگئے یا بروقت پہنچ نہیں سکے، یا اگر سیلز یا نشانات گمشدہ تھے تو ضلعی ریٹرننگ افسران کو ان مسائل کو ای سی پی کے علم میں لانا چاہئے تھا۔ اس کے برعکس ایک بڑے ضلع کے ضلعی ریٹرننگ افسر پولنگ کے روز سوتے ہوئے پائے گئے اور اعلیٰ صوبائی انتظامیہ کو متعدد فون کالز کرکے انہیں تلاش کرنا اور صبح گیارہ بجے اٹھانا پڑا۔ ایسے الزامات ہیں کہ حساس حلقوں میں نشانات دس ہزار روپے فی پیس فروخت ہوئے جبکہ امیدوارون اور بیلٹ پیپرز کی نقول پچیس سے ساٹھ ہزار روپے میں دستیاب تھیں، جبکہ عملے کو ان کی درخواست پر تعینات کیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ تیکنیکی طور پر ضلعی ریٹرننگ افسران ای سی پی کے تھت تھے مگر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ڈپٹی کمشنرز بھی تھے جو دباﺅ کے سامنے کمزور ثابت ہوئے۔ کے پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک تسلیم کرتے ہیں ” یہ ماننا پڑے گا کہ انتخابات میں بدانتظامی ہوئی ہے اور ایسا ایک وجہ سے ہوا کہ انتخابی عمل کے لیے کوئی تیاریاں نہیں تھیں اور کوئی انتظامیہ موجود نہیں تھی”۔ ان کا مزید کہنا تھا “ای سی پی کی جانب سے بھی غلطیاں ہوئیں مگر ضلعی ریٹرننگ افسران کی جانب سے بھی غلطیاں ہوئین جو کہ ڈپٹی کمشنرز بھی تھے، ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور اس پر ایکشن لیں گے”۔ وزیراعلیٰ غنڈا گردی اور تشدد کا الزام اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر اے این پی کے سر پر رکھتے ہیں ” یہ سب پہلے سے کی گئی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے”۔ مگر یہ انتخابات جن کے بارے میں ڈھنڈورا پیٹا جارہا تھا کہ یہ عوام کو اختیارات دینے اور نچلی سطح پر انقلاب دینے کے لیے ہے اور جس کا انعقاد باریک بینی سے تیار کردہ قانون کے ذریعے ہوا، شرمندگی میں تبدیل ہوگئے۔ انتخابی عمل نے پی ٹی آئی کے شفاف چہرے کو دھندلا دیا، جو اگرچہ ابتدا میں الزمات لگانے کے موڈ میں تھی، تاہم اس نے فوری طور پر عدلیہ یا فوج کی زیرنگرانی دوبارہ انتخابات کی پیشکش کردی۔ اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے اپوزیشن نے کچھ زیادہ ہی جوش میں یہ الزامات لگائے کہ حکومت حکمرانی کے لیے اپنی اخلاقی اتھارٹی سے محروم ہوچکی ہے اور اس کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جانے لگا، جو کہ پی ٹی آئی کے اپنے مطالبے کی بازگشت ہے جو انہوں نے اسلام آباد میں کنٹینر کے اوپر وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ مانگتے ہوئے کیا۔ اے این پی کے رہنماءمیاں افتخار حسین کہتے ہیں ” پی ٹی آئی نے ایک چیونگم کو چبالیا ہے، یہ سب روایتی بیانات ہیں اور اس کی جانب سے کسی نئی چیز کی پیشکش نہیں کی گئی”۔ تو کیا یہی وجہ ہے جس نے اپوزیشن کو سخت گیر مﺅقف اپنانے پر مجبور کیا؟ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کی بدزبانیوں کا طریقہ کار مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ افتخار حسین کے مطابق ” پی ٹی آئی بتدریج ایک فاشسٹ پارٹی کی شکل میں ڈھل رہی ہے اور ہم فکر مند ہیں کہ اگر ہم نے اس کی آمرانہ پالیسیوں پر ابھی بریک نہیں لگائے تو دیگر سیاسی جماعتوں کی بقاءداﺅ پر لگ جائے گی”۔ وہ اصرار کرتے ہیں ” کیا ہم نے دباﺅ نہیں ڈالا، میرا نہیں خیال کہ پی ٹی آئی نے نئے انتخابات کی پیشکش کی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان پر اعتماد کرسکتے ہیں؟ نہیں ہم نہیں کرسکتے”۔ بظاہر یا تو اپوزیشن جماعتیں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو کچھ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کررہی ہین تاکہ پرویز خٹک کی حکومت کے استعفے کے لیے پچ تیار کی جاسکے یا وہ سیدھے سادے انداز سے پرانی سیاست کا کھیل، کھیل رہی ہے تاکہ حکمران اتحاد کے اقتدار کے باقی ماندہ عرصے کو خراب کیا جاسکے۔مگر بدھ کی شٹرڈاﺅن ہڑتال کا نتیجہ اگر کچھ سامنے آیا ہے تو وہ یہ ہے کہ کے پی کے عوام جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشتگردی، خونریزی اور احتجاجی سیاست سے متاثر رہے ہیں، وہ اس طرح کی کالز پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں، کم از کم ابھی تو بالکل نہیں۔