Category: Elections

بہار انتخابات: لالو پرساد جیت گئے۔ مودی کی بی جے پی ہار گئی

November 08, 201508Nov15_Misc بہار01

08Nov15_Misc بہار04نئی دہلی : ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) کے مخالف لالو پرساد کے (جے یو ڈی) اتحاد نے واضح کامیابی حاصل کر لی۔
نتائج کے مطابق سابق وزیر اعلی نتیش کمار کے اتحاد جنتہ دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، نے جسمیں راشٹریہ جنتہ دل (آر جے ڈی) اور انڈین نیشنل کانگریس شامل ہیں واضح اکثریت سے انتخابات جیت لئے ہیں۔ریاست کی 243 نشستوں کے لیے 5 مرحلوں میں انتخابات ہوئے تھے، پہلا مرحلہ 12 اکتوبر اور آخری مقابلہ 5 نومبر کو ہوا تھا۔بہار کے ریاستی انتخابات ہندوستان کی حکمران جماعت بی جی پی نے اپنی تاریخ کی مہنگی تریم مہم چلائی۔
08Nov15_Misc بہار02رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے الیکشن سے 6 ہفتوں قبل انتخابی مہم شروع کی اور اس
دوران 600 سے زائد جلسے و ریلیاں منقعد کی۔
08Nov15_Misc بہار05

BBCبی بی سی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کو بہار میںمودی کی ناکامی قرار دیا جانے لگا ہے کامیابی کی امید تھی، جس سے ایوان بالا میں بی جی پی کو مزید نشستیں ملنے کا امکان تھا، مگر بہار میں بی جی پی کی ناکامی کو نریندی ۔

FirstPost
فرسٹ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی کا ہار جانا نریندی مودی کی ذاتی شکست ہے۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔نتائج کے مطابق بی جے پی کے مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے 178 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ بی جے پی کو 58 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اتحاد نے پہلے کے مقابلے مین 37 نشتیں زیادہ حاصل کی ہیں۔ جبکہ بی جے پی اپنی 36 نشستیں ہاردیں۔بی جے پی دہلی میں عام ادمی کے سے شکست کے بعد بہار میں دوسری بڑی شکست سے دو چار ہوئی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی نیتیش کمار سے رابطہ کرکے کامیابی پر مبارک باد دی۔

Advertisements

ودیا دیوی نیپال کی پہلی خاتون صدر منتخب

October 30, 201530Oct15_BBC نیپال01BBC

نیپال میں پارلیمان نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ودیا دیوی بھنڈاری کو صدر منتخب کر لیا ہے۔
ودیا دیوی صدر کے عہدے پر منتحب ہونے والی دوسری شخصیت ہیں۔ودیا دیوی بھنڈاری، رام باران یادو کی جگہ منتخب ہوئی ہیں جو سنہ 2008 میں نیپال میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد منتخب ہونے والے پہلے صدر تھے۔54 سالہ ودیا دیوی بھنڈاری اس وقت نیپال کی حکمران کمیونسٹ جماعت ’یونائیٹڈ مارکسسٹ لینینسٹ‘ کی نائب چئیرمین ہیں۔ودیا دیوی بھنڈاری سنہ 2009 سے 2011 تک وزیر دفاع بھی رہ چکی ہیں۔صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے نیپال میں اقلیتوں اور خواتین کو حقوق دلانے کا وعدہ کیا ہے۔اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں نیپالی پارلیمان نے کے پی شرما اولی کو نیا وزیراعظم منتخب کیا تھا۔بی بی سی کے جنوبی ایشیا کے مدیر چارلز ہیویلینڈ کا کہنا ہے کہ ودیا دیوی بھنڈاری شرما اولی کی قریبی ساتھی ہیں اور اس مردوں کے معاشرے میں وہ ایک لمبے عرصے تک سیاسی کارکن رہی ہیں۔

اصغر خان کیس: وزیراعظم کا بیان ریکارڈ

October 15, 2015
چودھری نثار علی خان2DU

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اصغر خان کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کروادیا ۔

یاد رہے کہ اصغر خان کیس میں 1990 کے عام انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف اتحاد بنانے کے لئے 14 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ مذکورہ کیس میں پیش رفت ہوگی.تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘اس کیس کے حل ہونے میں سابق فوجی افسران کے بیانات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں’۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اصغر خان کیس سمیت ایف آئی اے کے پاس موجود دیگر کیسز کو منتقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کی اربوں روپے کی جعال سازی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ روز دیئے جانے والے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کیس پر ایف آئی اے کی جانب سے قابل ذکر پیش رفت سامنے آئی ہے۔سابق صدر پرویز مشرف غداری کیس کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اپنا کام مکمل کردیا ہے اور اگر اس میں کوئی تاخیر ہے تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیا جانے والا حکم ہے۔خواجہ آصف سے اختلافات کے حوالے سے کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ان کو ضروری نہیں ہے کہ وہ وزارت دفاع، جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور فوج پر اثر انداز ہوں، نہ ہی ایسا کبھی ماضی میں ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی ضرورت پیش آئے گی۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کے چوہدری نثار سے روابط نہیں ہیں۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ حکومت کا ہی حصہ ہے اور فوج سے رابطے کے لئے زمینی حقائق کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیراعظم کے دورہ امریکا کے ایجنڈے کے حوالے سے کئے جانے والے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’دشمن کی زبان بولنے والے خود ساختہ دوستوں کے خلاف رد عمل سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسسز (را) کی پاکستان میں مداخلت واضح ہے اور ہندوستان کی اسپانسر دہشت گردی کے مسئلے کو امریکی دورے کے دوران اٹھایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان پر ہندوستان میں غیر ریاستی عناصر کو مدد فراہم کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ہندوستان یہ تسلیم کرچکا ہے کہ ان کے ریاستی ادارے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔انھوں نے کہا کہ محرم میں سیکیورٹی کے لئے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ 10،000 فوجی اہلکار اور 6300 پیرا ملٹری اہلکار بھی تعینات کئے جائیں گے۔

سرمایہ جیتے گا (یہان ہر چیز بکتی ہے۔ بولو کیا کیا خریدو گے)۔

October 08, 2015
08Oct15_DU سرمایہDU

پاکستان میں سیاست، سیاسی جماعتیں اور سیاست میں عملی حصہ لینے والے کرداروں میں سے ہر وہ کردار زیادہ بااثر ہو کر اُبھرا جس کی پشت پر سرمائے کی طاقت تھی، اور یہ رجحان گزشتہ ایک دہائی کی سیاست میں مزید تیزی سے سامنے آیا ہے۔ پاکستان میں رائج سیاسی تصورات میں سرمائے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور اس کا آغاز سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ کی خریداری، جس کو ٹکٹ فیس اور پارٹی ڈونیشن کے جیسے نام دیے جاتے ہیں، سے لے کر انفرادی طور پر سیاسی مہم جوئی میں خرچ ہونے والے پیسوں تک جاری رہتا ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 122 میں ضمنی انتخابات میں دو بڑی سیاسی جماعتیں میدان میں اپنے اپنے تگڑے اُمیدواروں کو اُتار چکی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کا تگڑا اُمیدوار 2013 میں انتخابات جیت کر قومی اسبملی میں اسپیکر کی نشست پر براجمان ہوا اور پاکستان تحریکِ انصاف کے موجودہ اُمیدوار عبد العلیم خان اسی حلقے سے مسلم لیگ ق کے دور میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ یہ حلقہ ان دونوں اُمیدواروں کا آبائی سیاسی حلقہ ہے اور تین ہفتوں سے جاری انتخابی مہم کو دیکھ کر بہت سے حقائق واضح ہوئے ہیں۔ سیاست میں پیسے کی چمک کس طرح سے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، اس کا عملی مظاہرہ اس حلقے میں ضمنی انتخاب کی تیاری سے ہوتا ہے۔لاہور کے علاقے دھرم پورہ سے لے کر گڑھی شاہو، شادمان، اچھرہ، ریلوے اسٹیشن، اپر مال روڈ تک جگہ جگہ پاکستان تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ نواز کے اُمیدواروں کے بڑے بڑے بینرز، فلیکس، پوسٹرز، گاڑیوں پر اشتہارات، رکشوں کی پشت پر رہنماؤں کی تصاویر سے لے کر گلی محلوں میں کھلنے والے ایک ایک دفتر میں ہونے والے تمام اخراجات اُمیدوار براہ راست خود برداشت کر رہے ہیں۔اس وقت لاہور کا یہ حلقہ سیاسی گہما گہمی کا مرکز اور رنگ برنگی تصویروں سے سجا ہوا ہے لیکن اس سجاوٹ کے پیچھے وہ سرمایہ ہے جو ان اُمیدواروں کی جیب سے خرچ ہو رہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اگر دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکن سیاسی دفاتر کھولیں تو ان دفاتر کے لیے کرایہ، کُرسیوں کی خریداری اور روز مرہ کی بنیاد پر دس ہزار روپے چائے پانی کا خرچ بھی اُمیدواروں کی جیب سے ہی ادا ہو رہا ہے۔مجھے انتہائی معزز شخصیات نے ایک امیدوار کے حوالے سے براہ راست بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص سات ووٹوں کی یقین دہانی کروائے گا تو اُسے ایک موٹر بائیک بھی اُمیدوار کی جانب سے خرید کر تحفے میں دی جائے گی بشرطیکہ اگر وہ جیتا۔ سرمائے کی طاقت نے ووٹوں کو خریدنے کا عمل صرف یہیں تک نہیں محدود رکھا بلکہ حلقے میں خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے والے ووٹرز کے گھروں کا راشن پانی بھی انہیں اُمیدواروں کی جیب سے جا رہا ہے۔غربت کا سیاسی استحصال کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کہ انہیں چند ہزار روپوں کے عوض خرید کر جیتنے کی راہ ہموار کی جائے۔ سیاسی میدان میں جیت کے لیے اُمیدوار کسی مقصد کے تحت یہ کروڑوں روپے حلقے میں ووٹرز پر نچھاور کرتا ہے، لیکن ہمارا بے شعور ووٹر ابھی اس کو سمجھنے سے عاری ہے۔حکمران سیاسی جماعت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو نوکری کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ سرمائے کی طاقت کی بناء پر غریبوں کی غربت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس سیاسی جنگ کو سرمائے کی چمک نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ لاہور کے اس ضمنی انتخاب کو حکمران جماعت نے اپنی سیاسی زندگی اور سیاسی موت تصور کر رکھا ہے اور اس کے لیے حکومتی وسائل بھی بھرپور طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز خود اس حلقے میں سیاسی مہم جوئی کرنے کے لیے کودے ہیں اور ان کے ساتھ سرکار کا تعلقات عامہ کا شعبہ بھی متحرک ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ وفاق سے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور لاہور میں موجود تمام ممبرانِ قومی اسمبلی کو بھی یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ حلقے میں متحرک ہوں جس کے لیے یہ تمام موصوف سرکاری فنڈز اور وسائل کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔ حکمران جماعت نے اپنی طاقت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے حلقے کی تمام سیاسی مہم جوئی کو پاکستان ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھانے کا ٹھیکہ بھی لے لیا ہے، لیکن یہ ٹھیکہ بلامعاوضہ ہے کیونکہ سارے اخراجات عوامی ٹیکسوں سے ہی پورے کیے جائیں گے۔سرمائے کی طاقت کے بل بوتے پر لڑے جانے والے اس انتخاب میں سیاسی نظریات کی موت ہو چکی ہے اور نظریہ ضرورت ہی سکہء رائج الوقت ہے۔ تگڑا سیاسی پہلوان وہی ہے جس کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہے اور وہ اس پیسے سے ووٹرز کی وقتی ضروریات کو پورا کرنے کی سکت رکھتا ہے۔

اس ساری سیاسی مہم جوئی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جمہوری حکومتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کو غربت کی لعنت اور بے روزگاری کی مصیبت میں مبتلا رکھیں کیونکہ یہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ جمہوریت جمہور میں سے اُن افراد کے مجموعے پر مشتمل ہے جو سرمائے کی طاقت رکھتے ہیں، جمہوریت کے نام پر ووٹوں کو اس انداز میں خریدنے کا تعلق بھی معاشی طاقت سے ہے۔سیاسی جماعتوں کی اسی حکمت عملی کی بناء پر اس جمہوریت کو سرمایہ دارانہ جمہوریت ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے، اور برحق دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں جمہور، یعنی غریب اور متوسط طبقے کی نمائندگی صنعت کاروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا وہ ٹولہ کر رہا ہے جس نے جمہوریت کے نام پر اس ملک کے عوام کو غربت، بے روزگاری، بدامنی، دہشت گردی، سماجی انتشار، بھوک اور قتل و غارتگری کے سوا کچھ نہیں دیا۔

لاہور ضمنی الیکشن کیلئے تیاریاں عروج پر

October 05, 2015
05Oct15_DU ضمنی01DU

لاہور: لاہور کے حلقہ این اے-122 میں 11 اکتوبر کو ہونے والا ضمنی الیکشن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے اور دونوں پارٹیوں کی پوری توجہ اس وقت اس حلقے پر مرکوز ہو چکی ہے۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار سردار ایاز صادق 2013ء کے عام انتخابات میں کامیاب قرار پائے تھے تاہم ان کے مخالف امیدوار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے ان کی کامیابی کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کر دیا تھا۔جس پر 2 سال بعد رواں برس ہفتہ 22 اگست کو ٹریبونل نے فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی کہ وہ اس حلقے میں دوبارہ انتخابات منعقد کروائے۔اتوار کو عمران خان نے یہاں سمن آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ضمنی الیکشن میں دھاندلی روکنے کی موثر حکمت عملی تیار کر لی ہے.انہوں نے الزام لگایا کہ ن-لیگ نے خواتین کے پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کا منصوبہ بنایا ہے لیکن اس دفعہ پی ٹی آئی دھاندلی روکنے کے لیے پہلے سے بہتر تیاری کرے گی۔

عمران خان نے ایک بار پھر ن لیگ کی حکومت کو دھاندلی کی پیداوارقرار دیتے ہوئے کہا ’عجیب نظام ہے جہاں لوگ تحریک انصاف کےساتھ ہیں مگر انتخابات ن لیگ جیت جاتی ہے‘۔ان کا کہنا تھا، ’جنہوں نے پہلے دھاندلی کی اب وہی دوبارہ الیکشن کر وا رہے ہیں‘۔پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ چوہدری محمد سرور پی ٹی آئی کے کارکنوں کو دھاندلی روکنے کی تربیت دے رہے ہیں۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ پولنگ کے بعد ووٹوں کے تھیلے لے کر جانے والی گاڑی میں بھی فوجی تعینات ہونا چاہیے جبکہ تحریک انصاف کے کارکن بھی ریٹرننگ افسران کی گاڑی کے پیچھے جائیں گے۔

حکومت کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعووں سے متعلق عمران خان کا کہنا تھا، ’نوازشریف نے 2017 تک لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تاہم نیپرا کے مطابق لوڈشیڈنگ 2020 سے پہلے ختم نہیں ہوگی‘۔ان کا کہنا تھا،’عوام پینے کے پانی کو ترس رہی ہے لیکن حکومت اربوں روپے میٹرو بس اور میٹرو ٹرین پر لگارہی ہے۔‘پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبر فیصلے کا دن ہوگا اور این اے-122 کے عوام اِس دن دھاندلی کو شکست دیں۔اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد نے جلسے سے خطاب میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دنوں میں پاکستانی سیاست میں زلزلے آنے والے ہیں۔پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ 11 اکتوبرکو ان کا شیر سے نہیں بلکہ گیڈر سے مقابلہ ہے۔

مسلم لیگ (ن) کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد

مسلم لیک ن کا جھنڈا
DU

لاہور: ملک کی سات بڑی اپوزیشن جماعتوں نے، جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی شامل ہے، پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک دوسرے کی حمایت اور ضلعی سطح پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے ضلعی عہدیداران کو مسلم لیگ (ن) کے خلاف سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہدایات بھی کردی گئی ہیں.گزشتہ روز ایک اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمے، کسانوں کے مسائل کے حل، شفاف الیکشن اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف فوج کے جاری آپریشن کو سراہتے ہوئے اس کی حمایت بھی کی۔

اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پی ٹی آئی پنجاب کے آرگنائزر چوہدری سرور، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو، جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ، پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سیکریٹری جنرل نواز گنڈا پور، مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری جنرل راجہ نثار عباس، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل پیر اعجاز ہاشمی اور سنی اتحاد کونسل کے نمائندے بھی شامل تھے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذمہ دار چاروں صوبوں کے موجودہ صوبائی الیکشن کمشنرز کو لازمی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے پر قسم کے لائحہ عمل کے حوالے سے اتفاق کیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دھاندلی کی منصوبہ سازی کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے۔چوہدری سرور نے مزید کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) صوبائی الیکشن کمشنرز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیتی ہے تو پی ٹی آئی ان کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران جماعت نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس موقع پر منظور وٹو نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے معاشرے کے پسماندہ طبقات کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔پی پی پی پنجاب کے صدر نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کو فی کس 2 کروڑ روپے ادا کررہی ہے تاکہ وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکیں اور یہ دھاندلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔