Category: Dialogue

پنٹاگون جنرل راحیل کے دورہ امریکا پر شکر گزار

November 17, 2015راحیل شریف 03DU

امریکا کے محکمہ دفاع (پنٹاگون) نے کہا ہے کہ وہ دوطرفہ امور پر مشاورت کے لیے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا پر ان کے شکر گزار ہیں۔
سفارتی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آرمی چیف کی امریکی حکام سے اہم ملاقاتوں کے دوران امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے ڈان کو بتایا جنرل راحیل شریف کے امریکا پہنچنے پر سیکریٹری دفاع، نائب سیکریٹری دفاع اور چیئرمین نے ان کا استقبال کیا.اس موقع پر ان کا کہنا تھا، “ہم جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکا پر ان کے شکر گزار ہیں اور دوطرفہ دفاعی تعلقات کے فروغ کے لیے ان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے خواہاں ہیں۔”محکمہ دفاع کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے سپہ سالار منگل (17 نومبر کو) پنٹاگون میں سیکریٹری دفاع ایشٹن کارٹر، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ اور سینٹ کام کے سربراہ سے ملاقاتیں کریں گے۔
یہ پڑھیں : آرمی چیف کا دورہ امریکا: جوہری معاملے پر بات نہیں ہوگی
جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز امریکی آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل مارک مائیلی سے بھی ملاقات کی تھی، جبکہ وہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن سے بھی ملاقات کریں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے جنرل راحیل شریف اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کی رواں ہفتے کے آخر میں ملاقات کی بھی تصدیق کی۔
John Carryجان کیری یورپ اور ترکی کے دورہ کے بعد آج وطن واپس پہنچیں گے۔امریکا کے سرکاری ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف کی وائٹ ہاؤس میں امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس سے ملاقات کے ساتھ امریکی نائب صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کے امکانات ہیں۔
Joe Biden
یہ بھی پڑھیں : جوہری اثاثوں کی سیکیورٹی پر آرمی چیف مطمئن
جنرل راحیل شریف امریکا کے سینیئر قانون سازوں سے بھی کیپیٹل ہل میں ملاقات کریں گے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اپنے 5 روزہ دورے کے دوران امریکا کے تمام اہم سیاسی، دفاعی اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔جنرل راحیل کی امریکی حکام سے ملاقاتوں کی اس فہرست سے پنٹاگون کے اس بیان کی بھی نفی ہوتی ہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار بغیر دعوت کے امریکا کا دورہ کر رہے ہیں اور پنٹاگون ان کی درخواست پر تمام ملاقاتوں کے انتظامات کر رہا ہے۔
Pentagon

ویانا میں شامی تنازعے پر مذاکرات،17 ممالک کی شرکت

October 31, 201531Oct15_AA ویانا01al-Arabia

شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات جاری ہیں۔ان مذاکرات میں سترہ ممالک کے مندوبین کے علاوہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے عہدے دار شرکت کررہے ہیں۔شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا کوئی نمائندہ ان مذاکرات میں شریک نہیں ہے اور نہ شامی حزب اختلاف اور حکومت مخالف مسلح باغی گروپوں کو اس بات چیت میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ویانا مذاکرات میں ترکی ،اٹلی ،برطانیہ ،لبنان ، ایران ،اردن ،روس ،سعودی عرب ،عراق ،مصر،جرمنی ،قطر ،فرانس ،متحدہ عرب امارات ،اومان ،امریکا اور چین کے وزرائے خارجہ یا اعلیٰ حکومتی نمائندے شریک ہیں۔وہ شامی تنازعے کا کوئی سیاسی حل تلاش کرنے کی غرض سے دوطرفہ اور کثیر فریقی سطح پر بات چیت کررہے ہیں۔شام میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ایران اس طرح کے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں شریک ہے۔اس سے پہلے اس کو شامی صدر بشارالاسد کی طرف داری اور جنگ زدہ ملک میں فوجی مداخلت کی وجہ سے مذاکرات میں مدعو نہیں کیا جاتا رہا ہے۔

ایران کو شام پر مذاکرات میں شرکت کی دعوت

October 28, 2015
28Oct15_BBC ٰ ایران01BBC

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام کے تنازع پر امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والی بین الاقوامی بات چیت میں پہلی مرتبہ ایران کو بھی شامل کیا جائے گا۔
امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربے کا کہنا تھا ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایرانی رہنما جمعرات کو ویانا میں شروع ہونے والے ان مذاکرات میں شامل ہوں گے یا نہیں۔ان مذاکرات میں امریکہ، روس، یورپی اور عرب ممالک کے اعلی مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔مغرب کی حمایت یافتہ شام کی حزبِ اختلاف اور امیکہ کے خلیجی اتحادی ممالک شامی جنگ میں ایرانی کردار کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ترجمان نے صحافیوں کو بتایا جمعرات کی بات چیت میں ایران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔’اب یہ ایرانی رہنماؤں پر ہے کہ وہ شرکت کرتے ہیں یا نہیں۔ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ اہم شرکاء گفتگو میں شامل ہوں۔ ایران اس میں اہم رکن ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال وہ نہیں ہیں۔‘ایران شامی صدر بشار الاسد کا قریب ترین اتحادی ہے۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ ایران نے گذشتہ چار سال میں اسد کی حکومت کے مضبوطی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، جنگی ماہرین اور رعایتی نرخ پر اسلحہ اور ایندھن فراہم کیا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے لبنانی شدت پسند تنظیم حزب اللہ سے بھی تعلقات ہیں جس نے شام میں حکومتی فوجوں کی مدد کے لیے اپنے جنگجو بھیجے ہیں۔ایران کی حکومت نے شام میں کشریت الجماعتی آزادانہ انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کی تجویز دی ہے تاہم لیکن وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہے۔روس جس نے ہمیشہ شام کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا تھا اس نے بھی گذشتہ ماہ شام میں فضائی حملے شروع کیے جس میں بقول اس کے دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ روسی حملوں میں زیادہ تر مغرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ شامی باغی نشانہ بنے۔

یمنی حکومت مذاکرات اور حوثی یو این فیصلہ ماننے پر تیار

October 19, 2015
19Oct15_BBC AA حوشی01al-Arabia

یمن کی آئینی حکومت نے اقوام_متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی دعوت پر جنیوا میں یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق یمنی حکومت نے جنرل سیکرٹری بان کی مون کی دعوت قبول کرتے ہوئے جنیوا اجلاس میں شرکت کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔خیال رہے کہ ہفتے کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کے ذریعے صدر عبد ربہ منصور_ھادی کے نام ایک پیغام ارسال کیا تھا جس میں ان سے دوسرے جنیوا اجلاس میں شرکت کرنے اور باغیوں کے ساتھ بات چیت کی اپیل کی تھی۔’یو این’ سیکرٹری جنرل کی جانب سے یمنی صدر منصور ھادی کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا تھا کہ #حوثی باغی اور ان کے دیگر حامی بات چیت پر آمادگی کے ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد پر بھی تیار ہیں۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ باغیوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت میں انہوں نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں اور خلیجی امن فارمولے پرعمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔قبل ازیں ہفتے کو یو این سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے صدر ھادی کے نام بھیجے گئے ایک مکتوب میں ان سے دوسرے جنیوا اجلاس میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ بان کی مون کے مکتوب کے مطابق باغی گروپ حوثی یمن میں قیام امن کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 پر عمل درآمد کےساتھ ساتھ بحران کے حل کے لیے خلیجی ممالک کے وضع کردہ فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے بھی تیارہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے صدر ھادی کو بان کی مون کا یہ پیغام پہنچایا تھا جس کے بعد حکومت نے 48 گھنٹے میں اس کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ان دنوں ابو ظہبی، ریاض اور مسقط میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی میں مصروف ہیں۔

جمعہ کی شام اقوام متحدہ کے امن مندوب نے ریاض میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ یمن میں جاری خون خرابہ، قتل عام اور بربادی روکنے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت اپنے کے کسی ایک چپے سے بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ حکومت ہی #صعدہ سے المھرہ تک کی ذمہ دار اور جواب دہ ہے اور ہم پورے ملک میں امن واستحکام کے لیے مساعی کررہے ہیں۔اس موقع پراقوام متحدہ کے مندوب ولد الشیخ نے حوثی باغیوں کی جانب سے عدن میں حکومتی مراکز میں کیے گئے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ قرار دیا۔

ادھر یمن میں امن وامان کے حوالے سےقائم کردہ سیاسی کمیٹی کے سربراہ اور وزیرمملکت عبداللہ الصیادی نے بھی اقوام متحدہ کے امن مندوب سے ملاقات کی۔ سیاسی کمیٹی میں صدر ھادی، وزیراعظم بحاح اور ان کی کابینہ کے متعدد وزیر بھی شامل ہیں تاہم کمیٹی کی قیادت ایک وزیرکے پاس ہے۔سیاسی کمیٹی نے بھی ملک میں مزید بدامنی جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا قتل عام اور خون خرابے کی ذمہ دار ہے۔ باغی مذاکرات کے حوالے سے اپنی مرضی کی شرائط عاید کرکے سیاسی مساعی کو سبوتاژ کررہے ہیں۔

ہندوستان:ریل روکو تحریک ختم، سمجھوتہ ایکسپریس بحال

October 14, 2015
14Oct15_DU سمجھوتہDU

ہریانہ: ہندوستان کی ریاست پنجاب میں کسانوں نے ‘ریل روکو’ تحریک ختم کرکے وزیر اعلیٰ اور ریاستی وزراء کا گھیراؤ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں کسانوں کی ریل روکو تحریک گزشتہ 8 روز سے جاری تھی جس کے باعث پاکستان سے ہندوستان جانے والے سمجھوتہ ایکسپریس کی روانگی بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔

سمجھوتہ ایکسپریس کی بحالی
پاکستان کے صوبے پنجاب کے ساتھ ہندوستانی ریاست پنجاب میں کسانوں کی ‘ریل روکو’ تحریک ختم ہونے کے بعد سمجھوتہ ایکسپریس کی روانگی کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ریلوے کے ترجمان نے بتایا کہ سمجھوتہ ایکسپریس جمعرات کی صبح 8 بجے معمول کے مطابق روانہ ہوگی۔ترجمان نے بتایا کہ ہندوستانی حکام نے پاکستان ریلوے کو سمجھوتہ ایکسپریس بحال کرنے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب سمجھوتہ ایکسپریس کی بندش کے باعث ہندوستان میں پھنسے 14 پاکستانی ایک روز قبل سڑک کے راستے واپس وطن گئے تھے جبکہ 19 پاکستانی آج ہندوستان سے واپس آئے۔نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے تصدیق کی کہ سمجھوتہ ایکسپریس کی بندش کی وجہ سے پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو بس کے ذریعہ بھیجا گیا۔

انڈیا کی طرف امریکی جھکاؤ سے توازن بگڑ رہا ہے

September 17, 2015

وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز—اے پی تصویر۔
DU

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکا کے ہندوستان کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے توازن بگڑ رہا ہے اور ساری صورتحال سے امریکا کو آگاہ کردیا۔
جمعرات کے روز سینیٹ سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ واضح ہورہا ہے کہ امریکا چین کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لئے ہندوستان کو تیار کر رہا ہے۔
پیشگی شرائط کے بغیر دہلی جانے کیلئے تیار
سرتاج عزیز نے کہا کہ ہندوستان سے جب بھی مذاکرات ہوئے تمام معاملات پر بات ہوگی، انڈیا کو بتا دیا ہے کہ پیشگی شرائط پر دو طرفہ بات چیت نہیں ہوسکتی۔سرتاج عزیز نے کہا کہ امید ہے سیکیورٹی کونسل سرحدی خلاف ورزیاں رکوانے میں کردار ادا کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ریاستی عناصر پاکستان میں مداخلت کر رہے جس پر دستاویز اقوام متحدہ میں پیش کی جائے گی جبکہ اقوام متحدہ میں کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات ہوگی۔

ہندوستان کی شرائط پر مذاکرات نہیں کریں گے

مشیر خارجہ نے کہا کہ افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کوسپورٹ نہیں کیا جائےگا، پرائی جنگیں لڑکر پہلے ہی بہت نقصان اٹھا یا جاچکا ہے ۔سرتاج عزیز کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے سینیٹ سے واک آؤٹ کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کیخلاف اپوزیشن جماعتیں متحد

مسلم لیک ن کا جھنڈا
DU

لاہور: ملک کی سات بڑی اپوزیشن جماعتوں نے، جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بھی شامل ہے، پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک دوسرے کی حمایت اور ضلعی سطح پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے ضلعی عہدیداران کو مسلم لیگ (ن) کے خلاف سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہدایات بھی کردی گئی ہیں.گزشتہ روز ایک اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے دہشت گردی کے خاتمے، کسانوں کے مسائل کے حل، شفاف الیکشن اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو روکنے کے عزم کا اظہار کیا۔انھوں نے دہشت گردوں کے خلاف فوج کے جاری آپریشن کو سراہتے ہوئے اس کی حمایت بھی کی۔

اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پی ٹی آئی پنجاب کے آرگنائزر چوہدری سرور، پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو، جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ، پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سیکریٹری جنرل نواز گنڈا پور، مجلس وحدت المسلمین کے سیکریٹری جنرل راجہ نثار عباس، پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکریٹری جنرل پیر اعجاز ہاشمی اور سنی اتحاد کونسل کے نمائندے بھی شامل تھے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے ذمہ دار چاروں صوبوں کے موجودہ صوبائی الیکشن کمشنرز کو لازمی طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے پر قسم کے لائحہ عمل کے حوالے سے اتفاق کیا ہے جس میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دھاندلی کی منصوبہ سازی کے خلاف احتجاج بھی شامل ہے۔چوہدری سرور نے مزید کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) صوبائی الیکشن کمشنرز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیتی ہے تو پی ٹی آئی ان کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکمران جماعت نے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی کوشش کی تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس موقع پر منظور وٹو نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے معاشرے کے پسماندہ طبقات کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کرے اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔پی پی پی پنجاب کے صدر نے دعویٰ کیا کہ پنجاب حکومت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کو فی کس 2 کروڑ روپے ادا کررہی ہے تاکہ وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے سکیں اور یہ دھاندلی کی سب سے بڑی مثال ہے۔

تین(3) دن میں آرمی چیف کی وزیراعظم سے دوسری ملاقات

September 05, 2015
05Sep15_DU چیف
DU

اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے رواں ہفتے دوسری مرتبہ ملاقات کی ہے جس میں ملکی سلامتی اور یوم دفاع کے حوالے سے معاملات زیرِ غور آئے.
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرعظم اور آرمی چیف کے مابین ملاقات میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی.خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک میں کرپشن کے خلاف متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں کراچی میں مختلف اعلی شخصیات کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔

راچی آپریشن:آرمی چیف کی وزیر اعظم سے ملاقات
کراچی میں پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اور سندھ کے چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عاصم حسین کو بھی گرفتار کیا گیا۔اس سے قبل پنجاب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر قاسم ضیاء کو گرفتار کیا گیا تھا۔کراچی سمیت سندھ میں ہونے والی کارروائیوں پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے بیان دیا تھا کہ سندھ میں سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو ایف آئی اے اور نیب کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے، یہ سارے اقدامات سیاسی انتقام کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔دوسری جانب قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبر کے بعد آئی ڈی پیز کی واپسی جاری ہے جبکہ بعض علاقوں میں ابھی بھی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

کشمیر: مشرف یو این قراردادیں ’پس پشت‘ ڈالنے پر تیار تھے

September 04, 2015
04Sep15_DU کشمیر
DU

واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کے جاری ہونے والے ایک خفیہ مراسلے میں کہا گیا کہ مشرف حکومت انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے مئی،2000 میں کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ’پس پشت‘ ڈالنے پر آمادہ ہو گئی تھی۔
پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے یہ مراسلہ 27 مئی، 2000 کو اُس وقت کے وزیر خارجہ عبدالستار اور امریکی انڈر سیکریٹری سٹیٹ برائے سیاسی امور تھامس پکرنگ کے درمیان اسلام آباد میں ہوئی دو گھنٹوں پر مشتمل ون –ٹو-ون ملاقات کے بعد واشنگٹن کو بھیجا تھا۔مراسلے کے مطابق ’ستار نے کشمیر سے آگے سوچنا شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ لائن آف کنٹرول اور کشمیر کے اندر تشدد کم کرنے کی فوری ضرورت محسوس کرتے ہیں‘۔’ستار نے کہا کہ پاکستان ارادتاً 1940 کی دہائی کی اقوام متحدہ قراد داروں کو پس پشت ڈال سکتا ہے کیونکہ ان پر زور دینا فائدہ مند نہیں‘۔

29 مئی کو بھیجے گئے ایک اور مراسلے میں پکرنگ کی چیف ایگزیکٹیو پرویز مشرف سے ملاقات کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ان تفصیلات کے مطابق مشرف نے پکرنگ کو بتایا تھا کہ پاکستان کشمیر میں تشدد میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ مشرف نے کشمیر میں تشدد کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا۔فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت کئی صفحات پر مشتمل ان مراسلوں کے مطابق 2000 کے بعد سے کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ واضح رہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اور انڈیا باہمی بات چیت سے یہ مسئلہ حل کریں۔

مراسلوں میں کہا گیا کہ پکرنگ نے ملاقات کے دوران جنرل مشرف کو پاک-امریکا تعلقات میں حائل پانچ سنگین مسائل (کشمیر، افغانستان، جوہری عدم پھیلاؤ، جمہوریت اور معیشت )سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی توجہ پہلے تین مسائل پر مرکوز رکھنا چاہتےہیں۔پکرنگ نے خبردار کیا کہ ’کشمیر کا مسئلہ مستقبل قریب میں کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ جب تک لائن آف کنٹرول پر معاملات خراب رہیں گے اس وقت تک پورا خطہ خطرے میں رہے گا‘۔یاد رہے کہ امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان دورے کے موقع پر کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی عسکری حل نہیں اور اس معاملہ پر آگے بڑھنے کا صرف ایک ہی راستہ مذاکرات ہیں۔

مراسلے کے مطابق، پکرنگ نے مشرف پر واضح کیا کہ وہ صدر کلنٹن کے نقطہ پر ہی زور دینا چاہیں گے۔انہوں نے جنرل مشرف کو بتایا کہ ہندوستانی حکام نے حریت کانفرنس کے کئی رہنماؤں کو رہا کرتے ہوئے ان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے اس سمت میں پہلا قدم رکھ دیا ہے۔’ہمارے خیال میں کشمیری رہنماؤں سے براہ راست بات چیت کی انڈین پیشکش سے پاکستان کو ٹیکٹیکل نقصان پہنچا کیونکہ اس طرح اسلام آباد مذاکراتی عمل سے باہر ہو جائے گا۔تاہم اگر پاکستان حکومت چاہے تو وہ اس موقع سے فائدہ بھی اٹھا سکتی ہے‘۔

’اگر پاکستان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور کشمیر میں جہادی عناصر کم کرنے جیسے مناسب اقدامات اٹھائے تو امریکا انڈیا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے دباؤ ڈال سکے گا‘۔ستار-پکرنگ ملاقات پر مشتمل مراسلے میں کہا گیا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے مذاکرات میں کشمیریوں کو شامل کرنے کے آئیڈیا پر مثبت ردعمل دکھایا۔مراسلے کے مطابق، ستار نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر حکومت پر زور دیا کہ اسلام آباد کی غیر موجودگی میں حریت رہنماؤں کی ہندوستانیوں سے براہ راست بات چیت ہونے دی جائے۔مراسلے میں بتایا گیا’ستار نے کہا کہ کشمیریوں سے براہ راست بات چیت کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی اس معاملہ میں دلچسپی ختم ہو گئی۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کے ایک ایسے حل میں دلچسپی ظاہر کی جس سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات سے قربت ہو سکے‘۔ستار نے کہا کشمیر ی رہنما خود 1991 میں کہہ چکے ہیں کہ اس مسئلہ کے حل میں پہلا قدم انہیں شامل کیا جانا ہے۔مراسلے میں ستار کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں کشمیری عوام اور ان کے خو د حکومت کرنے جیسے معاملات پر توجہ مرکوز کرنا چاہیئے جبکہ دوسرے مرحلے میں علاقائی سرحدوں کے مسئلہ پر غور کیا جا سکتا ہے۔

انڈین ائیرلائن کی قندھار ہائی جیکنگ کے فورا ً بعد پکرنگ نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی سے ملاقات میں کہا تھا کہ غیر ریاستی عناصر استعمال کرنے کی پاکستانی پالیسی امریکی مفادات کیلئے خطرناک ہے۔پکرنگ نے خبردار کیا کہ ’ہائی جیکنگ امریکی قوانین کی ایک سنگین خلاف ورزی ہے اور اس معاملہ سے اسی شدت کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے‘۔انہوں نے ملیحہ لودھی کو بتایاکہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی مضبوط نہیں، جس کی وجہ سےپاکستان کو عالمی برادری سے مدد نہیں ملے گی۔

حکو مت ایم کیو ایم کے مذا کرا ت نا کام

September 04, 2015
04Sep15_KH ایم کیو ایم
Khabrain

اسلام آباد، کراچی (نامہ نگار خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی مومنٹ اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی، ایم کیوایم نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے دوران 2مطالبے پورے نہ ہونے پر مذاکرات ختم کئے ۔نجی ٹی وی مطابق گزشتہ روز حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کا عمل شکایات ازالہ کمیٹی کے قیام کے اتفاق پر شروع ہوا تھا تاہم اس دوران ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کی جانب سے 2 مطالبات پیش کئے گئے ،ایم کیو ایم جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ خدمت خلق فاﺅنڈیشن ایک عوامی فلاح وبہبود کا ادارہ ہے ،اس ادارے کو کراچی میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی اجازت دی جائے،خدمت خلق فاﺅنڈیشن پر پابندی کی وجہ سے ایم کیو ایم کے 8 فیصد وسائل کم ہو چکے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خدمت خلق فاﺅنڈیشن پر فنڈنگ پرپابندی عائد کررکھی ہے جبکہ دوسرے مطالبے میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کی تقاریر پر فوری طور پر پابندی ہٹائی جائے ،کراچی میں ماورائے آئین کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے جس کی وجہ سے الطاف حسین نے اداروں کے خلاف بیان غصے میں دیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے ان مطالبات کو ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے جو مذاکراتی کی ناکامی کا سبب بنا۔ متحدہ قومی موومنٹ نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی آپریشن کی آڑمیں ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے،حکومت کا رویہ سنجیدہ نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ ماورائے عدالت کارروائیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، ہم نے ہر دروازے پر دستک دی مگر کوئی داد رسی نہیں ہوئی۔ کارکنوں کو بازیاب کرانے کے لیے اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔ فاروق ستار نے کہا کہ بے بنیادالزامات کے ذریعے ایم کیوایم کامیڈیاٹرائل کیاجارہااورسیاسی طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کارکن الطاف حسین کو سننا چاہتے ہیں، الطاف حسین کی تقریر پر پابندی ختم کی جائے۔ انہوںنے مزید کہا کہ ہم نے آئینی اور قانونی معاملات اٹھائےہیں، ہمارے مطالبات پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اس لیے مذاکرات کو آگے بڑھانا بے سود ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایم کیو ایم کی فلاحی سرگرمیوںپر غیر اعلانیہ پابندی ختم کی جائے۔انھوںنے کہاکہہمارے ایک سو پچاس کارکنوں کو بازیاب کرانے کیلئے اقدامات نہیں کئے جارہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکن قائد الطاف حسین کو سننا چاہتے لیکن ان کی تقاریر پر پابندی عائد کردی گئی ہے جسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف سے معاملات کے حل کیلئے دلچسپی لینے کی اپیل کی تھی اس معاملے پر انہیں اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے چاہیے، وہ کس طرح اپنی ذمہ داری سے صرف نظر کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتادیا ہے کہ ہمارے تین معاملات ہیں جو بیس دن ہو گئے ہیں حل نہیں ہورہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف سے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملاقات کی، جس میں ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مشاورت کی گئی، وزیرخزانہ نے وزیراعظم کو ایم کیو ایم سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور متحدہ کی شرائط سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے کردار کو فعال کرنے کی ہدایت کر دی۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف سے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ملاقات کی، ملاقات میں ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیرخزانہ نے وزیراعظم کو ایم کیو ایم سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک اور متحدہ کی شرائط سے آگاہ کیا، جس پر وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے استعفوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان کے کردار کو فعال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت کے بعد وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر کے انہیں دوبارہ استعفوں کے معاملے پر فعال ہونے اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک کے خاتمے کےلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کریں گے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے مذاکرات ختم کرنے کے اعلان کے بعد وزیر اعظم اور اسحاق ڈار نے آپس میں صلاح مشورہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمٰن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ایم کیو ایم سے مذاکرات کے لئے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمٰن کو ذمہ داری سونپ دی۔ اسحاق ڈار نے فضل الرحمن سے درخواست کی ہے کہ وہ بات چیت کے لئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے رابطہ کریں۔ اس سے پہلے فضل الرحمن نے خود بھی اعلان کیا تھا کہ وہ ثالثی کا کردار جاری رکھیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ساتھ تمام مذاکرات غیر مشروط کرنے کی بات ہوئی تھی اور آج ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جانا تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی نے اس سارے عمل کو سبوتاڑ کر دیا ہے۔ الطاف حسین کے خطاب پر پابندی حکومت نے نہیں ہائیکورٹ نے لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کیلئے ازالہ کمیٹی آج صبح تک بنا دی جائے گی۔ ایم کیو ایم کے رہنما کنور نوید نے کہا کہ ہم نے ایوانوں میں استعفے واپس لینے کےلئے نہیں دئیے تھے ہم پاکستان کی عدلیہ اور حکومت سے مایوس ہوگئے یہ ہمیں انصاف دینے کے لئے تیار نہیں ہیں پھر ہم نے استعفے دئیے تاکہ پاکستان کے عوام اور دنیا بھر کے سامنے اپنی مشکلات لیکر جائیں ہم نے جب استعفے دئیے تو اسمبلی میں چیلنج نہیں کیا تھا کہ یہ بوگس اسمبلی ہے اس وقت ہم نے اپنے 19 مطالبات بتائے تھے۔ انہوں نے ہم سے رابطہ کر کے ان کو دور کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس کو 20 دن ہوگئے اس سے قبل ہم جو مذاکرات کا دور کر کے گئے تھے اس میں سات آٹھ دن کا فرق آ گیا اور ہم مایوس ہو گئے تھے کہ شاید ان کا ہمارے مطالبات کو دیکھ کر اس کو آگے بڑھانے کا ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات سیاسی نکتہ نظر اور ایم کیو ایم کے نکتہ نظر سے اچھے نہیں ہیں۔