Category: Current Affairs

پی ٹی آئی پر غیر قانونی عالمی فنڈز لینے کا الزام

October 05, 2015
05Oct15_DU عمران01DU

اسلام آباد: عمران خان کے ایک سابق قریبی معتمد اور پی ٹی آئی کے سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات اکبر ایس بابر کے پارٹی پر مبینہ مالی کرپشن اور قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمے نے اس وقت نیا رخ اختیا ر کر لیا جب پارٹی کو غیر ملکیوں کی جانب سے مبینہ فنڈز ملنے کے دستاویز ی ثبوت سامنے آ گئے۔
اکبر بابر کا کہنا ہے کہ ان دستاویزی شواہد سے ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نے پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 اور پولیٹکل پارٹیز رولز 2002 کی مختلف شقوں کی سریحاً خلاف ورزی کی۔بابر نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تین سالوں سے منتظر تھے کہ پی ٹی آئی قیادت مالی بے ضابطگیوں کےاس دستاویزی ثبوت کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لےگی لیکن ایسا نہ ہوا۔بابر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس قانونی راستہ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ
نہیں رہا لہذا نومبر، 2014 کو ایک کیس دائر کیا گیا جس کی پہلی سماعت 19، جنوری 2015 کو ہوئی۔
بابر نے کہا کہ مارچ، 2013 میں عمران خان کے مقرر کردہ پی ٹی آئی کے خصوصی آڈیٹر کو پوری معلومات فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں 2013 میں عام انتخابات کیلئے پارٹی کو ملنے والے عطیات اور اخراجات کے آڈٹ کی اجازت دی گئی۔انہوں نے دعوی کیا کہ 2011 میں پارٹی کے اندر ہوئی مبینہ کرپشن پر تیزی سے کارروائی کرنے کے بجائے عمران خان نے الزامات مسترد کرتے ہوئے بد عنوانوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان کی سرپرستی جاری رکھی۔الیکشن کمیشن نے بابر کی دائر پٹیشن پر تفصیلی غور کے بعد اپریل، 2015 میں پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا حکم جاری کیا۔یہ حکم پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی آڈٹ رپورٹس کے جائزہ کے بعد دیا گیا۔ تاہم، ان رپورٹس میں غیر ملکی فنڈنگ کی معلومات موجود نہیں تھیں۔چھ مئی کو ہونے والی اگلی سماعت پر غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے پی ٹی آئی نے اپنا وکیل تبدیل کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کی خدمات حاصل کر لیں۔منصور خان نے غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کی جانب سے اکبر بابر کی درخواست کی سماعت کرنے کے اختیار کو چیلنج کر دیا۔پچھلی سماعتوں میں پی ٹی آئی نے دعوی کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹس میں پارٹی کو ملنے والے تمام فنڈز کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔تاہم ، الیکشن کمیشن کی جانب سے ان سالانہ رپورٹس کی جانچ پڑتال کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل غیر ملکی فنڈز کی تفصیلات دکھانے میں ناکام رہے۔پی ٹی آئی وکیل کا موقف تھا کہ الیکشن کمیشن نے جمع کرائی گئی رپورٹس کو قبول کر لیا تھا ، لہذا کمیشن اب ان رپورٹس کے مستند ہونے پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔اس پر چیف الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی کو ممنوعہ ذرائع نے ملنے والے غیر ملک فنڈز کے ڈھیروں شواہد سامنے آئے ہیں لہذا کمیشن ان رپورٹس کی جانچ پڑتال کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے مختلف سماعتوں کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل کو خبردار کیا کہ معاملہ انتہائی حساس ہے لہذا وہ دلائل دیتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔اکبر بابر کے وکیل احمد حسن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے شروع میں غیر ملکی فنڈنگ سے انکار کیا جبکہ اس کاخلاف قانون ایک ڈالر اکاؤنٹ بھی ہے جس میں آنے والی تمام رقم منے لانڈرنگ کے زمرے میں آتی ہے۔اکبر بابر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ پی ٹی آئی کیس کی سماعت کے دوران مسلسل اپنا موقف تبدیل کرتی رہی۔سماعت کے دوران ایک موقع پر پی ٹی آئی نے مبینہ طور پر غیر ممنوعہ امریکی ذرائع سے ملنے والےغیر قانونی2.3 ملین ڈالرز فنڈز کے پیش کردہ شواہد کے مستند ہونے پر سوال اٹھائے۔اکبر بابر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دستخطوں سے امریکا میں رجسٹرڈ ’لمیٹڈ لائبیلٹی کمپنی‘ کے پانچ میں سے تین بورڈ آف ڈائریکٹرز امریکی شہری ہیں۔’اسی طرح غیر ملکی کمپنیوں اور غیر ملکی اشخاص نے بھی پی ٹی آئی کو فنڈز دیے جو خلاف قانون ہے‘۔بابر کے مطابق، 15 ستمبر، 2015 کو ہونے والی آخری سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل انور مصور نے تسلیم کیا کہ الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی پارٹی کو غیر قانونی ذرائع سے ملنے والے فنڈز ضبط کرنےکا مکمل اختیا ر رکھتا ہے۔کیس کی سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن کے چار رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جس کا اعلان آٹھ اکتوبر کو کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ عمران خان بار ہا پارٹی کو ملنے والے فنڈز میں بے ضابطگیوں کو مسترد کرتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے آئے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے رابطہ کرنے پر کہا ’انتہائی بدقسمتی ہے کہ اکبر بابر جیسے پارٹی کے کچھ سابق ارکان ذاتی عناد کی وجہ سے الزام تراشیوں میں مصروف ہیں‘۔انہوں نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی قیادت ہمیشہ سے پارٹی فنڈز کے حوالے سے ایماندار رہی جبکہ پی ایم ایل-ن اور پی پی پی سمیت دوسری سیاسی پارٹیاں منی لانڈرنگ میں ملوث رہی ہیں۔

PAKISTAN IS REBOUNDING: WASHINGTON POST

September 08, 2015
08Sep15_HB پاکستان
NewsHub
Islamabad: Pakistan-One year after he was nearly bounced from office, Pakistani Prime Minister Nawaz Sharif has hung on amid signs the country could be on the cusp of a surprising turnaround.
After years of terrorist attacks, military coups and political upheaval, Pakistan for now has settled into a period of relative calm. Over the past nine months, government statistics show, major terrorist attacks have declined 70 percent and Pakistanis are flocking back to shopping malls, resorts and restaurants.
The relaxed and optimistic mood here is benefiting Sharif politically, despite the humiliation he faced a year ago when he had to cede a chunk of his power to Pakistan’s military. Still, the arrangement is allowing Sharif to do something that Pakistani leaders have struggled to accomplish for much of the past decade: implement a road map for what a peaceful, stable Pakistan could look like. And in the process, Sharif is winning over skeptics despite his low-key leadership style.
“People are feeling more secure. There are development projects, and the perspective of people is changing to say, ‘Okay, now we can see things are going well,’ ” said Zafar Mueen Nasir, dean of business studies at the Pakistan Institute of Development Economics. “Of course, there will always be some criticism and always a second opinion, but as far as I am concerned, this government is at least showing some progress.”

قوم 1965 کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کررہی ہے

September 06, 2015
06Sep15_DU دفاع
DU

اسلام آباد: قوم آج (اتوار) یوم دفاع پاکستان کی پچاس سالہ تقریبات کو اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا رہی ہے کہ ملک کی سلامتی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا ۔
آج صبح وفاقی دارلحکومت میں 31توپوں جبکہ صوبائی دارلحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی دی جائے گی اور دن کا آعاز ملک کی سلامتی،ترقی اورخوشحالی کے لئے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوگا۔

ءسن 1965 کی جنگ کے شہداءکو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے پوری قوم صبح 9 بجکر 29 منٹ سے 9 بجکر 30 منٹ تک ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرے گی۔

ملک بھر میں سائرن بجائیں جائیں گے، جس پر تمام ٹرینیں اور سڑکوں پر ٹریفک رک جائے گا۔ اس کے علاوہ 9:30 سے 9:32 تک تمام ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر قومی ترانہ نشر کیا جائےگا۔

آج کی مرکزی تقریب راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کواٹرز میں منعقد کی جائے گی اور اس مقصد کیلئے جی ایچ کیو اور سی ایم ایچ ہسپتال کے اطراف سڑکیں ٹریفک کیلئے بند رہیں گی۔

تقریب میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے علاوہ دوسرے سروسز چیف، سینئر سرکاری عہدے دار اور معززین شامل ہوں گے۔ آج ملک بھر کی مساجد میں ملک کی خوشحالی، یکجہتی اورسالمیت کیلئے دعاؤں کا بھی اہتمام ہو گا۔

صدر مملکت ممنون حسین نے یوم دفاع کی گولڈن جوبلی پر اپنے پیغام میں کہا ’ پاکستان فو ج نے کامیاب ضرب عضب آپریشن کے ذریعے ثابت کر دیا کہ ملک کی سیکیورٹی اور بقا کو لاحق خطرات ناکام بنا دیے جائیں گے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج سرحدوں کی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس موقع پر کہا ’ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سیاسی اور عسکری قیادت نے جس مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اور شاندار باب ہے‘۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں نچھاور کرنے اور اپنے عزیز و اقارب گنوانے والوں کے حوصلے اور جوش کو سلام بھی پیش کیا۔ ’ہم اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ خود مختاری میں برابری کی بنیاد پر اچھے اور پر امن تعلقات کے خواہاں ہیں‘۔

فوج کا گراف اوپر، سویلین ڈھانچہ نیچے

September 03, 2015
03Sep15_BBC بیوکریسی01
BBC

متحدہ قومی موومنٹ ایک بار پھر اصرار کر رہی ہے کہ ان کے استعفوں کو قبول کیا جائے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اب بھی پرامید ہیں کہ وہ روٹھی ہوئی سیاسی جماعتوں کو اسمبلیوں میں واپس لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ادھر وفاقی حکومت سے نالاں جماعتوں کی فہرست میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نام بھی شامل ہو چکا ہے۔اپنی جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری کے سخت پیغام کے جواب میں وزیراعظم نے چپ سادھ رکھی ہے جبکہ قانون کہتا ہے کہ کراچی میں رینجرز کو دیے جانے والے اختیارات اراکینِ پارلیمان کی جانب سے منظور شدہ قانون کے عین مطابق ہیں پھر واویلا کیوں کیا جا رہا ہے۔اس صورتحال پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیرِ قانون خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی رنجش کی بنا پر یہ سب کیا جا رہا ہے تو غلط ہے۔ لیکن اگر کسی کے جرم کی نشاندہی ہو رہی ہے اور ثبوت موجود ہیں تو پھر تو یہ قانون کے مطابق ہے۔انھوں نے کہا کہ قانون بنانے والے نابالغ تو نہیں تھے، انھیں معلوم تھا کہ یہ ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

نھوں نے ازخود حملہ کر کے قبضہ نہیں کیا، نواز شریف کی حکومت نے خود انھیں اپنے اختیارات تفویض کیے ہیں، اب یہ ہو سکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ انھیں منع کریں اور کہیں کہ ہم واپس لے رہے ہیں، لیکن وہ ایسا نہیں کہہ رہے۔اے این پی کے رہنما حاجی عدیل کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا استعفوں پر اصرار ان کے غصے کی نہیں بلکہ مایوسی کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ان کی شکایات کے ازالے کے لیے جن کمیٹیوں کے بنانے کا وعدہ کیا تھا وہ اب تک نہیں بنی ہیں۔حاجی عدیل کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اختیارات دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے دیے تھے نہ کہ صوبوں میں مداخلت کرنے کے لیے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید وزیراعظم حسبِ معمول بےاختیار ہیں اور وفاقی حکومت اپنے آپ کو اور اپنے لوگوں کو بچا رہی ہے جس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ پنجاب میں احتساب نہیں ہو رہا

ایجنڈے کی بو
وزیراعظم کیا واقعی بے اختیار ہیں اور موجودہ صورت حال میں جمہوری نظام کے لیے کوئی خطرے کا پیغام تو نہیں؟اینکر پرسن نسیم زہرہ سمجھتی ہیں کہ احتساب کے لیے رائج طریقہ کار شاید ناکام ہوگیا ہے اور موجودہ طریقہ سندھ سے نکل کر پنجاب تک ضرور پہنچے گا تاہم اس سے نظام کو لپیٹ دیے جانے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت رینجرز کی کارروائیوں کے حوالے سے یہ بھی سوال ہے کہ ’کیا آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کا یہ پروپیگنڈا آگے بڑھے گا کہ ان کے خلاف ظلم ہو رہا ہے یا پھر مقدمات کو حقائق اور میرٹ پر دیکھا جائے گا؟
03Sep15_BBC بیوکریسی02
سینیئر کالم نگار ایم ضیاالدین کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کی شکایات اپنی جگہ لیکن وزیراعظم درست طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے ایم کیو ایم کو مستعفی ہونے سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سابق صدر کے بیان پر سخت جواب نہ دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے نظام کو کوئی نقصان پہنچے۔مگر ملک کی سیاسی صورت حال اور سول ملٹری تعلقات پر نظر رکھنے والوں میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو اس خدشے کا شکار ہیں کہ احتساب کے نام پر شروع ہونے والی یہ کارروائیاں جمہوری نظام کو کسی بند گلی تک بھی پہنچا سکتی ہیں۔تجزیہ نگار عارف نظامی کہتے ہیں کہ بظاہر براہ راست فوجی مداخلت دکھائی نہیں دے رہی تاہم اس وقت انڈر لائن سٹوری تو یہی ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو سویلین سیٹ اپ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
03Sep15_BBC بیوکریسی03
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھی حقیقت ہے کہ سویلین معاملات میں فوج اور ایجنسیوں کا جو عمل دخل ہے، چاہے وہ ضربِ عضب کے حوالے سے ہو دہشت گردی کے حوالے سے یا خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہو، دھرنے کے بعد آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کا نام لیا گیا۔ اس سے تو لگتا ہے کہ فوج پسِ پردہ معاملات میں دلچسپی رکھتی ہے۔عارف نظامی کہتے ہیں کہ اس وقت جو بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ سیاسی انتقام ہی دکھائی دے رہی ہیں اور پاکستان میں ہمیشہ فوجی مداخلت کا جواز بدعنوانی ہی کو بنایا جاتا رہا ہے۔’20 سال پرانے کیس بھی کھول لیں، 25 سال پرانے بھی کھول لیں یہ بھی ہے، اس میں کسی ایجنڈے کی بُو نظر آتی ہے۔بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت ملک میں حکومت سے زیادہ فوج کا بول بالا ہے۔

سینیئر کالم نگار ایاز امیر کہتے ہیں کہ ’فوج کا گراف بہت اوپر ہوگیا ہے، سویلین ڈھانچہ بہت ہی نیچے ہوگیا ہے، لیکن عملاً طاقت کہیں اور چلی گئی ہے، آپ کو سیاسی قیادت کے منھ پر ایک غم کی کیفیت دکھائی دے گی، جیسے گہرے بادل چھا گئے ہیں۔تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ موجودہ صورت حال کا کیا نتیجہ نکلے گا، لیکن پاکستان میں فوج اور سویلین تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی جمہوری حکومت کی ساکھ کو نقصان ہوا ہے فوج کو ہی فائدہ ہوتا ہے اور موجودہ صورت حال میں یہ حقیقت ہے کہ جمہوری حکومت انحطاط کا شکار ہے۔وہ کہتے ہیں کہ نواز شریف کی اپنی سیاست ان کے گلے پڑ سکتی ہے۔ کراچی میں کارروائی پر وہ خاموش رہے لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ جب یہ دونوں جماعتیں ان کا ساتھ چھوڑ دیں گی تو وہ کمزور ہو جائیں گے۔

’فوج کو آپ ہر جگہ بلائیں گے تو اس کا مطلب سول حکومت کی ناکامی ہی ہے۔ کراچی ڈیل کرنے میں آپ فوج بلا لیتے ہیں، سیلاب آتا ہے تو آپ فوج بلا لیتے ہیں، اسلام آباد میں کچھ ضرورت پڑتی ہے تو آپ فوج کو بلا لیتے ہیں۔ تو اگر آپ نے جو کام سول حکومت کو کرنے چاہیں وہ فوج سے کروائیں گے تو آپ فوج کو جگہ دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگار ایم ضیاالدین کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس وقت ملک میں غیر معمولی صورت حال ہے۔ ایک جانب ضربِ عضب ہے اور دوسری جانب کراچی میں رینجرز کے اختیارات ہیں۔’ ضربِ عضب جاری ہے فوج کا بالاتر کردار ہے اور جب وہ کردار ادا کرتی ہے تو پھر ایسے لگتا ہے کہ سویلین حکومت سے زیادہ ان کی پالیسی نظر آتی ہے۔‘

پاکستان کوسرن کی ایسوسی ایٹ رکنیت مل گئی

02August, 2015
02Aug15_BBC سرن01BBC

جوہری تحقیق کی یورپی تنظیم ’سرن‘ نے پاکستان کو باقاعدہ طور پر اپنا ایسوسی ایٹ رکن بنا لیا ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان یہ رکنیت حاصل کرنے والا پہلا غیر یورپی ملک ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور سرن کے درمیان ایسوسی ایٹ ممبر شپ کے معاہدے پر دسمبر 2014 میں دستخط ہوئے تھے۔31 جولائی 2015 کو جنیوا میں پاکستانی سفیر ضمیر اکرم کی جانب سے تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کو انسٹرومینٹ آف ریٹیفیکیشن کی فراہمی کے بعد پاکستان کی رکنیت کو باقاعدہ حیثیت مل گئئ ہے۔دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ سرن کی رکنیت ملنا پاکستان کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کی دلیل ہے۔بیان کے مطابق پاکستان پہلے ہی ’سرن‘ کے اہم ترین منصوبے لارج ہیڈرون کولائیڈر میں قابلِ ذکر تعاون کر چکا ہے اور اب ایسوسی ایٹ رکن کی حیثیت سے وہ تنظیم کے تحت ہونے والی جدید سائنسی تحقیق سے فائدہ اٹھانے کی امید رکھتا ہے۔02Aug15_BBC سرن02دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا اس قسم کے اداروں اور منصوبوں سے تعلق جوڑنا ملک کے عوام کے لیے دور رس مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔خیال رہے کہ سرن کی رکنیت ملنے سے قبل ہی وہاں پاکستانی سائنسدان کئی سال پہلے سے سائنسی تحقیق میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔سرن سے منسلک ایک پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر حفیظ ہورانی نے سنہ 2012 میں بی بی سی اردو سے بات چیت میں بتایا تھا کہ سنہ 1994 میں میں سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ طے پانے کے بعد سو سے زائد پاکستانی سائنسدان سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ہیڈرون کولائیڈر منصوبے سے وابستہ ڈاکٹر ہورانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان میں سے ایک وقت میں لیبارٹری میں 15 کے قریب سائنسدان کام کرتے ہیں اور باقی سائنسدان پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے تحقیقی کام کرتے ہیں جسے ویلیو ایڈیشن کہا جاتا ہے۔سرن سے مختلف مواد تحقیق کے لیے بھیجا جاتا ہے اور پاکستان میں اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد مختلف ماڈلز تیار کر کے واپس بھیجے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سرن لیبارٹری کے ساتھ کام کرنے والے زیادہ تر سائنسدانوں کا تعلق پاکستان کے نیشنل سینٹر فار فزکس اور ملک کے جوہری ادارے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے ہے۔

آئن سٹائن شیعہ مسلک مسلمان تھے: ایرانی عالم دین

پیر 28 شعبان 1436هـ – 15 جون 2015م
15Jun15_AA شیعہ آئن سٹائنAA_Orig

مُراسلت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے تین ملین ڈالر مختص کیے گئے
ایران کے قدامت پسند اہل تشیع علماء کی جانب سے بسا اوقات انوکھے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں۔ انہی تازہ دعوؤں میں ایرانی ماہرین کونسل کے چیئرمین آیت اللہ مہدوی کنی کا وہ دعویٰ بھی شامل ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ فزکس کے مشہور سائنسدان اور نظریہ اضافیت کے بانی البرٹ آئن سٹائن نے اسلام کا شیعہ مسلک قبول کر لیا تھا اور وہ امام جعفر صادق کے سچے پیروکار تھے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عالم دین کے اس دعوے پرمبنی ایک ویڈیو فوٹیج کے منظرعام پر آنے کے بعد اندرون اور بیرون ملک سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ خیال رہے کہ آئن اسٹائن امریکا کے جرمن نژاد یہودی باشندوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ آخر دم تک اپنے مذہب پر قائم رہے ہیں اور علامہ مہدوی کے دعوے کی کسی دوسرے ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیت اللہ مہدوی کنی کا یہ دعویٰ کب کا ہے کیونکہ پہلے یہ ویڈیو کلپ صرف فارسی ویب سائٹ پر گردش کرتا رہا ہے۔ وہاں سے یو ٹیوب نے اپ لوڈ کیا۔ ویڈیو میں علامہ مہدوی کنی کو نوجوانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ “بعض کتابوں میں آئن سٹائن کے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور امام جعفر صادق کے سچے پیروکار اور ان سے محبت کرنے والے تھے”۔ ایران کے فارسی سوشل میڈیا کے مطابق شیعہ مسلک قبول کرنے کے بعد گذشتہ صدی میں سنہ 60 کی دھائی میں آئن سٹائن اور ایرانی عالم دین “آیت اللہ بروجردی” کے درمیان خط کتابت بھی ہوئی تھی تاہم اس کا کہیں کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ فارسی ویب سائٹ “روایات آیت اللہ بروجردی” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لندن میں مقیم پروفیسر ابراہیم مہدوی نے “مرسڈیز” اور “فورڈ” کار کمپنیوں کے بروکروں کی مدد سے علامہ بروجردی اور آئن سٹائن کے مابین ہونے والی مراسلت کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے تین ملین ڈالر کی رقم بھی مختص کی تھی تاہم وہ نہیں مل سکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے اس مراسلت کی جو معلومات مل سکی ہیں، ان میں آئن سٹائن کے ہاتھ سے لکھے کچھ مکتوبات شامل ہیں۔ ان میں آئن سٹائن کا آخری مکتوب جسے “البیان” کا نام دیا گیا ہے بتایا جاتا ہے۔ اس میں انہوں نے اپنے شیعہ ہونے اور امام جعفر صادق کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن اس مکتوب کے جعلی یا اصلی ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئن اسٹائن نے نہ صرف اسلام کا شیعہ مسلک قبول کیا بلکہ اپنے نظریہ اضافیت کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق قرار دیا۔ ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے بھائی حمید رضا پہلوی کی مرتب کردہ کتاب “بحار الانوار” میں بھی آئن سٹائن کے اس دعوے کا ذکر موجود ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ واقعہ معراج رسول سے بھی نظریہ اضافیت ثابت ہوتا ہے۔ زبانی پیغام رسانی بعض شیعہ علماء کے دعوؤں کے برعکس اس وقت ایران میں آئن سٹائن کے مسلمان ہونے کی تصدیق نہیں کی جا رہی ہے۔ آیت اللہ علی بروجردی کے پوتے آیت اللہ علوی کا کہنا ہے کہ ان کے دادا مرحوم اور فزکس کے مشہور جرمن سائنسدان آئن سٹائن کے درمیان تحریری مراسلت نہیں ہوئی بلکہ علامہ بروجردی ایرانی سائنسدان ڈاکٹر حسابی کے ذریعے ان تک اپنے زبانی پیغامات پہنچایا کرتے تھے۔ نیز آئن سٹائن کے شیعہ مذہب قبول کرنے کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں ملیں۔ ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود علامہ علوی کا کہنا ہے کہ ان کے دادا اور آئن سٹائن کے درمیان ہونے والی بات چیت ایک راز ہے جس کی تردید یا تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ آئن سٹائن 18 اپریل 1955 کو امریکی ریاست نیو جرسی کے”ٹرینٹن” شہر میں انتقال کرگئے تھے۔ فوتگی کے بعد امریکی ڈاکٹر”ٹامز ہاروے” نے ان کے سر سے دماغ نکال لیا تھا اور بقیہ جسم جلا کر اس کی راکھ نامعلوم مقام پر منتقل کر دی گئی تھی۔ وفات سے قبل آئن سٹائن نے اپنے تمام مسودا، کتابیں اور مراسلات مقبوضہ بیت المقدس کی عبرانی یونیورسٹی میں رکھنے کی وصیت کی تھی اور ان کے استعمال کے حقوق بھی عبرانی یونیورسٹی کو سونپ دیے گئے تھے۔

15Jun15_AN آئن سٹائن