Category: conspiracy

اصغر خان کیس: وزیراعظم کا بیان ریکارڈ

October 15, 2015
چودھری نثار علی خان2DU

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے اصغر خان کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو اپنا بیان ریکارڈ کروادیا ۔

یاد رہے کہ اصغر خان کیس میں 1990 کے عام انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف اتحاد بنانے کے لئے 14 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ مذکورہ کیس میں پیش رفت ہوگی.تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ‘اس کیس کے حل ہونے میں سابق فوجی افسران کے بیانات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں’۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اصغر خان کیس سمیت ایف آئی اے کے پاس موجود دیگر کیسز کو منتقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن کی اربوں روپے کی جعال سازی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے گذشتہ روز دیئے جانے والے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کیس پر ایف آئی اے کی جانب سے قابل ذکر پیش رفت سامنے آئی ہے۔سابق صدر پرویز مشرف غداری کیس کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت داخلہ نے اپنا کام مکمل کردیا ہے اور اگر اس میں کوئی تاخیر ہے تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیا جانے والا حکم ہے۔خواجہ آصف سے اختلافات کے حوالے سے کئے جانے والے ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار نے کہا کہ ان کو ضروری نہیں ہے کہ وہ وزارت دفاع، جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور فوج پر اثر انداز ہوں، نہ ہی ایسا کبھی ماضی میں ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی ضرورت پیش آئے گی۔

خیال رہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کے چوہدری نثار سے روابط نہیں ہیں۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ حکومت کا ہی حصہ ہے اور فوج سے رابطے کے لئے زمینی حقائق کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیراعظم کے دورہ امریکا کے ایجنڈے کے حوالے سے کئے جانے والے سوال پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’دشمن کی زبان بولنے والے خود ساختہ دوستوں کے خلاف رد عمل سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسسز (را) کی پاکستان میں مداخلت واضح ہے اور ہندوستان کی اسپانسر دہشت گردی کے مسئلے کو امریکی دورے کے دوران اٹھایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان پر ہندوستان میں غیر ریاستی عناصر کو مدد فراہم کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ہندوستان یہ تسلیم کرچکا ہے کہ ان کے ریاستی ادارے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔انھوں نے کہا کہ محرم میں سیکیورٹی کے لئے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ 10،000 فوجی اہلکار اور 6300 پیرا ملٹری اہلکار بھی تعینات کئے جائیں گے۔

اسلام آباد میں بعض لوگ داعش سے وابستگی چاہتے ہیں

04Oct15_DU داعش01DU

لندن: پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے داعش کو القاعدہ سے بھی بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر اس کا سایہ بھی پڑنے نہیں دیا جائے گا۔
فرانس کے خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس این سیکیورٹی اسٹڈیز لندن میں خطاب کے دوران جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو داعش کے سائے سے بھی محفوظ رکھا جائے گا۔پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو داعش سے وابستگی ظاہر کرنا چاہتے ہیں جو کہ ایک بہت خطرناک رحجان ہے۔چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ القاعدہ کے مقابلے میں داعش سے نمٹنا بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔خیال رہے کہ القاعدہ نے 2001 میں امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کیا تھا۔شام اور عراق میں خود ساختہ خلافت قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم کے حوالے سے جنرل راحیل شریف نے مزید کہا کہ داعش مستقبل کا بڑا خطرہ محسوس ہوتی ہے، یہ ایک بڑا نام ہے، القاعدہ بھی بڑا نام ہے لیکن اب داعش اس سے زیادہ بڑا نام بن چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں مفاہمت ہونا بہت ضروری ہے، اگر اس کو درست انداز میں نہیں کیا گیا تو افغان طالبان کے بعض دھڑے بڑے نام کی طرف جا سکتے ہیں اور یہ بڑا نام داعش ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈہ، آرمی چیف
آرمی چیف نے افغانستان میں جاری امن مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی فوج اور حکومت افغانستان میں دیرپا اور مستقل امن کی حمایت کرتی ہے۔جنرل راحیل شریف نے خطاب کے دوران کہا کہ مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈہ ہے جسے خطے کے امن و استحکام کی خاطر حل کرنے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی جارحیت سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

اسپین:داعش سے تعلق کے الزام میں لڑکی گرفتار

September 06, 2015
06Sep15_DU  جہادی لڑکیان02
DU

والنسیا: اسپین کی پولیس نے شام جا کر داعش کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک ہونے کے الزام میں 18 سالہ ماروکن لڑکی کو گرفتار کرلیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسپین میں گزشتہ سال سیکیورٹی خدشات سامنے آنے کے بعد سے اب تک داعش سے ہمدردی کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔پولیس نے والنسیا کے قریب گاندیا ٹاؤن سے لڑکی کو اس کے گھر سے گرفتار کیا اور اس موقع پر لڑکی کا پورا جسم کالے رنگ کے نقاب میں چھپا ہوا تھا جبکہ صرف اس کے ہتھکڑی لگے ہاتھ ہی دیکھے جاسکتے تھے۔پولیس نے لڑکی کے گھر سے شواہد سے بھرے ہوئے ڈبے بھی ہمراہ لے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے دیگر خواتین کو داعش میں شامل ہونے کے لیے بھرتی کررہی تھی۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ جس وقت اسے گرفتار کیا گیا وہ شام جانے کے لیے سفر کی تیاری میں مصروف تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ لڑکی کا تعلق ماروکو سے ہے تاہم وہ اسپین میں طویل عرصے سے مقیم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وہ انٹرنیٹ پر جہادی نظریات کو پھیلانے کے لیے دہشت گرد حملوں کا جوز پیش کرتے ہوئے لوگوں کو ہلاک کرنے والی ویڈیوز کو پھیلارہی تھی۔
06Sep15_DU  جہادی لڑکیان01
خیال رہے کہ اسپین سے گرفتار ہونے والی یہ پہلی لڑکی نہیں ہے جس پر الزام ہے کہ وہ خواتین کو مسلح گروپ میں شمولیت کے لئے بھرتی کررہی تھی، اس سے قبل بھی ایک خاتون کو اسی جرم میں جولائی میں لانزاروٹے کے جزیرے سے گرفتار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اسپین سے 100 سے زائد افراد عراق اور شام میں شدت پسندوں سے جا ملے ہیں جن کے بارے میں حکام نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اسپین واپس آکر حملے کریں گے۔

یاد رہے کہ مارچ 2004ء میں القاعدہ سے متاثر ایک بمبار نے میڈرڈ میں مسافر سے بھری چار ٹرینوں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جس کے نتیجے میں 191 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اسپین پولیس نے واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے 20 ماروکن افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔

بلوچ چاہیں تو آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری پر تیار

براہمداغ بگٹی
DU

بلوچ ری بپلکن پارٹی کے سربراہ اور جلاوطنی کی زندگی گزرانے والے بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کے مسئلے پر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلوچ عوام چاہتے ہیں تو وہ آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری کے لیے تیار ہیں۔
براہمداغ ماضی میں اس معاملے پر مذاکرات کی آپشن کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا موقف رہا ہے کہ ’بلوچستان کی آزادی تک جنگ رہے گی۔بدھ کو بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ایک لحاظ سے شکست ہوئی ہے اور انھیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا طریقہ غلط تھا اور پرامن بات چیت کے لیے آگے آنا ہوگا۔سوئٹزرلینڈ میں موجود براہمداغ نے کہا کہ بلوچستان میں گذشتہ دس پندرہ سال کے تشدد، قتل و غارت، گرفتاریوں، گمشدگیوں، مسخ شدہ لاشوں کے ملنے سے کیا فرق پڑا۔ کیا اس سے بلوچ ذہن تبدیل ہوا یا ان کی سوچ مزید پختہ ہوئی۔
اس سوال پر کہ اگر مذاکرات کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ شرط رکھی جائے کہ وہ آزاد بلوچستان کا مطالبہ ترک کر دیں تو ان کا ردعمل کیا ہوگا، براہمداغ نے کہا کہ اگر ہمارے دوست، ساتھی سیاسی حلیف اور عوام کی اکثریت یہ چاہتی ہے تو ہم بالکل پاکستان کے ساتھ رہنے کو تیار ہیں۔براہمداغ بگٹی نے لندن میں موجود پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے تو کسی رابطے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام معاملات سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔اگر وہ ہم سے ملنا چاہیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں کیونکہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور مسائل کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔یہ تو بہت بیوقوفی کی بات ہوگی کہ کوئی کہے کہ وہ بیٹھ کر مسائل حل کرنا چاہتا ہے اور ہم کہیں کہ نہیںان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ان سے بہت مرتبہ رابطے تو ہوئے لیکن کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔’پیپلز پارٹی کے دور میں رحمان ملک وغیرہ نے بات چیت کی تھی تو اس پر جب زرداری صاحب سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ ان لوگوں سے ضرور ملیں لیکن فوج اور اسٹیبلشمنٹ آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔براہمداغ نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ماحول سازگار ہونا ضروری ہے۔ اگر قتل و غارت جاری ہو تو ایسے میں مذاکرات کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اسی لیے ہمارا کہنا ہے کہ آپریشن بند کیا جائے، تمام فورسز کو واپس بلایا جائے تو اس کے بعد ہی بات چیت کے لیے ماحول سازگار ہو سکتا ہے۔

اس سوال پر کہ اگر مذاکرات ہوئے تو ان کا ایجنڈا کیا ہو سکتا ہے، انھوں نے کہا کہ ’ہم تو تو مظلوم قوم ہیں اور نو سال سے آپریشن کا شکار ہیں۔طاقتور وہی ہیں۔ وہ کیا دینے کو تیار ہوں گے؟ وہ کیا ایجنڈا رکھتے ہیں۔اگر وہ آتے ہیں تو ہم انھیں وہی ایجنڈا پیش کریں گے جو ہماری اکثریت کو منظور ہوگا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان پر اور دیگر علیحدگی پسندوں پر بلوچ عوام کا دباؤ نہیں کہ مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے تو بلوچ رہنما نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دس پندرہ برس بیت چکے ہیں۔ آپ نے ان برسوں میں کب کوشش کی۔ بات صرف اخبارات اور حکومتی اجلاسوں تک محدود رہتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرے کیونکہ طاقتور وہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی والے ہر مسئلے کو طاقت سے حل کرنا چاہتے ہیں جو کہ غلط ہے۔ بلوچستان میں حالات خراب بھی انھوں نے کیے تھے اور اسے صحیح بھی وہیں کریں گے۔ ہمارے پاس نہ طاقت ہے اور نہ اتنی بڑی فوج کہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔ اس خون خرابے اور طاقت کے استعمال سے کچھ نہیں ہوگا۔بلوچستان میں حکومت کی جانب سے ترقیاتی سرگرمیوں کے بارے میں سوال پر براہمداغ نے کہا کہ بلوچستان میں جو بھی ترقی ہو، وہاں عوامی حکومت ہے ہی نہیں۔ ترقی کے ان فیصلوں میں بلوچ عوام کی مرضی شامل نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ ان کے صوبے میں کیا ہو رہا ہے۔

اس سوال پر کہ حالیہ دنوں میں ان پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ انھیں بھارت سے مدد ملتی ہے، براہمداغ نے کہا کہ اگر بھارت ہماری مدد کرتا ہے تو ہم اس سے انکار نہیں کریں گے کیونکہ اپنے دفاع کے لیے ہر کوئی مدد مانگتا ہے اور ہم اسی طرح اقوامِ متحدہ اور امریکہ سے بھی مدد مانگ سکتے ہیں کیونکہ بھارت نے تو بلوچستان میں آپریشن کے لیے نہیں کہا تھا۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کی ناکامیاں ہیں اور وہ اپنے کرتوت چھپانے کے لیے اس قسم کے الزام لگاتی ہے۔اپنے دادا اور بلوچ رہنما اکبر بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے براہمداغ نے کہا کہ اس کا انحصار تو پاکستان کے حکمرانوں پر ہے کہ 2006 کے واقعات کے بعد کیا تحقیقات ہوئیں اور کیا حقائق سامنے آئے۔

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ نو برس میں اس واقعے کی تحقیقات کی بجائے اس علاقے میں آپریشن جاری ہے بلکہ میں کہوں گا کہ پورے بلوچستان میں قتل و غارت جاری ہے۔ ان حالات میں ممکن نہیں کہ کسی کے دل میں اتنا رحم آ جائے کہ وہ حقائق سامنے لائے