Category: Comments

ایرانی جنرل ہمدانی کی شام میں ہلاکت بارے متضاد روایات!

October 16, 2015
16Oct15_AA ھمدانی01al-Arabia

ایک ہفتہ پیشتر شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سرکردہ عہدیدار جنرل علی ہمدانی کے قتل کے بعد ہلاکت کی متضاد تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایران کے ذرائع ابلاغ نے جنرل ہمدانی کی شام کے شہر حلب میں باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کو غیرمعمولی کوریج دی ہے اور ہلاکت کے پس منظر اور کیفیت کے بارے میں بھی مختلف واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل ھمدانی کے قتل کے بارے میں ایک روایت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی بیان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسٹر ہمدانی کو شمالی حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران اس وقت ہلاک کیا گیا جب وہ یک گاڑی میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔جنرل ہمدانی کے قتل سے متعلق ایک دوسری روایت جو زیادہ مقبول ہو رہی ہے وہ پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان ہے۔ پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر جرنل حسین ھمدانی حلب کے نواحلی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی “داعش” کے ساتھ لڑائی میں 8 اکتوبر کی رات کو ہلاک ہوئے۔ یوں پاسدارن انقلاب کے بیان اور سپریم سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کے بیانات میں جنرل ھمدانی کی ہلاکت کی الگ الگ کیفیات بیان کی گئی ہیں۔علی شمحانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن لوگوں نے حسن ہمدانی کو قتل کیا ہے وہ اچھی طرح ان سے واقف نہیں تھے، جب کہ پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق داعش کو علم تھا کہ حلب میں وہ جس کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ایران کے ایک سینیر عہدیدار حسین علی ہمدانی ہیں۔

ٹیکسٹ پیغام تنازع کا موجب
جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے فوری بعد ایران کے ذرائع ابلاغ میں سب سے پہلے جو اطلاعات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ حسین علی ہمدانی شام میں ایک حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب پاسداران انقلاب کے عہدیداروں اور پاسیج فورس کے اہلکاروں نے اپنے موبائل پیغامات میں ایک دوسرے کو یہ بتانا شروع کیا کہ حسین ھمدانی حادثےمیں نہیں بلکہ شامی اپوزیشن کے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب کے بعض ارکان کی طرف سے موبائل پر یہ پیغام بھی جاری کیا گیا کہ حسین ھمدانی حلب میں اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی جیپ ایک ٹرک کو اور ٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہو کر الٹ گئی تھی۔ حسین ھمدانی حادثےمیں شدید زخمی ہوئے اور اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ یوں ٹیکسٹ پیغامات میں بھی جنرل ہمدانی کی ہلاکت کے بارے میں متضاد دعوے کیے جاتے رہے۔ ٹیکسٹ پیغام میں یہاں تک بتایا گیا تھا کہ جنرل ھمدانی جنوب مشرقی حلب سے حماۃ شہر کی جانب جا رہے تھے کہ خناصر اور اثریا قصبوں کے درمیان ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔

ایران میں سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر پاسداران انقلاب کے ارکان اور باسیج فورسز کے عہدیداروں کے بیانات کے برعکس جنرل ہمدانی کی ہلاکت کی الگ ہی کیفیت بیان کی۔ سماجی کارکنوں نے لکھا کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے تو انہیں کچلنے کے لیے جنرل ہمدانی نے بھی حصہ لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں جنرل ہمدانی کو “ہیرو” نہیں سمجھا جاتا۔ سنہ 2009ء میں جنرل ہمدانی پاسداران انقلاب کے “محمد الرسول اللہ” بریگیڈ کے سربراہ تھے۔ وہ اپوزیشن کے اس حد تک خلاف تھے کہ اصلاح پسند رہ نمائوں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی سمیت سرکردہ اپوزیشن لیڈروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرتے پائے گئے تھے۔

انٹیلی جنس کارروائی میں ہلاکت
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شمخانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ جنرل حسین ھمدانی کو حلب میں ایک انٹیلی جنس کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ تہران میں جامع مسجد امام حسین میں ایک تقریب سے خطاب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ شام میں جنرل حسین ھمدانی کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان کا قتل انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہیں اس وقت انٹیلی جنس کارروائی میں مارا گیا جب وہ ایک کار میں اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ چھپے ہوئے تھے۔اس کے برعکس پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حسین ھمدانی “داعش” ملیشیا کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ فارسی نیوز ویب پورٹل” جماران” نے “محمد رسول اللہ ” بریگیڈ کے سربراہ محسن کاظمینی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ حسین ہمدانی کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہیں شام میں ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جا رہا تھا۔کاظمینی کا کہنا تھا کہ جنر حسین ھمدانی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ جا رہے تھے کہ حلب کے قریب راستے میں دشمن کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگ پھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ کاظمینی نے حسین ھمدانی کے قاتلوں کو “تکفیری” قرار دیتے ہوئے دھمکی دی کہ آئندہ ایام میں ھمدانی کے قاتلوں سے انتقام لیا جائےگا۔

Advertisements

پیغمبراسلام پر ایرانی فلم ،سعودی مفتیِ اعظم کی مذمت

September 04, 2015
04Sep15_AA مفتی سعودیہ
al-Arabia

فلم میں اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے
سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے ایران میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ”محمد” کے نام سے بنائی گئی فلم کو ایک ناپاک جسارت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایران میں یہ سب سے زیادہ لاگت سے بننے والی فلم ہے اور اس کی گذشتہ ہفتے سے ملک میں نمائش جاری ہے۔اس میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار براہِ راست دکھایا گیا ہے جبکہ سُنی اسلام میں اس کی ممانعت ہے اور اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔

مفتیِ اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے اخبار الحیات سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک توہین آمیز جسارت ہے اور اس میں اسلام کو مسخ کیا گیا ہے۔اس میں پیغمبراسلام کی توہین کی گئی ہے اور ان کے مقام ومرتبے کو گھٹانے کی بھی مکروہ کوشش کی گئی ہے۔مکہ مکرمہ میں قائم موتمرعالم اسلامی نے بھی گذشتہ ہفتے اس ایرانی فلم کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس انداز میں پیغمبر اسلام کا کردار دکھایا جانا ممنوع ہے۔

موتمرعالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل عبداللہ الترکی نے تہران حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اس فلم کو سینماؤں میں دکھانے پر پابندی عاید کرے۔انھوں نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فلم کا بائیکاٹ کردیں۔اس فلم کا دورانیہ ایک سو اکہتر منٹ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ماجد ماجدی ہیں اور اس پر قریباً چار کروڑ ڈالرز (تین کروڑ ساٹھ لاکھ یورو) لاگت آئی ہے۔اس میں سے کچھ رقم ایرانی حکومت نے دی ہے اور یہ سات سال سے زیادہ عرصے میں مکمل ہوئی ہے۔ماجدی کا کہنا ہے کہ ان کے اس کام کا مقصد اسلام کے حقیقی امیج کو اجاگر کرنا ہے جس کو ان کے بہ قول انتہا پسندوں نے داغدار کردیا ہے۔

شیعہ مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانا کتاب و سنت کے منافی: شیخ الازہر

06Aug15_AA اظہرShafaqna

عالم اسلام کے تاریخی دینی مرکز شیخ الازہر شیخ احمد الطیب نے کہا ہے کہ شیعہ مسلمانوں پر کفر کا فتوی، قرآن و سنت کے منافی ہے جسے ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا- شیخ الازہر نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ چینلوں پر شیعہ مسلمانوں کو کافر کہنا ایک نادرست اقدام ہے اور کتاب و سنت اور دین کے لحاظ سے اس طرح کے اقدامات قطعا ناقابل قبول ہیں- شیخ الازہر شیخ احمد الطیب نے مزید کہا کہ ہم شیعہ مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں اور یہ جان لینا چاہئے کہ افواہوں کے برخلاف شیعہ مسلمانوں کے پاس کوئی دوسرا قرآن نہیں ہے- شیخ الازہر نے تاکید کے ساتھ کہا کہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان ایسا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر ایک دوسرے کو اسلام سے خارج کر دیا جائے بلکہ اس سلسلے میں ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ، بعض اختلافات سے ناجائز سیاسی فائدہ اٹھانا ہے- شیخ الازہر احمد الطیب نے کہا کہ جامعۃ الازہر کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ مسلم امۃ اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی کوشش کرے- انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے حالات میں کہ جب مسلم امۃ کے درمیان اتحاد کی اشد ضرورت ہے، گمراہ کن افکار، عالم اسلام میں فتنہ انگیزی کے مترادف ہیں- شیخ الازہر نے مزید کہا کہ اتحاد آج کے دور کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر ہم سر نہیں اٹھا سکتے

یمن کا بحران مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے: نواز شریف

13Apr15_BBCپالیسی بیانBBC_BU

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے یمن کے بحران کے بارے میں بیان دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اسلام آباد میں پیر کو اپنے اہم وزرا اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے صلاح و مشورے کے بعد وزیر اعظم نے کہا کہ یمن کے تنازع کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیردفاع خواجہ محمد آصف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری شریک تھے۔اجلاس کے بعد وزیراعظم محمد نواز شریف نے اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمان میں 10 اپریل کو منظور ہونے والی قرارداد پاکستان کی پالیسی کے مطابق ہے۔وزیراعظم نے کہا یمن میں غیرریاستی عناصر کی جانب سے حکومت کو تختہ الٹے کی مذمت کرتے ہیں اور یمن میں صدر منصور ہادی کی حکومت کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں۔انھوں نے واضح کیا کہ یمن پر مشرکہ قرارداد کے بعد کئی طرح کے بیانات آئے ہیں، جن میں صورتحال کے بارے میں کچھ میڈیا رپورٹس مہبم اور افواہوں پر مبنی ہیں۔وزیراعظم نے خلیج تعاون کونسل پر واضح کیا کہ قرارداد پر عدم اعتماد غلطی فہمی کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے بعض افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان سٹریٹیجک پارٹرنز ہیں اور مشکل وقت میں پاکستان دوست ممالک کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور مشکل وقت میں سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کو بھی بتایا کہ یمن میں قانونی حکومت کو تشدد کے ذریعے گرانا خطے کے لیے خطرناک ہوگا۔خیال رہے کہ اس سے قبلسعودی عرب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے اس کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عسکری مہم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن میں باغیوں پر بمباری کی مہم کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اگر پاکستانی فوج اس اتحاد میں شامل بھی ہوتی تو اس کا کردار مددگار کا ہی ہوتا۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں بّری، بحری اور فضائی تعاون اور مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔جبکہپاکستانی پارلیماننے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں اتحاد کی عسکری کارروائی میں شمولیت کی سعودی عرب کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد میں کہا تھا کہ ملک کو اس تنازعے میں اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔10 اپریل کو متقفہ طور پر منظور کی گئی ایک قرارداد میں کہاگیا تھا کہ پاکستان یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں سرگرم سفارتی کردار ادا کرے۔

عدن میں ایرانی فوجیوں کی گرفتاری کی خبر جھوٹی ہے

13Apr15_SNایرانی تردیدSN_Or

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے عدن میں دو ایرانی فوجیوں کی گرفتاری کی خبر کو غلط قرار دیا ہے. ہمارے نمائںدے کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللهیان نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ سعودی عرب نے یمن پر حملہ کرکے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے کہا کہ تہران خطے میں امن اور اس کے استحکام پر تاکید کرتا ہے- انھوں نے مزید کہا کہ ایران کا یمن میں کوئی فوجی موجود نہیں ہے اور عدن میں دو ایرانی فوجیوں کی گرفتاری کی خبر غلط ہے- حسین امیرعبداللهیان نے امریکہ سے کہا کہ وہ خطے میں دہری پالیسی سے دستبردار ہو جائے- حسین امیرعبداللهیان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب کو یمن کے سلسلے میں امریکہ کی مدد پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے- حسین امیرعبداللهیان نے مزید کہا کہ یمن کے عوام اور مسلمان مکہ اور مدینہ میں حرمین شریفین کی سلامتی کے تحفظ کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہیں لیکن یمن کے خلاف جارحیت ایک دوسرا مسئلہ ہے جس کے اپنے ناگزیر منفی نتائج ہیں- حسین امیرعبداللهیان نے سعودی عرب کی جنگ پسندی کی غلط پالیسی کی حمایت سے متعلق متحدہ عرب امارات کے موقف کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت سعودی عرب کے ستارے گردش میں ہیں- حسین امیرعبداللهیان نے حملوں کے فوری طور پر بند کۓ جانے اور انسان دوستی پر مبنی امداد بھیجنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یمن کے بحران کا واحد حل قومی مذاکرات ہیں- انھوں نے کہا کہ اس خطے کے دشمن سعودی عرب کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور یمن پر حملہ اور اس کے نتائج اس مذموم سازش کا نقطہ آغاز ہے

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس جاری، اہم بیان متوقع

13 April, 2015
13Apr15_BBCپالیسی بیانBBC_BU

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت یمن اور سعودی عرب کی صورتحال پر ایک اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔
اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیردفاع خواجہ محمد آصف، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری شریک ہیں۔سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پیر کو سعودی عرب اور یمن کی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم بیان متوقع ہے۔اس سے قبلسعودی عرب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے اس کے فوجی اتحاد کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ حوثی باغیوں کے خلاف یمن میں جاری مہم پر اثرانداز نہیں ہوگا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی عسکری مہم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یمن میں باغیوں پر بمباری کی مہم کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اگر پاکستانی فوج اس اتحاد میں شامل بھی ہوتی تو اس کا کردار مددگار کا ہی ہوتا۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں بّری، بحری اور فضائی تعاون اور مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔جبکہ پاکستانی پارلیمان نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں اتحاد کی عسکری کارروائی میں شمولیت کی سعودی عرب کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد میں کہا تھا کہ ملک کو اس تنازعے میں اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔10 اپریل کو متقفہ طور پر منظور کی گئی ایک قرارداد میں کہاگیا تھا کہ پاکستان یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں سرگرم سفارتی کردار ادا کرے۔

اماراتی وزیر کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل سے گریز

12Apr15_DUتسنیم اسلم01DU_BU

اسلام آباد: یمن تنازع پر ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران منظور کی جانے والی قرار داد جس میں پاکستان کی غیر جانبداری پر زور دیا گیا تھا، کے بعد متحدہ عرب امارات کے وزیر کی جانب سے دئے گئے ریمارکس پر خارجہ دفتر نے ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے خارجہ امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر انور محمد قرقاش کے بیان پر دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ کس نے کیا کہا ہے، ہمارے پاس اس کی کوئی مصدقہ رپورٹ نہیں ہے، اس لئے اس پر رائے نہیں دی جا سکتی۔واضح رہے کہ ڈاکٹر قرقاش نےیمن تنازع پر ترکی اور پاکستان کے غیر جانبدار رویے تنقید کی تھی۔
ڈاکٹر انور محمد قرقاش کا بیان پاکستان کو مبہم مؤقف کی بھاری قیمت ادا کرنی ہوگی
انہوں نے کہا کہ خلیج عرب اس وقت انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے مبہم مؤقف سے ثابت ہوتا ہے کہ لیبیا سے یمن تک کی سلامتی کی ذمہ داری صرف عرب ممالک پر ہی عائد ہوتی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے لئے خلیجی ممالک سے ذیادہ ایران اہمیت کا حامل ہے۔غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کے دوران متحدہ عرب امارات کے وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کو مبہم موقف کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال یمن میں حوثی قبیلے کی جانب بغاوت کی گئی اور دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں پر قبضہ کر لیا گیا تھا، جس کے رد عمل میں سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملے کیے اور پاکستان سمیت ترکی و دیگر خلیجی ممالک سے مدد کی درخواست بھی کی تھی۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں قرارداد منظور : پاکستان غیر جانبدار رہے گا
خیال رہے کہ یمن تنازع کے حوالے سے پاکستان میں ہونے والے پارلیمانی مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ دیا گیا ہےکہ سعودی عرب میں پاکستان کے فوجی دستےپہلے سے موجود ہیں ، حرمین شرفین کو کوئی خطرہ ہونے پو بھر پور دفاع کیا جائے گا اور پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کرے گا لیکن یمن تنازع میں غیر جانب دار رہ کر ثالث کا کردار ادا کرے گا۔