Category: Clashes

سنجار میں یزیدیوں کی لوٹ مار، مسجد اور مکانات نذرآتش

November 16, 201516Nov15_AA سنجر01al-Arabia

یزیدیوں نے سنی عربوں کے متعدد مکانوں کو لوٹنے کے بعد آگ لگادی
عراق کے شمالی قصبے سنجار میں یزیدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے بلوائیوں نے مسلمانوں کے مکانوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کرنا شروع کردیا ہے اور انھوں نے ایک مسجد کو بھی شہید کردیا ہے۔عراق کے خود مختار علاقے کردستان سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فورسز البیشمرکہ اور یزیدی مسلح ملیشیا نے امریکی اتحادیوں کی فضائی مدد سے جمعہ کے روز سنجار پر دوبارہ قبضہ کیا تھا اور وہاں سے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجو شکست کے بعد راہِ فرار اختیار کرگئے تھے۔داعش نے گذشتہ سال اگست میں اس قصبے پر قبضہ کیا تھا اور وہاں یزیدی فرقے کی خواتین اور مردوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔انھوں نے مردوں اور عورتوں کو بڑی تعداد کو قتل کردیا تھا اور عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا۔یزیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ قصبے کے بعض مکینوں نے داعش کے جنگجوؤں کو یزیدی فرقے کی نشان دہی میں مدد دی تھی۔

داعش کے اس قصبے پر قبضے کے بعد بعض مکینوں نے اپنے مکانوں کے بیرونی دروازوں پر لفظ ”سُنی” لکھ دیا تھا تا کہ وہ کسی قسم کی کارروائی سے بچے رہیں۔اب ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ مسلمانوں کے انہی مکانوں کو لوٹ مار کے بعد نذر آتش کیا گیا ہے جن کے باہر لفظ سُنی لکھا ہوا تھا۔اس عینی شاہد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یزیدیوں نے قصبے میں ایک مسجد کو بھی جلا دیا ہے اور اس نے خود یہ جلی ہوئی مسجد دیکھی ہے۔ایک اور عینی شاہد نے بھی اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر بتایا ہے کہ یزیدی مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنے کے بعد نذرآتش کررہے ہیں۔

لیکن دوسری جانب کرد سکیورٹی فورسز البیشمرکہ کے سنجار میں کمانڈر نے مسلمانوں کے گھروں میں لوٹ مار اور انھیں نذرآتش کیے جانے کی اطلاعات سے انکار کیا ہے جبکہ ان بیانات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔یادرہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جنوری میں سنجار کے شمال میں واقع سنی عربوں کی آبادی والے دو دیہات پر یزیدی مسلح لشکریوں کے حملوں کی اطلاع دی تھی۔انھوں نے اکیس افراد کو ہلاک کردیا تھا اور متعدد گھروں کو جلا دیا تھا۔

عراق میں حالیہ مہینوں کے دوران داعش سے واپس لیے گئے دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی لُوٹ مار اور املاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں جن کے پیش نظر اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ عراق میں جاری خانہ جنگی ان واقعات کے بعد نسلی اور فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرسکتی ہے اور اس سے تشدد کو تقویت مل سکتی ہے۔واضح رہے کہ یزیدی بھی نسلی اعتبار سے کرد ہیں مگر شمالی عراق میں مسلمانوں کی آمد کے بعد انھوں نے دین اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اپنے قدیم مذہب ہی پر قائم رہے تھے۔یزیدی شمالی عراق میں چند قصبوں اور دیہات میں آباد ہیں۔داعش کے ہاتھوں یزیدیوں کی بڑی تعداد کی ہلاکتوں کو اقوام متحدہ نے نسل کشی سے تعبیر کیا تھا۔

افغانستان سےگولہ باری،7 پاکستانی اہلکار ہلاک

October 27, 2015
27Oct15_DU گولہ01DU

پشاور، اسلام آباد: پاک-افغان سرحد پر شدت پسندوں کے حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے 7 اہلکار ہلاک ہو گئے۔
ڈان نیوز نے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں پاک-افغان سرحد کے قریب انگور اڈہ کے مقام پر واقع ایک ایف سی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی.
27Oct15_DU گولہ02
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ چیک پوسٹ پر کتنے اہلکار تعینات تھے.واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے بارڈر پر سیکیورٹی سخت کر دی جبکہ سرحد پر ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔یاد رہے کہ 3 ماہ قبل جولائی میں بھی سرحد پار سے پاکستانی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی تھی جس سے 2 اہلکار زخمی ہوئے تھے ، جبکہ پاکستانی کی جانب سے جوابی فائرنگ سے ایک افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوا تھا جس کے بعد کابل میں پاکستانی سفارتکار کو طلب کرکے افغان حکام نے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا.
27Oct15_DU گولہ03
خیال رہے کہ جنوبی وزیر ستان میں پاک فوج کی جانب سے 2009 میں آپریشن راہ نجات کے ذریعے عسکریت پسندی کا خاتمہ کیا گیا تھا، اسی آپریشن کے بعد فوج کے مرکز جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر حملہ کیا گیا تھا، تاہم جوابی کارروائی میں تمام دہشت گرد مارے گئے تھے۔بعد ازاں جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا جبکہ اکتوبر میں خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر-ون اور مارچ 2015 میں آپریشن خیبر-ٹو کا آغاز کیا گیا، فوج کی ان کارروائیوں سے شدت پسند سرحد کی دوسری جانب افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے.اس سے قبل بھی افغانستان سے پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں کی کوششیں کی جاتی رہیں،تاہم پاکستانی فورسز نے انھیں ناکام بنا دیا.واضح رہے کہ ان خبروں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ مذکورہ علاقوں میں میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے، اس لیے ذرائع ابلاغ کو سرکاری اطلاعات پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے.
27Oct15_DU گولہ04

سترہ (17)۔ روز میں 37 فلسطینی قتل

October 17, 2015
17Oct15_DU فلسطینی01DU

غزہ: فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے غزہ میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کرکے مزید دو فلسطینیوں کو قتل اور 98 کو زخمی کردیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان اشرف نے بتایا کہ غزہ کے شمالی حصے بیت الحنون کراسنگ کے قریب اسرائیلی فوج نے 22 سالہ فلسطینی نوجوان یحیٰ عبدالقادر فرحت کے سر میں گولی مار دی، جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔دوسرے فلسطینی نوجوان 22 سالہ محمد حمادیہ کو سرحدی علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔وزارت صحت کے مطابق آنسو گیس اور فائرنگ کے باعث 98 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔رواں ماہ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 37 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ اسرائیلی فورسز سے جڑپوں میں سینکڑوں فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق حالیہ کشیدگی میں اب تک 7 اسرائیلی فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی بھی ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ 1993-1987 اور 2005-2000 کے دوران ہونے والے انتفاضہ میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

گائے اسمگلنگ الزام: ایک اور ہندوستانی مسلمان قتل

October 17, 2015
17Oct15_DU گائے01
DU

نئی دہلی: ہندوستان کے شمالی ریاست کے ایک گاؤں میں مشتعل مظاہرین نے گائے کو ذبح کرنے کے لئے اسمگلنگ کئے جانے کے الزام میں ایک مسلمان کو ڈنڈو کے وار سے قتل اور دیگر 4 کو زخمی کردیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ جانوروں پر ظلم کرنے کے الزام میں اس کے دیگر 4 زخمی ساتھوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس افسر نے بتایا ہے کہ پولیس ان دیہاتیوں کی تلاش کررہی ہے جو کہ ریاست ہماچل پردیش کے گاؤں ساراھان میں حملے کے ذمہ دار ہیں۔ مذکورہ ریاست نئی دہلی سے 260 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ دیہاتیوں کے مشتعل ہجوم نے ایک ٹرک کا پیچھا کیا، جس میں 5 گائے اور 10 بیل موجود تھے، اور ٹرک میں موجود 5 افراد پر حملہ کردیا۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ یہ پانچوں افراد جنگل میں روپوش ہوگئے اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر انھیں ہسپتال منتقل کیا جہاں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

اس کا کہنا ہے کہ پولیس نے دیگر بچ جانے والے 4 افراد کو جانوروں پر ظلم اور ان کو ٹرک میں سوار کرتے ہوئے زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اتر پردیش میں گائے کے گوشت کھانے کی افوائیوں پر ایک مسلمان کو قتل کردیا گیا تھا۔یاد رہے کہ انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے ملک بھر میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو کہ آئے روز ہندوستان میں مشتعل مظاہروں کا سبب بن رہا ہے۔ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہندو قوم پرست رہنما نیرندرا مودی کی حکومت کے قیام کے بعد سے ملک میں ہندو انتہا پسندی کی لہر میں اضافہ ہوگیا ہے۔

غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی سے دو بچے شہید، 15 زخمی

October 11, 2015
11Oct15_AA غزہ01al-Arabia

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے خان_یونس کے مقام پر کم سے کم دو فلسطینی بچے شہید اور پندرہ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق غزہ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے بچوں کی شناخت مروان ھشام بربخ اور خلیل عمر عثمان کے ناموں سے کی گئی ہے جن کی عمریں 13 اور 15 سال ہیں۔وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں دو بچوں کی شہادت کے بعد جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں غزہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے جب کہ اکتوبر کے اوائل سے اب تک 20 شہری اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ شہداء میں 11 کا تعلق مغربی کنارے سے ہے۔

اسرائیلیوں نے چھ (4) فلسطینی شہید کردئیے۔ فلسطین میں بے چینی

October 10, 2015
10Oct15_NH فلسطینNewsHub
Clashe­s come as Hamas’s chief in Gaza called violen­ce that has hit the occupi­ed West Bank an intifa­da
GAZA CITY: A week of violence between Israelis and Palestinians spread to the Gaza Strip on Friday, with Israeli troops killing six in clashes on the border and Hamas calling for more unrest.
A fresh wave of stabbings also hit Israel and the West Bank, including a revenge attack by a Jewish suspect that wounded two Palestinians and two Arab Israelis.
The Gaza Strip had been mainly calm as unrest has shaken annexed east Jerusalem and the occupied West Bank in recent days.
But clashes broke out Friday east of Gaza City and Khan Yunis along the border with the Jewish state, with Israeli forces opening fire and killing six Palestinians, including a 15-year-old, and wounding 80, according to medics.
Hundreds of Palestinians, some with their faces covered by keffiyeh scarves, defied the soldiers by making victory signs and throwing stones.
It was the deadliest clash in Gaza since the summer 2014 war with Israel.
“Forces on the site responded with fire toward the main instigators to prevent their progress and disperse the riot,” an army spokesperson said.
Palestine Liberation Organisation secretary general Saeb Erekat accused Netanyahu and his government of “committing a new massacre of Palestinians” in Gaza.
The clashes came as Hamas’s chief in Gaza called the spreading violence an intifada, or uprising, and urged further unrest.
Israeli ‘stabs four Arabs in revenge attack’
In a sermon for weekly Muslim prayers at a mosque in Gaza City, Ismail Haniyeh said “we are calling for the strengthening and increasing of the intifada.”
“It is the only path that will lead to liberation,” he said. “Gaza will fulfil its role in the Jerusalem intifada and it is more than ready for confrontation.”
Stabbing attacks in the West Bank, Jerusalem and Israel itself along with rioting have raised fears of a third Palestinian intifada, following a first that began in 1987 and a second in 2000.
Those two conflicts cost the lives of some 5,000 Palestinians and around 1,100 Israelis.
Hamas rules Gaza, squeezed between Egypt and Israel and separated from the West Bank. It remains deeply divided from Palestinian president Mahmud Abbas’s Fatah party.
The enclave has been hit by three wars with Israel since 2008. A 50-day conflict between Palestinian militants in Gaza and Israel in the summer of 2014 left more than 2,200 people dead and 100,000 homeless.

تین (3) افراد نے دادری سانحہ کی سازش کی ۔ ملائم

October 08, 2015
08Oct15_UA دادری01Amr Ujala

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ دادری سانحہ کی سازش تین لوگوں نے رچی تھی. انہی لوگوں نے مظفر نگر میں فساد کرایا تھا. انہوں نے ان کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا. کہا کہ ان کی پڑتال کرائی جا رہی ہے. ایک ٹیم بھیج کر جانچ کرائی جائے گی. حکومت جلد ہی حقیقت سامنے لائے گی. انہوں نے فرقہ وارانہ طاقتوں کو کچلنے کے لئے ریاستی حکومت تک قربان کرنے کی بات کہی.ملائم سنگھ جمعرات کو ایس پی ہیڈ کوارٹر میں میڈیا سے مخاطب تھے. انہوں نے کہا کہ دادری کے بساهڑا گاؤں میں جان بوجھ کر سازش کی گئی. ہم نے پتہ لگایا کہ سازش کرنے والوں میں ایک ٹیم اور ایک ادارے سے منسلک تین افراد اہم ہیں.یہ مظفرنگر میں سازش کرکے 64 لوگوں کی ہلاکتیں کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن وہاں بھی ہم آہنگی کو خراب میں ناکام رہے. افسوسناک ہے کہ دادری کا واقعہ ایسے خاندان کے ساتھ کی گئی جس کا نوجوان سرحد پر ملک کی حفاظت کرتا ہے. انہوں نے کہا، پورے ملک میں اس وقت ترقی کی بھوک ہے. غربت، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن کے سوالات ہیں. ہم پردیش کو ترقی کی طرف لے جا رہے ہیں.وزیر اعلی اکھلیش یادو اور سماج وادی پارٹی حکومت کے کام کی بحث پورے ملک میں ہے. سماجوادی حکومت کسوٹی پر کھری اتر رہی ہے. عوام میں حکومت کے تئیں اعتماد پیدا ہوا ہے. اسی سے توجہ بٹانے کے لئے بساهڑا کے واقعہ کو انجام دیا گیا.

داعش کا تباہ کن حملہ،یمنی حکومت عدن ہی میں رہے گی

October 07, 2015
07Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اپنے ہیڈکوارٹرز پر تباہ کن حملے کے باوجود عارضی دارالحکومت عدن ہی میں رہے گی۔یمنی حکومت نے ان تباہ کن حملوں کے ایک روز بعد بدھ کو اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”وہ عارضی دارالحکومت عدن سے اس غیر معمولی مرحلے میں اپنا تاریخی اور قومی کردار جاری رکھے گی تاوقتیکہ تمام ملک کو آزاد نہیں کرالیا جاتا ہے”۔گذشتہ روز دوخودکش بمباروں نے عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں یمنی حکومت کے عارضی ہیڈکوارٹرز کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس سے متعدد وزراء معمولی زخمی ہوئے ہیں۔البتہ وزیراعظم اور نائب صدر خالد بحاح اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔بم دھماکے میں دو سرکاری محافظوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عدن ہی میں دو اور خودکش بم حملوں میں عرب فوجی اتحاد کی قائم کردہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عرب اتحاد نے خودکش بم حملے میں ایک سعودی اور تین اماراتی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔یمنی حکومت کے ذرائع نے دونوں حملوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

داعش نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور آن لائن جاری کردہ بیان کے ساتھ چار خودکش بمباروں کی تصاویر اور نام بھی شائع کیے ہیں۔داعش کا یمنی حکومت اور اس کی اتحادی عرب فورسز کے خلاف یہ پہلا تباہ کن حملہ ہے۔اس سے پہلے داعش کے خودکش بمبار دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں یا اہل تشیع کی مساجد کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔داعش کے بیان کے مطابق دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا تھا۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔

مودی حکومت کے خلاف بطورِ احتجاج ایوارڈ واپس

October 07, 2015
07Oct15_BBC نفرت01BBC

اہم اور معروف بھارتی مصنفوں نے ملک میں ’تنوع اور بحث و مباحثے پر بدنیت ساتھ حملے‘ کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے باوقار ادبی ایوارڈ واپس کر دیے ہیں۔
سالہ مصنفہ نین تارا سہگل کو سنہ 1986 میں باوقار ادبی ایوارڈ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جسے انھوں نے واپس کر دیا ہے۔ان کے علاوہ ہندی کے معروف شاعر اشوک واجپئی نے بھی اپنا ایوارڈ یہ کہتے ہوئے واپس کردیا ہے کہ حکومت ’عوام اور قلم کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔دونوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت ہندو شدت پسندوں کو اقلیتوں اور مصنفوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کر رہی ہے۔سہگل نے ایک بیان بعنوان ’ان میکنگ آف انڈیا‘ میں گذشتہ ہفتے گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ایک مسلمان کے قتل کے ساتھ ایم ایم کالبرگ، نریندر دابھولکر اور گووند پانسرے کے قتل کا ذکر کیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام مذہبی برادریوںکے تحفظ کا عہد کر رکھا ہے لیکن انھوں نے ابھی تک ان حالیہ حملوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
07Oct15_BBC نفرت02
اپنے بیان میں نین تارا سہگل نے لکھا: ’وزیر اعظم نے دہشت کے اس راج پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں ان شر پسندوں کو الگ کرنے کی ہمت نہیں ہے جو ان کے نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’بھارت کی تنوع اور بحث و مباحثے کی تہذیب و ثقافت اب مذموم حملے کی زد میں ہے۔بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی بھانجی نین تارا نے کہا: ’جو بھی توہمات پر سوال کرتا ہے، جو بھی ہندو مذہب کی بدصورت اور خطرناک تبدیلیوں کی کسی بھی جہت پر سوال کرتا ہے انھیں الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے، ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا پھر قتل کر دیا جاتا ہے۔انھوں نے این ڈی ٹی وی چینل کو بتایا مودی کے دور حکومت میں ’ہم پیچھے پسماندگی کی جانب اور ہندوتوا کی جانب جا رہے ہیں۔ کٹر پن میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت سے بھارتی خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔اشوک واجپئی نے اپنا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ’حقوق کی پامالی کو فروغ دے رہی ہے۔انھوں نے بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’یہ ایک پریشان کن رجحان ہے۔ اس سے عدالت کے ماورا ایجنسیوں کو اپنی من مانی کی اجازت دیتا ہے جبکہ اپنے شہریوں اور مصنفوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

یمن کے شہر تعز میں بھاری فوجی کمک پہنچ گئی

October 03, 2015
03Oct15_AA یمن01al-Arabia

باخبر یمنی ذرائع نے عرب اتحادی فوج کی جانب سے ارسال کردہ فوجی ساز وسامان اور سپاہ پر مشتمل کمک تعز شہر کے مشرقی محاذ پر بھجوانے کی تصدیق کی ہے۔ اس ضمن میں الوازعیہ ڈائریکٹوریٹ کا علاقہ خصوصی طور پر شامل ہے جہاں پر باغیوں کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ تعز کے متعدد علاقوں کا کںڑول یمن کی قومی فوج کے ہاتھ آنے کی اطلاعات کے تناظر میں سرکاری فوج کے اہلکار، ٹینک اور آرمڈ گاڑیاں کرش محور سے تعز پہنچیں ہیں
Video

س پیش رفت کے ساتھ دوسری جانب اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے #صنعاء میں صدارتی کمپاؤنڈ اور الصمع کیمپ پر حملہ کیا۔ دارلحکومت کے شمال میں ارحب سے تعلق رکھنے والے ایک #حوثی کمانڈر کے گھر پر اتحادی فوج نے حملہ کیا۔ اتحادیوں نے البیضاء کے علاقے میں واقع سپیشل ٹاسک فورس کے فوج کے کیمپ اور کھیل کے ایک میدان کو بھی اپنے فضائی حملوں کا خصوصی ہدف بنائے رکھا۔عرب اتحادی فوج کے آبنائے باب المندب پر کنڑول سے یمنی میدان جنگ میں انہیں قابل ذکر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ اس کامیابی کے جلو میں متعدد حوثی رہنماؤں کے ہتھیار ڈالنے کی اطلاعات ہیں جبکہ اتحادی فوج کی ارسال کردہ بھاری فوجی کمک تعز کے مشرقی اور مغربی محاذوں پر پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔عوامی مزاحمت کاروں نے تعز کے علاقے الوازعیہ الساحلیہ کے گرد حصار سخت کر دیا ہے۔ ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ باغی ملیشیا اور مزاحمت کاروں کے درمیان جاری شدید جھڑپیں جلد ہی پورے علاقے پر سرکاری فوج کے قبضے کی راہ ہموار کر دیں گی۔