Category: Bomb Blast

پیرس دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ کا پولیس محاصرہ

November 18, 201518Nov15_AA فرانس01al-Arabia

فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی ہوئے

فرانس کے دارلحکومت پیرس کے شمالی علاقے سان دونی میں پولیس کے انسداد دہشت گردی یونٹ کی ایک چھاپہ مار کارروائی کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔متعدد ذرائع اور خبر رساں اداروں کا کہنا ہے پولیس نے اس وقت پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ بلجیئم کے أبو عمر سمیت متعدد متشبہ افراد کا محاصرہ کر رکھا ہے۔پیرس سے ‘العربیہ’ کے نمائندے نے فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی ہے۔ مراسلہ نگار کے مطابق تادم تحریر فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا جس کے بعد سانی دونی کے مضافاتی علاقے میں میٹرو سروس بند کر دی گئی ہے۔ مشتبہ افراد اب بھی اس شمالی پیرس کے اس فلیٹ میں مجصور ہیں جس پر فرانس کی انسداد دہشت گردی پولیس کے یونٹ کے علی الصباح دھاوا بولا تھا۔

تفتیش سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانس کی لیگل پولیس کے ہمراہ انسداد دہشت گردی محکمہ کے اہلکار بھی منگل اور بدھ کی شب مارے جانے والوں چھاپوں میں شریک ہیں۔ ایک اور ذریعے کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ متوقع گرفتاریوں کے تانے بانے پیرس دھماکوں سے ملتے ہیں یا نہیں۔

Advertisements

بم تباہ ہونے والے روسی جہاز کے اندر ہی تھا

November 06, 201506Nov15_BBC01 جہازBBC

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مصر میں تباہ ہونے والے روسی مسافر طیارے کی تباہی کی وجوہات کا جائزہ لینے والے برطانوی تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ بم جہاز کے اندر موجود تھا۔انٹیلیجنس اہلکاروں نے اس سلسلے میں جزیرہ نما سینا میں شدت پسندوں کے پیغامات پکڑے تھے جس کے بعد برطانوی حکومت نے اسے دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔
برطانیہ نے مصر کے علاقے شرم الشیخ جانے والی پروازوں کو منسوخ کر دیا ہے جبکہ وہاں موجود برطانوی شہری جمعے سے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ انھیں اپنے پاس صرف دستی سامان لانے کی اجازت ہے۔میٹرو جیٹ ایئر بس اے 321 شرم الشیخ سے سینٹ پیٹرزبرگ جا رہی تھی کہ فضا میں تباہ ہو گئی اور اس میں سوار تمام 224 افراد ہلاک ہو گئے۔ زیادہ تر مسافر روسی باشندے تھے۔بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ گو کہ برطانوی تفتیش کاروں نے حادثے کے لیے تکنیکی خرابی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے لیکن ان کا خیال ہے ایسا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔برطانوی سکیورٹی سروس کو شبہ ہے کہ جہاز اڑنے سے کچھ دیر قبل کسی ایسے شخص نے سامان میں یا اس کے اوپر دھماکہ خیز آلہ نصب کیا جسے جہاز کے سامان رکھنے کی جگہ تک رسائی حاصل تھی۔
06Nov15_BBC 02 جہازدولتِ اسلامیہ سے منسلک صحرائے سینا کے ایک عسکریت پسند گروہ نے دعوی کیا ہے کہ جہاز اس نے تباہ کیا ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے شام میں اپنے خلاف حملوں کے باعث روس اور امریکہ دونوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔امریکی صدر براک اوباما نے بھی جمعرات کو بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ممکن ہے کہ تباہ ہونے والے جہاز پر بم موجود تھا۔‘ ان کا کہنا تھا ’یہ بات ہم انتہائی سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔‘تاہم مصر اور روس دونوں کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی نتیجہ اخذ کرنا جلد بازی ہو گا۔بدھ سے برطانیہ سمیت متعدد ممالک نے شرم الشیخ کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ فرانس اور بیلجیئم نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اس علاقے میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔تاہم روسی جہاز اب بھی اس علاقے سے پرواز کر رہے ہیں۔ روسی صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’جہاز کے ساتھ کیا ہوا اس سے متعلق سرکاری تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘مصری معیشت سیاحت پر بہت انحصار کرتی ہے۔ اس نے برطانیہ کی جانب سے پروازوں کی منسوخی کو غیر منطقی قرار دیا ہے۔برطانیہ میں موجود روسی صدر عبدالفتح السیسی نے کہا ہے کہ برطانیہ کی درخواست پر دس ماہ پہلے سے مصر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔تاہم انھوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے خدشات کو سمجھتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ نے مغویوں کو ستون سے باندھ کر بم سے اُڑا دیا

October 28, 2015
28Oct15_BBC ٰ داعش01BBC

شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے شام کے قدیمی شہر پیلمائرا میں تین مغویوں کو تاریخی ستونوں سے باندھ کر بم سے اڑا دیا ہے۔
اتوار کو ہلاک کیے جانے والے ان مغویوں کی ابھی شناخت نہیں ہو سکی ہے لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ مئی میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعد مغویوں کو قتل کرنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اس سے قبل شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے 2000 سال پرانے تاریخی عبادت گاہ اور کچھ دیگر تاریخی آثار تباہ کیے ہیں۔اقوام متحدہ کے ثقافت کا ادارہ یونیسکو اسے قدیم دنیا کے اہم ثقافتی مراکز میں شمار کرتا ہے۔شام کے بحران پر نظر رکھنے والی لندن میں قائم سیئرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ پیلمائرا کے مقامی ذرائع کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے اتوار کو تین مغویوں کو رومن ادوار کے بنے ستوتوں کے ساتھ باندھا اور ان ستونوں کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا۔پیلمائرا سے ایک سرگرم کارکن خالد آلحومسی نے بتایا کہ ’دولتِ اسلامیہ‘ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کے بارے میں مقامی افراد کو آگاہ نہیں کیا ہے۔انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’ان افراد کی ہلاکت کو کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ ستون تباہ ہو گئے تھے اور دولتِ اسلامیہ نے کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ایک اور سرگرم شخص محمد آلایاد کا کہنا ہے کہ ’دولتِ اسلامیہ میڈیا کی توجہ لینے کے لیے ایسا کر رہی ہے۔‘
28Oct15_BBC ٰ داعش02
دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں نے تدمر پر قبضے کے بعد تاریخی تھیٹر میں شامی افواج کے 25 سپاہیوں کو گولی مار دی تھی۔دولتِ اسلامیہ نے پیلمائرا کے قدیمی اثارت کی دیکھ بھال کرنے والے ماہر آثار قدیمہ خالد آلاسد کا سر قلم کیا تھا۔رواں ہفتے کے آغاز میں دولت اسلامیہ نے انٹرنیٹ پر تصاویر جاری کی تھیں جس میں ایک جنگجو ٹینک چلاتے ہوئے مبینہ طور پر ایک سپاہی کے اوپر گزار رہا تھا۔خیال رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے مئی میں شام کی حکومت سے یہ شہر چھین لیا تھا اور اس کے بعد سے وہاں کے معبدوں اور فنی نمونوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

سعودی عرب میں داعش کا خودکش حملہ، ایک ہلاک متعدد زخمی

October 27, 2015
27Oct15_BBC داعشBBC

سعودی عرب میں ایک خودکش حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حملے کا مقصد ملک کی شیعہ اقلیت کو نشانہ بنانا تھا۔
بم دھماکہ یمنی سرحد کے نزدیک سعودی عرب کے جنوبی شہر نجران میں ہوا ہے۔خیال رہے کہ رواں سال عسکری گروہ کے سنّی شدت پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر فائرنگ اور بموں کے کئی خوفناک حملے کیے گئے ہیں۔غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔تاہم حملہ آور کی اس دھماکے میں ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو حملہ آور کے والدین کے نام ان کا ایک خط ملاہے جس سے حملہ آور کے حملے کے ارادے کی تصدیق ہوجاتی ہے۔دوسری جانب نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد ’مسترد کرنے والے اسماعیلی‘ تھے۔ اسماعیلی شیعہ اسلام کی ہی ایک شاخ ہیں۔نجران کے علاقے میں اسماعیلیوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔

کوئٹہ میں مسافر بس میں دھماکہ، دس افراد ہلاک

October 19, 2015
19Oct15_BBC کوئٹہ01BBC

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 20 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ شہر کی مصروف شاہراہ سریاب روڈ پر بس ٹرمینل کے قریب ہوا ہے۔ایس ایس پی پولیس عبدالوحید خٹک کےمطابق دھماکہ سڑک سے گزرنے والی ایک مسافر بس میں ہوا۔انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیر مواد بس کی چھت پر نصب تھا۔سکیورٹی حکام کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس میں تقریباً 35 سے 40 افراد سوار تھے۔دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کی مدد سے کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب محرم الحرام کی مناسبت سے کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر اس سے پہلے بھی کئی بار دھماکے ہوئے ہیں لیکن حالیہ کچھ عرصے کوئٹہ امن و امان کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے۔

کوئٹہ میں دھماکا، 10 افراد ہلاک

October 19, 2015
19Oct15_DU کوئٹہ01DU

کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں دو بچوں سمیت دس افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔
دھماکا منگل کی رات سریاب روڈ پر دکانی بابا چوک کے قریب ٹرمینل پر کھڑی ایک بس میں ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کوئٹہ سے کراچی جانے والی بس میں 40 مسافر سوار تھے، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔دھماکے کے بعد شہر کا حساس سمجھے جانے والے علاقے سریاب روڈ پر ٹریفک معطل ہو گیا جبکہ امدادی کارروائیں جاری ہیں۔ دھماکے کی شدت سے اطراف میں عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔

نائیجیریا: مسجد میں بم دھماکا، 26 افراد ہلاک

October 16, 2015
16Oct15_DU نائیجیریا01DU

نائیجیریا کے شمالی شہر مایدوگوری میں اس وقت درجنوں افراد ہلاک ہوگئے جب نماز کی ادائیگی کے دوران مسجد کے قریب ایک بم زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایک سول ڈیفنس رضاکار نے بتایا ہے کہ مایدوگوری میں مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 26 افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے۔ رضاکار نے دہشت گردوں کے حملے کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ تفصیلات فراہم کی۔ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد خود کش حملہ آوروں نے مسجد میں گھس کر اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب نمازی عبادت میں مصروف تھے۔نائیجیریا میں بوکو حرام نامی شدت پسند تنظیم کے خلاف سیکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرنے والے ایک رضا کار اور واقعے کے عینی شاہد موہتری احمدو کا کہنا تھا کہ اس نے دھماکے کے بعد 42 لاشیں گنتی کی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ مسجد میں ایک وقت میں 40 افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے تاہم اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ دھماکے کے وقت مسجد کی عمارت میں نمازیوں کی تعداد کیا تھی۔ احمدو نے بتایا کہ دھماکے میں تمام نمازی ہلاک ہوگئے اور ایک بھی زندہ بچنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

واقعے کے دیگر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجکر 30 منٹ پر ہوئے۔واضح رہے کہ مذکورہ خود کش دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی بھی تنظیم یا گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔خیال رہے کہ سال 2009 میں نائیجیریا میں وجود میں آنے والی شدت پسند تنظیم بوکو حرام سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ فورسز پر حملوں اور شہری مقامات پر دھماکوں میں بھی ملوث ہے۔نائیجیریا میں گذشتہ کئی سالوں سے جاری کشیدہ صورت حال میں اب تک 17000 افراد ہلاک جبکہ 25 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔