Category: Air Strikes

روسی حملوں کے بعد شامی فوج کی پیش قدمی جاری ہے: اسد

November 22, 2015
22Nov15_AA شامی01
al-Arabia

شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا

شامی صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ روس کی فضائی مدد آنے کے بعد ان کے وفادار فوجی قریباً ہر محاذ پر پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے اتوار کے روز ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے فونیکس ٹیلی ویژن کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ماسکو میں نئے امن مذاکرات کی حمایت کریں گے لیکن انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ ” شامی تنازعہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کیے بغیر حل نہیں ہوگا”۔بشارالاسد نے کہا کہ ”شام میں 30 ستمبر کو روس کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد صورت حال ”بڑے اچھے” طریقے سے بہتر ہوئی ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فوج قریبا ہر محاذ پر مختلف سمتوں سے پیش قدمی کررہی ہے”۔روس دمشق حکومت کے ساتھ روابط کے ذریعے شام کے مختلف علاقوں میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہا ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک از خود ہی شام کے پیشگی علم میں لائے بغیر داعش یا القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔روس عالمی سفارتی محاذ پر بھی بشارالاسد کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور وہ ان کی اقتدار سے رخصتی کی بھی مخالفت کررہا ہے جبکہ دوسرے ممالک کا بنیادی مطالبہ ہی یہی ہے کہ شامی صدر بحران کے پُرامن حل کے لیے فوری طور پر اقتدار سے دستبردار ہوجائیں۔مگر بشارالاسد اقتدار چھوڑنا تو درکنار آیندہ صدارتی امیدوار بننے کو تیار بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”نئے انتخابات میں حصہ لینا میرا حق ہے۔البتہ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ میں ان انتخابات میں حصہ لیتا بھی ہوں یا نہیں۔یہ فیصلہ اس امر منحصر ہوگا کہ شامی عوام کے بارے میں میرے کیا احساسات ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ وہ مجھے چاہتے ہیں یا نہیں”۔

ان کا کہنا تھا کہ ”آپ ایسی کسی چیز کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں جو آیندہ چند سال میں ہونے جارہی ہے”۔انھوں نے شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ماسکو میں نئے امن مذاکرات کے انعقاد کی حمایت کا اظہار کیا ہے مگر ان کا بالاصرار کہنا ہے کہ ”دہشت گردی” کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد ہی بحران کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جاسکتا ہے”۔شامی صدر کا کہنا تھا کہ ملک کا نیا آئین بنانے اور اس پر ریفرینڈم کے انعقاد میں زیادہ سے زیادہ دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔واضح رہے کہ بشارالاسد اور ان کی حکومت ان تمام باغی جنگجو گروہوں کو ”دہشت گرد” قرار دیتے ہیں جنھوں نے ان کے خلاف ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔

انھوں نے شامی حزب اختلاف کی حمایت کرنے والے مغربی اور دوسرے ممالک پر انتہاپسندی کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مغرب نے ایک شامی مہاجر بچے ایان کردی کی تصویر سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا ہے اور انھوں نے حزب اختلاف کے پشتی بانوں پر دہشت گردی کی مدد وحمایت کے ذریعے شامیوں کو بیرون ملک جانے پر مجبور کیا ہے۔صدر بشارالاسد نے کہا کہ ”یہ بچہ اور دوسرے بچے اس خطے اور دنیا بھر میں مغرب کی پالیسیوں کی وجہ سے مارے جارہے ہیں اور مصائب جھیل رہے ہیں”۔

Advertisements

امریکی اتحادیوں کی داعش مخالف فضائی مہم ٹھنڈی پڑ گئی

October 28, 2015
28Oct15_AA مہم جوئی01
al-Arabia

روس نے شام میں اسد مخالف باغی گروپوں کے خلاف حملے تیز کردیے
امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک نے شام میں داعش اور دوسرے سخت گیر گروپوں پر فضائی حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں اور گذشتہ تین روز کے دوران میں ان کے لڑاکا طیاروں نے کوئی حملہ نہیں کیا ہے جبکہ دوسری جانب روس کے لڑاکا طیاروں نے صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے خلاف فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ڈیٹا کے مطابق اتحادی طیاروں نے شام میں آخری فضائی حملہ 22 اکتوبر کو کیا تھا اور اس میں داعش کی ایک گاڑی اور ایک مارٹر ٹیوب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی اتحادیوں کے برعکس روسی فضائیہ نے شام میں فضائی بمباری تیز کردی ہے اور روس کی وزارت دفاع کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان کے مطابق اس کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران چورانوے اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ ”روس کی وجہ سے شام میں فضائی حملے نہیں روکے گئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم انٹیلی جنس اطلاعات کو ملاحظہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہاں اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور کہاں شہریوں کے جانی نقصان کے بغیر اہداف پر بمباری کی جاسکتی ہے”۔

امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں ساٹھ سے زیادہ ممالک شامل ہیں اور وہ جون 2014ء سے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔امریکی اتحادیوں نے گذشتہ سال ستمبر میں اس سخت گیر گروپ کے خلاف فضائی بمباری کا آغاز کیا تھا۔گذشتہ اتوار تک اتحادی طیاروں نے شام میں کل 2679 فضائی حملے کیے تھے۔

پینٹاگان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اتحادی طیاروں نے جولائی میں کل 359 فضائی حملے کیے تھے،اگست میں 206 اور ستمبر میں 115 حملے کیے تھے۔اس سے ظاہر ہے کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران فضائی حملوں میں بتدریج کمی کی گئی ہے اور اس ماہ اب تک صرف 91 حملے کیے گئے ہیں۔

پینٹاگان کی ایک اور خاتون ترجمان کمانڈر ایلیسا اسمتھ کا کہنا ہے کہ ”ہم درست اہداف کی تلاش میں ہوتے ہیں،اس لیے انھیں نشانہ بنانے میں وقت لگتا ہے۔ہم ایسے ہی ہرکسی ہدف پر بمباری نہیں کردیتے ہیں بلکہ ایک منظم انداز میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہیں”۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس نے گذشتہ ہفتے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے اور انھوں نے ایسا میکانزم وضع کرنے سے اتفاق کیا تھا جس کے تحت شام میں دونوں ممالک کے ہواباز الگ الگ بمباری کریں گے اور ایک ملک کے ہواباز دوسرے ملک کے ہوابازوں کو فضائی مہم کی تکمیل کے لیے محفوظ راستہ دیں گے۔

روس نے 30 ستمبر کو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا مگر اس کو فضائی بمباری میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ترکی اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روسی طیارے داعش یا القاعدہ سے وابستہ گروپ النصرۃ محاذ کو اپنے حملوں میں نشانہ بنانے کے بجائے شامی فوج سے جنگ آزما دوسرے باغی گروپوں پر حملے کررہے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

اللاذقیہ پر روسی بمباری، جیش الحر کا بھاری جانی نقصان

October 20, 2015
20Oct15_AA شام01al-Arabia

شام میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کرنے والی ‘آبزرویٹری’ نے بتایا ہے کہ اللاذقیہ میں اپوزیشن کے زیر نگین علاقوں پر روسی لڑاکا طیاروں کی بمباری سے 45 افراد جاں بحق ہو گئے۔ مرنے والوں میں شام کی جیش الحر کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔ادھر ‘شام لائیو’ نامی نیوز نیٹ ورک نے بتایا کہ روس کے لڑاکا طیاروں کی اپوزیشن جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے شامی علاقے اللاذقیہ کے نواح میں واقع ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے 12 جنگجو ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب حلب کے قریب متمرکز شامی اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ جنگجوؤں نے بتایا کہ انہیں امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔’شام لائیو’ نیٹ ورک نے بتایا کہ روسی فوج نے اپوزیشن کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف بارود سے لدے ہلکے طیارے جان بوجھ کر استعمال کئے۔ ادھر یو این ذرائع نے بتایا ہے کہ حلب کے علاقے میں جنگی صورتحال میں تیزی کے بعد علاقے سے 30 ہزار افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔روس کی شام پر بمباری کو بیس دن ہو چکے ہیں۔ اس بمباری کا مقصد اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ طاقت کا توازن بشار الاسد کے حق میں تبدیل کیا جا سکے۔ شامی حکومت بعض مبصرین کی رائے میں اب تک میدان جنگ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے سے قاصر چلی آ رہی ہے۔’شام لائیو’ نیٹ ورک نے مزید بتایا کہ روسی بمباری میں جیش الحر کے 12 جنگجوؤں کی ہلاکت دراصل فرسٹ کوسٹل ڈویژن کے جبل الترکمان میں ایک اجلاس کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔ اس بمباری میں جیش الحر کے اس اہم یونٹ کے متعدد سرکردہ کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔ادلب کے نواح سے فیلڈ ذرائع نے بتایا کہ روسی فوج نے تحریک احرار الشام کے معرہ النعمان شہر میں متعدد ٹھکانوں پر بارود سے بھرے چھوٹے طیارے گرائے ہیں جس کے نتیجے میں تنظیم کے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے ساتھ شامیرضاکاروں نے سوشل میڈیا میں ایسی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں جن میں روسی پرچم والی ایک انفنٹری کیرئر کو باغی حماہ کے نواحی گاؤں المنصرہ کے قریب نشانہ بناتے دیکھے جا سکتے ہیں۔شام میں روس اور ایران کی مداخلت کے جواب میں سامنے آنے والے ردعمل میں اپوزیشن نے بتایا کہ حلب کے قریب متمرکز ان کے جنگجوؤں کو امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائلوں کی نئی امدادی کھیپ موصول ہوئی ہے۔اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نئی کھیپ پہنچنے کے باوجود یہ امداد ناکافی ہے کیونکہ حلب کو سرکاری فوج کے ایک بڑے حملے کا سامنا ہے۔

سعودی نائب ولی عہد کی روس میں صدر پوتین سے ملاقات

October 13, 2015
13Oct15_AA روس سعودیal-Arabia

دوطرفہ تعلقات ،شامی بحران کے حل کے لیے امن عمل شروع کرنے پر تبادلہ خیال
سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے روس کے سرمائی مقام سوچی میں گراں پری ریس کے موقع پر صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات کی ہے۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شہزادہ محمد نے صدر پوتین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور شام میں جاری بحران کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔روسی وزیرخارجہ کے مطابق انھوں نے خانہ جنگی شکار ملک میں جاری بحران کے حل کے لیے امن عمل شروع کرنے سے متعلق بات چیت کی ہے۔درایں اثناء روس نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں دل جمعی سے شریک نہیں ہے اور نہ اس کے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ الریاض کو شام میں روس کی فوجی کارروائیوں پر تشویش لاحق ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب شام کے اتحاد کے تحفظ کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔سرگئی لاروف نے اس موقع پر کہا کہ ”روس سعودی عرب کی تشویش کو سمجھتا ہے اور دونوں ملک شام میں دہشت گردوں کی خلافت کو قائم ہونے سے روکنا چاہتے ہیں”۔

داعش کے خلیفہ ابوبکر بغدادی موت کے منہ سے ایک بار پھر بچ گئے

October 12, 2015
12Oct15_AA بغدادی01al-Arabia

عراق کے مغربی صوبے الانبار میں ایک اجتماع پر عراقی فضائیہ کی بمباری میں داعش کے متعدد کمانڈر ہلاک ہوگئے۔
عراق کے مغربی صوبے الانبار میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ایک اجتماع پر عراقی طیاروں کی بمباری سے اس گروپ کے متعدد کمانڈر ہلاک ہوگئے ہیں لیکن داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔عراقی فوج نے اس سے پہلے الانبار کے قصبے الکرابلہ میں داعش کے لیڈروں کے ایک اجتماع اور ابوبکر البغدادی کے قافلے پر دو الگ الگ فضائی حملوں کی اطلاع دی تھی۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے اسپتال ذرائع اور مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ مہلوکین میں ابوبکر بغدادی شامل نہیں ہیں۔عراقی فوج نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے شام کی سرحد کے نزدیک صوبہ الانبار کے ایک علاقے میں داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کے قافلے کو اپنے فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ داعش کے لیڈر کے بارے میں فی الوقت کچھ معلوم نہیں کہ آیا وہ بمباری میں بچ گئے ہیں یا زخمی ہوگئے ہیں۔بیان کے مطابق ”عراقی فضائیہ نے دہشت گرد ابو بکرالبغدادی کے قافلے پر اس وقت بمباری کی ہے جب وہ داعش کے کمانڈروں کے اجلاس میں شرکت کے لیے الکرابلہ کے علاقے کی جانب جارہے تھے”۔

واضح رہے کہ 2015ء کے اوائل میں عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے عرب روزنامے الحیاۃ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ابوبکرالبغدادی کے شمال مغربی قصبے قائم میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی اور ان کے زندہ بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دیا تھا۔گذشتہ سال نومبر میں قبائلی ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا تھا کہ داعش کے خلیفہ بغدادی قائم میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔

داعش پر حملے
درایں اثناء امریکا کی قیادت میں مشترکہ ٹاسک فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر چوبیس فضائی حملے کیے تھے۔ان میں سے سترہ حملے عراق میں دس شہروں کے نزدیک داعش کے یونٹوں،ان کے زیر استعمال عمارتوں اور جنگی پوزیشنوں پر کیے گئے ہیں اور سات حملے شام میں اسی طرح کے مقامات پر کیے گئے تھے۔ایک حملہ خام تیل اکٹھا کرنے کی ایک جگہ پر کیا گیا ہے۔