Category: Agreement

شادی کے انتظار میں بیٹھے’بیکار نوجوان

November 02, 201502Nov15_BBC شادی01BBC

آج کل دنیا بھر میں لڑکے لڑکیاں اسی کوشش میں ہیں کہ وہ جلد از جلد اتنی رقم اکھٹی کر لیں کہ اپنے والدین کا گھر چھوڑ دیں، شادی کریں، بچے پیدا کریں اور اپنا گھر بسا لیں۔ یہ لڑکے لڑکیاں اب بچّے نہیں رہے اور نہ ہی انھیں بالغ سمجھا جاتا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ ’انتظار کے برسوں‘ میں پھنس چکے ہیں۔
’جب آپ مصر یا اس خطے کے دیگر ممالک میں شادی کرتے ہیں تو آپ کا گھر مکمل دکھائی دیتا ہے اور لگتا ہے کہ یہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا۔ آپ کے باورچی خانے میں تمام مصالحہ جات بھی موجود ہوتے ہیں، آپ کے گھر میں گلاس بھی ہوتے ہیں، فرنیچر بھی ہوتا ہے، اگر آپ دولت مند ہوں تو آپ کو نوکر نوکرانی کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے، اور آپ کے لیے ہر چیز سجی سجائی ہوتی ہے۔‘
سنہ 1990 کی دہائی میں امریکی ماہرِ سیاسیات ڈیان سِنگرمین قاہرہ میں خاندانی سیاست کے موضوع پر تحقیق کر رہی تھی تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ جن لوگوں سے سوالات کر رہے تھیں، ان کی اکثریت کو ایک ہی مسئلے کا سامنا تھا، اور وہ یہ کہ شادی کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔
بات صرف شادی کے دن کے اخراجات کی نہیں، بلکہ شادی کے لیے ’اچھا لڑکا‘ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ دولہا اور اس کے والدین کے پاس اتنے پیسے ہونے چاہئیں کہ وہ دلہن کو اچھا جہیز دیں اور اس کے لیے زیورات بھی خرید سکیں۔اس کے علاوہ انھیں ایک مکان بھی تلاش کرنا ہوتا ہے اور اسے اتنے آرائشی ساز وسامان سے بھرنا ہوتا ہے جو ایک شادی شدہ جوڑے کی تمام ضروریات کو پورا کر سکے۔
سِنگرمین کے مطابق انھوں نے جب تمام اخراجات کو جمع کیا تو معلوم ہوا کہ مصر میں اوسط شادی کے لیے آپ کو 21,194 مصری ڈالر (یا چھ ہزار برطانوی پاؤنڈ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ سنہ 1999 کے اعداد وشمار کے مطابق یہ رقم ایک اوسط درجے کے مصری خاندان کے سالانہ اخراجات سے تقریباً اڑہائی گنا زیادہ بنتی ہے۔
02Nov15_BBC شادی02
اور اگر آپ اسے اس تناظر میں دیکھیں کہ مصر میں نوجوانوں میں بیروزگاری کا تناسب بہت زیادہ ہے، تو مصر میں شادی کرنا تقریباً ایک ناممکن کام بن جاتا ہے۔ سنگرمین کے بقول اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے ایک قدرے غریب نوجوان اور اس کے والد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سات سال تک بچت کرتے رہیں اور ان سالوں میں اپنی کمائی کا ایک دھیلہ بھی کسی دوسرے کام پر خرچ نہ کریں۔سنگرمین کے بقول ’مجھے معلوم ہوا کہ مصر میں نوجوانوں کو سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ ان کے پاس شادی کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن اس کے علاوہ انھیں کئی دیگر مسائل کا بھی سامنا تھا۔‘

’ایک بڑا مسئلہ نوجوانوں پر نفسیاتی دباؤ تھا۔ چونکہ مصر میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو اب بھی بہت بُرا سمجھا جاتا ہے، نتیجتاً مستقبل کے دولہا اور دلہن کے لیے شادی سے پہلے کے دس سال تنہائی اور اکیلے پن کے سال ثابت ہوتے ہیں۔

لیکن شادیوں میں تاخیر کے اثرات معاشی اور رومانی مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ سنگر مین کہتی ہیں کہ ’مصر میں جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی نوجوان اپنے والدین کے گھر میں ہی رہتے ہیں اور انھیں اس وقت تک بالغ نہیں تصور کیا جاتا جب تک ان کی شادی نہیں ہو جاتی۔ خاص طور خواتین کے معاملے میں یہی ہوتا ہے۔‘

لیکن چونکہ یہ نوجوان بچًے نہیں ہوتے ، اسی لیے سنگرمین نے شادی سے پہلے کے انتظار کے طویل برسوں کے لیے چائیلڈ ہُُڈ، ایڈلٹ ہُڈ کے وزن پر ایک نیا لفظ متعارف کرایا، ’ویٹ ہُڈ‘ یعنی ’انتظار کی عمر‘۔
02Nov15_BBC شادی03
سنگرمین نے مصری نوجوانوں کے حوالے سے ’انتظار کے سال‘ کے الفاظ پہلی مرتبہ سنہ 2007 میں استعمال کیے۔ اگرچہ بعد کے برسوں میں اس بات کے ثبوت بھی منظر عام پر آئے ہیں کہ اب مصری نوجوان قدرے جلدی شادی کرنے لگے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سنگرمین کے بعد اب دنیا بھر کے ماہرین میں سنگرمین کی دی ہوئی یہ نئی تعریف بہت مقبول ہو گئی ہے۔ اب یہ ماہرین دنیا کے مخلتف ممالک اور تہذیبوں میں بسنے والے نوجوانوں کو ’انتظار کے سالوں ‘ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہر ملک میں لوگوں نے ایسے نوجوانوں کو مختلف نام دے رکھے ہیں، جن میں سے اکثر نام ایسے ہیں جن میں شادی کے انتظار میں پڑے ہوئے نوجوانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔

اٹلی میں 20 اور 30 سال کی عمر کے ان نوجوانوں کو جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں ’بمبوسیانو‘ ( بڑی چوسنی والے بچے) کا لقب دیا جاتا ہے جبکہ برطانیہ میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد واپس اپنے ماں باپ کے گھر آ جانے والے لڑکوں کو ’یو یو نسل‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جاپان میں ایسے نوجوانوں کو ’فریٹرز‘ اور امریکہ میں ان نوجوانوں کو ’سلیکرز‘ یا ’ڈھیلے‘ کہا جاتا ہے جو ’کوئی ڈھنگ کی نوکری‘ نہیں کرتے۔

اگرچہ مخلتف ممالک میں سرکاری ادارے کسی کے بالغ ہونے کا معیار اس کے 18 یا 21 برس کے ہونے کو سمجھتے ہیں لیکن مختلف تہذیبوں میں کسی کے بالغ ہونے کے معیار مختلف ہیں۔ مشسرق وسطیٰ میں آپ کی بلوغت کا معیار یہ ہے کہ آپ کی شادی ہوئی ہے یا نہیں جبکہ شمالی یورپ میں آپ کو بالغ تب سمجھا جاتا ہے جب آپ اپنے والدین کا گھر چھوڑ جاتے ہیں۔

موزمبق، جنوبی افریقہ، سینیگال اور تیونس میں نوجوانوں کے ’انتظار کے برسوں‘ پر تحقیق کرنے والی ماہرِ بشریات السینڈا ہونوانا کہتی ہیں کہ افریقہ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان برسوں میں پھنسی رہتی ہے، لیکن وہ اس سے اتفاق نہیں کرتیں کہ ان برسوں میں نوجوان بیکار پڑے رہتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کرتے۔

’میں نے دیکھا ہے کہ اگرچہ یہ عرصہ نوجوانوں کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن یہ ان کی زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جب ان کی تخلیقی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں، کیونکہ ان برسوں میں والدین کے ساتھ زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہتی ہے، اس لیے اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں زمانے کے ساتھ چلنے کا ڈھنگ بھی سیکھ لیتے ہیں۔‘
02Nov15_BBC شادی04اس حوالے سے السینڈا ہونوانا ان نوجوانوں کی مثال دیتی ہیں جو شادی سے پہلے کے برسوں میں غیر رسمی (اِنفارمل) معیشت میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں، بیرونِ ملک جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں، اور ان انقلابی تحریکوں میں شامل ہونے کو تیار ہوتے ہیں جو ناکام معاشی پالیسیوں اور بد دیانت حکومتوں کے خلاف چلتی ہیں۔

سنہ 2011 میں عرب دنیا میں تبدیلی کی جو تحریک ’عرب سپرنگ‘ چلی، اس میں حصہ لینے والوں کی اکثریت ایسے افراد کی تھی جو جوان تھے، پڑھے لکھے تھے مگر معاشرے سے کٹے ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں کے پاس فارغ وقت کی کمی نہیں تھی۔گزشتہ ایک دہائی میں ایسے مظاہروں میں اضافہ ہوا ہے جن میں نوجوان بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، چاہے یہ مظاہرے موزمبیق میں ہو رہے ہوں یا یونان اور برطانیہ میں۔

سنِگرمین کے خیال میں مشرقِ وسطی میں نوجوانوں کے بیرونِ ممالک جا کر ملازمت کرنے کا ایک بڑا مقصد بھی اپنی شادی کے لیے رقم اکھٹی کرنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مشرق وسطیٰ میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے عروج کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ نوجوانوں کو شادی کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ عراق اور شام میں لڑنے کے لیے جن نوجوانوں کو بھرتی کرنا چاہتی ہے، انھیں بیویوں کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ اسی لیے شام اور عراق کے ان علاقوں میں جہاں مختلف گروہ لڑ رہے ہیں، وہاں سے خواتین اور نوجوانوں لڑکیوں کے ریپ کیے جانے کی اطلاعات مسلسل موصول ہوتی رہتی ہیں۔

ان منفی نتائج کے علاوہ، سنگرمین کے خیال میں ’ انتظار کی عمر‘ کے کچھ فوائد بھی ہیں۔’اب لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد سکولوں، کالجوں میں جا رہی ہے اور وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہیں۔یوں یہ لڑکیاں نہ صرف مالی طور پر زیادہ آزاد ہو رہی ہیں بلکہ اب شادی پر بھی ان کا انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔‘

عمران خان اور ریحام میں طلاق ہوگئی

October 30, 201530Oct15_DU طلاق01DU

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور ریحام خان میں طلاق ہوگئی.
30Oct15_DU طلاق01a
پی ٹی آئی ترجمان نعیم الحق کے مطابق عمران خان اور ریحام خان نے باہمی رضا مندی سے طلاق کا فیصلہ کیا.نعیم الحق نے مزید کہا کہ معاملے کی سنجیدگی اور نزاکت کے پیش نظر میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں طلاق کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا، “یہ میرے، ریحام اور ہمارے خاندانوں کے لیے دکھ کی گھڑی ہے، میری میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ ہماری پرائیویسی کا احترام کرے”۔
30Oct15_DU طلاق02عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ریحام خان کےاخلاقی کردار اور غریبوں کی مدد کے جذبے کا بہت احترام کرتے ہیں۔
30Oct15_DU طلاق03
تاہم انھوں نے طلاق کے موقع پر کسی قسم کے مالی معاہدے کی رپورٹس کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔
30Oct15_DU طلاق04
ریحام خان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں عمران خان سے اپنی طلاق کی تصدیق کی۔
30Oct15_DU طلاق05
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریحام خان اس وقت لندن میں موجود ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے عمران اور ریحام کی طلاق کی افواہیں میڈیا پر گردش کر رہی تھیں، جس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان خبروں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ “مجھے حیرت ہے کہ ٹی وی چینلز میری شادی سے متعلق اس طرح کے بیانات نشر کر رہے ہیں”، انھوں نے میڈیا پر زور دیا تھا کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد خبریں دینے سے گریز کرے۔پی ٹی آئی کے انتہائی قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “وہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے.””ریحام خان سیاست میں آنا چاہتی تھیں، تاہم عمران خان ایسا نہیں چاہتے تھے، ریحام خان گھر میں نہیں بیٹھنا چاہتی تھیں”.
مزید پڑھیں:’ریحام اب پی ٹی آئی تقریبات میں شریک نہیں ہوں گی’
یاد رہے کہ 2 ماہ قبل عمران خان نے ریحام خان پر پی ٹی آئی کی کسی تقریب یا فنکشن میں شرکت کرنے پر پابندی لگادی تھی، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریحام کو پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں دیا جائے گا.پی ٹی آئی کی کچھ تقاریب میں شرکت نے لوگوں کے ذہنوں میں اس تاثر کو جنم دیا کہ شاید ریحام خان سیاست کے میدان میں قدم رکھنے جارہی ہیں،تاہم عمران خان نے اس تاثر کو مسترد کردیا تھا.عمران خان اور ریحام خان 10 ماہ قبل، 5 جنوری کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، شادی کی تقریب عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں منعقد ہوئی جبکہ ولیمے کی تقریب میں غریب بچوں میں کھانا تقسیم کیا گیا۔ شادی کی تقریب میں کوئی سیاسی شخصیت موجود نہیں تھی.
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا ریحام سے اسلام آباد میں نکاح
واضح رہے کہ عمران خان کی بہنیں اور اہلخانہ ریحام سے ان کی شادی سے لاعلم تھیں، ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کی بہن علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بھائی کی شادی کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ہوئی۔علیمہ خان نے اپنے بھائی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران جہاں رہیں، خوش رہیں لیکن وہ شادی پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔
مزید :عمران خان کی شادی کی خصوصی تصاویر
عمران خان نے پہلی شادی جیمز گولڈسمتھ کی بیٹی جمائما گولڈسمتھ سے کی تھی۔ تاہم 1990 کے وسط میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے عمران خان کو اپنی پہلی شادی کی وجہ سے مذہبی اور اعتدال پسند لوگوں کی جانب سے تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔عمران خان کی پہلی شادی نو سال برقرار رہنے کے بعد سال 2004 میں ٹوٹ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: جمائمہ کی عمران خان کو شادی پر نیک تمنائیں
ریحام سے دوسری شادی کے بعد عمران خان کی سابقہ شریک حیات جمائمہ خان نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں عمران خان کے لیے دوسری شادی پر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ عمران خان اپنے زندگی کے اس نئے دور میں خوش رہیں گے۔

یمنی حکومت کا امن مذاکرات میں حصہ لینے کا اعلان

September 11, 2015
11Sep15_AA یمن01
al-Arabia

یمن کی سعودی عرب میں جلا وطن حکومت نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں مشروط طور پر حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت نے جمعہ کو الریاض میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغیوں کی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق گذشتہ سال قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلاء مذاکرات میں شرکت کی بدستور ایک پیشگی شرط ہے”۔بیان کے مطابق سعودی دارالحکومت میں ایک اجلاس کے دوران یمنی حکومت کے عہدے داروں نے مذاکرات میں شرکت کی منظوری دی ہے۔ان کا مقصد قرارداد نمبر 2216 پر عمل درآمد کرانا ہوگا۔
Video

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ”یمن کی جلاوطن حکومت اور حوثی باغیوں نے مذاکرات میں شرکت سے اتفاق کیا ہے اور یہ مذاکرات آیندہ ہفتے خطے کے کسی شہر ہی میں ہوں گے”۔صدر منصورہادی کی حکومت نے اسماعیل ولد شیخ احمد پر زوردیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں سے یمنی دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں سے انخلاء کا پختہ وعدہ لیں۔حوثی شیعہ باغیوں نے ستمبر 2014ء سے صنعا اور شمالی شہروں پر قبضہ کررکھا ہے۔حوثی باغیوں نے جنوبی شہروں کی جانب بھی یلغار کی تھی لیکن وہاں سے انھیں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز نے حالیہ ہفتوں کے دوران پسپا کردیا ہے۔واضح رہے کہ یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے ماضی قریب میں کی جانے والی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوچکی ہے۔درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے صنعا کے علاقے الحسبہ میں حوثی باغیوں کے ایک اسلحہ ڈپو کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔اسلحہ ڈپو پر بمباری کے بعد دھویں کے بادل آسمان کی جانب بلند ہوتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔فوری طور پر حملے میں ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

اوباما ایران کو امریکا کی تباہی کے ذرائع مہیا کررہے ہیں:چینی

September 10, 2015
10Sep15_AA ڈک چینی01
al-Arabia

امریکا کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے بڑی طاقتوں کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ”پاگل پن” قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ صدر براک اوباما ایران کو امریکا کو تباہی سے دوچار کرنے کے لیے براہ راست مسلح کرنے کے ذمے دار ہوں گے۔

امریکی کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کی رپورٹ کے مطابق ڈک چینی امریکی انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ میں ایک تقریر کرنے والے ہیں۔اس چینل نے ان کی اس تقریر کے بعض اقتباسات نشر کیے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ ”اس جوہری سمجھوتے سے ایران کو ایسے ذرائع میسر آئیں گے کہ وہ امریکی سرزمین پر ایک جوہری حملہ کرسکیں”۔انھوں نے کہا کہ ”میں یہ جانتا ہوں کہ دنیا میں ایسی کوئی قوم نہیں ہے جس نے اپنی تباہی کے ذرائع خود ہی ایک ایسی دوسری قوم کے حوالے کردیے ہوں جو اس کی دشمن ہے”۔اس تقریر سے قبل وائٹ ہاؤس نے ڈک چینی کے عراق جنگ سے متعلق انٹرویوز کا ایک مجموعہ منگل کی صبح اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے۔

اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں حال میں ڈک چینی کی بہت جلد منظرعام پر آنے والی کتاب ”غیرمعمولی:دنیا کو ایک طاقتور امریکا کی کیوں ضرورت ہے؟”کا ایک اقتباس شائع ہوا تھا۔انھوں نے اس میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا 1938ء کے میونخ معاہدے کے ساتھ موازنہ کیا تھا جس کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی تھی۔انھوں نے لکھا تھا کہ ”اوباما سمجھوتے سے ایک جوہری ایران کی راہ ہموار ہوگی،مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور اس بات کا بھی زیادہ امکان ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد پہلی مرتبہ جوہری ہتھیار کو استعمال کیا جاسکتا ہے”۔

درایں اثناء امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد ایوان ہیری ریڈ نے ایران کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ”کانگریس اس کا جائزہ لے سکے گی اور یہ معاہدہ برقرار رہے گا”۔لیکن ان کے اس بیان سے چندے قبل ان کی اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیٹر جوزف منخن نے اس معاہدے کی مخالفت اور اس پر اعتراض وارد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اس طرح معاہدے پر معترض ڈیمو کریٹک سینیٹروں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔تاہم اڑتیس سینیٹر پہلے ہی اس کی حمایت کا اظہار کرچکے ہیں۔اس صورت میں صدر اوباما کانگریس میں اس معاہدے کی عدم منظوری سے متعلق قرار داد کو ویٹو کرسکیں گے۔

انیہ مرزا اور شعیب ملک بھارتی فلم میں کام کرینگے

01 September, 2015
1Sep15_KH ثانیہ فلم01
Khabrain

کراچی (خصوصی رپورٹ) بھارتی ٹی وی چینل کلر ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی فلموں کے نامور فلمساز وہدایتکار کرن جوہر نے بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا اور ان کے شوہر شعیب ملک کو اپنی فلم ”سمجھوتہ“ میں کاسٹ کرلیاہے۔ فلم کا موضوع کھیلوں کے متعلق ہے (کھیل ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع فراہم کرتے ہیں) اس فلم میں بھارتی سابق کرکٹر اظہر الدین اور ان کی بیوی سابق بولی ووڈ فنکارہ سنگیتا بجلانی بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں جان ابراہم، ابھیشک بچن،پریٹی زنٹا، کترنیہ کیف اورا نوپم کھیراپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھلائیں گے۔ کرن جوہر نے جب ثانیہ مرزا اور شعیب ملک کو فلم میں کام کرنے کی آفر کی پہلے تو دونوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا مگر فلم کی کہانی سننے کے بعد کیونکہ فلم کا موضوع کھیل ہے ثانیہ مرزا اور شعیب نے فلم میں کام کرنے کی آفر قبول کرلی۔ فلم کی شوٹنگ بھارت کے علاوہ برطانیہ، آسٹریلیا،ساﺅتھ افریقہ اور سری لنکا میں کی جائے گی اگلے ماہ اس فلم کی شوٹنگ کا آغاز کردیا جائے گا۔

نئی ’مسلم لیگ‘ بنانے کی کوششیں تیز

27 August, 2015
پرویزشجاعت
DU

لاہور: بلدیاتی انتخابات سے قبل سابق صدر پرویز مشرف اور چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں ’متحدہ مسلم لیگ‘ کے ممکنہ نام سے ایک ’نئی سیاسی پارٹی‘ بنانے کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے۔
نئی پارٹی بنانے کا مقصد پی ایم ایل-ن، پی ٹی آئی اور پی پی پی کا مقابلہ کرنا ہے۔ڈان کو معلوم ہوا ہے کہ پی ایم ایل-ق کے سینئر رہنماؤں نے چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہی کوآل پاکستان مسلم لیگ کے صدر پرویز مشرف، پی ایم ایل-ف کے سربراہ پیر پگاڑا صبغت اللہ شاہ راشدی، سندھ کے سابق وزیر اعلٰی سید غوث علی شاہ اور ن-لیگ کے کچھ ناراض رہنماؤں سے رابطہ کرنے اور مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔بدھ کو گجرات کے چوہدریوں نے متحدہ مسلم لیگ بنانے کے منصوبے پر غور کے لیے ق-لیگ کے رہنماؤں ایس ایم ظفر، خالد رانجھا، طارق بشیر چیمہ، بشارت راجا، چوہدری ظہیر الدین، علیم عادل شیخ، اسد جونیجو، انور بھنڈر اور سالک حسین سے مشاورت کی۔اس موقع پر شرکا نے چوہدری شجاعت اور پرویز الہی کو حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار دیا۔چوہدری شجاعت نے پارٹی رہنماؤں کو ن-لیگ کے علاوہ مسلم لیگ کے تمام دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کی ’ضرورت‘ کے حوالے سے بتایا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک رہنما نے ڈان کو بتایا کہ چوہدری شجاعت مشرف، پیر پگاڑا اور غوث علی شاہ سے ملاقات کیلئے جمعہ کو کراچی جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ق-لیگ ذوالفقار کھوسہ جیسے ناراض ن-لیگیوں سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے گی۔انہوں نے نئی پارٹی کے سربراہ (شجاعت یا مشرف) سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اس کا فیصلہ مشاورت سے ہو گا۔

فی الحال ہماری پوری توجہ تمام مسلم لیگی دھڑوں ،ماسوا ئےنون لیگ کے، ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے اور خود کو ایک مضبوط سیاسی قوت بنانے پر ہے۔جنوبی پنجاب کے سینئر سیاست دان سردار ذوالفقار کھوسہ نے ڈان کو بتایا کہ مائنس ن لیگ تمام دوسرے دھڑوں کا ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ہم نے پہلے تمام لیگی دھڑوں کا اتحاد بنانے پر غور کیاتھا لیکن بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک نئی پارٹی بنائی جائے۔

سابق گورنر نے بتایا کہ انہوں نے شریف بردران کی ’آمرانہ ذہنیت ‘ سے ناراض وسطی اور بالائی پنجاب کے کم از کم 75 ن-لیگی ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے ملاقات کی ہے۔کھوسہ کے مطابق، ون مین شو پر یقین رکھنے والے شریف برادران پارٹی کارکنوں کو عزت نہیں دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ غوث علی شاہ بھی کچھ ناراض ن-لیگی رہنماؤں سے رابطے میں ہیں۔نئی پارٹی میں مشاورت سے فیصلے ہوں گے اور پارٹی کی تشکیل کا طریقہ کار طے پانے کے بعد تمام رہنماؤں کی مشاورت سے قیادت منتخب کی جائے گی۔کھوسہ نے انکشاف کیا کہ نئی مسلم لیگ بلدیاتی انتخابات سے پہلے بن سکتی ہے۔

قاسم سلیمانی، نوری المالکی کو بچانے کے لئے سرگرم ہو گئے

23 August, 2015
23Aug2015_AA نور01
al-Arabia

پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ کا دورہ کربلاء، علی السیستانی سے ملاقات
ایران کی پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی تہران کے حمایت یافتہ سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو احتساب سے بچانے کے لئے سرگرم ہو گئے ہیں۔’العربیہ’ نیوز چینل نےعراقی ذرائع کے حوالے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ قاسم سلیمان نے دو دن قبل عراق کا دورہ کیا تاکہ وہاں ایران نواز حکومت کی کرپشن کے خلاف عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ ان کے دورے کا اہم مقصد سابق وزیر اعظم کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا جس کی کرپشن کے چرچے زبان ردعام ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قاسم سلیمانی نے عراقی شہر کربلاء میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ کا دورہ کیا اور شہر کے معروف عوامی بازار بھی گئے۔ اس موقع پر ‘الحشد الشعبی’ ملیشیا کے کمانڈر انجنیئر ابو مھدی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے ملک سیاسی اور عوامی حلقوں کے اندر تناؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
23Aug2015_AA نور02

‘ارم’ نیوز نیٹ ورک نے ‘الحشد الشعبی’ کے ایک رہنما، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، کے حوالے سے بتایا کہ کربلاء میں قاسم سلیمانی کی موجودگی کا مقصد اہل تشیع کے مرجع خلائق شخصیت علی السیستانی تک یہ پیغام پہنچانا مقصود ہے کہ وہ رائے عامہ کو ٹھنڈا رکھیں کیونکہ وسطی اور جنوبی عراق کے متعدد شہروں میں عوامی احتجاج کے دوران نوری المالکی اور ان کی سابقہ حکومت کے متعدد عہدیداروں کے خلاف مقدمات چلانے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ نوری المالکی نے جمعرات کے روز ایران کے چھ روز دورہ کے بعد عراق واپس آئے۔ دورے کے دوران انہوں نے ایرانی عہدیداروں بشمول رہبر انقلاب علی خامنہ ای، صدر حسن روحانی سے ملاقاتیں کیں۔ یاد رہے کہعراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام کے تحت نائب وزیر اعظم کا عہدہ ختم کرنے کے بعد نوری المالکی کا دورہ تہران اہم ہے۔

قاسم سلیمانی کی مدینہ شہر میں گشت کے ساتھ ہی ایران نواز ‘بدر’ ملیشیا عراق میں غیر ملکی سفارتخانوں کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں آگ سے کھیلنے کے بارے میں خبردار کر رہی ہے۔

بغداد کے سیاسی حلقوں کی جانب سے قاسم سلیمانی کے حالیہ دورہ کربلاء اور عراق کے بعد متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایسے وقت کہ جب عراقی حکومت اپنے اصلاحاتی پیکیج کے ذریعے رائے عامہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو ایسے میں پاسدران انقلاب کے سرکردہ رہنما کے دورہ عراق سے کیا مقصد حاصل کرنا مقصود ہے۔ ایسے سوالات زیادہ تر ملک کے وسطی اور جنوبی شہروں میں اٹھائے جا رہے ہیں کہ جہاں شیعہ آبادی اکثریت میں ہے۔
23Aug2015_AA نور03
ان علاقوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے مظاہروں میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملکی سیاسی معاملات کو دینی رہنماؤں سے دور رکھا جائے۔ نیز فرقہ وارانہ جذبات کو کنڑول کیا جائے اور بدعنوان سرکردہ سیاسی عہدیداروں کا محاسبہ کیا جائے۔

دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ نے سلیمانی کے دورہ عراق کی خبر اس جلی سرخی کے ساتھ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ ‘ایران کے اعلی مشیران عراق میں’۔ خبر کے ساتھ ان کی کربلاء شہر میں چلتے پھرتے کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔

عراقی اور ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے جنرل قاسم سلیمان نے سرکردہ عراقی عالم دین علی السیستانی، عبدالمھدی الکربلائی اور احمد الصافی سے ملاقاتیں کیں۔
23Aug2015_AA نور04