Category: Advancement

صوبہ حمص میں دولت اسلامیہ کی پیش قدمی جاری

November 02, 201502Nov15_BBC حمص01BBC

اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام کے صوبے حمص کے شہر مہین میں حکومتی فوج کو پیچھے دھکیل کر قبضہ کر لیا ہے۔
شام میں انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے برطانیہ میں قائم ادارے کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام انھوں نے دو خودکش کار بم دھماکوں سے حملے کا آغاز کیا تھا۔
شامی باغی قیدیوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہے ہیں۔ روس کا امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ’پراکسی وار‘ کا انتباہ
دوسری جانب عیسائی اکثریتی آبادی والے شہر صدد میں بھی لڑائی جاری تھی۔تازہ واقعات اس وقت پیش آئے ہیں جب روس اور امریکی اتحاد کی جانب سے فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔حالیہ مہینوں میں دولت اسلامیہ کی جانب سے شمالی اور مشرقی علاقوں سے جہاں کہ ان کی گرفت مضبوط ہے، حمص اور مرکزی شام کی طرف پیش قدمی جاری ہے۔ خیال رہے کہ قدیم پلمائرا کھنڈرات کے شہر تدمر پر یہ گروہ مئی میں قابض ہوچکا ہے جبکہ اگست میں انھوں نے القریتین کے شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ 02Nov15_BBC حمص02دولت اسلامیہ کی جانب سے مہین اور صدد پر تازہ حملے حمص اور دیگر شمالی شہروں سے شام کے دارالحکومت دمشق جانے والی مرکزی شاہراہ سے 20 کلومیٹر دور کیے گئے ہیں۔انسانی حقوق کا مشاہدہ کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران کم از کم 50 حکومتی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ دولت اسلامیہ کی جانب سے مہین میں حملوں کا آغاز ان کے پسندیدہ طریقہ کار یعنی ایک ساتھ دو خودکش کار بم دھماکوں سے کیا گیا تھا۔ادارے کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح تک پورا شہر دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ دوسری جانب دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ شہر پر ان کا قبضہ ہے۔مہین میں بڑا فوجی اڈہ اور اسلحہ ڈپو موجود ہیں۔اسی دوران صدد کے نواحی علاقوں میں حکومتی فوج اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس شہر میں شام کی آرامی عیسائی اقلیت آباد ہے اور آج بھی وہاں قدیم آرامی زبان بولی جاتی ہے۔02Nov15_BBC حمص03تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب شام کے صدر بشارالاسد کی حمایت میں روس کی جانب سے فضائی حملے جاری ہیں۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف دولت اسلامیہ اور دیگر ’شدت پسند گروہ‘ ہیں۔تاہم زیر حملہ علاقوں میں موجود امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مغربی علاقوں میں اعتدال پسند باغیوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں دولت اسلامیہ کے جنگجو یا تو بالکل نہیں ہیں اور اگر ہیں تو بہت معمولی تعداد میں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز شامی فوج کے حملوں اور روسی فضائی حملوں سے شمالی صوبے حلب میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ’50 سے بھی کم امریکی فوجی‘ دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار حزبِ اختلاف کی فورسز کو ’تربیت، مشورے اور تعاون دینے کے لیے‘ شام روانہ کیے جائیں گے۔
Advertisements

سوڈانی فوج نے عدن میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

October 18, 2015
18Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی کے حکومتی ذرائع کے مطابق #سوڈان کی جانب سے بھیجی گئی فوج اور گاڑیاں جنوبی #یمن میں #عدن کے علاقے میں تعینات کر دی گئی ہیں۔ سوڈان سے بھیجے گئے سیکڑوں فوجیوں نے عدن کے مختلف شہروں میں امن وامان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں سنھبال لی ہیں۔ سوڈانی فوج عدن میں یمنی حکومت کی ماتحت نیشنل فورس کے ساتھ امن وامان کے قیام میں اس کی مدد کر رہی ہے۔العربیہ ٹی وی کے مطابق سوڈان، یمن میں باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں جاری آپریشن میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں خرطوم میں یمنی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اپنی فوج وہاں پر امن وامان کو یقینی بنانے میں معاونت کے لیے بھجوائی ہے۔ سوڈانی فوج کے تازہ دم دستے البریقہ شہر میں قائم الزیت بندرگاہ پر اترے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈان سے آنےوالی فوج یمن میں امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یمنی فوج کی مدد کرےگی۔ غالب امکان ہے کہ سوڈانی فوجی دستے تعز کوباغیوں سے چھڑانے میں بھی حکومتی فوج کی مدد کریں گے۔

قبل ازیں سوڈان نے نائب صدر جنرل بکری حسن صالح کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یمن میں جاری آپریشن کے اتحاد کا حصہ ہونے کی بناء پر چھ ہزار فوجی یمن بھیجنے کا پابند ہے۔

قندوز میں لڑائی تیز، نیٹو کے فوجی بھی مدد کے لیے آ گئے

September 30, 2015
30Sep15_BBC قندوز01BBC

افغانستان کے شمالی شہر قندوز کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کی لڑائی دوسرے دن میں داخل ہوگئی ہے اور شہر کے متعدد علاقوں سے شدید جھڑپوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
طالبان نے پیر کو قندوز کی جیل اور ہوائی اڈے کے کچھ حصے سمیت تقریباً نصف شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔ان کی اس کارروائی کو سنہ 2001 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے سب سے بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔افغان سکیورٹی فورسز نے منگل کو شہر کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کی جس میں اسے امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔افغان حکام کے مطابق بدھ کو سرکاری فوج ایئرپورٹ کی جانب بڑھنے والے طالبان جنگجوؤں کے خلاف منظم جوابی کارروائی کر رہی ہے۔قندوز میں موجود افغان فوج کی مدد کے لیے نیٹو کی غیر ملکی افواج کے خصوصی دستے بھی اب شہر میں پہنچ گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 80 سے زائد شدت پسند لڑائی میں ہلاک ہو چکے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔منگل کو امریکہ کی جانب سے دو فضائی حملوں کے باعث طالبان کی ہوائی اڈے پر قبضے کی کوشش ناکام رہی تھی۔افغان خفیہ ایجنسی کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں میں طالبان کا صوبائی سربراہ اور ان کے نائب مارے گئے ہیں لیکن طالبان نے اس خبر کی تردید کی ہے۔نیٹو کے ترجمان کے مطابق امریکی طیارے افغان سکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کر رہے ہیں اور قندوز شہر کے گرد و نواح میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ قندوز پر طالبان کا قبضہ افغان حکومت کے لیے بڑا دھچکہ ہے تاہم امریکہ کو پورا یقین ہے کہ افغان فوج شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔افغان وزارت صحت نے بتایا ہے کہ قندوز کے ہسپتالوں میں 16 لاشیں لائی گئی ہیں جبکہ 200 افراد زخمی ہوئے ہیں۔امدادی ادارے میڈیسن سان فرنٹیئر کا کہنا ہے کہ قندوز شہر میں ان کے ہسپتال ایسے افراد سے بھرے ہوئے ہیں جنھیں گولیاں لگنے سے زخم آئے ہیں۔
30Sep15_BBC قندوز02
طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’حکومت کو اپنی شکست تسلیم کر لینی چاہیے، اور قندوز کے شہریوں کو اپنی جان اور مال کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہ معمول کے مطابق ہی رہیں۔

ترکی کی عراق میں کرد جنگجوؤں کے خلاف زمینی کارروائی

September 09, 2015
09Sep15_BBC ترک عراق میں
BBC

ترکی کی زمینی افواج کرد جنگجوؤں کا پیچھا کرتی ہوئے ایک بار پھر شمالی عراق میں گھس گئی ہیں۔ترکی کی حکومت نے کہا ہے کہ ترک فوجی کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی غرض سے ایک مختصر مدت کے لیے عراق میں داخل ہوئے ہیں۔ترکی کی زمینی افواج دو سال پہلے ہونے والے فائر بندی کے اعلان کے بعد پہلی بار عراق میں داخل ہوئی ہیں۔ترکی کی زمینی افواج کے عراق میں داخل ہونے سے پہلے ترکی کے جنگی طیاروں نے کردستان ورکرز پاٹی کے شمالی عراق میں ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

گذشتہ دو دنوں میں کرد جنگجوؤں کے مبینہ حملوں میں 28 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔منگل کے روز ترک پولیس کے چودہ اہلکار اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کی بس کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترک پولیس پر حملہ کرد جنگجوؤں کی کارروائی ہے۔اس سے قبل ترکی کے علاقے حکاری میں ترکی کے16 فوجی بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ پی کے کے کو ترکی کے اندر اور باہر سخت نقصان پہنچا ہے اور اب وہ گبھراہٹ کے عالم میں ہے۔

منگل کے روز جب ترک طیاروں نے شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر بمباری کی تو کرد جنگجوؤں نے ترکی کے شمالی سرحدی علاقے میں ایک پولیس بس کو بم دھماکے سے تباہ کر دیا جس میں کم از کم چود ہ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ترکی کی دوگان خبر رساں ادارے کے مطابق سپیشل فورسز کے دو یونٹوں نے، جنہیں جنگی جہازوں کی بھی مدد حاصل تھی، کرد جنگجوؤں کے دو گرہوں کو نشانہ بنایا جن میں کم از کم 35 باغی ہلاک ہو گئے ہیں۔ترکی رواں برس نومبر میں ایک بار پھر انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ جون میں ہونے والے انتخابات میں حکمران اے کے پارٹی حکومت سازی کے لیے اراکان اسمبلی کی مطلوبہ تعداد حاصل میں ناکام رہی تھی اور کوئی دوسری جماعت ان کی ساتھ مخلوط حکومت بنانے پر راضی نہ ہوئی۔

عراق: داعش کے خلاف 1100 قبائلی جنگجوئوں کا نیا لشکر تیار

September 08, 2015
08Sep15_AA داعش01
al-Arabia

عراق کے شورش کا شکار صوبہ الانبار کے صدر مقام الرمادی میں البغدادی کےمقام پر فوج اور حکومت کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے اور دولت اسلامیہ عراق وشام ‘داعش’ کے خلاف جنگ میں معاونت کے لیے قبائلی جنگجوئوں پر مشتمل نیا بریگیڈ [لشکر] تشکیل دیا گیا ہے جس میں ابتدائی طور پر 1100 جنگجو شامل کیے گئے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مغربی رمادی سے 90 کلومیٹر دور البغدادی کے علاقے میں قبائل نے یہ لشکر ایسے وقت میں تشکیل دیا ہے جب سرکاری فوج اس علاقے میں داعش کے خلاف برسرپیکار ہے۔ مسلح قبائلی لشکرسے جہاں ایک طرف بغداد کی مرکزی حکومت کو لاجسٹک سپورٹ ملے گی وہیں الانبار کی صوبائی حکومت کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معاونت حاصل ہوگی۔الانبار میں متعین عراقی فوج کے بریگیڈیئر جنرل حمد عبدالرزاق الدلیمی نے منگل کو بتایا کہ البغدادی کے علاقے میں گیارہ سو جنگجوئوں پر مشتمل لشکر میں وہاں کے مقامی قبائل البونمر، العبید، الکبیسات اور البومحل کے نوجوانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ لشکر داعش کے خلاف لڑائی میں فوج کی معاونت کرے گا۔بریگیڈیئر الدلیمی کا کہنا تھا کہ الانبارکے داعش کے زیرتسلط شہروں کی واگزاری ہماری اولین کوشش ہے۔ نیا قبائلی لشکر جہاں داعش کی مزید توسیع پسندی کو روکنے میں مدد کرے گا وہیں داعش کے خلاف فوجی آپریشن کو آگے بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے قبائلی لشکری میں شامل جنگجو اس سے قبل داعش کے خلاف جبہ اور بروانہ کے محاذوں پر بھی فوج کے ساتھ لڑائی میں شامل رہ چکے ہیں جن کے ہاتھوں سے دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیاتھا۔

ترکی میں حجاب پہننے والی پہلی خاتون وزیر

September 04, 2015
04Sep15_VOA ترکی
VOA

لندن—
سیکولر ریاست کے طور پر ترکی کی تاریخ میں پہلی بار ایک حجاب پہننے والی خاتون عائشین خورد جان کو وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے، جو وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کی عبوری کابینہ میں خاندانی امور اور سماجی پالیسیوں کی وزیر مقرر کی گئی ہیں۔ترکی کی جمہوری حکومت میں ایک حجاب پہننے والی خاتون وزیر کی تقرری کو سیکولر سیاسی روایات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں حال ہی میں ارکان پارلیمنٹ اور سرکاری ملازمین پر سے حجاب پہننے پر عائد دہائیوں کی طویل پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

52سالہ ماہر تعلیم اور بیورو کریٹ عائشین خوردجان مسلم اکثریتی ملک کی عبوری حکومت کی پہلی خاتون وزیر اور ترکی کی تاریخ کی پہلی ہیڈ اسکارف پہننے والی خاتون وزیر ہیں۔وہ اس سال یکم نومبر کو قبل از وقت ہونے والے عام انتخابات تک خاندانی اور سماجی پالیسی کی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں گی۔سات جون کے عام انتخابات میں کسی بھی واحد جماعت کی طرف سے ضروری اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد معلق پارلیمان کی تشکیل سے روکنے کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے 28 اگست کو نگراں حکومت بنانے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کی قیادت میں جمعے کو عبوری کابینہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس حکومت کا بنیادی کام آئندہ انتخابات تک حکومتی امور چلانا ہے۔

ترکی کی پارلیمنٹ ‘مجلس ترکیہ بیوک ملت مجلسی’ کہلاتی ہے جس کے
اراکین کی تعداد550 ہے اور سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کے لیے 226 نشستیں جیتنا ضروری ہیں۔ترک کابینہ کی وزیر عائشین یوتھ اور تعلیم کی ایک فاؤنڈیش نور غیف کے بورڈز آف ڈائریکٹر کی ایک رکن ہیں، جس کے سربراہ موجودہ صدر رجب طیب اردوغان کے صاحبزادے بلال اردوغان ہیں۔انھیں صدر رجب طیب اردوغان کی طرف سے تین بچوں کی منصوبہ بندی کے پروگرام کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس منصوبے کے مطابق ترک خاندان کو کم از کم تین بچوں کا گھرانہ ہونے پر زور دیا گیا ہے۔

ترکی میں رہنے والی مسلمان عورتوں کے لباس کے ساتھ حجاب ایک واجب کوڈ ہے، لیکن ترکی میں 1980ء کی فوجی بغاوت کے بعد یونیورسٹیوں، سرکاری عمارتوں، دفاتر اور اسکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔2008ء میں ترک صدر اردوغان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی میں نرمی کے لیے آئینی تبدیلی منظور کی تھی اور 2012ء میں ترکی کے اسلامی اسکولوں میں حجاب پہننے پر طویل پابندی اٹھا لی گئی تھی۔ترکی میں سیکولر اشرافیہ جن میں فوجی جرنیل، ججز اور یونیورسٹی کے عہدے دار شامل ہیں حجاب کی پابندی میں نرمی کی مخالفت کرتے ہیں۔

ترکی داعش کے خلاف جنگ میں شامل ہو گیا

30 August, 2015
30Aug15_AA جنگ01
al-Arabia

انقرہ کے لڑاکا طیاروں کے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے
ترکی کے لڑاکا طیاروں نے امریکی قیادت میں انتہا پسند تنظیم ‘داعش’ کے خلاف ہونے والے آپریشن میں ہفتے کے روز پہلی مرتبہ حصہ لیا۔انقرہ دفتر خارجہ کے مطابق جمعہ کی شب ترک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شام میں داعش کے خلاف حملے کئے۔ انتہا پسند تنظی کے خلاف امریکی قیادت میں بننے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کے بعد ترک فضائیہ کی یہ کارروائی تھی۔ترک وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک لڑاکا طیاروں نے اتحادی جنگی طیاروں کے ساتھ ملکر داعش کے ان اہداف کو نشانہ بنایا کہ جو ہمارے ملک کے لئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔گذشتہ منگل کو امریکی وزارت دفاع پینٹاگان نے ایک اعلان میں بتایا تھا کہ انقرہ تکنیکی اعتبار سے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لئے تیار ہے۔پینٹاگان کے ایک ترجمان کے مطابق: ‘امریکا اور ترکی نے ان تفصیلات کو آخری شکل دے دی ہے جو داعش کے خلاف آپریشن میں ترکی کی مکمل شمولیت کے لئے ضروری ہے۔داعش کے خلاف جنگ میں شمولیت کے بعد ترک لڑاکا طیارے اس ایئر کمانڈ سسٹم کا حصہ ہوں گے جو اتحاد میں لڑاکا طیاروں کے حملوں کی نگرانی اور کوارڈی نیشن کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ادھر امریکی وزارت دفاع نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور انقرہ کے درمیان شام اور ترکی کی سرحد کے کنڑول سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس بات چیت میں شام کے اندر ‘نو فلائی زون’ کی تجویز شامل ہیں، تاہم انقرہ ایک عرصے سے ایسے زون کے قیام کا مطالبہ کرتا چلا آیا ہے۔