Category: واقعات

ہندوستان میں گیتا کا خاندان مل گیا

October 15, 2015
15Oct15_DU گیتا01DU

کراچی: قوت گویائی اور سماعت سے محروم ہندوستانی لڑکی گیتا نے تصاویر کے ذریعے ہندوستان میں موجود اپنے رشتے داروں کو شناخت کرلیا.
ایدھی ٹرسٹ کے ترجمان انور کاظمی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گیتا نے ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے بھیجی گئی تصاویر کی مدد سے اپنے رشتے داروں کو شناخت کیا، جس کی تصدیق نئی دہلی حکام کی جانب سے بھی کردی گئی.
04Aug15_VOA گیتا
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گیتا نے ہندوستانی ہائی کمیشن کی جانب سے بھیجی گئی ایک تصویر میں اپنے والد، سوتیلی والدہ اور بہن بھائیوں کو شناخت کیا.ہندوستانی وزیر خارجہ شسما سوراج نے بھی اس حوالے سے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گیتا بہت جلد ہندوستان میں ہوگی، ہم نے اس کے خاندان کا سراغ لگا لیا ہے، جسے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اس کے خاندان کے حوالے کردیا جائے گا۔
06Aug15_BBC گیتا0115Oct15_DU گیتا02
ہندوستانی لڑکی 12 سال قبل ہندوستان سے ٹرین کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئی تھی.میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان رینجرز نے 2003 میں سرحد عبور کر کے لاہور پہنچنے والی ایک 11 سالہ لڑکی کو تحویل میں لیا تھا جس کے بعد اسے ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا گیا، جہاں بلقیس ایدھی نے اسے گیتا کا نام دیا۔

مزید پڑھیں:فاطمہ گیتا کیسے بنی؟
اس حوالے سے بلقیس ایدھی کا کہنا تھا کہ گیتا کسی سے بات نہیں کرسکتی، ابتداء میں اسے ایک ویلفئیر ہاؤس سے دوسرے ویلفیئر ہاؤس منتقل کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث وہ اکثر بھاگنے کی کوشش کرتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکام کی جانب سے لڑکی کے خاندان والوں کی تلاش کا کام کیا گیا تھا تاہم اس کے نتائج حاصل نہیں ہوسکے اور آخر کار گیتا کو کراچی منتقل کردیا گیا۔‘اس معاملے پر گہری نظر رکھنے والے پاکستان میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکن انصار برنی گیتا کی تصاویر لے کر اکتوبر 2012 میں ہندوستان گئے تھے تاہم اس وقت کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی تھی.تاہم سلمان خان کی فلم “بجرنگی بھائی جان” کی دونوں ممالک میں کامیابی کے بعد گیتا کے معاملے نے ایک بار پھر سر اٹھایا.رواں سال عید الفطر پر ریلیز ہونے والی بولی وڈ فلم میں سلمان خان قوت گویائی سے محروم ایک پاکستانی بچی کو اس کے والدین تک پہنچانے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں.انصار برنی کا دعویٰ تھا کہ “بجرنگی بھائی جان” ان کی جانب سے 2012ء میں گیتا کے خاندان کی تلاش میں ہندوستانی کے کیے جانے والے دورے سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے۔
Geeta_12
بعد ازاں ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان میں ہندوستانی سفیر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان کو گذشتہ 12 سال سے پاکستان میں مقیم بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہندوستانی لڑکی سے ملنے کی ہدایت کی تھی.گیتا فی الوقت کراچی کے ایدھی سینٹر میں رہائش پذیر ہیں اور اس وقت ان کی عمر 22 سے 24 سال کے درمیان ہے.میڈیا رپورٹس کے مطابق، صرف سبزیاں کھانے والی گیتا نے ایدھی فاؤنڈیشن میں اپنے کمرے میں ایک چھوٹا مندر بھی بنا رکھا ہے.

مارک سیگل کا بیان ‘جھوٹ کا پلندہ’: مشرف

October 01, 2015
01Oct15_DU مشرف01DU

اسلام آباد: آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی صحافی مارک سیگل کے قتل میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو حقائق کے برعکس اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا۔

گزشتہ روز امریکی صحافی اور بے نظیر بھٹو کیس کے اہم گواہ مارک سیگل نے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔عدالت کے سامنے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے سیگل نے کہا کہ اُس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے بےنظیر کو وہ سیکیورٹی فراہم نہیں کی جو سابق وزیراعظم کا حق تھا۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر سے ان کی آخری ملاقات 26 ستمبر 2007 کو ایک ہوٹل میں ہوئی تاہم سانحہ کار ساز کے بعد بے نظیر کے ساتھ ٹیلی فون پر بات کے دوران محسوس ہورہا تھا کہ وہ پریشان تھیں۔

مارک سیگل کا بیان: ‘پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کو دھمکایا تھا’
جماعت کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق پرویز مشرف نے مارک سیگل کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا انہیں بیان پر حیرت ہوئی، مارک سیگل اگر سچے ہیں تو انہوں نے اپنی زیرادارت شائع ہونے والی بے نظیر بھٹو کی کتاب میں اس سچائی کا ذکر کیوں نہیں کیا؟مشرف نے کہا کہ اگر بے نظیر بھٹو کو مجھ سے خطرہ ہوتا تو وہ مجھ سے سیکیوریٹی کیوں مانگتیں؟ مخالفین مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، اس بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بے نظیر بھٹو قتل کیس: دس گواہوں کو طلبی کے سمن جاری
اعلامیے کے مطابق انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا امریکا میں کوئی ٹیلی فونک رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی انہوں نے2007 میں بے نظیر بھٹو کو ٹیلی فون کال کیا اور جس کال کا حوالہ امریکی صحافی مارک سیگل نے دیا وہ جھوٹ پر مبنی ہے اور ایسے جھوٹے بیان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے مخالفین کی ایک سازش ہے کہ وہ مارک سیگل کے بیان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں، سمجھ نہیں آتی کہ باربار مارک سیگل سے ہی انکوائری کیوں ہو رہی ہے۔جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ میں سچائی پر مکمل یقین رکھتا ہوں،حق اور سچ کو کوئی عار نہیں ہوتی۔مارگ سیگل جیسے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی بیانات اصل حقائق کو جھٹلا نہیں سکتے۔خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007ء میں اس وقت فائرنگ اور ایک بم دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ 2008ء کے عام انتخابات کی مہم کے سلسلہ میں راوالپنڈی کے لیاقت باغ سے ایک تقریب سے خطاب کرنے کے بعد واپس جارہی تھیں۔اُس وقت سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بطور صدر اقتدار پر براجمان تھے۔

برطانوی اخبار گارجین کا دعویٰ ہے کہ 236 پاکستانی منیٰ میں شہید ہوئے

September 28, 2015

Saudi Arabia accused of neglect over deadly disaster at hajj(Chicago Tribune)28Sep15_CT اموات

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق منیٰ میں (۲۳۶) پاکستانی شہید ہوئے ہیں جبکہ سعودی عرب میں متعین پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ اس لئے کہ دیگر ذرائع نے 28Sep15_JNG 02امواتبھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔سعودی عرب کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران(۱۳۶)۔مراکش(۸۷)۔ کیمرون(۲۰) ۔نائیجیریا(۱۹)۔بھارت(۱۴)۔مصر (۱۴)۔ شہادتین ہوئی ہیں۔ جبکہ لاپتہ (۳۴۴)بتائے جارہے ہیں۔اب تک پاکستان کی وزرات مذہبی امور نے(۲۳) پاکستانیوں کی تصدیق کی ہے اور (۳۰۰) سےزائد لاپتہ ہیں۔

سر کٹا مرغا 18 ماہ تک کیسے زندہ رہا؟

September 11, 2015
11Sep15_DU سرکٹا01
DU

سر کٹے انسان کی کہانیاں یا فلمیں تو آپ نے دیکھی ہوں گی مگر کیا سر کٹنے کے باوجود کافی عرصے تک زندہ رہنے والے مرغے کی داستان کے بارے میں آپ کو معلوم ہے؟
یہ ہے مائیک نامی ایسا مرغا جس کا سر 10 ستمبر 1945 کو ایک امریکی فارمر لوئیڈ اولسن نے کاٹا، لیکن وہ مرا نہیں بلکہ 18 ماہ تک زندہ رہا۔

مائیک جسے میریکل مائیک یا سرکٹے مائیک کا نام بھی دیا گیا، اُس وقت پانچ سال کا تھا جب کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے لوئیڈ اولسن نے اس کا سر کاٹا کیونکہ اس کی بیوی کلارا نے اپنی ماں کو رات کے کھانے کے لیے مدعو کیا تھا۔

لوئیڈ اولسن کو معلوم تھا کہ اس کی ساس ہمیشہ مرغے کی روسٹ گردن سے لطف اندوز ہوتی ہے،لہذا اسی لیے اس نے گردن کا بیشتر حصہ بچاتے ہوئے سر کا اگلا حصہ کاٹا مگر حادثاتی طور پر اس کی کلہاڑی نے مائیک کی شہہ رگ، ایک کان اور دماغ کے بیشتر حصے کو نقصان نہیں پہنچایا۔

یہی وجہ ہے کہ لوئیڈ اولسن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ مائیک مرا نہیں بلکہ پورے 18 ماہ تک بغیر سر کے ہی زندہ رہا۔

سر کٹنے کے بعد مائیک دیگر مرغیوں کی طرح یہاں وہاں بھاگتا رہا مگر جلد ہی سکون سے بیٹھ گیا اور صرف یہی نہیں اس نے زمین پر سے غذا بھی اٹھانے کی کوشش کی، اس دوران لوئیڈ اولسن اسے چھوڑ کر چلا گیا اور اگلی صبح مرغے کو اُس پوزیشن میں سوتے ہوئے دیکھا کہ اُس نے اپنے سر کے کٹے ہوئے حصے کو پروں میں چھپا رکھا تھا، جس کے بعد لوئیڈ کو فکر ہوئی اب سر کٹے مرغے کو کھلایا کیسے جائے، لہذا اس نے مائیک کی شہہ رگ میں خوراک اور پانی آئی ڈراپر کی مدد سے ڈالنا شروع کردیئے۔

مائیک کی اس معجزانہ زندگی کے بارے میں آرکنساس یونیورسٹی کے نیورو بائیولوجسٹ اور پولٹر سائیکلوجسٹ وائنی جے کوینزل نے بتایا کہ چونکہ ایک مرغی کی کھوپڑی دو بڑے سوراخوں پر مشتمل ہوتی ہے تاکہ اس کی آنکھیں اپنی جگہ پر رہیں، اسی لیے دماغ باقی ماندہ جگہ پر 45 ڈگری کے زاویے سے موجود ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر سر کا اگلا حصہ اڑایا جائے تو دماغ کا بڑا حصہ ٹھیک ٹھاک حالت میں موجود ہوتا ہے جو کہ فعال ہوتا ہے اور بچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

مائیک کا حرام مغز اُس کی آنکھوں کے بہت بڑے سوراخوں کے نیچے تھا اور کلہاڑی کا درست وار نہ ہونے کی وجہ سے وہ بنیادی افعال اور سانس لینے جیسے کام کرنے کی اہلیت رکھتا تھا، ہاں لیکن وہ اپنی آنکھوں سے ضرور محروم ہوگیا۔

مائیک اپنی اس حالت میں بھی اتنا خوش باش تھا کہ لوئیڈ اولسن نے اپنے کرشماتی مرغے کے ساتھ سڑک کے راستے قومی ٹور کا فیصلہ کیا اور اسی زمانے میں ٹائم میگزین اور لائف میں اس حوالے سے فیچرز بھی چھپے، نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج ہوا اور انھوں نے امریکی عوام کے لیے اپنے سائیڈ شوز کا بھی انعقاد کیا، سب سے دلچسپ چیز یہ تھی کہ مائیک کا اپنا منیجر بھی تھا، مختصر یہ ہے کہ اس مرغے نے لوئیڈ اولسن کی قسمت سنوار دی۔

ایک کتاب میں تو یہ بھی آیا ہے ” اپنی شہرت کے عروج پر مائیک ماہانہ ساڑھے چار ہزار ڈالرز کما رہا تھا اور اس کی اپنی قیمت دس ہزار ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔ مائیک کی کامیابی کے نتیجے میں لوگوں نے دھڑادھڑ مرغوں کے سر کاٹ کر انہیں زندہ رکھنے کی کوشش کی مگر کوئی بھی ایک یا دو دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکا”۔

لیکن ایک روڈ ٹور کے دوران مائیک کی موت واقع ہوگئی کیونکہ کچھ کھانے کے دوران سانس کی نالی میں غذا جانے سے وہ دم گھٹنے کے باعث مرگیا۔

دلچسپ بات یہ تھی کہ سر کٹنے کے اٹھارہ ماہ بعد مائیک کے وزن میں نمایاں اضافہ ہوا اور وہ ڈھائی پونڈز سے بڑھ کر 8 پونڈز ہوگیا۔

لوئیڈ اولسن نے مرغے کی لاش یوٹاہ یونیورسٹی کے محققین کو پوسٹ مارٹم کے لیے دی جنھوں نے تصدیق کی کہ سر کٹنے کے بعد خون بہنے سے اُس کی موت اس لیے واقع نہیں ہوئی کیونکہ گردن میں خون کا ایک لوتھڑا بن گیا تھا جس نے اسے بچایا۔

اب لگ بھگ ستر سال بعد بھی کولوراڈو میں اس سر کٹے مرغے کو یاد کیا جاتا ہے اور یہاں کے مقامی افراد ہر سال مئی کے تیسرے ہفتے میں مائیک دی ہیڈ لیس چکن نامی فیسٹیول کا انعقاد کرتے ہیں ۔