Category: زنا، جنسی تشدد

’آپ کا کوئی ریپ کردے تو ہم کیا کرسکتے ہیں

October 18, 2015
18Oct15_BBC ریپ01BBC

بھارتی ریاست کرناٹک کے سابق نائب وزیر اعلی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کے ایس ايشورپّا ریپ سہ متعلق اپنے ایک بیان کے بعد تنازعات میں گھر گئے ہیں۔
ایک خاتون رپورٹر نے ان سے جب سوال کیا کہ ’ آج کل ریپ کے بہت سے واقعات ہو رہے ہیں۔ تو حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر آپ اس بارے میں کیا کر رہے ہیں؟اس کے جواب میں بی جے پی کے رہنما نے کہا: ’آپ ایک خاتون ہیں۔ اگر آپ کو کوئی کھینچ کر لے جائے اور ریپ کر دے اور ہم لوگ اپوزیشن والے کسی دوسری جگہ پر بیٹھے ہوں تو ہم لوگ کیا کر سکتے ہیں۔ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما ايشورپّا کے اس بیان کی کئی جانب سے مذمت ہو رہی ہے۔ریاست کے سابق وزیر اعلی ایچ ڈی كمارا سوامي نے اسے ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا۔
18Oct15_BBC ریپ02
لیکن بے جے پی کے رہنما کو اپنے اس بیان پر قطعی افسوس نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط بات نہیں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’وہ اپوزیشن کے کردار کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں۔ میں نے ایک مثال دی۔ ریاست کے وزیر داخلہ بیرون ملک ہیں اور اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں۔ اسی لیے میں نے تو صرف ایک مثال دی تھی۔انھوں نے کہا: ’پتہ نہیں کیوں ایک ٹی وی چینل افواہیں پھیلا رہا ہے۔ کرناٹک کی خواتین ايشورپّا کو اور عورتوں کے لیے ان کے احترام کو جانتی ہیں۔ خواتین سے متعلق ہماری پارٹی کا رخ بالکل واضح ہے۔ تو یہ تنازع غیر ضروری ہے۔ میں اپنے بیان سے متعلق افسوس ظاہر کرنے والا نہیں ہوں۔ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کہا ہے۔‘بھارت کے مختلف علاقوں میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور تمام کوششوں کے باوجود اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ سے متعلق بیداری کی مہم بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود ریپ کے واقعات میں کم نہیں ہو رہے ہیں۔ جس پر کئی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارت: پنچایت کا دو لڑکیوں سے حرام کاری کا حکم

31 August,2015
31Aug15_AA ریپ02al-Arabia

بھارت کی ریاست اُترپردیش (یو پی) میں ایک گاؤں کی پنچایت کونسل نے دونوجوان لڑکیوں کے ساتھ حرام کاری کا حکم دیا ہے۔پنچایت نے فیصلہ ان دونوں لڑکیوں کے بھائی کے اعلیٰ ذات کی ایک عورت کے ساتھ بھاگ جانے کی پاداش میں دیا ہے۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق تیئیس سالہ مناکشی کماری اور اس کی پندرہ سالہ چھوٹی بہن کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ نیچ ذات دلت سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا بھائی جٹ برادری کی ایک شادی شدہ عورت کو بھگا کر لے گیا تھایا وہ خود اس کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔گاؤں کی پنچایت کونسل نے ان کے بھائی کے اس جُرم کی پاداش میں نہ صرف ان دونوں لڑکیوں کے ساتھ حرام کاری کا حکم دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ انھیں مُنھ کالا کرکے گاؤں میں ننگے پھرایا جائے۔پنچایت کے اس حکم اور دھمکیوں کے بعد مناکشی کماری اور ان کا خاندان اترپردیش کے ضلع بھاگ پت سے بھاگ کر دارالحکومت نئی دہلی آ گئے ہیں۔یہ معاملہ انسانی حقوق کی عالم تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے مداخلت کے بعد سامنے آیا ہے۔ایمنسٹی نے مقامی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہونے سے روکیں۔

ایمنسٹی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ اس قابل نفرین سزا کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ہے ،یہ منصفانہ ہے اور نہ ہی درست ہے اور یہ قانون کے بھی خلاف ہے۔ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مناکشی کماری نے بھارت کی عدالت عظمیٰ میں بھی ایک درخواست دائر کی ہے جس میں اس نے استدعا کی ہے کہ اس کو اور اس کے خاندان کو تحفظ مہیا کیا جائے۔اس نے الزام عاید کیا ہے کہ مقامی پولیس نے بھاگنے والی لڑکی کے جٹ خاندان کے دباؤ پر اس کے بھائی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر لیا ہے۔مقامی عدالت اس کے بھائی کو ضمانت دے چکی ہے لیکن وہ اس کی رہائی کے لیے ضمانتی دستاویزات کی تیاری کی غرض سے گاؤں جانے سے خوف زدہ ہیں۔
31Aug15_DU ریپ01
عدالت عظمیٰ کی ایک بینچ نے حکام کو نوٹس جاری کردیا ہے اور انھیں واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔مناکشی کماری نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کا بھائی اور جاٹوں کی لڑکی گذشتہ تین سال سے ایک دوسرے سے محبت کررہے تھے لیکن اس لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کسی اور لڑکے سے کردی گئی تھی۔

شادی کے ایک ماہ کے بعد وہ لڑکی اپنے خاوند کے گھر سے بھاگ کر اس کے بھائی کے ساتھ چلی گئی تھی۔ان دونوں نے بعد میں لڑکی کے خاندان اور یوپی پولیس کے تشدد کے بعد خود کو حوالے کردیا۔اس لڑکی کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا گیا اور مناکشی کے بھائی کو منشیات کے جھوٹے کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔یہ لڑکی مبینہ طور پر حاملہ ہے اور اپنے اس عاشق کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔مناکشی کماری کے خاندان کے جانیں بچا کر نئی دہلی چلے جانے کے بعد جٹ برادری کے افراد نے ان کے مکان کو نذرآتش کردیا ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے۔واضح رہے کہ بھارت کے دیہات میں ہندوؤں میں اس جدید دور میں بھی ذات پات کا نظام قائم ہے۔برہمن ،ویش ،کھشتری اور شودر اعلیٰ ذات کے ہندو مانے جاتے ہیں جبکہ باقی قوموں کو اُچھوت قرار دیا جاتا ہے۔دلّت ان میں سب سے نچلے درجے پر ہیں اور ان کے ساتھ معاشرتی سطح پر غیر مساوی اور بعض مقامات پر انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔

ہندوستان: دو بہنوں کے ساتھ ریپ کا حکم

30 August, 2015
31Aug15_DU ریپ01
DU

ہندوستان میں ایک دیہی ہندو پنچائیت نے بدلے کے طور پر ’ملزم‘ کی دو جواں سال بہنوں کے ساتھ ریپ اور ان کو گاؤں بھر میں برہنہ گھمانے کا حکم جاری کردیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ریاست اُتر پردیش کے ایک گاؤں کے نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے ہندوؤں کی اونچی ذات جٹ کمیونٹی کی لڑکی کو بھگا کر اس سے شادی کی۔انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے لڑکیوں کو ریپ سے بچانے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے پر مقامی انتظامیہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہےایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس وحشیانہ سزا کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا، یہ صحیح نہیں اور قانون کے بھی خلاف ہے۔سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن میں ضلع بھاگ پت سے تعلق رکھنے والی ’خاتون‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھاگنے والی لڑکی کے خاندان کے دباؤ پر پولیس نے اس کے بھائی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا۔مقامی عدالت کی جانب سے اس کی ضمانت منظور کئے جانے کے باوجود اس کی رہائی کے لیے سیکیورٹی دستاویزات کا بندوبست کرنے اور گاؤں واپس جانے سے ’خاتون‘ کا خاندان خوفزدہ ہے۔جسٹس جے چیلامیسور نے اُتر پردیش کی پولیس کو اس حوالے سے نوٹس جاری کیا ہے۔

’خاتون‘ کے مطابق اس کا بھائی اور جٹ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی لڑکی گزشتہ 3 سالوں سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے تاہم رواں سال اس لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کی شادی اسی کی ہی برادری کے ایک لڑکے کے ساتھ کردی گئی تھی۔شادی کے ایک ماہ بعد ہی لڑکی اپنے سسرال سے اس کے بھائی کے ساتھ فرار ہوگئی تھی تاہم لڑکی کے خاندان اور پولیس کے مبینہ تشدد سے بچنے کے لیے ان دونوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی، جو کہ یہ دعویٰ کررہی تھی کہ وہ نچلی ذات کے لڑکے سے تعلقات کے باعث حمل سے ہے، کو اس کے والدین کے حوالے کردیا گیا جبکہ پولیس نے لڑکے کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا۔اس واقع کے بعد ’خاتون‘ کا خاندان گاؤں چھوڑ کر دہلی میں مقیم ہوگیا جس کے بعد جٹ کمیونٹی نے مبینہ طور پر گاؤں میں ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور اس پر قبضہ کرلیا۔

یرغمال امریکی دوشیزہ کی البغدادی کے ہاتھوں عصمت دری

15Aug15_BBC بغدادی04al-Arabia

عراق وشام میں سرگرم انتہا پسند تنظیم’داعش’ کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے یرغمال امریکی امدادی کارکن کائیلا میلولر کی فروری میں ہلاکت سے قبل دوران حراست متعدد مرتبہ اس کی عصمت دری کی۔اس بات کا دعوی آنجہانی میلولر کے خاندان کے حوالے سے امریکی چینل اے-بی-سی پر جمعہ کے روز نشر ہونے والی خبر میں سامنے آیا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے کائیلا کے اہل خانہ کو بتایا تھا ‘کہ شمالی شام کے رہائشی علاقے میں اٹھارہ ماہ تک ان کی بیٹی کی حراست کے دوران اسے ابوبکر البغدادی نے کئی مرتبہ اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔

چینل سے بات کرتے ہوئے کائیلا کے والد کا کہنا تھا ‘کہ ہمیں بتایا گیا کہ اسے تعذیب دی جاتی تھی، وہ البغدادی کی جاگیر بنا کر رکھی گئی تھی۔ ہمیں اس امر کی اطلاع جون میں امریکی حکومت نے کر دی تھی۔’ آنجہانی امدادی کارکن کے والدین کارل اور مارشا میلولر نے بتایا کہ اگر ان کی بیٹی بقید حیات ہوتی تو وہ آج [بروز جمعہ چودہ اگست] اپنی ستائیسوں سالگرہ منا رہی ہوتی۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والی خاتون امدادی کارکن کو ابوبکر البغدادی نے بنفس نفیس داعش کے وزیر پیٹرولیم ابو سیاف کے گھر پر قید رکھنے کا حکم دیا۔ تیونس سے تعلق رکھنے والے ابو سیاف کو دس دیگر جنگجووں کے ہمراہ امریکی فوجی کارروائی میں سولہ مئی کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
15Aug15_BBC بغدادی01یہ کارروائی شمالی شام کے شہر دیر الزور میں تیل کے کنووں کے قریب عمل میں لائی گئی۔ اس آپریشن کے دوران مقتول جنگجو کی اہلیہ ‘ام سیاف’ کو گرفتار کیا گیا، جس سے امریکی حکام نے تفیش کی۔ بعد ازاں اسے دس روز قبل شمالی عراق میں کردستان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ داعش کا دعوی ہے کہ کائیلا الرقہ میں اردنی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہوئی۔عراق وشام میں سرگرم انتہا پسند تنظیم’داعش’ کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی نے یرغمال امریکی امدادی کارکن کائیلا میلولر کی فروری میں ہلاکت سے قبل دوران حراست متعدد مرتبہ اس کی عصمت دری کی۔اس بات کا دعوی آنجہانی میلولر کے خاندان کے حوالے سے امریکی چینل اے۔بی۔سی۔پر جمعہ کے روز نشر ہونے والی خبر میں سامنے آیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے کائیلا کے اہل خانہ کو بتایا تھا ‘کہ شمالی شام کے رہائشی علاقے میں اٹھارہ ماہ تک ان کی بیٹی کی حراست کے دوران اسے ابوبکر البغدادی نے کئی مرتبہ اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔چینل سے بات کرتے ہوئے کائیلا کے والد کا کہنا تھا ‘کہ ہمیں بتایا گیا کہ اسے تعذیب دی جاتی تھی، وہ البغدادی کی جاگیر بنا کر رکھی گئی تھی۔ ہمیں اس امر کی اطلاع جون میں امریکی حکومت نے کر دی تھی۔’ آنجہانی امدادی کارکن کے والدین کارل اور مارشا میلولر نے بتایا کہ اگر ان کی بیٹی بقید حیات ہوتی تو وہ آج [بروز جمعہ چودہ اگست] اپنی ستائیسوں سالگرہ منا رہی ہوتی۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والی خاتون امدادی کارکن کو ابوبکر البغدادی نے بنفس نفیس داعش کے وزیر پیٹرولیم ابو سیاف کے گھر پر قید رکھنے کا حکم دیا۔ تیونس سے تعلق رکھنے والے ابو سیاف کو دس دیگر جنگجووں کے ہمراہ امریکی فوجی کارروائی میں سولہ مئی کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

داعش کا دعوی ہے کہ کائیلا الرقہ میں اردنی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہوئی۔یہ کارروائی شمالی شام کے شہر دیر الزور میں تیل کے کنووں کے قریب عمل میں لائی گئی۔ اس آپریشن کے دوران مقتول جنگجو کی اہلیہ ام سیاف کو گرفتار کیا گیا، جس سے امریکی حکام نے تفیش کی۔ بعد ازاں اسے دس روز قبل شمالی عراق میں کردستان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ داعش کا دعوی ہے کہ کائیلا الرقہ میں اردنی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہوئی۔

ابو سیاف کے گھر البغدادی کے پھیرے

۔15Aug15_BBC بغدادی01

یہ کارروائی شمالی شام کے شہر دیر الزور میں تیل کے کنووں کے قریب عمل میں لائی گئی۔ اس آپریشن کے دوران مقتول جنگجو کی اہلیہ ‘ام سیاف’ کو گرفتار کیا گیا، جس سے امریکی حکام نے تفیش کی۔ بعد ازاں اسے دس روز قبل شمالی عراق میں کردستان حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ داعش کا دعوی ہے کہ کائیلا الرقہ میں اردنی لڑاکا طیاروں کی بمباری میں ہلاک ہوئی۔

امریکی نیوز چینل اور مقتولہ امریکی امدادی کارکن کے والدین کے ذریعے ملنے والی نئی معلومات میں دعوی کیا گیا ہے کہ ‘البغدادی، ابو سیاف کے گھر ان کی بیٹی سے زیادتی کے ارتکاب کے لئے اکثر و پیشتر آیا کرتا تھا۔ بعد میں داعش نے کائیلا کی اتحادیوں کی بمباری میں ہلاکت کی خبر پھیلا دی، جس کے بارے میں بعد ازاں جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ یہ جس فضائی حملے میں کائیلا کی موت واقع ہوئی وہ اردنی لڑاکا طیاروں نے کی تھی۔

اس کے بعد داعش نے کائیلا کی موت کی اطلاع اس کے اہل خانہ کو دی۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان بیرناڈی میئن نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کائیلا کے اہل خانہ کو ارسال کردہ پیغام کے ساتھ کفن میں لپٹی اس کی تصویر بھی شامل تھی، جس سے واضح طور پر اس کی شناخت کی جا سکتی تھی۔

آنجہائی کائیلا کی البغدادی کے ہاتھوں عصمت دری کی اطلاع کئی ذرائع سے ہوتی ہے۔ اس کی شناخت پہلی مرتبہ ابو سیاف کے کمپاونڈ میں قید سولہ اور اٹھارہ سالہ ایزدی دوشیزاوں نے منکشف کی، جو کسی طرح داعش کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ امریکی فورس ڈیلٹا کی کارروائی میں زندہ بچنے والی تیسری لڑکی نے بھی اس بات کی تصدیق کی۔ کائیلا سے زیادتی کی تصدیق کا سب سے اہم ذریعہ کمپاونڈ سے ملنے والی ‘ام سیاف’ اور اس سے امریکیوں کی تفتیش میں سامنے آنے والے بیانات ہیں۔

آنجہانی کائِیلا کی ابوبکر البغدادی کے ہاتھوں عصمت دری کی خبر امریکی نیوز ایجنسی ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے بھی جمعہ کو جاری کی، تاہم اس میں نامعلوم امریکی سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سامنے آنے والے معلومات کی روشنی میں بتایا گیا کہ کلائیلا کو داعش کے انتہا پسند دہشت گرد ‘ابو سیاف’ نے اغوا کیا، جس نے بعد ازاں اسے داعش کے ایک جنگجو کو ‘دلہن’ کے طور پر تحفتاً پیش کیا۔

15Aug15_BBC بغدادی03