Category: حج ۲۰۱۵

سات (7) پاکستانی حجاج تاحال لاپتہ، وزیر مذہبی امور

October 29, 2015 29Oct15_DU حاجی01DU

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے کہ رواں سال حج کے دوران سانحہ منیٰ اور کرین حادثے سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر زیادہ سے زیادہ 205 پاکستانی حجاج جاں بحق ہوئے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے سردار یوسف نے بتایا کہ 7 پاکستانی تاحال لاپتہ ہیں (جن میں سے 4 کے پاس اقامہ یعنی مستقل رہائشی پرمٹ موجود ہے) جبکہ 2 پاکستانی سعودی عرب کے ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں.ان کا مزید کہنا تھا کہ حج انتظامات بالکل اطمینان بخش تھے جنھیں اگلے برس مزید بہتر بنایا جائے گا، سردار یوسف نے سوال کیا، “کیا کسی نے رہائش، خوراک یا دیکھ بھال کے غیر مناسب ہونے کی شکایت کی؟”حج کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی حجاج کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ 102 حجاج سانحہ منیٰ میں، 6 کرین حادثے میں جبکہ 97 حجاج بیماری کے باعث طبعی طور پر جاں بحق ہوئے.سردار یوسف نے بتایا کہ وزارت حج جاں بحق ہونے والے حجاج کے ورثاء کو فی کس 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرے گی.تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا وزیراعظم کی ہدایات پر قومی اسمبلی کے رکن طارق فضل چوہدری کی جانب سے اعلان کیا گیا معاوضے کا پیکج اِس سے الگ ہے یا اِسی میں شامل ہے.سردار یوسف سے جب 97 حجاج کی موت کی وجہ پوچھی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ زیادہ تر حجاج ضعیف العمر تھے اور ان کی صحت بھی خراب تھی.اُن کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ منیٰ میں جاں بحق 4 حجاج کی میتیں پاکستان واپس لائی گئی ہیں تاہم 2 دیگر حجاج کی درخواست پر اِس وجہ سے عمل نہیں کیا جاسکا کیوں کہ میتیں اِس حالت میں نہیں تھیں کہ انھیں یہاں لایا جاسکے.سردار یوسف نے بتایا کہ رواں برس 143،336 پاکستانی حج کے لیے گئے.دوسری جانب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنا حج آپریشن مکمل کرلیا ہے.پی آئی اے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق سعودی عرب سے 55،870 پاکستانیوں کو واپس لایا گیا ہے.ایئرلائن کی جانب سے 146 خصوصی فلائٹس چلائی گئیں، جن کے ذریعے 43،000 حجاج کو واپس لایا گیا جبکہ دیگر 12،870 مسافر 92 معمول کی پروازوں کے ذریعے واپس آئے.
Advertisements

منیٰ حادثہ: جاں بحق افراد کی تعداد 2,177 ہو گئی

20Oct15_DU منیٰ01
DU

دبئی: امریکی خبر رساں ادارے (اے پی) کے اعداد و شمار کے مطابق سانحہ منیٰ میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 177 تک جاپہنچی ہے۔
سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے یہ اعداد و شمار 180 میں سے ان 30 ممالک کے سرکاری میڈیا رپورٹس اور حکام کے بیانات کو سامنے رکھ کر مرتب کیے گئے ہیں، جن کے شہری رواں سال حج کے لیے گئے تھے۔اعدادو شمار کے مطابق سانحے میں جاں بحق ہونے والے حجاج میں سب سے زیادہ تعداد ایران کی ہے جس کے 465 حاجی جاں بحق ہوئے جبکہ مالی کے 254، نائجیریا کے 199، کیمرون 76، نائیجر 72، سنیگال کے 61، آئوری کوسٹ کے 52 اور بینن کے
باون(52) حاجی سانحہ میں جاں بحق ہوئے.

سانحے میں جاں بحق ہونے والے دیگر ممالک میں مصر کے 182، بنگلہ دیش کے 137، انڈونیشیا کے 126، ہندوستان کے 116، پاکستان کے 102، ایتھوپیا کے 47، چاڈ کے 43، موروکو کے 36، الجیریا کے 33، سوڈان کے 30، برکینا فاسو کے 22، تنزانیہ کے 20، سومالیہ کے 10، کینیا کے 8، گھانا کے 7، ترکی کے 7، میانمار کے 6، لیبیا کے 6، چین کے 4، افغانستان کے 2 جبکہ اردن اور ملائشیا کے ایک، ایک حاجی شامل ہیں.سانحہ منیٰ 24 ستمبر کو رمی کے دوران بھگڈر مچنے سے پیش آیا تھا جس میں جاں بحق ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے سیکڑوں افراد لاپتہ بھی ہوگئے جن کی حادثے کے تقریباً ایک ماہ بعد بھی تلاش جاری ہے۔سعودی حکام کی جانب سے حادثے کے دو دن بعد 26 ستمبر کو 769 افراد کے جاں بحق ہونے اور 934 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی تھی تاہم اس کے بعد حکام نے ہلاکتوں میں اضافے اور زخمیوں کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی۔
P03

مزید پڑھیں : سانحہ منیٰ: جاں بحق حجاج کی تعداد 769 ہو گئی
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتوار کی شب سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ محمد بن نایف عبد العزیز کی زیر صدارت منیٰ حادثے کے حوالے سے اجلاس ہوا تاہم اس میں بھی سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے نئے اعداد و شمار پیش نہیں کیے گئے۔خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی جانب سے حج کے دوران پیش آنے والے تاریخ کے بدترین سانحے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔منیٰ حادثے سے قبل رواں سال ہی مکہ معظمہ میں کرین حادثہ بھی پیش آیا تھا جس میں 111 عازمین جاں بحق ہوگئے تھے۔یہ بھی پڑھیں : سانحہ منیٰ : جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 102 ہوگئیایران کی جانب سے منیٰ حادثے کے بعد حج کے تمام انتظامات کسی آزاد باڈی کو دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا جسے سعودی عرب نے یکسر مسترد کردیا تھا۔ایران نے سانحے کی ذمہ داری سعودی شاہی خاندان پر ڈالتے ہوئے کہا کہ حادثہ بدانتظامی کی وجہ سے پیش آیا جبکہ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی اصل تعداد بھی چھپائی جارہی ہے۔

P02

یہ پڑھیں : حج کے دوران پیش آنے والے سانحات
ایرانی حکومت کے مطابق سانحے میں چار(4) ہزار سات سو(700) سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تاہم اس حوالے سے ایران کی جانب سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔واضح رہے کہ سانحہ منیٰ میں اب تک 100 سے زائد پاکستانی حجاج کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔حادثے کے نتیجے سیکٹروں پاکستانی حجاج بھی لاپتہ ہوئے جن کی تلاش تاحال جاری ہے۔
P01
20Oct15_DU منیٰ02

سانحہ منیٰ: جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد 57 ہو گئی

October 01, 2015
01Oct15_DU حج01DU

جدہ، اسلام آباد: سعودی عرب میں حج کے دوران سانحہ منیٰ میں جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور حکومت نے 57 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی۔

وفاقی وزارت مذہبی امور کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی فہرست کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق 26 پاکستانی افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 31 افراد کے جاں بحق ہونے کے حوالے سے ان کے لواحقین یا عینی شاہدین نے تصدیق کی۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو منیٰ حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی درست تعداد فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزارت مذہبی امور کی نئی فہرست کے مطابق زخمیوں کی تعداد 49 ہے۔لاپتہ افراد کے حوالے سے بھی فہرست جاری کی گئی ہے جس کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں مجموعی طور پر لاپتہ پاکستانیوں کی تعداد 102 بتائی گئی ہے۔سرکاری حج اسکیم کے تحت جانے والے 21، پرائیوٹ حج اسکیم کے تحت جانے والے 28 حجاج اور سعودی اقامہ رکھنے والے 10 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 43 ایسے افراد کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے جن کے لواحقین نے ان کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے اطلاع دی۔وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سانحہ منیٰ کے بعد 292 لاپتہ حجاج کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سانحہ منیٰ: جاں بحق حجاج کی تعداد 769 ہو گئی
سعودی حکام نے منیٰ میں بھگدڑ میں ہونے والی ہلاکتوں میں ابتدائی طور پر صرف 17 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق تھی۔خیال رہے کہ منیٰ میں 8 روز قبل 25 ستمبر کو ہونے والی بھگدڑ میں 769 افراد کے جاں بحق اور 934 کے زخمی ہونے کا واقعہ گزشتہ 25 سالوں کا بدترین واقعہ ہے۔

مزید پڑھیں : حج کے دوران پیش آنے والے سانحات
سعودی محکمہ شہری دفاع کے مطابق یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب منیٰ میں جمرات کی رمی کے لیے حجاج کے 2 بڑے گروپ مخالف سمتوں سے آنے والے راستوں پر ایک ساتھ آئے۔یاد رہے کہ رواں برس ایک لاکھ 43 ہزار 6 سو 68 پاکستانی عازمین حج کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔

دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی تعداد
• انڈیا: 45 جاں بحق
•( ایران 464 جاں بحق، 241 گمشدہ (ایرانی سرکاری میڈیا
• نائجیریا: 64 جاں بحق، 244 گمشدہ
• مصر: 75 جاں بحق، 94 گمشدہ
• انڈونیشیا: 57 جاں بحق، 75 گمشدہ
• مالی: 60 جاں بحق
• نائیجر: 22 جاں بحق
• کیمرون: کم از کم 20 جاں بحق
• آئیوری کوسٹ: 14 جاں بحق، 77 گمشدہ
• چاڈ: 11 جاں بحق
• الجزائر: 11 جاں بحق
• (صومالیہ8 جاں بحق (میڈیا رپورٹس
• سینیگال: 10 جاں بحق
• مراکش: 10 جاں بحق، 29 گمشدہ
• لیبیا: 4 جاں بحق، 16 گمشدہ
• تنزانیہ: 4 جاں بحق
• کینیا: 3 جاں بحق
• تیونس: 2 جاں بحق
• برکینا فاسو: ایک جاں بحق
• برونڈی: ایک جاں بحق
• ہالینڈ: ایک جاں بحق