Category: حادثات

برطانوی اخبار گارجین کا دعویٰ ہے کہ 236 پاکستانی منیٰ میں شہید ہوئے

September 28, 2015

Saudi Arabia accused of neglect over deadly disaster at hajj(Chicago Tribune)28Sep15_CT اموات

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق منیٰ میں (۲۳۶) پاکستانی شہید ہوئے ہیں جبکہ سعودی عرب میں متعین پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ اس لئے کہ دیگر ذرائع نے 28Sep15_JNG 02امواتبھی اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔سعودی عرب کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایران(۱۳۶)۔مراکش(۸۷)۔ کیمرون(۲۰) ۔نائیجیریا(۱۹)۔بھارت(۱۴)۔مصر (۱۴)۔ شہادتین ہوئی ہیں۔ جبکہ لاپتہ (۳۴۴)بتائے جارہے ہیں۔اب تک پاکستان کی وزرات مذہبی امور نے(۲۳) پاکستانیوں کی تصدیق کی ہے اور (۳۰۰) سےزائد لاپتہ ہیں۔

کرین حادثہ: 6 پاکستانی عازمین حج کے ہلاک ہونے کی تصدیق

September 13, 2015
13Sep15_DU کرین حادثہ01DU

ریاض: سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے نے مسجد الحرام میں کرین حادثہ میں چھ پاکستانی عازمین حج کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو طوفان کی وجہ سے پیش آنے حادثے میں 107 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 238 میں سے 95 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

پاکستانی سفارتخانے کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں مہمند ایجنسی کے نیاز محمد، لاہور کے علی رضا اقبال، مردان کی عنبربہادر شاہ، امِ نیاز، گل عبدالمنان اور دیر کے احمد فیض شامل ہیں۔

پاکستانی سفیر منظور الحق نے تین ہسپتالوں کا دورہ کرتے ہوئے ہم وطنوں کی عیادت کی اور میڈیا کو بتایا کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہرہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی مکمل دیکھ بھال کی جارہی ہے۔

سعودی حکام نے بتایا کہ حادثے کے وقت پاکستان، بنگلہ دیش، ایران اور انڈیا سمیت دیگر ممالک کے تیس ہزار عازمین حج صحن حرم میں موجود تھے۔ حادثہ کے مقام سے گرنے والی ٹرین اور دوسرا ملبہ ہٹا دیا گیا۔

کرین حادثہ: 52 پاکستانی زخمی، حکومت کا اظہار افسوس

September 12, 2015
11Sep15_BBC کرین01
al-Arabia

مسجد حرام کرین حادثے میں 52 پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں جن میں 6 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ تاہم اب تک کسی پاکستانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ پاکستان حج مشن نے مختلف اسپتالوں نے دورہ کیا جبکہ حکومت پاکستان نے حادثے میں جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے۔

حادثے کے زخمی پاکستانیوں میں 7 کنگ فیصل اسپتال اور 6 کنگ عبدالعزیز اسپتال میں زیرعلاج ہیں، کنگ عبدالعزیز میں زیر علاج زخمیوں میں 54 سالہ بخ مالی خان کا تعلق کوہاٹ سے، 48 سالہ زاہد شاہ۔ پشاور ،48 سالہ زرینہ پروین۔ کراچی، 45 سالہ تسلیم احمد۔ کراچی، صداقت بیگم۔ صوابی اور قادر گل کا تعلق سوات سے ہے۔

کنگ فیصل اسپتال میں 7 زخمی زیر علاج ہیں جن کی شناخت سکینہ جان، انعام صفدر، اللہ نواز، امبارو بی بی ، تاجرہ بی بی، نویدہ زہرہ اور نذرحسین کے نام سے ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مزید درجنوںپ اکستانی مکہ کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ حادثے میں 22 پاکستانی عازمین حج معمولی زخمی ہوئے جنہیں پاکستانی سفارت خانے کے میڈیکل سینٹر میں ابتدائی طبی امداد دے کر فارغ کر دیا گیا ۔

پاکستانی قونصل جنرل آفتاب کھوکھر اور ویلفیئر اتاشی تحسیم الحق نے مکہ مکرمہ کے مختلف اسپتالوں کا دورہ کیا اور زیر علاج پاکستانی عازمین کی عیادت کی۔ وزارت مذہبی امور کے مطابق پاکستانی میڈیکل ٹیمیں بھی مکہ کے مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج میں بھرپور حصہ لے رہی ہے۔ –

مسجد حرام میں کرین گرنے سے 107 افراد شہید، 230 زخمی

September 12, 2015
CC_010

حادثہ تیز طوفان باد وباراں کے باعث پیش آیا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ حرم مکی شریف میں جمعہ کے روز کرین کے ایک المناک حادثے کے نتیجے میں کم سے کم 107 افراد جاں بحق اور 230 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والے افراد میں 52 پاکستانی، 25 بنگلہ دیشی اور 10 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ –
Video

CC_000
لعربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہری دفاع کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ “ٹیوٹر” پر جاری بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ حادثہ خراب موسم اور تیز آندھی کے باعث اس وقت پیش آیا جب ہوا میں معلق کرین ٹوٹ کر صفا مروہ کے زیر تعمیر حصے میں آ گری۔حادثے کے وقت تیز ہوا 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی جو کرین کے حادثے کا موجب بنی۔
CC_001
تادم تحریر ملنے والی اطلاعات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 107 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ 230 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
CC_002
شہری دفاع کے ترجمان کرنل سعید بن سرحان نے “ٹیوٹر” بیان میں بتایا کہ زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر سعودی ہلال احمر، ریسکیو اور محکمہ صحت کی 15 ٹیمیں سرگرم ہیں۔
CC_003
دوسری جانب مکہ معظمہ کے گورنر شہزادہ خالد بن الفیصل نے کرین حادثے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل کرتے ہوئے جلد از جلد رپورٹ طلب کی ہے۔
CC_004
مکہ ریجن کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ سلطان الدوسری نے بتایا کہ گورنر شہزادہ خالد الفیصل حادثے کی لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین صورت حال سے با خبر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
CC_005
دوسری جانب سعودی ہلال احمر کے ترجمان خالد الحبشی نے العربیہ کے بردار ٹی وی چینل “الحدث” سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق 17:19 پر نماز مغرب سے چند منٹ قبل پیش آیا۔ حادثے کے وقت حرم شریف کے ادنر اور باہر نمازیوں کا غیر معمولی رش تھا۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر 68 امدادی ٹیمیں پہنچ گئی تھیں جنہوں نے زخمیوں کو اور شہید ہونے والے شہریوں کی میتوں کو وہاں سے نکالنے میں مدد کی۔
CC_005
سعودی عرب کے محکمہ صحت کے ترجمان عبدالوھاب شلبی کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے طائف اور جدہ کے اسپتالوں کے عملے کوبھی مدد کے لیے بلایا گیا ہے۔ زخمیوں کو مکہ مکرمہ میں اجیاد اسپتال، شاہ عبدالعزیز میڈیکل کمپلیکس، شاہ فیصل اسپتال اور النور اسپتال منتقل کیا گیا ہے جب کہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی میتیں المعیصم اسپتال لے جائی گئی ہیں۔
CC_006
سعودی عرب کے وزیر صحت انجینیر خالد الفالح نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ”ٹیوٹر” پرانے ایک بیان میں حرم میں پیش آنے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد مکہ مکرمہ، جدہ اور دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
CC_007
CC_008

CC_009
CC_009

مسجد الحرام میں کرین گرنے سے کم از کم 65 ہلاک

September 11, 2015
11Sep15_BBC کرین01
BBC

سعودی عرب کے شہر مکہ میں واقع مسجد الحرام کے احاطے میں تعمیراتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی کرین گرنے سے کم از کم 65 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
شہری دفاع کے سعودی ادارے کے حکام نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جمعے کو پیش آنے والے اس واقعے میں 80 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔حکام کی جانب سے ہلاک شدگان کی شناخت اور قومیتوں کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ جس وقت حادثہ پیش آیا مسجد الحرام نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔سوشل میڈیا پر شائع کی جانے والی تصاویر میں بھی بہت سی لاشوں اور زخمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ پہنچے ہوئے ہیں اور اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی سعودی عرب آمد متوقع ہے۔یہ واضح نہیں کہ اس حادثے کی وجہ کیا بنی تاہم عرب ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کرین تیز ہواؤں کی وجہ سے مسجد کی چھت پھاڑتے ہوئے نیچے جا گری۔خیال رہے کہ حاجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے مکہ میں حرم کی حدود میں اضافے کے لیے تعمیراتی کام ایک عرصے سے جاری ہے۔ماضی میں بھی حج کے موقع پر سعودی عرب میں حادثات پیش آتے رہے ہیں۔سنہ 2006 میں حج کے دوران منیٰ کے مقام پر رمی جمرات کے دوران بھگدڑ مچنے سے ساڑھے تین سو کے قریب حاجی ہلاک ہوئے تھے۔

یمن میں بم دھماکے میں 22 اماراتی فوجی ہلاک

September 04, 2015
04Sep15_AA  یمن01
al-Arabia

یمن میں حادثاتی طور پر ایک بم پھٹنے سے متحدہ عرب امارات کے بائیس فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔اماراتی فوجی حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے اطلاع دی ہے کہ یہ بم دھماکا ایک اسلحہ خانے میں ہوا ہے۔فوری طور پر اس واقعے کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں مارچ سے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔اس عرب اتحاد کے لڑاکا طیارے حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں اور حال ہی میں بعض ممالک نے اپنے زمینی دستے بھی یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج کی حمایت میں اُتارے ہیں۔قبل ازیں بھی پانچ اور اماراتی فوجی یمن میں مختلف واقعات میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

فرانس کے ساحل سے لاپتہ ملائیشین طیارے کا ملبہ مل گیا

06Aug15_AA ایم ایچ 370al-Arabia

VIDEO ویڈیو دیکھنے کے لئےویڈیو کے درمیانی بڑے بٹن کو چھوڑ کر نیچے دئے ہوے چھوٹے بٹن پر کلک کریں

ملائیشیا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ ہفتے بحرِ ہند کے ایک جزیرے کے ساحل سے ملنے والا ملبے کا ٹکڑا 17 ماہ قبل لاپتا ہونے والے ملائیشین طیارے کا ہی ہے۔ملائیشیا کے وزیرِاعظم نجیب رزاق نے اپنے ٹی وی بیان میں بتایا کہ بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد تصدیق کی ہے کہ ری یونین نامی جزیرے کے ساحل سے ‘بوئنگ 777’ کے پر کا جو ٹکڑا ملا تھا وہ لاپتا پرواز ‘ایم ایچ 370’ کا ہی ہے۔06Aug15_News۲ ایم ایچ 370طیارے کے ملبے کا لگ بھگ دو میٹر طویل ٹکڑا اور کچھ دیگر سامان گزشتہ ہفتے مڈگاسکر کے نزدیک واقع جزیرے ری یونین کے ایک ساحل سے ملا تھا جسے تفصیلی معائنے کے لیے فرانس بھیجا گیا تھا۔ملائیشین حکام کا کہنا ہے کہ طیارے کے ٹکڑے کا فرانس کی وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والی اس عالمی شہرتِ یافتہ لیبارٹری میں تجزیہ کیا گیا جہاں طیارہ سازی کی صنعت کے 600 سے زائد ماہرین کام کرتے ہیں۔فرانسیسی لیبارٹری میں کی جانے والی جانچ پڑتال میں ملائیشیا، امریکا، چین، فرانس اور بوئنگ کمپنی کے نمائندے بھی شریک ہوئے تھے۔ماہرین کو امید ہے کہ ملبے کے تفصیلی معائنے سے فلائٹ ‘ایم ایچ 370’ کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں معلومات سامنے آ سکیں گی جو مارچ 2014ء میں کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے کھلے سمندر کے اوپر لاپتا ہو گئی تھی۔لاپتا ہونے والا طیارہ ‘بوئنگ 777’ تھا جس پر 239 مسافر اور عملے کے افراد سوار تھے۔ کئی ملکوں کی ٹیمیں کئی ماہ تک سمندر میں لاپتا طیارے کے ملبے کی تلاش میں سرگرم رہی تھیں لیکن پر کا متذکرہ حصہ ملنے سے پہلے 16 ماہ تک کسی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ملائیشین طیارے کی گمشدگی کا معاملہ ہوابازی کی تاریخ کے چند سرِ فہرست لاینحل معموں میں شمار کیا جاتا ہے۔