Category: یمن

حوثیوں نے دور فاروقی کی تاریخ جامع مسجد شہید کردی

October 31, 2015
31Oct15_AA مسجد01al-Arabia

العریبیہ حکومت سعودی عربیہ کا ترجمان ہے
یمن میں اہل تشیع مسلک کے ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے ملک کے وسطی شہر اِب میں دوسرے خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تعمیر کی گئی جامع مسجد شہید کردی ہے۔
31Oct15_AA مسجد02مقامی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حوثی شدت پسندوں نے جامع مسجد کے ایک مینار کو اس وقت دھماکے سے اڑا دیا جب بڑی تعداد میں شہری مسجد میں نماز ادا کررہے تھے تاہم اس واقعے ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
یاد رہے کہ اب کی جامع مسجد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں تعمیر کی گئی اور اس کا مینار 900 سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ مسجد کے مینار اور اس کے ایک بڑے حصے کو شہید کرنے کا الزام حوثیوں پر عاید کیا گیا ہے۔
یمنی محقق اور اسلامی آثار قدیمہ کے ماہر محمد القادری نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ وسطی یمن کے اِب شہر میں جامع مسجد العمری دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کی ایک اہم ترین تاریخی یادگار تھی۔ القادری نے کہا کہ ان کے پاس مسجد کو شہید کرنے میں حوثیوں کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ مسجد کا مینار او مئذنہ حوثیوں نے مسمار کردیا ہے جس کے باعث مسجد کا ایک بڑا حصہ شہید ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد کا مینار اس وقت ایک دھماکے سے مسجد پر اگرا جب لوگ وہاں نماز میں مصروف تھے۔ یہ حادثہ کسی قدرتی آفت،بارش یا آسمانی بجلی گرنے کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی کوئی فضائی حملہ یہاں کیا گیا ہے۔ یہ صرف حوثیوں کی سازش ہے۔ مسجد کا جو مینار شہید ہوا ہے اس کی مرمت کچھ ہی عرصہ قبل کی گئی تھی، اس لیے اس کے خود بہ خود گرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Advertisements

یمنی حکومت مذاکرات اور حوثی یو این فیصلہ ماننے پر تیار

October 19, 2015
19Oct15_BBC AA حوشی01al-Arabia

یمن کی آئینی حکومت نے اقوام_متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی دعوت پر جنیوا میں یمن کے بحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے دوسرے اجلاس میں شرکت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق یمنی حکومت نے جنرل سیکرٹری بان کی مون کی دعوت قبول کرتے ہوئے جنیوا اجلاس میں شرکت کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔خیال رہے کہ ہفتے کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد کے ذریعے صدر عبد ربہ منصور_ھادی کے نام ایک پیغام ارسال کیا تھا جس میں ان سے دوسرے جنیوا اجلاس میں شرکت کرنے اور باغیوں کے ساتھ بات چیت کی اپیل کی تھی۔’یو این’ سیکرٹری جنرل کی جانب سے یمنی صدر منصور ھادی کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا تھا کہ #حوثی باغی اور ان کے دیگر حامی بات چیت پر آمادگی کے ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد پر بھی تیار ہیں۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ باغیوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت میں انہوں نے اقوام متحدہ کی تمام قراردادوں اور خلیجی امن فارمولے پرعمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔قبل ازیں ہفتے کو یو این سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے صدر ھادی کے نام بھیجے گئے ایک مکتوب میں ان سے دوسرے جنیوا اجلاس میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ بان کی مون کے مکتوب کے مطابق باغی گروپ حوثی یمن میں قیام امن کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد 2216 پر عمل درآمد کےساتھ ساتھ بحران کے حل کے لیے خلیجی ممالک کے وضع کردہ فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے بھی تیارہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد نے صدر ھادی کو بان کی مون کا یہ پیغام پہنچایا تھا جس کے بعد حکومت نے 48 گھنٹے میں اس کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ان دنوں ابو ظہبی، ریاض اور مسقط میں یمنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی میں مصروف ہیں۔

جمعہ کی شام اقوام متحدہ کے امن مندوب نے ریاض میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح سے بھی ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران نائب صدر کا کہنا تھا کہ ان کی تمام تر توجہ یمن میں جاری خون خرابہ، قتل عام اور بربادی روکنے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت اپنے کے کسی ایک چپے سے بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ حکومت ہی #صعدہ سے المھرہ تک کی ذمہ دار اور جواب دہ ہے اور ہم پورے ملک میں امن واستحکام کے لیے مساعی کررہے ہیں۔اس موقع پراقوام متحدہ کے مندوب ولد الشیخ نے حوثی باغیوں کی جانب سے عدن میں حکومتی مراکز میں کیے گئے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بزدلانہ قرار دیا۔

ادھر یمن میں امن وامان کے حوالے سےقائم کردہ سیاسی کمیٹی کے سربراہ اور وزیرمملکت عبداللہ الصیادی نے بھی اقوام متحدہ کے امن مندوب سے ملاقات کی۔ سیاسی کمیٹی میں صدر ھادی، وزیراعظم بحاح اور ان کی کابینہ کے متعدد وزیر بھی شامل ہیں تاہم کمیٹی کی قیادت ایک وزیرکے پاس ہے۔سیاسی کمیٹی نے بھی ملک میں مزید بدامنی جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حوثیوں اور علی صالح کی حامی ملیشیا قتل عام اور خون خرابے کی ذمہ دار ہے۔ باغی مذاکرات کے حوالے سے اپنی مرضی کی شرائط عاید کرکے سیاسی مساعی کو سبوتاژ کررہے ہیں۔

حوثیوں نے جنگ بندی کا کوئی وعدہ نہیں کیا: العسیری

October 09, 2015
09Oct15_AA حوثی01al-Arabia

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ حوثیوں کے خلاف یمن میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی اور ان سے باغیوں نے جنگ بندی سمجھوتے سے متعلق ابھی تک کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔وہ العربیہ ڈاٹ نیٹ عربی سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اتحادی فورسز حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے خلاف اس وقت فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گی جس تک اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 2216 کے مطابق حوثی باغی اپنے زیر قبضہ علاقوں سے پسپا نہیں ہوجاتے اور قانونی حکومت کی پورے ملک میں عمل داری قائم نہیں ہوجاتی ہے۔سلامتی کونسل نے اپریل میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب سات کے تحت یہ قرارداد منظور کی تھی۔اس کے تحت حوثی تحریک کے لیڈر اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف پابندیاں عاید کردی گئی تھیں۔اس میں حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کردے،غیرمشروط طور پر تشدد کا خاتمہ کرے اور مزید یک طرفہ اقدامات سے گریز کرے۔بریگیڈئیر جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ جمعہ تک حوثی ملیشیا کی جانب سے اتحادی فورسز کے علاوہ یمن کے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کو بھی جنگ بندی سے متعلق کوئی وعدہ موصول نہیں ہوا ہے۔انھوں نے العربیہ کو بتایا کہ ”اگر ایسا ہوتا ہے تو یمنی حکومت اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا”۔بعض میڈیا ذرائع نے حالیہ دنوں میں یہ اطلاع دی ہے کہ حوثیوں اور صالح ملیشیا نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے یہ کہا ہے کہ وہ گذشتہ چھے ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

مارب کے اہم علاقہ پر عرب اتحادی فوج کا مکمل کنٹرول

October 07, 2015
07Oct15_AA ماب01al-Arabia

عدن میں خالد_بحاح اور اماراتی فوج کے ٹھکانوں پر راکٹ حملے

VIDEO

یمن کے شہر مأرب میں عرب اتحادی فوج کے کمانڈر بریگیڈئر علی یوسف الکعبی نے بتایا ہے کہ حوثی اور علی عبداللہ صالح کے حامی جنگجوؤں پر مشتمل باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد گورنری کے مغربی علاقے میں واقع صراوح ڈائریکٹوریٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔بریگیڈئر الکعبی نے لڑائی میں حوثی ملیشیا کے متعدد جنگجوؤں کی ہلاکت اور بڑی تعداد کو زندہ گرفتار کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ادھر اتحادی فوج میں شامل لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع ضبوہ فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔اسی علاقے میں السبعین پر بھی اتحادی طیاروں نے بمباری کی۔تعز شہر میں باغیوں کے متعدد ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بمباری سے حوثی اور صالح ملیشیا کے 18 باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔میدان جنگ میں پے در پے شکست سے بےحال حوثی باغیوں نے اپنی 32 فوجی گاڑیاں لحج شہر کی شمالی مشرقی المسمیر ڈائریکٹوریٹ منتقل کر دی ہیں۔دارالحکومت صنعاء کا شمالی علاقہ زوردار دھماکے سے لرز اٹھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا صنعاء کے علاقے النہضہ کے سامنے جامع النور میں بارودی سرنگ پھٹنے سے ہوا۔

داعش کا ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان
عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے یمن کے جنوبی شہر عدن میں سرکاری ہیڈکوارٹرز اور سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے اڈے پر تباہ کن بم حملوں کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ان حملوں میں پندرہ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔داعش نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے چار خودکش بمباروں نے عدن میں دو اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا ہے۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔داعش نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ان حملوں میں فوجی مارے گئے ہیں مگران کی تعداد نہیں بتائی ہے۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے ٹویٹر پر یہ اطلاع دی تھی کہ یمن کے جنوبی شہر عدن میں متعدد راکٹ حملوں میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔یمن میں عرب اتحادی فوج کی قیادت نے عدن میں ہونے والے حملے میں ایک سعودی فوجی کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے جنرل کمان نے فوج کے عدن میں ایک کیمپ پر حملے میں اپنے چار فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اماراتی اعلان کے مطابق ان حملوں کے اس کے متعدد فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
07Oct15_AA ماب02

یمن کے نائب صدر حملے میں بال بال بچے
۔یمنی حکومت کے ایک ترجمان اور مقامی لوگوں نے بتایا کہ عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں متعدد دھماکے ہوئے تھے۔اسی ہوٹل میں یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدے دار ٹھہرے ہوئے ہیں۔یمنی فوج اور اس کے اتحادیوں کے جولائی میں عدن پر دوبارہ قبضے اور وہاں سے حوثی باغیوں کی پسپائی کے بعد یہ سب سے بڑا اور تباہ کن حملہ تھا۔العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق منگل کی صبح القصر ہوٹل پر راکٹ گرینیڈ فائر کیے گئے تھے اور یہ راکٹ ہوٹل کے داخلی حصے میں گرے تھے۔07Oct15_AA ماب03
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ہوٹل کے گیٹ پر ایک میزائل فائر کیا گیا تھا اور ایک میزائل اس کے نزدیک گرا تھا جبکہ شہر کے علاقے البریقہ میں تیسرا میزائل گرا ہے۔العربیہ پر نشر کی گئی تصاویر میں سیاہ دھویں کے بادل بلند ہوتے دیکھے جاسکتے ہیں۔اس حملے کے بعد القصر ہوٹل کے ارد گرد سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
07Oct15_AA ماب04
واضح رہے کہ یمن کے نائب صدر اور وزیراعظم خالد بحاح اپنی کابینہ کے سات وزراء اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ہمراہ 16 ستمبر کو سعودی عرب سے عدن واپس آئے تھے۔وہ تب سے القصر ہوٹل ہی میں مقیم ہیں اور وہیں سے کاروبار حکومت چلا رہے ہیں۔یمنی ذرائع کے مطابق وہ بم حملے میں محفوظ رہے ہیں۔خالد بحاح قبل ازیں یکم اگست کو مختصر وقت کے لیے عدن آئے تھے اور وہ پھر واپس الریاض چلے گئے تھے جہاں وہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے ہمراہ مقیم تھے اور وہیں سے جلاوطن حکومت چلا رہے تھے۔یمنی صدر ،وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان مارچ میں عدن پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سعودی عرب منتقل ہوگئے تھے۔
07Oct15_AA ماب05
جولائی میں صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز اور جنوبی مزاحمت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فضائی مدد سے عدن اور دوسرے جنوبی شہروں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور وہاں سے حوثی باغیوں اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کو نکال باہر کیا تھا۔

داعش کا تباہ کن حملہ،یمنی حکومت عدن ہی میں رہے گی

October 07, 2015
07Oct15_AA عدن01al-Arabia

یمنی حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اپنے ہیڈکوارٹرز پر تباہ کن حملے کے باوجود عارضی دارالحکومت عدن ہی میں رہے گی۔یمنی حکومت نے ان تباہ کن حملوں کے ایک روز بعد بدھ کو اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ”وہ عارضی دارالحکومت عدن سے اس غیر معمولی مرحلے میں اپنا تاریخی اور قومی کردار جاری رکھے گی تاوقتیکہ تمام ملک کو آزاد نہیں کرالیا جاتا ہے”۔گذشتہ روز دوخودکش بمباروں نے عدن کے مغربی حصے میں واقع القصر ہوٹل میں یمنی حکومت کے عارضی ہیڈکوارٹرز کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس سے متعدد وزراء معمولی زخمی ہوئے ہیں۔البتہ وزیراعظم اور نائب صدر خالد بحاح اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔بم دھماکے میں دو سرکاری محافظوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔عدن ہی میں دو اور خودکش بم حملوں میں عرب فوجی اتحاد کی قائم کردہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عرب اتحاد نے خودکش بم حملے میں ایک سعودی اور تین اماراتی فوجیوں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔یمنی حکومت کے ذرائع نے دونوں حملوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

داعش نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور آن لائن جاری کردہ بیان کے ساتھ چار خودکش بمباروں کی تصاویر اور نام بھی شائع کیے ہیں۔داعش کا یمنی حکومت اور اس کی اتحادی عرب فورسز کے خلاف یہ پہلا تباہ کن حملہ ہے۔اس سے پہلے داعش کے خودکش بمبار دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں یا اہل تشیع کی مساجد کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔داعش کے بیان کے مطابق دو حملہ آوروں نے بارود سے لدی گاڑیوں کو القصر ہوٹل میں دھماکوں سے اڑایا تھا۔اس ہوٹل میں یمنی حکومت کے ہیڈکوارٹرز واقع ہیں۔داعش نے ان دونوں خودکش بمباروں کی شناخت ابو سعد العدنی اور ابو محمد الساحلی کے نام سے کی ہے۔

یمن کے شہر تعز میں بھاری فوجی کمک پہنچ گئی

October 03, 2015
03Oct15_AA یمن01al-Arabia

باخبر یمنی ذرائع نے عرب اتحادی فوج کی جانب سے ارسال کردہ فوجی ساز وسامان اور سپاہ پر مشتمل کمک تعز شہر کے مشرقی محاذ پر بھجوانے کی تصدیق کی ہے۔ اس ضمن میں الوازعیہ ڈائریکٹوریٹ کا علاقہ خصوصی طور پر شامل ہے جہاں پر باغیوں کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہوئیں۔ تعز کے متعدد علاقوں کا کںڑول یمن کی قومی فوج کے ہاتھ آنے کی اطلاعات کے تناظر میں سرکاری فوج کے اہلکار، ٹینک اور آرمڈ گاڑیاں کرش محور سے تعز پہنچیں ہیں
Video

س پیش رفت کے ساتھ دوسری جانب اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے #صنعاء میں صدارتی کمپاؤنڈ اور الصمع کیمپ پر حملہ کیا۔ دارلحکومت کے شمال میں ارحب سے تعلق رکھنے والے ایک #حوثی کمانڈر کے گھر پر اتحادی فوج نے حملہ کیا۔ اتحادیوں نے البیضاء کے علاقے میں واقع سپیشل ٹاسک فورس کے فوج کے کیمپ اور کھیل کے ایک میدان کو بھی اپنے فضائی حملوں کا خصوصی ہدف بنائے رکھا۔عرب اتحادی فوج کے آبنائے باب المندب پر کنڑول سے یمنی میدان جنگ میں انہیں قابل ذکر برتری حاصل ہو گئی ہے۔ اس کامیابی کے جلو میں متعدد حوثی رہنماؤں کے ہتھیار ڈالنے کی اطلاعات ہیں جبکہ اتحادی فوج کی ارسال کردہ بھاری فوجی کمک تعز کے مشرقی اور مغربی محاذوں پر پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔عوامی مزاحمت کاروں نے تعز کے علاقے الوازعیہ الساحلیہ کے گرد حصار سخت کر دیا ہے۔ ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ باغی ملیشیا اور مزاحمت کاروں کے درمیان جاری شدید جھڑپیں جلد ہی پورے علاقے پر سرکاری فوج کے قبضے کی راہ ہموار کر دیں گی۔

سعودی عرب نے پاکستان سے پھر فوجی مدد کی درخواست کی

September 11, 2015
11Sep15_ABNA درخواست
ABNA Iran

ابنا۔ ریڈیو تہران کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے دوستی گروپ کے ایک رکن اتالای ابوحسن نے اسلام آباد کے دورے میں میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، یمن کی جنگ میں پاکستان کی فوجی مدد کا خواہاں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے اندر بھی امن و امان کی برقراری کے لئے ہمیں پاکستانی سیکورٹی دستوں کی ضرورت ہے- پاکستان نے ابھی تک اس خبر کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے-

ماہرین کے بقول، سعودی عرب نہ صرف جنگ یمن میں کامیاب نہیں رہا ہے بلکہ اندرون ملک بھی اسے سیکورٹی خطرات اور دہشت گردوں کی دھمکیوں اور عوامی مخالفتوں کا سامنا ہے-