Category: ھنگری

جعلی پاسپورٹ بنانے کی تاریخ میں انوکھا واقعہ!

September 18, 2015

al-Arabiaسات سو پچاس(750) یورو میں شامی پاسپورٹ کا مالک ہالینڈ کا وزیراعظم بن گیا

حالیہ ایام میں شام کے لاکھوں پناہ گزینوں کی یورپ اور دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت عالمی ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ اس حوالے سے بعض حیران کن اور ناقابل یقین واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں بے گھر شامی خواتین اور بچوں کے دشوار گذار سفر کی المناک داستانیں روز مرہ اخبارات کی زینت بن رہی ہیں وہیں ترکی میں شام کے جعلی پاسپورٹ تیار کرنے والی انڈسٹری بھی خوب پھل پھول رہی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترکی میں شامی پناہ گزینوں کو پیسوں کے بدلے میں جعلی پاسپورٹ مہیا کرنے والے نوسرباز حیران کن اور ناقابل یقین طریقے سے پورے دھڑلے کے ساتھ یہ دھندہ چلا رہے ہیں۔ جب سے شامی پناہ گزینوں کے ترکی میں جعلی پاسپورٹس کی تیاری کی خبریں سامنے آئیں تو ہالینڈ کے ایک صحافی نے بھی آزمائشی طور پر شام کا جعلی پاسپورٹ حاصل کرنے کی ٹھانی۔ ہالینڈ کے صحافی ‘ہارالڈ ڈورونبوس’ نے اپنے جعل ساز کو اپنا اصل نام اور تصویر دینے کے بجائے ایک فرضی شامی شہری کا نام دیا اور ساتھ ہی ہالینڈ کے وزیر اعظم “مارک روٹہ” کی تصویر تھما دی۔

جعل سازوں نے کون سی تحقیق کرنا تھی کہ وہ تصویر اور دوسری معلومات کے بارے میں چھان بین کرتے پھرتے۔ چنانچہ انہوں نے 40 گھنٹے کے اندر اندر اسے ایک پاسپورٹ جاری کردیا جس پر تصویر تو ہالینڈ کے وزیراعظم کی تھی اور نام اور پتا شام کے فرضی شہری کا تھا۔ پاسپورٹ کے مالک کا نام مالک احمد رمضان، تاریخ پیدائش 1971ء اور مقام پیدائش دمشق لکھا گیا۔ جعلی سازی کی تاریخ کا یہ دلچسپ واقعہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس میں تصویر ایک ملک کے وزیراعظم کی اور نام شام کے کسی گمنام شخص کا درج تھا۔

ترکی میں بنائے گئے اس جعلی شامی پاسپورٹ کی کہانی ہالینڈ کے اخبار “نیو ریوو” نے بھی شائع کی ہے۔ ہالینڈ کے مذکورہ صحافی کا کہنا ہے کہ اس نے ایک جعل ساز سے ٹیلیفون پر بات کرکے اس سے پاسپورٹ بنوانے کو کہا تو اس نے مجھ سے ساڑھے سات سو یورو طلب کیے تھے۔

جعل سازی کے معاملات ایک طرف مگرحقیقی معنوں میں ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کے لیے پاسپورٹ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ پناہ گزین اپنی جانوں سےبھی بڑھ کر پاسپورٹس کی حفاظت کرتے ہیں۔

حال ہی میں ترکی میں پہنچنے والے دو شامی سگے بھائیوں کے پاسپورٹس گم ہوگئے توانہیں دوبارہ پاسپورٹس بنوانے کے لیے دمشق سے اپنی والدہ کو ترکی بلانا پڑا تھا۔